All posts by admin

10 ججز کا مستقبل خطرے میں۔ ریفرنس کی تیاریاں مکمل 4اھم ترین ججز بھی شامل پاکستان کی نئی تاریخ۔اھم وکلاء کو گرین سگنل مل گیا دوسری طرف ججز کی ملازمت میں اضافے کی گونج

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللہ نے 6 ججوں کے خط کا معاملہ آؤٹ آف کورٹ حل کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ لوگوں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، بہتر ہے بیٹھ کر معاملہ سلجھائیں۔سابق وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ 15 دن سے ایک دوسرے کی عزتیں اچھالی جارہی ہیں، بہتر ہے ایک دوسرے کی مزید عزتیں خراب نہ کریں، جن افراد کا کردار بنتا ہے وہ ایک جگہ بیٹھیں۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وزیرِ اعظم سوچ رہے ہیں کہ اس معاملے پر صدر مملکت کو ایڈوائس کریں کہ وہ اس معاملے میں اپنا کردار ادا کریں، میری وزیراعظم سے بات ہوئی ہے، شہباز شریف کا خیال ہے کہ اس طرح معاملات چلتے رہے تو ملک کو کیسے بہتری کی طرف لے جاسکتے ہیں۔مسلم لیگ ن کے رہنما کا مزید کہنا تھا کہ 6 ججوں کے خط کا معاملہ آؤٹ آف کورٹ حل کرنا ہوگا، 6 ججوں کے خط کے معاملے میں کسی کو کٹہرے میں کھڑا کرکے یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا، حل اس کے سوا کوئی نہیں کہ ادارے اور لوگ ایک جگہ بیٹھ کر معاملہ سلجھائیں۔سابق وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا کہ ایک طرف سیاستدان یا حکومت، دوسری طرف عدلیہ اور تیسری طرف نشانہ اسٹیبلشمنٹ ہے، سیاستدانوں، عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کو ماضی سے نکلنا ہوگا، میں نہیں سمجھتا کہ کسی کے بھی حق میں یہ بہتر ہوسکتا ہے شرمندگی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا، سیاستدان، عدلیہ ،اسٹیبلشمنٹ سب کو ماضی سے نکلنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جنہوں نے بھی پریس کانفرنس کی، وہ پارلیمنٹ کے ارکان ہیں، حکومت کے پابند نہیں، ان ارکان نے پارلیمنٹ نے جس طرح مناسب سمجھا اس کے مطابق بات کی، روز پی ٹی آئی کے 3 چار لوگ آتے ہیں اور میڈیا پر ہوائی فائرنگ شروع کردیتے ہیں، ہماری طرح سے جو لوگ دستیاب ہوتے ہیں تو وہ بھی بات کرتے ہیں۔رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ایسی بات نہیں کہ کسی پر دباؤ ڈالا گیا ہو کہ جاکر یہ بات کریں، پی ٹی آئی والے جن الفاظ میں تنقید کرتے ہیں کیا اس طرح تنقید کی جاسکتی ہے، کیا پی ٹی آئی کے ارکان عدلیہ کے وقار کو ملحوظ خاطر رکھ کر تنقید کرتے ہیں، اگر سیاستدان کہیں کہ وہ معصوم ہیں ساری غلطی اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ نے کی تو یہ درست نہیں۔مسلم لیگ ن کے رہنما نے مزید کہا کہ اگر عدلیہ کہے کہ ہم نے تو بالکل آئین اور قانون کی پاسداری کی ہے وہ بھی درست نہیں ہوگا، اسٹیبلشمنٹ کہے کہ کبھی کسی کے معالے میں دخل نہیں دیا تو یہ بات بھی سچ نہیں ہوگی، اگر کوئی ایک فریق چاہے کہ دیگر 2 پر الزام لگا کر خود کو کلیئر کرلے ایسا نہیں ہوگا، ماضی کے معاملے کو چھوڑ کر آج سے نیا آغاز کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ نے کہا کہ جن جج صاحبان نے خط لکھا ہے وہ سارے ہی قابل عزت اور بہترین انسان ہیں، اگر بات یہ کریں کہ یہ ہوتا رہا ہے اور آج کے بعد نہیں ہونا چاہیے تو یہ ہوسکتا ہے۔

پاکستان میں ڈالر 240 اور پٹرول 230 پر لانے کا فیصلہ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک کی معیشت کی صورتحال سے متعلق ششماہی رپورٹ جاری کردی جس میں مالی سال 2023-24ء کے لیے اوسط مہنگائی کی شرح 23 سے 25 فیصد کے درمیان رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے جو مالی سال 2022-23ء کے مقابلے میں کم ہے۔ مالی سال 2023ء میں مہنگائی 29.2 فیصد تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ستمبر 2025ء تک مہنگائی کے مزید کم ہو کر 5 سے 7 فیصد تک آنے کی توقع ہے۔ ’پاکستانی معیشت کی کیفیت‘ کے عنوان سے جاری ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024ء کی پہلی ششماہی کے دوران پاکستان کے معاشی حالات بہتر ہوئے۔ رپورٹ جولائی تا دسمبر مالی سال 2023-24ء کے اعدادوشمار کے تجزیے پر مشتمل ہے۔ رپورٹ کے مطابق، حقیقی اقتصادی سرگرمیوں میں گزشتہ سال کے سکڑاؤ کے برعکس معتدل بحالی ہوئی جبکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ عارضی انتظام (ایس بی اے) نے بیرونی کھاتے پر دباؤ کم کرنے میں مدد دی۔ دریں اثناء سخت زری اور مالیاتی پالیسیوں کے تسلسل، زرعی پیداوار میں بہتری اور اجناس کی عالمی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے جاری کھاتے کے خسارے میں خاصی کمی آئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملکی طلب محدود رہنے کے باوجود مہنگائی کا دباؤ بلند سطح پر برقرار رہا۔ اگر سٹیٹ بینک خود تسلیم کررہا ہے کہ مہنگائی کا دباؤ برقرار رہا ہے تو اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عام آدمی کے لیے حالات کیسے ہوں گے اور آئی ایم ایف کے نئے قرض پروگرام سے تو عام آدمی کے اقتصادی حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ حکومتی پالیسیاں ہی مہنگائی سمیت عوام کے مسائل بڑھاتی ہیں۔ اب عوام کو حقیقی ریلیف دینے کی پالیسیوں کی ضرورت ہے، ایسا نہ ہو کہ عوام تنگ آ کر آزاد کشمیر کے عوام کی طرح سڑکوں پر نکل آئیں۔

اپ ڈیٹ پاکستان کرکٹ ٹیم ۔پاکستان کرکٹ ٹیم کا ہیڈنگلے لیڈز میں پریکٹس سیشن جاری۔سیشن تین گھنٹے جاری رہے گا تمام کھلاڑی کوچز کی نگرانی میں بیٹنگ بولنگ اور فیلڈنگ کی پریکٹس میں حصہ لیں گے۔

اپ ڈیٹ پاکستان کرکٹ ٹیم ۔پاکستان کرکٹ ٹیم کا ہیڈنگلے لیڈز میں پریکٹس سیشن جاری۔سیشن تین گھنٹے جاری رہے گا تمام کھلاڑی کوچز کی نگرانی میں بیٹنگ بولنگ اور فیلڈنگ کی پریکٹس میں حصہ لیں گے۔کل پاکستان ٹیم صبح نو سے دوپہر بارہ بجے تک پریکٹس سیشن کرے گی۔19 مئی کو پاکستان ٹیم آرام کرے گی اس روز پریکٹس سیشن نہیں ہوگا۔پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان پہلا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل22 مئی کو ہیڈنگلے لیڈز میں کھیلا جائے گا۔

سول اور فوجی اداروں سے ریٹائر ھونے والے گریڈ 17 سے اوپر کے افسران ایک تنخواہ لینے کے حق دار ھونگے پینشن یا تنخواہ افواج پاکستان کے آرمی ویلفیئر ٹرسٹ فوجی فاونڈیشن اور ڈی ایچ اے پر بھی اس کا اطلاق ھو گا ای ایم ایف کی کڑی شرائط میں اضافہ

ھیرا منڈی کو ھیرا منڈی کیوں کھتے ھے سابق کور کمانڈر منگلا آور روالپندی کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل حیدر علی مراثی کا کیا تعلق تھا ایوب خان ضیاءالحق کتنی بار ھیرا منڈی گئے پرویز مشرف نے ھیرا منڈی کا نام تبدیل کیوں کیا جنرل محمود نے 12 اکتوبر کی رات جنرل حیدر علی اور جنرل اکرم کو کس نام سے پکارا جاننیے سھیل رانا لاءیو بادبان ٹی وی پر

مودی کی زندگی خطرے میں۔ قومی اسمبلی مچھلی منڈی کنجر اور کٹیا کے الفاظ کاازادنہ استعمال شھلا رضا بے پس۔ بشیر چیمہ نے بحودگی کا آخری تمغہ جیتنے میں کامیاب بشیر چیمہ کو ارکان اسمبلی نے چھپھا لیا۔ سپیکر ایاز صادق اسمبلی کی حرمت کو بچانے میں کامیاب چیمہ نے ھاتھ جوڑ کر معافی منگوانے میں کامیاب۔ اج اسمبلی کے اجلاس میں گندم سکینڈل کے معاون خصوصی کاکڑ کی دست راز چوھدری خاندان میں پھوٹ دالوانے والے چیمہ اجلاس میں معافی مانگے گئے

پنجاب کے 567 اسکولوں میں کوئی ٹیچر نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے اور ڈھائی ہزار اسکولوں میں صرف ایک، ایک ٹیچر دستیاب

پنجاب کے 567 اسکولوں میں کوئی ٹیچر نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے اور ڈھائی ہزار اسکولوں میں صرف ایک، ایک ٹیچر دستیاب ہے۔اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے موصول ڈیٹا میں انکشاف ہوا ہے کہ صوبہ پنجاب کے ڈھائی ہزار سرکاری اسکولوں میں صرف ایک، ایک ٹیچر دستیاب ہے۔ڈیٹا کے مطابق صوبے میں سرکار کی جانب سے چلائے جارہے 567 اسکولوں میں اس وقت ایک بھی ٹیچر موجود نہیں ہے۔اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے 13 ہزار سرکاری اسکولوں کو پرائیوٹ شعبے کے تعاون سے چلانے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔اس سلسلے میں پہلے مرحلے میں زیرو ٹیچر اور سنگل ٹیچر والے 50 طلبا کے حامل اسکولوں کو پیما کے حوالے کیا جائے گا۔دوسرے مرحلے میں چار ہزار 453 اسکولوں کو نجی شعبے کے حوالے کیا جائے گا جبکہ تیسرے مرحلے میں 2 ہزار 903 اسکولوں کو این جی اوز کے حوالے کیا جائے گا۔

سپریم کورٹ میں نیب ترمیمی آرڈیننس سے متعلق کیس کی سماعت کےدوران بانی پی ٹی آئی عمران خان کی تصویر وائرل کرنیوالی شخص کی نشاندہی ہوگئی ہے

سپریم کورٹ میں نیب ترمیمی آرڈیننس سے متعلق کیس کی سماعت کےدوران بانی پی ٹی آئی عمران خان کی تصویر وائرل کرنیوالی شخص کی نشاندہی ہوگئی ہے۔ سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی جس دوران عدالت عظمیٰ کے حکم پر بانی پی ٹی آئی کو بھی اڈیالہ جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا گیا،دوران سماعت بانی پی ٹی آئی کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوگئی، جس پر سپریم کورٹ انتظامیہ نے تحقیقات شروع کیں اور پولیس ذرائع کے مطابق سٹاف کو سی سی ٹی وی کیمرے دیکھ کر تصویر وائرل کرنے والے کی نشاندہی کرنے کی ہدایت دی گئی۔ سپریم کورٹ کورٹ کی کارروائی کے دوران جب بانی پی ٹی آئی کی کمرہ عدالت سے لی گئی تصویر وائرل ہوئی تو ہلچل مچ گئی سب سے پہلے سیکیورٹی اداروں نے صحافیوں پر شک کیا جس پر انہیں بتایا گیا کہ یہ تصویر جس سائیڈ سے لی گئی ہے وہاں صحافی جاتے ہی نہیں ‘‘،بعد میں پتہ چلا کہ تصویر وائرل کرنے والا نیا وکیل ہے، ایک وکیل کا بیٹا ہے اور لا کلرک کے فرائض سر انجام دے رہا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمور جہانگیری نے مختلف خفیہ اداروں سے منسلک افراد کے عدالت داخلے پر پابندی عائد کردی ” کورٹ کی طرف سے ہدایت ہے مختلف خفیہ اداروں سے منسلک افراد کو کمرہ عدالت میں داخلے کی اجازت نہیں ہے ” جسٹس طارق محمور جہانگیری کی عدالت کے باہر کھڑے اہلکار نے بھی تصدیق کردی ،بڑی

سپریم کورٹ نے سینیٹر فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس پر ازخود نوٹس لے لیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کل ہوگی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ سماعت کرے گا

سپریم کورٹ نے سینیٹر فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس پر ازخود نوٹس لے لیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کل ہوگی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ سماعت کرے گا۔جسٹس عرفان سعادت اور جسٹس نعیم اختر بینچ کا حصہ ہوں گےواضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کو خط لکھے15 دن ہوگئے لیکن جواب نہیں آیا، کوئی کاغذ اور ثبوت نہیں آرہا جس کی وجہ سے لوگوں میں شک پیدا ہو رہا ہے امید ہے جلد جواب آئے گا اور آنا چاہیے اور جواب لیں گے۔فیصل واوڈا نے کہا تھا کہ 28 اپریل چھٹی کے دن بابر ستار سے متعلق پریس ریلیز جاری ہوئی، بابر ستارسے متعلق کہا گیا کہ وہ پاکستانی ہیں، میں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو خط لکھا جس کو پندرہ دن گزر گئے۔