All posts by admin

پاکستان کا مستقبل شپنگ میں ھے بندرگاہوں کو ٹیکنالوجی سے لیس کیا جارہا ہے۔مافیا کو ختم کرنا اولیں ترجیح ھے وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ میری ٹائم ڈے پر خطاب

تاریخ: 26 ستمبر 2024l *وفاقی وزیر بحری امور قیصر احمد شیخ نے کراچی پورٹ ٹرسٹ کے انٹرنیشنل میری ٹائم ڈے 2024 کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی* سمندری تحفظ اور سمندری ماحول کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ہر سال ستمبر کی آخری جمعرات کو عالمی میری ٹائم ڈے منایا جاتا ہے۔ اسی کی سلسلے میں کراچی پورٹ ٹرسٹ نے 26 ستمبر 2024 کو آئل پیئر II، آئل انسٹالیشن ایریا، کیماڑی میں ورلڈ میری ٹائم ڈے منایا۔ وفاقی وزیر برائے بحری امور جناب قیصر احمد شیخ اس موقع پر مہمان خصوصی تھے۔ میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے،

جناب قیصر احمد شیخ نے بتایا کہ آئی ایم او کے سیکرٹری جنرل کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران، ہم نے اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان بحیثیت بحری قوم بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے اصولوں پر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ اعلیٰ ترین حفاظتی معیارات تیار کیے جا سکیں، ہمارے قیمتی سمندری زندگی اور غیر جاندار وسائل پر شپنگ کے ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے کے لیے گرین شپنگ کی حمایت کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار میری ٹائم قوم کے طور پر پائیدار گرین شپنگ اور بندرگاہوں کی طرف بتدریج آگے بڑھ رہا ہے۔ اے آئی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بندرگاہوں کو جدید بنایا جا رہا ہے۔ KPT نے کراچی ہاربر کے پانیوں میں تیل کے اخراج کے کسی بھی واقعے سے نمٹنے کے لیے خود کو جدید آلات سے لیس کیا ہے۔ اس جشن میں آئل سپل ریسپانس ایکسرسائز اور بوٹ ریلی کا انعقاد کیا گیا جو کہ KPT کی سمندری حفاظت اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے غیر متزلزل عزم کو اجاگر کرتی ہے۔ ان سرگرمیوں نے نہ صرف ممکنہ بحری چیلنجوں کے لیے KPT کی تیاری کو ظاہر کیا بلکہ ہمارے سمندری وسائل کے تحفظ میں تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا۔مرکزی تقریب کے علاوہ، KPT نے پاکستان میری ٹائم میوزیم میں ورلڈ میری ٹائم ڈے کی تقریبات میں ایک پرکشش سٹال لگا کر، طلباء اور مہمانوں کو KPT کے نمائندوں سے رابطہ قائم کرنے، سمندری آلودگی پر قابو پانے اور مینگروو پلانٹیشن کی اہمیت کے بارے میں قابل قدر بصیرت حاصل کر کے سرگرمی سے حصہ لیا۔ شرکاء کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ پائیدار طریقوں اور ساحلی ماحولیاتی نظام کے تحفظ میں مینگرووز کے اہم کردار کے بارے میں بات چیت کریں.اس تقریب میں آئل سپل ریسپانس ایکسرسائز اور بوٹ ریلی کا انعقاد کیا گیا جو کہ KPT کی سمندری حفاظت اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے غیر متزلزل عزم کو اجاگر کرتی ہے۔ ان سرگرمیوں نے نہ صرف ممکنہ بحری چیلنجوں کے لیے KPT کی تیاری کو ظاہر کیا بلکہ ہمارے سمندری وسائل کی حفاظت میں تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ مرکزی تقریب کے علاوہ، KPT نے پاکستان میری ٹائم میوزیم میں ورلڈ میری ٹائم ڈے کی تقریبات میں ایک پرکشش سٹال لگا کر، طلباء کو KPT کے نمائندوں سے رابطہ قائم کرنے، سمندری آلودگی پر قابو پانے اور مینگروو پلانٹیشن کی اہمیت کے بارے میں قابل قدر بصیرت حاصل کر کے سرگرمی سے حصہ لیا۔ شرکاء کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ پائیدار طریقوں اور ساحلی ماحولیاتی نظام کے تحفظ میں مینگرووز کے اہم کردار کے بارے میں بات چیت کریں۔

حادثہ یا دھشت گردی ماڑی پٹرولیم کا طیارہ گر کر تباہ 6 جان بحق بادبان نیوز

شمالی وزیرستان میں ماڑی پیٹرولیم کمپنی کا چارٹرڈ ہیلی کاپٹر گر کر تباہ آئل فیلڈ کے نزدیک اڑان بھرتے ہی تکنیکی بنیادوں پے کریش کر گیاایم آئی 8 ہیلی کاپٹر میں دو غیر ملکی پائلٹس سمیت 14 مسافر سوار تھےاب تک کی اطلاعات کے مطابق 6 افراد ہلاک اور 8 شدید زخمی ہیںحادثہ تکنیکی بنیادوں پر ہوا : ماڑی پٹرولیم

سیاسی لڑائی بمقابلہ سرکاری لڑائی تفصیلات کے لئے بادبان نیوز

سیاسی لڑائی بمقابلہ سرکاری لڑائی ۔۔۔۔ملک خداداد کے اندر کافی عرصے سے سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور جاری کشمکش کے بارے میں تو ہم سب کو معلوم ہے ۔اور یہ بھی کہ تحریک انصاف والوں نے اس لڑائی کو کچھ زیادہ ہی مسالے دار بنایا ہے۔ کہ انہوں نے اس میں ذاتی حملوں اور گالم گلوچ کا تڑکا لگا دیا ہے ۔اور اس کے نتیجے میں ہم سب کو معلوم ہے کہ ہمارے معاشرے کا اجتماعی سیاسی اور سماجی کلچر خراب ہو چکا ہے ۔اس جاری آویزش کا مزید نقصان یہ ہے کہ سوسائٹی کے اندر عدم برداشت بڑھ رہا ہے اور لوگ معمولی بات پر مشتعمل ہوجاتے ہیں ۔سیاسی وابستگی کی بنیاد پر نفع و نقصان پہنچانے کا رواج اب سرکاری محکموں اور ان کے ملازمین میں بھی سرایت کر چکا ہے ۔یعنی جب ایک پارٹی کی حکومت ہوتی ہے تو اس کے وفادار یا اس سے وابستہ افسران و ملازمین کس حد تک فوائد حاصل کرتے ہیں ۔لیکن جب دوسری پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو سابقہ حکومت کے قریبی سرکاری لوگ زیر عتاب ٹہر جاتے ہیں اور ان کو نئے نظام کے لوگ تختہ مشق بنا دیتے ہیں ۔اور یوں سیاسی لڑائی سرکاری لڑائی میں بدل جاتی ہے ۔ جس سے سول سروس اور بیوروکریسی میں خطرناک گروپنگ شروع ہو جاتی ہے جو کسی بھی لحاظ سے ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ۔اس سرکاری لڑائی کی ایک تازہ ترین مثال یہ ہے کہ پی ڈی ایم PDM حکومت میں مولانا فضل الرحمان صاحب کا فرزند اسد محمود صاحب وزارت مواصلات کا وفاقی وزیر تھا ۔انہوں نے مواصلات اور پوسٹ آفس کے محکموں میں بھرتیوں کے احکامات جاری کیے کیونکہ ان محکموں میں کافی عرصے سے بہت زیادہ خالی آسامیوں پر کوئی بھرتی نہیں ہوئی تھی ۔اس اہم کام کو سر انجام دینے میں اس وقت کے سیکرٹری مواصلات اور ڈائیرکٹر جنرل پوسٹ آفیس پیش پیش تھے ۔اور پورے پاکستان میں بھرتیوں کا سلسلہ مکمل کیا گیا ۔لیکن جب پی ڈی ایم حکومت کا خاتمہ ہوا تو ایک کٹر مسلم لیگی نگران وزیر مواصلات نے ان بھرتیوں کی انکوائری کا فیصلہ کیا اور دو ایسے افراد کو سیکرٹری مواصلات اور ڈی جی پوسٹ آفس لگا یا جو مولانا صاحب سے بوجوہ خوش نہ تھے۔ ان دو افسران نے ایک زبردست چال چلی اور ان افسران کا ایک گروپ بنایا جو مولانا کے بیٹے کی وزارت میں اچھی پوسٹوں پر نہ تھے اور یا گھروں سے دور تھے ۔اور اتفاق سے یہ افسران پی ٹی آئی سے گہری وابستگی رکھتے تھے ۔یہ افسران تو ایسے موقع کی تلاش میں تھے ۔لہذا اس گروپ نے بھرتیوں کی انکوائری کے نام پر ذاتی انا کی تسکین کی جنگ شروع کردی۔اور ایسی بھرتیاں جن کی ساری کارروائی ایک سال پہلے مکمل ہوچکی تھی ۔ان کے بارے میں ملک کے طول و عرض میں انکوائری کے نام پر ختم نہ ہونے کا سلسلہ شروع کیا ۔جو اب تک جاری ہے۔ یہ بات بھی کہی جارہی ہے کہ مولانا فضل الرحمان صاحب نے خود بھی اس کا س ت نوٹس لیا ہے کیونکہ آج کی بے روزگاری میں نوجوانوں کو باعزت روزگار دینا بہت اہم خدمت ہے اور یہ کہ ایسی انکوائری ایک اچھے کام کے لئے مولانا کے خاندان کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔اسی لئے قریبی ذرائع دعویٰ کرتے ہیں کہ مولانا صاحب نے شھباز شریف صاحب کی حکومت سے اس حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے ۔لیکن اہم ترین بات یہ ہے کہ حکومت کے لیول پر کوئی بھی کام ہو اس کو سر انجام دینے کی زمہ داری سرکاری افسران کی ہوتی ہے ۔لیکن سرکاری کام و فرائض کی بجاآوری کی سزا افسران کو ہرگز نہیں دینی چاہیے کیونکہ اس سے بہت سے افسران کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے ۔لہذا انتقامی بنیاد پر انکوائریوں کا خاتمہ ہونا چاہئے جیسے کہ یوسف رضا گیلانی صاحب نے کہا تھا کہ لوگوں کو روزگار فراہم کرنا گناہ نہیں ۔

5 ارب روپے کی کرپشن۔خفیہ ادارے کے 3 اھم افسران فارغ۔390 ارب روپے کی کرپشن کلرک مافیا کا سرغنہ۔ای ایس ای کے سربراہ عاصم ملک اندرونی بیرونی پلٹو گروپ کو کیسے قابو کرینگے۔مافیا کا ڈان باھر سے گرفتار کر کے لایا جاے گا۔افغان نیشنل وزیر اعظم کیسے بنا سولنگی را کے ایجنٹ ہے نے پی ٹی وی کا بھٹہ کیسے بھٹایا۔آرمی کے کے بڑے فیصلے کون سے 5اکتوبر کو۔سب کچھ جانتے کے بادبان نیوز کا سپیشل ایڈیشن اپنے ھاکر سے طلب کرے

‏ایشین ڈویلپمنٹ کہہ رہا ہے پاکستان میں مہنگائی کی شرح 23 اعشاریہ4 فیصد ہے.جبکہ حکومت اور جنگ گروپ کا دعوی ہے ملک میں مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں آچکی ہےاب اس کا فیصلہ قوم کرے کہ سب سے بڑا جھوٹا کون ہے ؟یہ تو پوری قوم کو بھی پتہ ہے کہ ایشین ڈیولپمنٹ بینک اس ضمن میں جھوٹ نہیں بول رہا

سپریم کورٹ کے 8 ججز کا فیصلہ حکومت نے چیلنج کر دیا

مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کے 8 ججوں کے وضاحتی فیصلے کو چیلنج کردیا گیا ، جس میں استدعا کی وضاحت پر نظرثانی کی جائے۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کی مخصوص نشستوں پر 14 ستمبرکی وضاحت پر نظرثانی درخواست کردی گئی ، اکثریتی ججز کی وضاحت پر الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست دائر کی۔درخواست میں کہا گیا کہ عدالتی فیصلے پر تاخیر کا ذمہ دار الیکشن کمیشن نہیں، 12 جولائی فیصلے کی وضاحت 25 جولائی کو دائر کی، سپریم کورٹ نے14ستمبرکووضاحت کاآرڈرجاری کیا۔درخواست میں کہنا تھا کہ عدالت نے تحریک انصاف کو جواب کیلئے کب نوٹس جاری کیا؟ پی ٹی آئی کی دستاویزپرعدالت نےالیکشن کمیشن کونوٹس جاری نہیں کیا، عدالت نے پی ٹی آئی دستاویز پر الیکشن کمیشن سےجواب طلب نہیں کیا۔درخواست میں استدعا کی گئی پارلیمنٹ نے قانون سازی کردی،سپریم کورٹ 14ستمبرکی وضاحت پر نظرثانی کرے۔یاد رہے مخصوص نشستوں کے کیس میں اکثریتی فیصلہ دینے والے 8 ججز کی وضاحت جاری کی گئی تھی، جس میں سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی وضاحت کی درخواست تاخیری حربہ ہے۔

ملک بھر میں 12 ھزار ارب روپے کی کرپشن۔اھم ترین ادارے نے پلٹو گروپ کے ایک ھزار افراد کا ڈیٹا پکڑ لیا۔49 بیورو کریٹ 21 علما 11 صحافی اور 65 سیاسی لوگ 9 فوجی بھی شامل۔ 3 ادارے نادرا سمیت ان ایکشن ستمبر کے آخری 2 روز کے سے گرفتاریاں شروع۔3 ادارے نادرا سمیت ان ایکشن ستمبر کے آخری 2 روز کے سے گرفتاریاں شروع۔۔نان فائیلر کی اصطلاح ختم۔نان فائیلر شکنجے میں۔۔نان فائیلر بیرون ملک سفر نھی کر پاے گا طرز زندگی اربوں روپے کے اثاثے سب کچھ معلوم ھے۔امید ھے یہ ای ایم ایف کا آخری بجٹ ھو گا۔وزیر خزانہ ان ایکشن۔49 بیورو کریٹ 21 علما 11 صحافی اور 65 سیاسی لوگ 9 فوجی بھی شامل۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

آئی ایم ایف نے پاکستان کی جانب سے 11 فیصد شرحِ سود پر کمرشل فنانسنگ کے حصول سے لاعلمی کا اظہار کر دیا۔ترجمان آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے 11 فیصد شرح سود پر کمرشل فنانسنگ کا حصول ہمارے علم میں نہیں

آئی ایم ایف نے پاکستان کی جانب سے 11 فیصد شرحِ سود پر کمرشل فنانسنگ کے حصول سے لاعلمی کا اظہار کر دیا۔ترجمان آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے 11 فیصد شرح سود پر کمرشل فنانسنگ کا حصول ہمارے علم میں نہیں۔آئی ایم ایف کے ترجمان نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کو اس قسم کا کمرشل قرضہ لینے کا نہیں کہا۔ترجمان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کوئی فنانسنگ پروگرام کی یقین دہانیوں کے لیے ضروری نہیں۔آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کی منظوری دے دیواضح رہے کہ گزشتہ روز انٹرنیشنل مانیٹری فنڈز (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالرز کے بیل آؤٹ پیکیج کی منظوری دی تھی۔واشنگٹن میں آئی ایم ایف ایگزیکٹیو بورڈ کے اجلاس میں پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالرز قرض کی منظوری دی گئی تھی۔گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کو ایک ارب یا 1 ارب 10کروڑ ڈالرز تک کی پہلی قسط ملے گی، پاکستان نے آئی ایم ایف کی تمام شرائط پوری کر دی تھیں۔