All posts by admin

اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب نے کہا کہ چار گھنٹے کھڑے رہے بانی پی ٹی ائی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی،جتنی مشینری ہے وہ ریاست کے اوزار ہیں

اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب نے کہا کہ چار گھنٹے کھڑے رہے بانی پی ٹی ائی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی،جتنی مشینری ہے وہ ریاست کے اوزار ہیں۔اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب نے اڈیالہ جیل کے باہرپی ٹی آئی رہنما سینیٹر شبلی فراز،احمد خان بچھر،روف حسن کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پبلک کے نمائندے جو یہاں کھڑے ہیں یہ ریاست ہیں ،آئین و قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ ہفتہ کو ہر جگہ ہمارا احتجاج ہو گا،جمعہ کو سپریم کورٹ کے سامنے وکلاء احتجاج کریں گے، اڈیالہ میں کرنل ائی ایس ائی،ایم ائی،ایف ائی یو کو جو بھی ہے، اسکو میسج دیتے ہیں ہوش کے ناخن لو، اپکا کام دہشتگردی کنٹرول کرنا ہے،ملک دشمنوں کے خلاف جانا ہے۔ ہم عوام کے نمائندے ہیں، ہمیں عوام نے منتخب کیا ہے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان، انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے فعال رکن کے طور پر بین الاقوامی ضوابط اور معیار کی پاسداری کے لئے پرعزم ہے

صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان، انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے فعال رکن کے طور پر بین الاقوامی ضوابط اور معیار کی پاسداری کے لئے پرعزم ہے۔ورلڈ میری ٹائم ڈے کے موقع پر پیغام میں صدرمملکت نے کہا کہ اس سال کے میری ٹائم ڈے کا موضوع سمندری حفاظت اور سلامتی کو آگے بڑ ھانے کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے ، یہ دن بین الاقوامی سمندری تجارت کے بلا تعطل بہا کو یقینی بنانے کے لیے زیادہ موثر اور محفوظ شپنگ ماحول کی ضرورت کو بھی اجاگر کر تاہے ،میری ٹائم ڈے کا موضوع ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے اور جدید اور تکنیکی بحری طریقوں کو اپنانے کے لیے فعال اقدامات کا مطالبہ کرتاہے ، اس سے نہ صرف ہم اپنی آپریشنل بحری کارکردگی کو بڑھا سکتے ہیں بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنا سکتے ہیں کہ اگلی نسل کو فروغ پزیر اور پائیداری بحری ماحول ورثہ میں ملے۔صدر مملکت نے کہا کہ بحری شعبہ عالمی تجارت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے جو اقتصادی ترقی، روزگار کے مواقع پیداکرنے اور بین الاقوامی تعاون کو آسان بنانے میں معاون کردار ادا کرتا ہے، اس عالمی دن کے موقع پر پاکستان سمندری آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے اہم چیلنجوں سے نمٹ کر اپنے بحری ماحولیاتی نظام اور ساحلی علاقوں کے تحفظ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتاہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے فعال رکن کے طور پر بین الاقوامی ضوابط اور معیار کی پاسداری کے لیے پرعزم ہے،پاکستان نے مختلف آئی ایم او کنونشنزسے اتفاق کیا ہے بشمول ہانگ کانگ کنونشن برائے محفوظ اور ماحولیاتی بحری جہازوں کی ری سائیکلنگ جو ماحولیاتی تحفظ اور میری ٹائم آپریشنز کی حفاظت کے لئے پاکستان کے عزم کو واضح کرتا ہے، پاکستان سمندری آلودگی سے نمٹنے کے لئے اپنے ریگولیٹری فریم ورک کو مضبوط بنانے، بحری فضلے کے انتظام کو بہتر بنانے اور کمیونٹی کی مدد سے چلنے والے منصوبوں کو وسعت دینے کے لیے سرگرم عمل ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ سمندری ماحولیاتی نظام کو درپیش ماحولیاتی نقصان کو کم کرنے کے لیے حکومتی اداروں، بین الاقوامی تنظیموں، این جی اوز اور مقامی کمیونیٹیزکے درمیان تعاون ضروری ہے، ور لڈ میری ٹائم ڈے کے موقع پر ہم حفاظتی معیار کو بہتر بنانے، ماحول دوست طرزِ عمل اپنانے اور سمندری مسافروں کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات اٹھانے کا اعادہ کریں۔

پاکستان کے دشمن باخبر یا میر جعفروں کی تعداد میں اضافہ۔سانحہ نلتر کے کرداروں کو سزا دی جاتی تو یہ سانحہ نہ ھوتا۔پاکستان میں 3 تعینات سفیر بھارت کے لئے کام کر رہے ہیں ادارے کیوں خاموش ہیں۔پولیس غیر قانونی طور پر رھنے والوں کے لیے سھولت کار بن چکی ہے۔پاکستان کے دشمن باخبر یا میر جعفروں کی تعداد میں اضافہ۔۔اسلام آباد رپورٹ سھیل رانا

نان فائلرز کی کیٹیگری ختم، جائیداد، گاڑیوں اور بین الاقوامی سفر، کرنٹ اکاؤنٹ کھولنے پر پابندیاسلام آباد(ابادبان فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے نان فائلرز کی کیٹیگری ختم کر کے ٹیکس نہ دینے والوں پر 15پابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا ہے جن میں سے 5 ابتدائی طور پر لگائی جائیں گی جن میں جائیداد، گاڑیوں، بین الاقوامی سفر ، کرنٹ اکاؤنٹ کھولنے اور میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری پرپابندیاں شامل ہیں۔ حکومت نے جدید مشین لرننگ اور الگورتھمز کے ذریعے نان فائلرز کی شناخت کا فیصلہ کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر ایسے افراد کی نگرانی کی جائے گی جن کی آمدنی کی سطح ان کے لین دین کی مقدار کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی، وزیراعظم نے منظوری دیدی، آرڈیننس لایاجائےگا۔چیئر مین ایف بی آر نے بتایا ہے کہ بینک چیک متبادل کرنسی بن چکا،اسےمحدود کیاجائیگا،پچھلے سال نان فائلرز سے صرف 25 ارب روپے فیس کی مد میں جمع ہوئے، چیئرمین ایف بی آرصنعتکاروں نے آٹو میشن کی حمایت کی ہے تاہم ان کا موقف ہے کہ اگر زراعت پر ٹیکس نہ لگاتو ٹیکس ٹوجی ڈی پی تناسب جمود کا شکاررہے گا۔تفصیلات کے مطابق منگل کوایف بی آر نے نان فائلرز کو نشانہ بنانے کے لیے متعدد پابندیاں متعارف کرانے کا اعلان کیا تاکہ ٹیکس کمپلائنس کو بڑھایا جا سکے اور ٹیکس بیس کو وسیع کیا جا سکے۔ نان فائلر کیٹیگری کو ختم کر دیا جائے گا۔ابتدائی پابندیوں میں جائیداد کی خریداری، گاڑیوں کی خریداری، میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری، کرنٹ اکاؤنٹس کھولنے اور بین الاقوامی سفر (مذہبی سفر کے علاوہ) شامل ہیں۔حکومت نان فائلر کیٹیگری کو ختم کر رہی ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ افراد جو پہلے ان لین دین پر ٹیکس ادا کرنے سے بچنے کے لیے ایک معمولی فیس ادا کرتے تھے، اب ایسا نہیں کر سکیں گے۔ایف بی آر کے چیئرمین راشد محمود لانگریال نے انکشاف کیا کہ ٹیکس ریٹرن جمع نہ کروانے والے افراد کے لیے 15 مخصوص سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جائے گی، جن میں ابتدائی طور پر پانچ کلیدی شعبوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔یہ اقدامات ایف بی آر کے تبدیلی کے منصوبے کا حصہ ہیں، جسے وزیر اعظم کی منظوری مل چکی ہے۔ایک سرکاری عہدیدار نے دی نیوز کو تصدیق کی کہ اس اقدام کو ایک آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا جائے گا، اور ایف بی آر پہلے ہی اس کے قواعد پر کام کر رہا ہے اور قانون کی وزارت کو اس عمل میں شامل کر رہا ہے۔چیئرمین ایف بی آر نے نان فائلرز کے تصور کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسی درجہ بندیاں دنیا بھر میں نہیں پائی جاتیں اور انہیں ختم کر دینا چاہیے اورتوجہ ٹیکس کمپلائنس کرنے والے اور نہ کرنے والے افراد پر مرکوز ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا”ہم جدید مشین لرننگ اور الگورتھمز کے ذریعے نان فائلرز کی شناخت کریں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے سال نان فائلرز سے صرف 25 ارب روپے فیس کی مد میں جمع ہوئے، جب کہ ان افراد سے ممکنہ ٹیکس ریونیو ابھی بھی وصول نہیں کیا جا سکا۔نئی پالیسیوں کے تحت، نان فائلرز کو روایتی بینک اکاؤنٹس کھولنے سے روکا جائے گا، سوائے کم آمدنی والے افراد کے بنیادی اکاؤنٹس کے۔ اسمگلنگ کے خلاف کارروائی کے لیے، ایف بی آر ملک بھر میں اہم داخلی مقامات پر آٹومیشن اور افرادی قوت کو بڑھا رہا ہے۔

نان فائلرز کی کیٹیگری ختم، جائیداد، گاڑیوں اور بین الاقوامی سفر، کرنٹ اکاؤنٹ کھولنے پر پابندیاسلام آباد(ابادبان فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے نان فائلرز کی کیٹیگری ختم کر کے ٹیکس نہ دینے والوں پر 15پابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا ہے

نان فائلرز کی کیٹیگری ختم، جائیداد، گاڑیوں اور بین الاقوامی سفر، کرنٹ اکاؤنٹ کھولنے پر پابندیاسلام آباد(ابادبان فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے نان فائلرز کی کیٹیگری ختم کر کے ٹیکس نہ دینے والوں پر 15پابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا ہے جن میں سے 5 ابتدائی طور پر لگائی جائیں گی جن میں جائیداد، گاڑیوں، بین الاقوامی سفر ، کرنٹ اکاؤنٹ کھولنے اور میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری پرپابندیاں شامل ہیں۔ حکومت نے جدید مشین لرننگ اور الگورتھمز کے ذریعے نان فائلرز کی شناخت کا فیصلہ کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر ایسے افراد کی نگرانی کی جائے گی جن کی آمدنی کی سطح ان کے لین دین کی مقدار کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی، وزیراعظم نے منظوری دیدی، آرڈیننس لایاجائےگا۔چیئر مین ایف بی آر نے بتایا ہے کہ بینک چیک متبادل کرنسی بن چکا،اسےمحدود کیاجائیگا،پچھلے سال نان فائلرز سے صرف 25 ارب روپے فیس کی مد میں جمع ہوئے، چیئرمین ایف بی آرصنعتکاروں نے آٹو میشن کی حمایت کی ہے تاہم ان کا موقف ہے کہ اگر زراعت پر ٹیکس نہ لگاتو ٹیکس ٹوجی ڈی پی تناسب جمود کا شکاررہے گا۔تفصیلات کے مطابق منگل کوایف بی آر نے نان فائلرز کو نشانہ بنانے کے لیے متعدد پابندیاں متعارف کرانے کا اعلان کیا تاکہ ٹیکس کمپلائنس کو بڑھایا جا سکے اور ٹیکس بیس کو وسیع کیا جا سکے۔ نان فائلر کیٹیگری کو ختم کر دیا جائے گا۔ابتدائی پابندیوں میں جائیداد کی خریداری، گاڑیوں کی خریداری، میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری، کرنٹ اکاؤنٹس کھولنے اور بین الاقوامی سفر (مذہبی سفر کے علاوہ) شامل ہیں۔حکومت نان فائلر کیٹیگری کو ختم کر رہی ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ افراد جو پہلے ان لین دین پر ٹیکس ادا کرنے سے بچنے کے لیے ایک معمولی فیس ادا کرتے تھے، اب ایسا نہیں کر سکیں گے۔ایف بی آر کے چیئرمین راشد محمود لانگریال نے انکشاف کیا کہ ٹیکس ریٹرن جمع نہ کروانے والے افراد کے لیے 15 مخصوص سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جائے گی، جن میں ابتدائی طور پر پانچ کلیدی شعبوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔یہ اقدامات ایف بی آر کے تبدیلی کے منصوبے کا حصہ ہیں، جسے وزیر اعظم کی منظوری مل چکی ہے۔ایک سرکاری عہدیدار نے دی نیوز کو تصدیق کی کہ اس اقدام کو ایک آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا جائے گا، اور ایف بی آر پہلے ہی اس کے قواعد پر کام کر رہا ہے اور قانون کی وزارت کو اس عمل میں شامل کر رہا ہے۔چیئرمین ایف بی آر نے نان فائلرز کے تصور کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسی درجہ بندیاں دنیا بھر میں نہیں پائی جاتیں اور انہیں ختم کر دینا چاہیے اورتوجہ ٹیکس کمپلائنس کرنے والے اور نہ کرنے والے افراد پر مرکوز ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا”ہم جدید مشین لرننگ اور الگورتھمز کے ذریعے نان فائلرز کی شناخت کریں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے سال نان فائلرز سے صرف 25 ارب روپے فیس کی مد میں جمع ہوئے، جب کہ ان افراد سے ممکنہ ٹیکس ریونیو ابھی بھی وصول نہیں کیا جا سکا۔نئی پالیسیوں کے تحت، نان فائلرز کو روایتی بینک اکاؤنٹس کھولنے سے روکا جائے گا، سوائے کم آمدنی والے افراد کے بنیادی اکاؤنٹس کے۔ اسمگلنگ کے خلاف کارروائی کے لیے، ایف بی آر ملک بھر میں اہم داخلی مقامات پر آٹومیشن اور افرادی قوت کو بڑھا رہا ہے۔

ارکان اسمبلی کی تنخواہ بڑھانے کا اختیار ختم ارکان اسمبلی کی تنخواہ کا فیصلہ پارلیمنٹ خود کرے گی

ارکان قومی اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کیلئے وزارت خزانہ اور حکومت کا اختیار ختم کردیا گیا۔کابینہ ذرائع کے مطابق ارکان قومی اسمبلی کی تنخواہیں اور مراعات میں اضافے کیلئے قومی اسمبلی خود فیصلہ کرے گی، اس سے قبل ارکان قومی اسمبلی کی تنخواہوں، مراعات میں اضافے کیلئے وزارت خزانہ سے مشاورت کی جاتی تھی اب ارکان قومی اسمبلی کی تنخواہوں، مراعات میں اضافے کیلئے وزارت خزانہ سے مشاورت نہیں ہو گی۔ذرائع کا کہنا تھا کہ اراکین قومی اسمبلی کے تمام الاؤنسز میں اضافے کا اختیار حکومت کے پاس نہیں ہو گا، جبکہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے ایکٹ میں ترمیم کی سفارش کی تھی کہ سینٹ ارکان کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کیلئے سینیٹ کو اختیارات دیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ وزارت خزانہ کے ایکٹ میں ترامیم کر کے ارکان قومی اسمبلی کے ساتھ سینیٹرز کو بھی شامل کیا جائے، تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کا قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اختیار ہے، ارکان قومی اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کا بل منظور ہو چکا ہے۔

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈز (آئی ایم ایف) نے پاکستان کیلئے 7ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کی منظوری دے دی۔ واشنگٹن میں آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر قرض کی منظوری دی گئی ہے۔

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈز (آئی ایم ایف) نے پاکستان کیلئے 7ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کی منظوری دے دی۔

واشنگٹن میں آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر قرض کی منظوری دی گئی ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کا کہنا تھا کہ منظوری کی صورت میں پاکستان کو 7 ارب ڈالرز قرض کی پہلی قسط ایک ارب یا ایک ارب 10 کروڑ ڈالر ملیں گے۔

آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالرز قرض کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور ہوگئیں

وزیراعظم شہباز شریف کا نیویارک میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کی کڑی شرائط پوری کردی ہیں۔ معاشی اشاریوں میں بتدریج بہتری آرہی ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک نے رواں مالی سال پاکستانی معیشت کے بہتری کی جانب گام زن ہونے کی نوید سنائی۔

اے ڈی بی نے کہا کہ مہنگائی کی شرح 15 فیصد تک گر سکتی ہے۔ بینک نے شرح نمو بھی دو اعشاریہ آٹھ فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی ہے۔

کچھ دن پہلے عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ اپ گریڈ کرچکی ہے ۔

پاکستان نے 9 ماہ کا اسٹینڈ بائے معاہدہ گزشتہ برس کامیابی سے مکمل کیا
گزشتہ دنوں واشنگٹن میں ڈائریکٹر کمیونی کیشن آئی ایم ایف جولیا کوزک کا نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف اسٹاف سطح کا معاہدہ جولائی میں طے پایا تھا۔ پاکستان نے 9 ماہ کا اسٹینڈ بائے معاہدہ گزشتہ برس کامیابی سے مکمل کیا۔

عالمی مالیاتی ادارے کا کہنا تھا کہ 37 ماہ کے قرض پروگرام کی شرائط پر عملدرآمد جاری ہے۔

آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکام تسلیم کرتے ہیں معیشت کو کامیابی سے مستحکم کرنے اور پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنے کیلئے نئے ای ایف ایف کا مستقل نفاذ ضروری ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق اس طرح روزگار اور معیار زندگی کو بہتر کرنے کے مواقع پیدا ہوں گے اور یہی پروگرام کا مقصد ہے، 2023 پروگرام کا تجربہ پاکستانی حکام کے عزم کو ظاہر کرتا ہے، پاکستانی حکام ایسی پالیسیوں پر عمل درآمد کرنے کے قابل تھے جو معیشت کو بحال کرنے میں مدد دے سکیں۔

سپریم کورٹ میں ھاتھا پای 9 سوالات کے جوابات خصوص نشستوں سے متعلق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے 9 سوالات کے معاملے پر رجسٹرار سپریم کورٹ نے جواب بھیج دیا

مخصوص نشستوں سے متعلق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے 9 سوالات کے معاملے پر رجسٹرار سپریم کورٹ نے جواب بھیج دیا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے رجسٹرار سپریم کورٹ سے 14 ستمبر کے حکم پر 9 سوالات پوچھے گئے تھے، جس پر رجسٹرار نے جواب بھیجا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ رجسٹرار سپریم کورٹ نے کہا الیکشن کمیشن اور پی ٹی آئی کی درخواستوں پر کوئی کاز لسٹ جاری نہیں ہوئی، سپریم کورٹ کے کسی کمرہ عدالت میں ان درخواستوں پر سماعت نہیں ہوئی جبکہ ججز کے کسی چیمبر میں بھی ان درخواستوں پر بیٹھنے کے بارے میں معلومات نہیں۔رجسٹرار کی جانب سے بھیجے گئے جواب میں کہا گیا کہ ویب سائٹ پر اپلوڈ ہونے سے پہلے فائل رجسڑار آفس کو نہیں بھجوائی گئی، وضاحتی حکم سینئر جج کے اسٹاف آفیسر کے کہنے پر ویب سائٹ پر اپ لوڈ ہوا۔واضح رہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 14 ستمبر کے ڈپٹی رجسٹرار کے نوٹ پر وضاحت مانگی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رجسٹرار سے 9 سوالات کے جواب طلب کیے تھے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے پوچھے گئے سوالاتپہلا سوال: الیکشن کمیشن اور پی ٹی آئی کی متفرق درخواستیں کب داخل کی گئیں؟دوسرا سوال: ججز کمیٹی کے سامنے درخواستیں کیوں پیش نہیں کی گئیں؟تیسرا سوال: درخواستیں سماعت کےلیے کب مقرر ہوئیں اور اس بارے میں کازلسٹ کیوں جاری نہ ہوئی؟چوتھا سوال: کیا فریقین اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کیا گیا؟پانچواں سوال: کس کورٹ روم یا چیمبر میں کن جج صاحبان نے سماعت کی؟چھٹا سوال: آرڈر سنانے کےلیے کاز لسٹ کیوں جاری نہ ہوئی؟ساتواں سوال: حکم نامہ جاری کرنے کے لیے وقت مقرر کیوں نہ کیا گیا؟آٹھواں سوال: اوریجنل فائل اور اصل حکم نامہ جمع کروائے بغیر ویب سائٹ پر کیسے اپ لوڈ ہوا؟نواں سوال: وضاحتی حکم نامہ سپریم کورٹ ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کا حکم کس نے دیا؟پی ٹی آئی سیاسی جماعت تھی اور ہے، مخصوص سیٹوں کے کیس میں 8 ججوں کی وضاحتواضح رہے کہ گزشتہ دنوں سپریم کورٹ کے 8 رکنی بینچ نے مخصوص نشستوں کے کیس میں الیکشن کمیشن اور پی ٹی آئی کی درخواستوں پر وضاحت میں کہا تھا کہ 12 جولائی کے فیصلے میں کوئی ابہام نہیں ہے۔اکثریتی ججز نے لکھا تھا کہ سپریم کورٹ کا 12 جولائی کا شارٹ آرڈر بہت واضح ہے اور الیکشن کمیشن نے اس حکم کو غیر ضروری طور پر پیچیدہ بنایا ہے جب کہ فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے کے سنگین نتائج ہوں گے۔

ای پی پی شکنجے میں حکومت ان ایکشن حماس کے نئے سربراہ بھی حملے میں شہید۔عرب امارات نے ایک ھزار اسرائیلیوں کو قومیت دے دی۔30 ستمبر سے نہ ملنے والہ ریلیف ختم۔ھاکی ٹیم سے حکومت کا دشمن جیسا رویہ ذمہ دار کون۔کرکٹ ٹیم کا اعلان جوا باز شامل۔اب تو پی ٹی آئی کے حق میں 9 ووٹ ہو گئے اب الیکشن کمیشن کیا کرے گا۔ تفصیلات کے لیے بادبان نیوز پر کلک کریں

پنجاب کے گورنر اور وزیر اعلی میں اختلافات۔13 وائیس چانسلر کی تعیناتی۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

پنجاب کی 13 یونیورسٹیز میں وائس چانسلر کی تقرری کے معاملے پر گورنر سردار سلیم حیدر اور وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کے درمیان اختلافات مزید بڑھ گئے۔گورنر ہاؤس کے ذرائع کے مطابق گورنر پنجاب نے وی سیز کی تقرری کی سفارشات مسترد کر کے واپس بھیج دیں، وزیرِ اعلیٰ کی منظوری سے 13 میں سے 7 وی سی کی تقرری کر دی گئی۔ذرائع نے بتایا کہ گورنر کی منظوری کے بغیر 7 یونیورسٹیز کے وائس چانسلر کا تقرر کیا گیا، گورنر پنجاب نے سفارشات مسترد کرتے ہوئے کچھ اعتراضات بھی اٹھائے۔وائس چانسلر کے پینل بنانے کا عمل ٹھیک نہیں تھا، دوبارہ جائزہ لیں، وائس چانسلر کے پینل بنانے میں صحت مندانہ مقابلہ دیکھنے میں نہیں آیا۔گورنر ہاؤس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ کی جانب سے پینل بھیجا جا سکتا ہے، سلیکشن نہیں کی جا سکتی، وائس چانسلر کا تقرر کرنے کا اختیار گورنر کو حاصل ہے۔دوسری جانب وزیرِ اعلیٰ ہاؤس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وائس چانسلر کے پینل بنانے میں شفافیت تھی، کابینہ کی منظوری کے بعد وی سی کی سلیکشن کی گئی۔ذرائع نے کہا ہے کہ گورنر کا کام صرف دستخط کرنا ہے، سمری واپس نہیں بھیج سکتے، وائس چانسلر کا تقرر وزیرِ اعلیٰ کی منظوری سے قانون کے مطابق ہے۔