All posts by admin

گھریلو صارفین کے لیے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں 7.12 روپے تک اضافے کا نوٹیفکیشن جاری ماہانہ 50 یونٹ تک لائف لائن صارفین کے لیے فی یونٹ 3.95 روپے برقرار رہے گاماہانہ 51 سے 100 یونٹ تک لائف لائن صارفین کے لیے فی یونٹ 7.74 روپے برقرار رہے گاماہانہ 200 یونٹ تک والے گھریلو صارفین 3 ماہ کے لیے اضافے سےمستثنٰی قرار،

گھریلو صارفین کے لیے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں 7.12 روپے تک اضافے کا نوٹیفکیشن جاری ماہانہ 50 یونٹ تک لائف لائن صارفین کے لیے فی یونٹ 3.95 روپے برقرار رہے گاماہانہ 51 سے 100 یونٹ تک لائف لائن صارفین کے لیے فی یونٹ 7.74 روپے برقرار رہے گاماہانہ 200 یونٹ تک والے گھریلو صارفین 3 ماہ کے لیے اضافے سےمستثنٰی قرار، نوٹیفکیشن ماہانہ 201 سے 300 یونٹ تک کا ٹیرف 7.12 روپے اضافے سے 34.26 روپے ہوگیاماہانہ 301 سے 400 یونٹ کا ٹیرف 7.02 روپے اضافے سے 39.15 روپے ہوگیاماہانہ 401 سے 500 یونٹ کا ٹیرف 6.12 روپے اضافے سے 41.36 روپے ہوگیاماہانہ 501 سے 600 یونٹ کا ٹیرف 6.12 روپے اضافے سے 42.78 روپے ہوگیاماہانہ 601 سے 700 یونٹ کا ٹیرف 6.12 روپے اضافے سے 43.92 روپے ہوگیاماہانہ 700 یونٹ سے زیادہ کا ٹیرف 6.12 روپے اضافے سے 90 روپے

2 ارب مسلمانوں میں سعودی شاہی خاندان کے خلاف نفرت کیوں بڑھی حضور اکرم کے روضے کی نعوذبااللہ بے حرمتی حج 2024 کے ناقص انتظامات 5000 حجاج شھید مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں غیر مسلم کی اجازت تفصیلات بادبان یو ٹیوب بادبان ٹی وی بادبان ٹوئٹر بادبان فیس بک سھیل رانا لاءیو میں پاکستانی وقت کے شام چھ بجے

قومی احتساب بیورو (نیب) نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی گرفتاری ڈال دی۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی گرفتاری ڈال دی۔

ذرائع کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر نیب محسن ہارون کی سربراہی میں نیب ٹیم نے دونوں کو گرفتار کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب نے نئے توشہ خانہ ریفرنس میں دونوں میاں بیوی کی گرفتاری ڈالی، انہیں نئے توشہ خانہ ریفرنس میں گرفتار کیا۔

نیب ذرائع کے مطابق بطور وزیراعظم بانی پی ٹی آئی اور اہلیہ نے توشہ خانہ سےتحائف حاصل کیے، الزام ہےکہ تحائف کم قیمت پرحاصل کرکے مہنگے داموں فروخت کردیے۔

دوسری جانب بانی پی ٹی آئی اوربشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے روبکار بھی جاری کردی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق روبکار جاری ہونے کے بعد جیل سے قانونی طورپررہائی لازمی ہے اور نیب ٹیم نے دوبارہ گرفتاری کے ابتدائی قانونی تقاضے پورے کر لیے۔

جیل کے دونوں داخلی دروازوں پر پولیس کی بھاری نفری اور کارکن موجود ہیں۔

ذرائع کے مطابق بشریٰ بی بی کو رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار لرلیا گیا، انہیں گیٹ نمبر 3سے رہا کر کے دوبارہ گرفتار کیا گیا۔

ذرائع نے بتایاکہ بشریٰ بی بی کو قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد گرفتار کیا گیا، انہیں اڈیالہ جیل میں ہی رکھا جائے گا۔

قبل ازیں لاہور میں درج 9 مقدمات کے تفتیشی افسران بھی اڈیالہ جیل پہنچے تھے، لاہور پولیس کی ٹیم انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی سے اجازت لے کر اڈیالہ جیل پہنچی۔

ذرائع کے مطابق لاہور پولیس کی جانب سے بانی بی پی ٹی آئی کی گرفتاری ڈالے جانے کا امکان تھا۔

دوسری جانب 9 جولائی کو لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی 9 مئی کے تین مقدمات میں عبوری ضمانت خارج کر دی تھی۔

ذرائع نے بتایاکہ 9 مئی کے مقدمات میں عبوری ضمانتوں کی منسوخی کے بعد پولیس نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی گرفتاری نہیں ڈالی۔

ذرائع نے بتایاکہ لاہورکی انسداددہشت گردی عدالت نے ضمانتیں منسوخی کا تحریری فیصلہ دوروزقبل جاری کیا۔

ذرائع نے بتایاکہ اڈیالہ جیل کے ریکارڈ میں بانی پی ٹی آئی ان کیسوں میں گرفتار نہیں۔

اُدھر پی ٹی آئی کارکنان اڈیالہ جیل پہنچنا شروع ہوگئے، پی ٹی آئی کے کارکنان کو اڈیالہ جیل کے گیٹ نمبر ایک پر روک دیا گیا۔

خیال رہے کہ اسلام آباد کی عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیلیں منظور کرتے ہوئے انہیں بری کردیا ہے تاہم فوری طور پر عمران خان کی رہائی ممکن نہیں ہے۔

اسلام آباد کی سیشن عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی عدت کیس میں رہائی کی روبکار تو جاری کردی ہےتاہم 5 دیگر کیسز میں روبکار جاری نہ ہونے کے سبب بانی پی ٹی آئی کی رہائی ممکن نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق عمران خان 9 مئی کے راولپنڈی میں درج 12 کیسز میں ضمانت پر ہیں، ان کی راولپنڈی میں درج 5 مقدمات میں ابھی تک روبکار جاری نہیں ہوئیں۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ اڈیالہ جیل انتطامیہ کو بانی پی ٹی آئی کی سائفرکیس میں بھی روبکار موصول نہیں ہوئی ہے۔

پاکستان آٹا ملز ایسوسی ایشن اور حکومت کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے۔ آٹا ملز ایسوسی ایشن نے ہڑتال 10 دن کےلیے موخر کردی۔

پاکستان آٹا ملز ایسوسی ایشن اور حکومت کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے۔ آٹا ملز ایسوسی ایشن نے ہڑتال 10 دن کےلیے موخر کردی۔

حکومتی کمیٹی میں چیئرمین ایف بی آر اور 4 وفاقی وزرا شامل تھے۔

آٹا ملز ایسوسی ایشن نے مذاکرات میں ود ہولڈنگ ٹیکس پر تحفظات کا اظہار کیا۔ چیرمین ایف بی آر نے مبینہ طور پر ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے کے آٹا ملز ایسوسی ایشن کے مؤقف سے اتفاق کیا۔

آٹا ملز ایسوسی ایشن اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور جمعرات کو ہوگا۔

تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے ہفتے کو فلسطین سے متعلق اپنے تین مطالبات کی منظوری تک وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہر راول پنڈی کے سنگم فیض آباد کے مقام پر دھرنا دے دیا

تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے ہفتے کو فلسطین سے متعلق اپنے تین مطالبات کی منظوری تک وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہر راول پنڈی کے سنگم فیض آباد کے مقام پر دھرنا دے دیا۔ٹی ایل پی نے آج فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے راول پنڈی کے لیاقت باغ سے فیض آباد تک مارچ کیا جس کے بعد دھرنے کا اعلان کیا گیا۔ ٹی ایل پی کے شعبہ نشرواشاعت کی طرف سے جاری کردہ بیان میں تنظیم کے سربراہ حافظ سعد رضوی نے کہا کہ ’جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوتے ہم ادھر ہی بیٹھے ہیں۔‘ ٹی ایل پی کے ایک ترجمان امجد رضوی نے بتایا کہ پارٹی نے تین مطالبات سامنے رکھے ہیں جن میں اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ، اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن ہایو کو دہشت گرد قرار دینا اور فلسطین کو طبی امداد وغیرہ مہیا کرنا شامل ہیں۔‘فیض آباد کو اسلام آباد کا اہم داخلی راستہ سمجھا جاتا ہے۔ اس مقام پر ماضی میں ٹی ایل پی سمیت کئی تنظیمیں دھرنا دینے کے علاوہ اس راستے کو بلاک کر چکی ہیں۔تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کے خلاف فیض آباد پر دھرنا دے دیا۔راولپنڈی میں ٹی ایل پی کے زیرِ اہتمام فلسطین کے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کیلیے سربراہ سعد حسین رضوی کی قیادت میں ریلی نکالی گئی۔ریلی لیاقت باغ مری روڈ سے ہوتی ہوئی فیض آباد پہنچ گئی جہاں ٹی ایل پی کی طرف سے دھرنا دے دیا گیا۔سعد حسین رضوی نے شرکا سے خطاب میں کہا کہ مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رہے گا، اسرائیلی مصنوعات کے سرکاری بائیکاٹ کیے جانے تک دھرنے پر بیٹھیں گے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مظلوم فلسطینیوں تک طبی و غذائی امداد پہنچائی جائے۔دھرنے کے باعث فیض آباد سے صدر تک میٹرو بس سروس بند ہو کر سیکرٹریٹ سے آئی جی پی اسٹیشن تک محدود ہوگئی۔

یوں ایک زمانے کا اختتام ھو گیا تفصیلات کے لئے کلک کرے

”ایک وقت تھا جب گاؤں کے سب لوگ بس میں بیٹھ کر بازار جایا کرتے تھے، سڑک پر چلتی بس جب اپنا مخصوص ہارن بجاتی تو گھروں میں پتہ چلتا کہ بس کا ٹائم ہورہاہے۔کسی کو اپنے ہاں مہمان آنے کی اطلاع ہوتی اور کسی کو اپنے گھر بیٹھے مہمان کو روانہ کرنے کی فکر ہوتی اور پھر وقت بدل گیا۔ روڈ بدل گٸے، لوگ بدل گٸے، محبتیں بدل گٸیں، بسیں بدل گئیں،سائیکلیں ٹھکانے لگ گٸیں، درخت کٹ گٸے، چِڑیاں اُڑ گئیں، چہچہاہٹ تھم گئی، پیدل والے رستوں پر گھاس اُگ گٸی،اور پھر گاؤں کے لوگ آپس میں بیگانے ہو گٸے، ایک دوسرے کی پرواہ ختم ہو گٸی، اور یوں ایک حسِین زمانے کا اختتام ہو گیا“