تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں علی امین گنڈاپور اور حماد اظہر کے درمیان تلخ کلامی پر پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر کا موقف سامنے آگیا۔ چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ میں اس معاملے پر کوئی رائے نہیں دینا چاہتا۔واضح رہے کہ تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اور پنجاب سے پارٹی کے سینئر رہنما حماد اظہر کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ذرائع نے بتایا تھا کہ حماد اظہر نے علی امین گنڈاپور سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ الزام مت لگائیں، احتجاج کریں میں پنجاب سے لیڈ کروں گا اس پر علی امین گنڈاپور نے کہا کہ آپ تو روپوش ہو، کیسے لیڈ کریں گے؟ ورکرز کو بےیارو مددگار نہیں چھوڑ سکتے۔اس پر چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ میرے لیے یہ تشویشناک ہے کہ پارٹی کے اندرونی معاملات کیسے باہر آتے ہیں۔ پارٹی میں اختلاف رائے ہوتا ہے، ہر کسی کا اپنا اپنا موقف ہوتا ہے۔
جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا کے نجی کلینک میں دانت نکالنے کے دوران بچی انتقال کر گئی۔ڈی ایچ کیو ہسپتال کی انتظامیہ کے مطابق حالت بگڑنے پر بچی کو سرکاری ہسپتال منقل کیا گیا، بچی ڈی ایچ کیو ہسپتال لانے سے پہلے ہی دم توڑ چکی تھی۔اسسٹنٹ کمشنر وانا فیصل اسماعیل کا کہنا ہے کہ علاج کے دوران خون زیادہ بہہ جانے سے 8 سالہ فاطمہ کی موت واقع ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ وانا کے نجی کلینک پر چھاپا مار کر کلینک کو سیل کردیا گیا ہے جبکہ ڈاکٹر اجمل خان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
شنگھائی تعاون تانظیم کی پاکستان میں سربراہی کانفرنس ایک ایسے وقت میں ہورہی ہے کہ پاکستان کی اس خطہ میں اہمیت باقاعدہ تسلیم کی گئی ہے اور ہم اس تانظیم کے رکن ممالک کے ساتھ تاریخی معاہدے کررہے ہیں دوسری جانب بھارت کی پوزیشن یہ ہے کہ اسے اب بنگلہ دیش‘ قطر‘ سری لنکا‘ نیپال‘ مالدیپ‘ جیسے ملکوں میں اب کوئی اہمیت نہیں رہی‘ حتی کہ ایران بھی اب بھارت سے بہت دور ہوگیا ہے‘ کنیڈا میں بھارت کو تقریباً دیس نکالا مل چکا ہے‘ بھارت کی مودی سرکار اپنے ملک میں پارلیمنٹ میں اپنا سیاسی حجم کم کیے بیٹھی ہے اور اسے مقبوضہ کشمیر میں بھی اسے شکست ہوئی ہے یہ بہترین وقت تھا کہ اسلام آباد میں اس کے وفد کے ممبرز یا وفد کے سربراہ سے میڈیا انٹرایکشن ہوتا تو ہمارا میڈیا اسے سفارتی تنہائی یاد دلاتا اور زچ کرکے رکھ دیتا‘ مگر پاکستانی میڈیا کو ملنے والی رسائی کہ حد یہ ہے کہ اس کے لیے پاک چائنا سینٹر تک پہنچنا ہی محال ہے اس کے برعکس بھارت سے آنے والے میڈیا کے سینیئر ممبرز پاکستانی سیاست دانوں سے مل رہے ہیں جیسے کہ بھارتی صحافی برکھارت نواز شریف سے ملی ہیں‘ اگر پاکستان کے میڈیا کو بھی باقاعدہ بریفنگ دے کر خاص طور پر بھارت کے وفد کے ساتھ سوال جواب کا موقع دیا جاتا تو مقبوضہ کشمیر کی حد تک ہی سہی ہم اپنا پیغام پہنچانے میں کامیاب ہوتے مگر کیا کیجئے کہ ہمارا دفتر خارجہ ان دنوں بیگانہ دفتر خارجہ بنا ہوا ہے‘ وہ سب کے لیے رسائی اور سہولت کا ذریعہ ہے لیکن پاکستانی میڈیا کے لیے اجنبی ہے
شنگھائی تعاون تانظیم کی پاکستان میں سربراہی کانفرنس ایک ایسے وقت میں ہورہی ہے کہ پاکستان کی اس خطہ میں اہمیت باقاعدہ تسلیم کی گئی ہے اور ہم اس تانظیم کے رکن ممالک کے ساتھ تاریخی معاہدے کررہے ہیں دوسری جانب بھارت کی پوزیشن یہ ہے کہ اسے اب بنگلہ دیش‘ قطر‘ سری لنکا‘ نیپال‘ مالدیپ‘ جیسے ملکوں میں اب کوئی اہمیت نہیں رہی‘ حتی کہ ایران بھی اب بھارت سے بہت دور ہوگیا ہے‘ کنیڈا میں بھارت کو تقریباً دیس نکالا مل چکا ہے‘ بھارت کی مودی سرکار اپنے ملک میں پارلیمنٹ میں اپنا سیاسی حجم کم کیے بیٹھی ہے اور اسے مقبوضہ کشمیر میں بھی اسے شکست ہوئی ہے یہ بہترین وقت تھا کہ اسلام آباد میں اس کے وفد کے ممبرز یا وفد کے سربراہ سے میڈیا انٹرایکشن ہوتا تو ہمارا میڈیا اسے سفارتی تنہائی یاد دلاتا اور زچ کرکے رکھ دیتا‘ مگر پاکستانی میڈیا کو ملنے والی رسائی کہ حد یہ ہے کہ اس کے لیے پاک چائنا سینٹر تک پہنچنا ہی محال ہے اس کے برعکس بھارت سے آنے والے میڈیا کے سینیئر ممبرز پاکستانی سیاست دانوں سے مل رہے ہیں جیسے کہ بھارتی صحافی برکھارت نواز شریف سے ملی ہیں‘ اگر پاکستان کے میڈیا کو بھی باقاعدہ بریفنگ دے کر خاص طور پر بھارت کے وفد کے ساتھ سوال جواب کا موقع دیا جاتا تو مقبوضہ کشمیر کی حد تک ہی سہی ہم اپنا پیغام پہنچانے میں کامیاب ہوتے مگر کیا کیجئے کہ ہمارا دفتر خارجہ ان دنوں بیگانہ دفتر خارجہ بنا ہوا ہے‘ وہ سب کے لیے رسائی اور سہولت کا ذریعہ ہے لیکن پاکستانی میڈیا کے لیے اجنبی ہے
وزارت اطلاعات و نشریات نے شنگھائی تعاون تنظیم کے 23 ویں سربراہ اجلاس میں شرکت کرنے والے مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کے لئے نغمہ جاری کر دیانغمے میں پاکستان کے رنگا رنگ ثقافتی ورثے اور مہمان نوازی کی روایت کی ایک جھلک پیش کی گئی ہے نغمے میں پاکستان کے خوبصورت مقامات، تاریخی اور اہم عمارتیں اور متنوع ثقافت کو بڑی خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہےنغمے کے بول میں پاکستان کے لوگوں کی مہمان نوازی اور ایس سی او سربراہان مملکت کو خوش آمدید کہنے کا جذبہ سمو آیا ہےاس کے علاوہ پاکستان کی ترقی کے لئے پاکستان کے عوام کی محنت، لگن اور جذبے کو بھی بہت خوبصورتی سے اجاگر کیا گیا ہےیہ نغمہ پاکستان کے نامور گلوکار عمیر جسوال نے گنگنایا ہےوزارت اطلاعات و نشریات نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ نغمہ مہمانوں کو پاکستان کی ثقافت سے روشناس کرائے گا اور ان کے دلوں میں پاکستان کے لئے محبت پیدا کرے گا
*حمزہ یوسف بلوچ اسکاٹ لینڈ کے پہلے مسلمان وزیراعظم مقرر-**حمزہ یوسف کے والد کا تعلق پیدراک کی تحصیل تربت کے بلوچ خاندان سے ہے جو کہدہ فیملی کہدہ فرہادیں کا نواسہ اور موجودہ دور کے سرکردہ اور کہدہ فیملی کے سردار طارق حمید کا سگا کزن ہے**1960 میں حمزہ یوسف کے والد پاکستان سے سکاٹ لینڈ منتقل ہوئے تھے۔*
حکومت شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس کے انعقاد کا بہت کریڈٹ لے رہی ہے‘ اور پاکستان کسی بھی سیاسی جماعت کی وفاق میں حکومت ہوتی تو وہ ضرور اس کانفرنس کا کریڈٹ لیتی‘ لہذا کسی کو اس بات کا کوئی اعتراض نہیں ہے کہ حکومت کیوں اس کانفرنس کا کریڈٹ لے رہی ہے‘ ہمیں یہ بات تسلیم ہے کہ بطور حکومت یہ اس کا حق ہے‘ لابتہ کچھ اعتراضا ایسے بھی ہیں جنہیں حکومت نظر انداز نہیں کر سکتی‘ کیا پاکستان کے میڈیا کی کانفرنس تک رسائی محدود کرکے حکومت اس کی بہترین تشہیر کر پائے گی؟ اس حکومت کو اپنے پاؤں پر خود ہی کلہاڑی مارنے کی عادت سی ہوگئی ہے اور اس لیے عوام کی نبض پر ہاتھ رکھنے کی بجائے یہ بیوروکریسی پر بہت انحصار کر رہی ہے اور بیوروکریسی کسی کی نہیں ہوتی‘ یہ چڑھتے سورج کو سلام کرنے والی مخلوق ہے‘ لہذا یہ کام حکومت کا ہوتا ہے کہ وہ ملک میں جب بھی کوئی بڑی سرگرمی ہو‘ اور خاص طور پر جب اس سرگرمی کا تعلق بیرون ملک اثرات سے بھی ہوتو بہترین نتائج کے لیے حکومت کو لگام اپنے ہاتھ میں رکھنی ہوتی ہے‘ حکومت اس محاذ پر کمزور اور بلاشبہ ناکام ثابت ہوئی ہے‘ اور اس کانفرنس کے منتظمین کی صلاحتیوں سے متعلق ملکی میڈیا میں صرف ایک سطر کی خبر ہی حکومت کے پاؤں ہلا سکتی ہے‘ حکومت کو یہ بات سمجھنی چاہیے کوئی حکومت مقامی میڈیا کو تحفظات کا شکار کرکے ملک کے اندر اور بیرون ملک اپنا اچھا ئاثر پیدا نہیں کر سکتی‘ آج اگر ہم حکومت کے ایک ہی ڈیپارٹمنٹ‘ ایک ہی وزارت کا جائزہ لیں تو ہمیں وزارت امور خارجہ کا ہی جائزہ لینا ہے اس کے بعد وزارت اطلاعات کی باری آتی ہے‘ کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ کوئی عالمی کانفرنس‘اس میں پاکستان اور بھارت بھی شریک ہوں اور پاکستان نے اس کانفرنس میں کشمیر پر بات نہ کی ہو‘ یہ اس لیے ہوتا تھا کہ ہمارے پاس اس وقت اس کام کے لیے بہترین سفارتی دماغ تھے‘ کسی ایک کا نام لینا دوسرے سے ذیادتی ہوگی ہمارے پاس بلاشبہ بہت ہی اعلی پائے کے سفارت کار تھے‘ اور ہمارے ترجمان تو ایسے افسر رہے ہیں کہ جن کے پاس میڈیا سے دوستی کے لیے جادوئی قوت ہوا کرتی تھی‘ اور پھر ہم نے دیکھا کہ ہمارے میڈیا نے سفارتی مہاذ پر بھارت کے خلاف اپنی حکومت کی جانفشانی کے ساتھ کام کرکے مدد کی اور اپنی حکومت کی بگڑی نیچے نہیں گرنے دی‘ لیکن آج ہمارے پاس دفتر خارجہ میں کیسی افسر شاہی ہے‘ اور کیسی ترجمان ہیں‘ بادبان نے ماضی میں از زہر ہلاہل کو قند نہیں کہا اور مستقبل میں یہ کام ہم سے نہیں ہوسکے گا کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہم ہی یہ بات کہہ چکے ہیں کہ پاکستانی ترجمان ممتاز زہرا بلوچ کے را سے رابطوں کا انکشاف ہوا تھا اور خفیہ اداروں کی رپورٹ تفصیلات کے لئے روزنامہ پوسٹ انٹرنیشنل منگل کے اخبار میں بھی کچھ تفصیلات دی جارہی ہیں‘ کون نہیں جانتا کہ ممتاز زہرا بلوچ سے وزارت خارجہ نے ایڈیشنل سیکرٹری کا چارج بھی 6 ماہ قبل واپس لے لیا تھا سب جانتے ہیں کہ ممتاز زہرا بلوچ کو 3 سال قبل جب وہ ایک ملک میں سفیر تعینات تھی اپنی جونیر خاتون افسر کے بال نوچنے پر واپس بلا لیا گیا تھا یہ بھی بات کسی سے ڈھکی چھپی ہوئی نہیں کہ ممتاز زہرا بلوچ کے خلاف صدر پیوٹن نے باقاعدہ مراسلہ بھیجا تھا یہ کل کی بات ہے کہ ممتاز زہرا بلوچ نے چین اور امریکہ پوسٹنگ لینے کے لئے بھارتی ہم نوا 2 صحافیوں کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا جن میں سے ایک تو ابھی حال ہی میں 18 ماہ قبل افغانستان میں گرفتار بھی ھوا تھا‘ اب ممتاز زہرا بلوچ اب فرانس میں بطور سفیر جائے کے لیے سامان باندھ رھی ھے جھاں پر اس کا بال نوچنے کا مقابلہ انفارمیشن گروپ کی گریڈ 20 کی آفیسر سجیلہ سے ہوسکتا ہے ایک بار پھر مقابلہ ھو گا‘ادارہ بادبان نیوز اور پوسٹ انٹرنیشنل آاس خاتون کی خبریں پہلے بھی دے چکا ھے جس کی تفصیلات کے لئے کلک کیجئے
فرانس میں وزارت خارجہ کی نا اھل زھرا بلوچ تعینات کر دی گئی یاد رھے کہ موصوفہ کوریا میں بطور سفیر اپنے سے جونیر افیسر کے بال نوچتی رھی ھے انکی خوش قسمتی کہ اب انکا انفارمیشن گروپ کی سجیلہ سے واسطہ پڑے گا جو گریڈ 20 کی افیسر ھے بال نوچنے میں مہارت رکھنے والی سائیکو زھرہ بلوچ اب اپنی پرفارمنس کے جوھر شانزے لیزے روڈ پیرس میں دکھاے گئی وزارت خارجہ کے کونسے افیسر کھا پوسٹ ھوے بادبان نیوز ان کی خبریں ناظرین کو 21 روز پھلے ھی پھنچا چکا ھے۔ آمنہ بلوچ سیکرٹری خارجہ تعینات تھمینہ جنجوعہ کے بعد۔وزارت خارجہ میں بڑے پیمانے پر تقرر و تبادلے۔ترمذی برسلز کرپٹ محمد سلیم کینڈا اور محمد عامر عرب امارات میں سفیر تعینات ھونگے۔19ویں کامن کی تگڑی افسر امنہ بلوچ وزارت خارجہ کی ایک بڑی سفارت کار ھے انکو 5 افسران سے فوقیت دے کر سیکرٹری خارجہ تعینات کیا گیا ہے۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر
سنئیر سفارت کاروں کی نااہلی ڈپٹی وزیراعظم کا ایکشن او ایس ڈی بنا دیا جبکہ نالائق جعلی بلوچ ترجمان وزارت خارجہ اپنی بونگیا اور ملک دشمن سرگرمیاں جاری رکھے گی مکمل تفصیلات کے لیے بادبان نیوز کو فالو کریں
بالآخر امور خارجہ کی نااہلی اور منقسم وفاداری کا بھانڈا بیچ چوراہے کے پھوٹ ہی گیا۔ مسعود خان کی اتنی بڑی اور رسواکن وفاداری کا نتیجہ اگر یوں سامنے نہ آتا تو کیسے پتہ چلتا کہ پاکستان کن الجھنوں میں الجھا ہوا ہے ۔یہی مناسب وقت ہے کہ مسعود خان جیسے منقسم وفاداری کے حامل تنخواہ دار کو امریکہ سے گرفتار کر کے واپس پاکستان لایا جائے،اور حب الوطنی کے انصاف کے ترازو میں تولنے کا بندوست کیا جائے اسی طرح پاکستانی وزارت خارجہ کی بظاہر ترجمان اور حقیقتاً “بدگمان”مسز جعلی بلوچ کو بھی معطل کر کے امور خارجہ کی بدنامی کا خاتمہ کیا جائے۔عوام اتنے اہم اور حساس معاملات پر ملک کے ادارے کیوں خاموش ہیں ؟ وہ مملکت پاکستان کے خلاف اتنی بڑی سازش پر اپنا فوری ردعمل ظاہر کیوں نہیں کر رہے۔ سہیل رانا لائیو میں رات گیارہ بجے
وفاقی حکومت کا5 سالہ نجکاری پلان سامنے آگیا جس میں 24 اداروں کی نجکاری کی جائے گی۔وفاقی حکومت کی طرف سے سرکاری اداروں کی نجکاری سے متعلق 5 سالہ پلان سامنے آگیا ہے جو 2024 تا 2029 تک کے لیے ہے۔وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد وزارت نجکاری کی جانب سے اداروں کی فہرست تیارکی گئی ہے جس کے مطابق 3 مراحل میں 24 اداروں کی نجکاری ہوگی، پہلے مرحلےمیں ایک سال میں10اداروں کی نجکاری، دوسرے مرحلے میں ایک سے 3سال میں 13اداروں کی نجکاری ہوگی جب کہ تیسرے اور آخری مرحلے میں3 سے 5 سال میں ایک ادارے کی نجکاری کرنےکاپلان بنایا گیا ہے۔ نجکاری پلان میں بتایا گیا ہے کہ پہلے مرحلے میں پی آئی اے اور روزویلٹ ہوٹل نیویارک کی نجکاری کی جائےگی، پلان کےتحت زرعی ترقیاتی بینک اور فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری پہلے مرحلےمیں ہوگی جب کہ ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کی نجکاری عمل بھی پہلےمرحلےمیں مکمل کیا جائےگا۔ اس کے علاوہ پہلےمرحلے میں پاکستان انجینئرنگ کمپنی اورسندھ انجینئرنگ کمنپی لمیٹڈ کی نجکاری ہوگی جب کہ اسلام آباد، فیصل آباد اورگوجرانوالہ کی بجلی کمپنیوں کی نجکاری بھی پہلےمرحلےمیں ہوگی۔ لیسکو،میپکو، حیسکواور سیپکو، پشاور اور ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنیوں کی نجکاری کی جائےگی جب کہ جام شوروپاورکمپنی اور سینٹرل پاور جنریشن کمپنی کی نجکاری بھی دوسرے مرحلے میں ہوگی۔ دستاویز کے مطابق دوسرے مرحلے میں ہی یوٹیلیٹی اسٹورزکارپوریشن، اسٹیٹ لائف انشورنس اورپاکستان ری انشورنس کمپنی کی نجکاری بھی ہوگی۔ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ پلان کے تیسرے اور آخری مرحلے میں پوسٹل لائف انشورنس کمپنی کی نجکاری کاعمل مکمل کیاجائےگا۔