All posts by admin

اسلام آباد کے سب سے بڑے پمزہسپتال سے فیڈرل میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹس (ایف ایم ٹی آئی) ایکٹ کے تحت بھرتی کئے گئے 100 سے زائد نرسنگ سٹاف کو زبانی حکم پر نوکری سے فارغ کرکے ہاسٹل چھوڑنے کا حکم بھی دے دیا گیا

اسلام آباد کے سب سے بڑے پمزہسپتال سے فیڈرل میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹس (ایف ایم ٹی آئی) ایکٹ کے تحت بھرتی کئے گئے 100 سے زائد نرسنگ سٹاف کو زبانی حکم پر نوکری سے فارغ کرکے ہاسٹل چھوڑنے کا حکم بھی دے دیا گیا۔نوکریوں سے برطرف کئے جانے پر احتجاج کرتے ہوئے نرسنگ سٹاف کا کہنا ہے کہ ہمیں بے سرو سامانی میں ایک دن کے نوٹس پر نکالا جا رہا ہے جبکہ کانٹریکٹ میں توسیع کیلئے ہسپتال انتظامیہ کے زبانی وعدوں پر چار ماہ سے بغیر تنخواہ کے کام کر رہے ہیں، اب ان کی جگہ غیر تربیت یافتہ افراد بھرتی کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رانا عمران سکندر کا کہنا ہے کہ کانٹریکٹ ختم ہو چکا ہے اور اب یہ معاملہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور محکمہ صحت کے درمیان رکا ہوا ہے۔واضح رہے کہ پی ٹی آئی دور حکومت میں اس نرسنگ سٹاف کو دو سال کے کانٹریکٹ پر بھرتی کیا گیا تھا، پی ڈی ایم دور حکومت میں نرسنگ سٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع دی گئی اور توسیعی کانٹریکٹ بھی دسمبر 2023 میں ختم ہو چکا ہے۔

ڈالر ایک ماہ مے 30 روپے کم 269 پر مزید کم کرنے کا فیصلہ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

انٹر بینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں مزید 10 پیسے بہتری کے بعد 278 روپے 20 پیسے پر پہنچ گئی۔انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر جمعہ کو بڑھ کر 278 روپے 20 پیسے ہوگئی، جو اس سے ایک روز قبل 278 روپے 30 پیسے پر ریکارڈ کی گئی تھی۔فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت خرید اور قیمت فروخت بالترتیب 277 روپے 50 پیسے اور 280 روپے 20 پیسے ریکارڈ کی گئی۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق جمعہ کو روپے کے مقابلے میں یورو کی قدر 51 پیسے کمی کے ساتھ 301 روپے 16 پیسے پر بند ہوئی۔اسی طرح جمعہ کو جاپانی ین بغیر کسی تبدیلی کے 1.77 روپے پر بند ہوا، جبکہ برطانوی پاؤنڈ 51 پیسے سستا ہو کر 353 روپے 34 پیسے پر ٹریڈ ہوا۔

گریڈ 20 کے کس آفیسر نے صرف 22 ماہ میں 2 ارب روپے کمائے؟دوبئی میں جائیداد ، ایک اہم ادارے کا گریڈ 21 کا آفیسر سہولت کارہنڈا کی گاڑیاں 6 لاکھ سستی13 میجر جنرلز نے عہدوں کا چارج سنبھال لیاحج اکاؤنٹس میں بینکوں سے انٹرسٹ نہ لے کر 3 افسران نے ایک ارب روپے کہاں شفٹ کئیے؟خفیہ ادارے بھنگ پی کر کیوں سو رہے ہیں؟ سب کچھ جانیے سہیل رانا لائیو میں

بینظیر بھٹو اسپتال راولپنڈی میں کانگو وائرس سے متاثرہ 2 مریض انتقال کرگئے۔اسپتال ذرائع کے مطابق کانگو وائرس سے متاثرہ 3 مریض رواں ماہ اٹک سے لائے گئے تھے، جن میں سے 2 انتقال کرگئے ہیں۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

بینظیر بھٹو اسپتال راولپنڈی میں کانگو وائرس سے متاثرہ 2 مریض انتقال کرگئے۔اسپتال ذرائع کے مطابق کانگو وائرس سے متاثرہ 3 مریض رواں ماہ اٹک سے لائے گئے تھے، جن میں سے 2 انتقال کرگئے ہیں۔ذرائع کے مطابق بینظیر بھٹو اسپتال میں لایا گیا کانگو وائرس کا تیسرا مریض تاحال زیر علاج ہے

ڈی ایم ایس بینظیر بھٹو اسپتال راولپنڈی ڈاکٹر جنید نے کہا ہے کہ کانگو جان لیوا وائرس ہے، بچاؤ کے امکانات صرف 10 فیصد ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کانگو وائرس جانوروں سے انسان اور انسان سے انسان میں منتقل ہوتا ہے، مسوڑوں، ناک اور فضلے میں خون آنا، تیز بخار کانگو وائرس کی علامات ہیں۔کانگو وائرس کے نئے کیسز سامنے آنے پر محکمہ ہیلتھ پنجاب نے 9 رکنی ڈاکٹرز کی خصوصی ٹیم اٹک بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسلام آباد میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں نیوی کے لیفٹیننٹ کمانڈر یاسر آفریدی ڈی ای جی آپریشن تمام تھانوں کے ایس ایچ او تبدیل تفصیلات کے لئے کلک کرے

اسلام آباد پولیس میں مزید تبادلوں کا فیصلہ کیا گیا ہے، ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سے محرر تک اکھاڑ پچھاڑ ہوگی۔تفصیلات کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ ڈی آئی جی آپریشنز کے عہدے پر تعیناتی کے لیے لاہور سے علی رضا کو لایا جا رہا ہے، جبکہ ایس ایس پی آپریشنز جمیل ظفر کو بھی تبدیل کیا جائے گا۔ذرائع نے بتایا کہ ایس ایس پی آپرینشز کے لیے بلوچستان سے ایک پی ایس پی آفیسر کو تعینات کیا جائے گا، حسن سردار احمد خان کو ایس ایس پی لا اینڈ آرڈر تعینات کردیا گیا ۔اسی طرح ایس پی سوہان اصغر علی کو تبدیل کرکے ایس پی وزیراعظم ہاؤس تعینات کردیا گیا، ذرائع کے مطابق خیبرپختوانخو صوبے سے واپس تبدیل ہونے والے ایس ایس پی یاسر آفریدی کو بھی اہم عہدے پر تعینات کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق تھانوں کی سطع پر بھی ایس ایچ اوز اور تفتیشی افسران کی ڈویثرن سطع پر تبدیل کیا جائے گا، تھانوں کے تمام محرر اور نائب محرر بھی تبدیل کردئیے جائیں گے

تفتیشی افسر سب انسپکٹر دنوں سیکٹر کمانڈر کی تفتیشی اور 161 بیان لے جسٹس محسن اختر کیانی اسلام آباد ھای کورت ایجنسیاں ھمیں احکامات جاری کرنے سے گریز کرے چیف جسٹس پنجاب ھای کورٹ ازادنہ فیصلے کرنے سے کوی نھی روک سکتا جسٹس اطہر من اللہ سینٹ میں ججز کخلاف شیری رحمان کی صدارت کے بعد تقاریر کا ردعمل ھم پاکستان کو کدھر لے کر جارھے تفصیلات کے لئے کلک کرے

‏احمد فرہاد کیس/ مکمل عدالتی کارروائی ‏اسلام آباد ہائی کورٹ نے مسنگ پرسنز کیسز لائیو دکھانے کا فیصلہ کر لیا۔ مغوی شاعر کی عدم بازیابی پر سیکرٹری دفاع اور آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈر کو 29 مئی کو طلب کر لیا ہے ۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے ہم نے جبری گمشدگیوں کو روکنا ہے۔اب یہ صرف ایک آدمی کی ریکوری کی بات نہیں پوری قوم کی ریکوری کا معاملہ ہے۔یہ حکومت تو جبر کے دور سے گزر کر آئی ہے اسے تو سمجھنا چاہیے، صحافیوں کی خبر سے اتنی تکلیف کیوں ہوتی ہے؟ عدلیہ اداروں کے ماتحت نہیں، ادارے ایسا کرنے کا سوچیں بھی نہیں، جب جب ایسا ہوا اس کے بھیانک نتائج نکلے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ بدنام ترین تاریخ ہے‏اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے مغوی شاعر احمد فرہاد کی بازیابی درخواست پر سماعت کی۔ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا احمد فرہاد کی تلاش کی کوشش جاری ہے، لوکیشن ٹریس ہوئی ہے، ہم نے سی ڈی آر لی ہے، پولیس ٹیم وہاں پر موجود ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے ریاست کی گارنٹی ناکام ہو گئی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا نہیں، ابھی ناکام نہیں ہوئی۔‏جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا احمد فرہاد کی بازیابی کا معاملہ اب غیرمتعلقہ ہو گیا ہے، اسے ریکور کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اب ایک شخص کا بازیاب ہونا غیرمتعلقہ ہے، یہ صرف ایک آدمی کی ریکوری کی بات نہیں پوری قوم کی ریکوری کا معاملہ ہے۔اگر احمد فرہاد بازیاب ہوتا تو پھر پٹیشن ختم ہو جاتی، اب میں اس پر ججمنٹ دوں گا۔اب پولیس مسنگ پرسن کیس میں انٹیلیجنس ایجنسی کےافسر کو شامل تفتیش کرے گی،پھر ٹرائل کورٹ کی صوابدید ہو گی کہ وہ اسے بطور گواہ بلائے یا نہیں۔ سیکٹر کمانڈر کی حیثیت ہمارے ایس ایچ او کے برابر ہے، اس کو عدالت میں پیش ہوتے کوئی شرمندگی نہیں ہونی چاہیے، تمام ادارے قانون کے ماتحت ہیں عدالتوں میں پیش ہونے سے کسی کی بےعزتی نہیں ہوتی۔ ‏عدالت نے پوچھا آئی ایس آئی کس کو جوابدہ ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا آئی ایس آئی وزیراعظم کے ماتحت ہے، جسٹس کیانی نے کہا پھر تو بہت آسان ہو گیا سیدھا وزیراعظم کو رپورٹ کرتے ہیں درمیان میں کوئی نہیں۔پھر ہم وزیراعظم کو بلا کر پوچھ لیں گے کہ آپ کے ماتحت ادارہ کیسے کام کرتا ہے۔فی الحال وزیراعظم کو نہیں بلا رہا ۔ ابھی آئی ایس آئی کی ورکنگ سمجھنا چاہتا ہوں۔وزیراعظم کو طلب کرنا آخری آپشن ہو گا۔ سیکرٹری دفاع عدالتی سوالات کے جواب دیں کہ آئی ایس آئی کام کیسے کرتی ہے؟ اس کی انٹرنل ورکنگ کیسے ہے؟ کیا ریاست کے فنڈز استعمال ہوتے ہیں؟ سیکٹر کمانڈرز کی کیا ذمہ داریاں ہیں، ان کے نیچے کتنے لوگ کام کرتے ہیں ۔اب ایجنسیاں چھپ کر نہیں رہیں گی بلکہ سامنے اور سٹرکچرڈ ہوں گی۔ان کی ورکنگ کی ٹرانسپیرنسی بہت ضروری ہے۔پاکستان میں کوئی ایجنسیز ایسے کام نہیں کر سکتیں کہ جس کا چیک اینڈ بیلنس نا ہو۔یہ ادارے کام کر کے قوم پر احسان نہیں کر رہے، جب اداروں کا احتساب نہ ہو اور احتساب کا طریقہ کار موجود نہ ہو تو پھر مسئلہ ہوتا ہے۔ایجنسیوں کا سٹرکچر موجود ہو گا اور طریقہ کار طے کیا جائے گا۔ایجنسیز کی ورکنگ کہیں تحریری طور پر رکارڈ پر نہیں ہے۔اگر پولیس کے پاس تھانے میں بندہ ہو اوروہ انکار کرےکہ اس کے پاس نہیں تو کیاریمیڈی ہے؟قانون میں ایسے پولیس اہلکار کے خلاف دس سال قید کی سزا ہے۔کیا کوئی مثال ہے کہ کسی انٹیلی جنس افسر کو پراسیکیوٹ کیا گیا ہو؟ اٹارنی جنرل نے کہا نہیں، ایسا نہیں ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا یہ جو استثنا ملا ہوا ہے اسی کوختم کرنا ہے۔ یا تو ایجنسیوں کو قانون سازی کر کے چھ چھ ماہ کا اختیار دے دیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا آئین میں اس کی اجازت نہیں ہے۔ جسٹس کیانی نے کہا آئین ان باقی چیزوں کی اجازت بھی نہیں دیتا جو ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہا یہ ساری لیگل باتیں ہیں جس پر اعتراض والی تو کوئی بات نہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا دیکھ لیتے ہیں کہ ایجنسیز کا دنیا بھر میں کردار کیا ہوتا ہے۔ اس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا سی آئی اےکا سربراہ تو جوابدہ ہوتا ہےاور کئی کئی گھنٹے کھڑےہوکر سوالوں کے جواب دیتا ہے۔ ایجنسیز ہمیں کانفیڈنشل چیزیں دیتی ہے اور ہم انہیں صرف اپنے پاس رکھتے ہیں۔ایسی چیزیں تو ہم بھی پڑھ کر بند لفافے میں واپس کر دیتے ہیں۔ مسنگ پرسن کیس میں پہلے بھی ایک ایک کروڑ روپے کے جرمانے کیے تھے، مسئلے کا حل نہیں نکل رہا، آج بھی وہیں کھڑے ہیں۔ میں نے تو کبھی نہیں دیکھا کہ کسی عدالت نے دہشت گرد کا ریمانڈ مسترد کیا ہو۔ دہشت گردوں کو تو کبھی ضمانت یا رعایت بھی نہیں دی۔ اس بندے کو غائب ہوئے دس دن ہو گئے ہیں۔ ‏عدالتی کارروائی / مکمل احوال 2/2‏ایمان مزاری ایڈووکیٹ نے کہا یہ مغوی کی انٹرایجنسی ٹرانسفر بھی کرتے ہیں، ایم آئی سے بھی اس متعلق بیان حلفی لیا جائے۔ مغوی کو وڈیو بیان ریکارڈ کرانے پر مجبور کیا جا رہا ہے کہ وڈیو بیان ریکارڈ کرائے اور کہے کہ ماضی میں جوکچھ کہا وہ غلط تھااور آئندہ ایسا نہیں کرے گا۔ اٹارنی جنرل کی گارنٹی پوری نہیں ہو سکی۔یہ بتایا جا رہا ہے کہ اگر بندہ نکلے گا تو ڈیل کر کے نکلے گا ایسے نہیں نکل سکتا۔احمد فرہاد کی جان کو شدید خطرہ ہے۔‏سینئر صحافی و اینکر حامد میر روسٹرم پر آ گئےاور کہا حکومت نے پیمرا کے ذریعے میڈیا کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہےاور عدالتی کارروائی رپورٹ کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ اس عدالت میں اسی کیس کی گزشتہ سماعت کے بعد ہوا۔ عدالت نے جو آج باتیں پوچھی ہیں کیا وہ ہم چلا سکتے ہیں؟ جسٹس کیانی نے کہا آپ بالکل چلا سکتے ہیں۔پیمرا کا آرڈر میرے سامنے نہیں، ہم آئندہ اس عدالت کی کارروائی لائیو دکھائیں گے۔مسنگ پرسنز کے کیسز اب لارجر بینچ میں بھجوانے کا کہوں گا۔جسٹس محسن اختر کیانی نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کر کے کہا جب چینلز پر چیزیں چلاتے ہیں تو آپ کو بری کیوں لگتی ہیں؟ یہ حکومت تو خودجبر کے دور سے گزر کر آئی ہے اسے تو سمجھنا چاہیے، صحافیوں کی خبر سے اتنی تکلیف کیوں ہوتی ہے؟ ہم تو اس کو بھی نہیں روک پائے جو بیٹھ کر گالیاں دیتا ہے۔ صحافیوں کی گائیڈ لائنز موجود ہیں، وہ دوسرے کا موقف بھی پوچھتے ہیں۔اگر حکومت نے اپنا مثبت چہرہ دکھانا ہوتا ہے تو اس کے لیے شفافیت ضروری ہے۔ ہم یہی ٹرانسمیشن لائیو کر دیں گے جس نے جو سمجھنا ہو گا سمجھ لے گا۔ ‏ایس ایس پی آپریشنز جمیل ظفر نے کہا انٹیلی جنس بیورو پولیس کی معاونت کر رہی ہے۔ عدالت نے پوچھا آئی ایس آئی اور ایم آئی معاونت نہیں کرتیں؟ ایس ایس پی نے جواب دیا پولیس آئی بی سے ہی معاونت لیتی ہے۔ آئی جی اسلام آباد نے کہا جبری گمشدگی کی طرف معاملہ جا رہا ہو تو جے آئی ٹی بنائی جاتی ہے۔ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم بناکر اس میں انٹیلی جنس اداروں کے نمائندے بھی ہوتے ہیں۔ جسٹس کیانی نے کہا یہ ایسے ہی ہے کہ میں ایجنسی کے لوگوں کو چیمبر میں بلا کر گپ شپ لگاؤں، کچھ ان کی سنوں، کچھ انہیں بتاؤں۔لاپتہ افراد کمیشن کی مایوس کن کارکردگی ہے، کئی کئی سال کیس چلتا ہے۔کمیشن کونظرآتا ہے کہ بندہ ایجنسی کی تحویل میں بھی ہے مگر مانگ بھی نہیں سکتے۔وہ ادھر سے مان بھی رہے ہوتے ہیں اور بندہ بھی نہیں چھوڑ رہے ہوتے۔ ‏عدالت نے سینئر صحافی حامد میر کو عدالتی معاون مقرر کرتے ہوئے کہا کہ ہیومن رائٹس کے نمائندے اور پارلے منٹیرین کو بھی عدالتی معاون مقرر کریں گے۔ کیس کی مزید سماعت29 مئی کو ہو گیبشکریہ : اویس یوسفزئی صاحب / کورٹ رپورٹر

جسٹس محسن کیانی اور بارہ ججز احمد فراز کیس مکمل کھانی صرف بادبان ٹی وی پر تفصیلات کے لیے کلک کریں

‏احمد فرہاد کیس/ مکمل عدالتی کارروائی

‏اسلام آباد ہائی کورٹ نے مسنگ پرسنز کیسز لائیو دکھانے کا فیصلہ کر لیا۔ مغوی شاعر کی عدم بازیابی پر سیکرٹری دفاع اور آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈر کو 29 مئی کو طلب کر لیا ہے ۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے ہم نے جبری گمشدگیوں کو روکنا ہے۔اب یہ صرف ایک آدمی کی ریکوری کی بات نہیں پوری قوم کی ریکوری کا معاملہ ہے۔یہ حکومت تو جبر کے دور سے گزر کر آئی ہے اسے تو سمجھنا چاہیے، صحافیوں کی خبر سے اتنی تکلیف کیوں ہوتی ہے؟ عدلیہ اداروں کے ماتحت نہیں، ادارے ایسا کرنے کا سوچیں بھی نہیں، جب جب ایسا ہوا اس کے بھیانک نتائج نکلے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ بدنام ترین تاریخ ہے

‏اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے مغوی شاعر احمد فرہاد کی بازیابی درخواست پر سماعت کی۔ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا احمد فرہاد کی تلاش کی کوشش جاری ہے، لوکیشن ٹریس ہوئی ہے، ہم نے سی ڈی آر لی ہے، پولیس ٹیم وہاں پر موجود ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے ریاست کی گارنٹی ناکام ہو گئی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا نہیں، ابھی ناکام نہیں ہوئی۔

‏جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا احمد فرہاد کی بازیابی کا معاملہ اب غیرمتعلقہ ہو گیا ہے، اسے ریکور کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اب ایک شخص کا بازیاب ہونا غیرمتعلقہ ہے، یہ صرف ایک آدمی کی ریکوری کی بات نہیں پوری قوم کی ریکوری کا معاملہ ہے۔اگر احمد فرہاد بازیاب ہوتا تو پھر پٹیشن ختم ہو جاتی، اب میں اس پر ججمنٹ دوں گا۔اب پولیس مسنگ پرسن کیس میں انٹیلیجنس ایجنسی کےافسر کو شامل تفتیش کرے گی،پھر ٹرائل کورٹ کی صوابدید ہو گی کہ وہ اسے بطور گواہ بلائے یا نہیں۔ سیکٹر کمانڈر کی حیثیت ہمارے ایس ایچ او کے برابر ہے، اس کو عدالت میں پیش ہوتے کوئی شرمندگی نہیں ہونی چاہیے، تمام ادارے قانون کے ماتحت ہیں عدالتوں میں پیش ہونے سے کسی کی بےعزتی نہیں ہوتی۔

‏عدالت نے پوچھا آئی ایس آئی کس کو جوابدہ ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا آئی ایس آئی وزیراعظم کے ماتحت ہے، جسٹس کیانی نے کہا پھر تو بہت آسان ہو گیا سیدھا وزیراعظم کو رپورٹ کرتے ہیں درمیان میں کوئی نہیں۔پھر ہم وزیراعظم کو بلا کر پوچھ لیں گے کہ آپ کے ماتحت ادارہ کیسے کام کرتا ہے۔فی الحال وزیراعظم کو نہیں بلا رہا ۔ ابھی آئی ایس آئی کی ورکنگ سمجھنا چاہتا ہوں۔وزیراعظم کو طلب کرنا آخری آپشن ہو گا۔ سیکرٹری دفاع عدالتی سوالات کے جواب دیں کہ آئی ایس آئی کام کیسے کرتی ہے؟ اس کی انٹرنل ورکنگ کیسے ہے؟ کیا ریاست کے فنڈز استعمال ہوتے ہیں؟ سیکٹر کمانڈرز کی کیا ذمہ داریاں ہیں، ان کے نیچے کتنے لوگ کام کرتے ہیں ۔اب ایجنسیاں چھپ کر نہیں رہیں گی بلکہ سامنے اور سٹرکچرڈ ہوں گی۔ان کی ورکنگ کی ٹرانسپیرنسی بہت ضروری ہے۔پاکستان میں کوئی ایجنسیز ایسے کام نہیں کر سکتیں کہ جس کا چیک اینڈ بیلنس نا ہو۔یہ ادارے کام کر کے قوم پر احسان نہیں کر رہے، جب اداروں کا احتساب نہ ہو اور احتساب کا طریقہ کار موجود نہ ہو تو پھر مسئلہ ہوتا ہے۔ایجنسیوں کا سٹرکچر موجود ہو گا اور طریقہ کار طے کیا جائے گا۔ایجنسیز کی ورکنگ کہیں تحریری طور پر رکارڈ پر نہیں ہے۔اگر پولیس کے پاس تھانے میں بندہ ہو اوروہ انکار کرےکہ اس کے پاس نہیں تو کیاریمیڈی ہے؟قانون میں ایسے پولیس اہلکار کے خلاف دس سال قید کی سزا ہے۔کیا کوئی مثال ہے کہ کسی انٹیلی جنس افسر کو پراسیکیوٹ کیا گیا ہو؟ اٹارنی جنرل نے کہا نہیں، ایسا نہیں ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا یہ جو استثنا ملا ہوا ہے اسی کوختم کرنا ہے۔ یا تو ایجنسیوں کو قانون سازی کر کے چھ چھ ماہ کا اختیار دے دیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا آئین میں اس کی اجازت نہیں ہے۔ جسٹس کیانی نے کہا آئین ان باقی چیزوں کی اجازت بھی نہیں دیتا جو ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہا یہ ساری لیگل باتیں ہیں جس پر اعتراض والی تو کوئی بات نہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا دیکھ لیتے ہیں کہ ایجنسیز کا دنیا بھر میں کردار کیا ہوتا ہے۔ اس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا سی آئی اےکا سربراہ تو جوابدہ ہوتا ہےاور کئی کئی گھنٹے کھڑےہوکر سوالوں کے جواب دیتا ہے۔ ایجنسیز ہمیں کانفیڈنشل چیزیں دیتی ہے اور ہم انہیں صرف اپنے پاس رکھتے ہیں۔ایسی چیزیں تو ہم بھی پڑھ کر بند لفافے میں واپس کر دیتے ہیں۔ مسنگ پرسن کیس میں پہلے بھی ایک ایک کروڑ روپے کے جرمانے کیے تھے، مسئلے کا حل نہیں نکل رہا، آج بھی وہیں کھڑے ہیں۔ میں نے تو کبھی نہیں دیکھا کہ کسی عدالت نے دہشت گرد کا ریمانڈ مسترد کیا ہو۔ دہشت گردوں کو تو کبھی ضمانت یا رعایت بھی نہیں دی۔ اس بندے کو غائب ہوئے دس دن ہو گئے ہیں۔

‏عدالتی کارروائی / مکمل احوال 2/2

‏ایمان مزاری ایڈووکیٹ نے کہا یہ مغوی کی انٹرایجنسی ٹرانسفر بھی کرتے ہیں، ایم آئی سے بھی اس متعلق بیان حلفی لیا جائے۔ مغوی کو وڈیو بیان ریکارڈ کرانے پر مجبور کیا جا رہا ہے کہ وڈیو بیان ریکارڈ کرائے اور کہے کہ ماضی میں جوکچھ کہا وہ غلط تھااور آئندہ ایسا نہیں کرے گا۔ اٹارنی جنرل کی گارنٹی پوری نہیں ہو سکی۔یہ بتایا جا رہا ہے کہ اگر بندہ نکلے گا تو ڈیل کر کے نکلے گا ایسے نہیں نکل سکتا۔احمد فرہاد کی جان کو شدید خطرہ ہے۔

‏سینئر صحافی و اینکر حامد میر روسٹرم پر آ گئےاور کہا حکومت نے پیمرا کے ذریعے میڈیا کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہےاور عدالتی کارروائی رپورٹ کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ اس عدالت میں اسی کیس کی گزشتہ سماعت کے بعد ہوا۔ عدالت نے جو آج باتیں پوچھی ہیں کیا وہ ہم چلا سکتے ہیں؟ جسٹس کیانی نے کہا آپ بالکل چلا سکتے ہیں۔پیمرا کا آرڈر میرے سامنے نہیں، ہم آئندہ اس عدالت کی کارروائی لائیو دکھائیں گے۔مسنگ پرسنز کے کیسز اب لارجر بینچ میں بھجوانے کا کہوں گا۔جسٹس محسن اختر کیانی نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کر کے کہا جب چینلز پر چیزیں چلاتے ہیں تو آپ کو بری کیوں لگتی ہیں؟ یہ حکومت تو خودجبر کے دور سے گزر کر آئی ہے اسے تو سمجھنا چاہیے، صحافیوں کی خبر سے اتنی تکلیف کیوں ہوتی ہے؟ ہم تو اس کو بھی نہیں روک پائے جو بیٹھ کر گالیاں دیتا ہے۔ صحافیوں کی گائیڈ لائنز موجود ہیں، وہ دوسرے کا موقف بھی پوچھتے ہیں۔اگر حکومت نے اپنا مثبت چہرہ دکھانا ہوتا ہے تو اس کے لیے شفافیت ضروری ہے۔ ہم یہی ٹرانسمیشن لائیو کر دیں گے جس نے جو سمجھنا ہو گا سمجھ لے گا۔

‏ایس ایس پی آپریشنز جمیل ظفر نے کہا انٹیلی جنس بیورو پولیس کی معاونت کر رہی ہے۔ عدالت نے پوچھا آئی ایس آئی اور ایم آئی معاونت نہیں کرتیں؟ ایس ایس پی نے جواب دیا پولیس آئی بی سے ہی معاونت لیتی ہے۔ آئی جی اسلام آباد نے کہا جبری گمشدگی کی طرف معاملہ جا رہا ہو تو جے آئی ٹی بنائی جاتی ہے۔ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم بناکر اس میں انٹیلی جنس اداروں کے نمائندے بھی ہوتے ہیں۔ جسٹس کیانی نے کہا یہ ایسے ہی ہے کہ میں ایجنسی کے لوگوں کو چیمبر میں بلا کر گپ شپ لگاؤں، کچھ ان کی سنوں، کچھ انہیں بتاؤں۔لاپتہ افراد کمیشن کی مایوس کن کارکردگی ہے، کئی کئی سال کیس چلتا ہے۔کمیشن کونظرآتا ہے کہ بندہ ایجنسی کی تحویل میں بھی ہے مگر مانگ بھی نہیں سکتے۔وہ ادھر سے مان بھی رہے ہوتے ہیں اور بندہ بھی نہیں چھوڑ رہے ہوتے۔

‏عدالت نے سینئر صحافی حامد میر کو عدالتی معاون مقرر کرتے ہوئے کہا کہ ہیومن رائٹس کے نمائندے اور پارلے منٹیرین کو بھی عدالتی معاون مقرر کریں گے۔ کیس کی مزید سماعت29 مئی کو ہو گی

بشکریہ : اویس یوسفزئی صاحب / کورٹ رپورٹر