All posts by admin
چیئرمین سینٹ سید یوسف رضا گیلانی نے حلف اُٹھانے کے بعد چیئرمین سینٹ کے دفتر کا چارج سنبھال لیا
اقتدار کی بندر بانٹ مکمل ایک ماہ دس روز میں پٹرول 26 چینی 15 روپے گوشت 180 اور اٹا 10 روپے بجلی کی فی یونٹ 10 روپے گیس کے بلوں میں ایک ھزار گنا اضافہ جمھوریت بھترین انتقام ھے
میں ایک جماعت کا نھی تمام سیاسی جماعتوں کا چئیرمین سینٹ ھوں یوسف رضا گیلانی۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر
سینیٹ سیکرٹریٹ میڈیا ڈائریکٹو ریٹ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی وڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصرکے عیدالفطر کے موقع پر پیغامات اسلام آباد (9 اپریل 2024) ء چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضاگیلانی نے مسلمانانِ عالم اسلام اور خاص طور پر پاکستانیوں کو عید الفطر کے بابرکت اور پر مسرت موقع پر دلی مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماہ رمضان کی عبادات قوم میں تقویٰ، نظم وضبط اور صبرو تحمل کی خوبیوں کو فروغ دیتی ہیں۔تمام اہل اسلام اسی جوش وجذبے کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی دنیاوی اور آخرت کی زندگی کو کامیاب بنائیں۔ ماہ رمضان مسلمانوں کیلئے اللہ تبارک تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم تحفہ ہے جس کے فیوض و برکات سے مستفید ہو کر آخرت کی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔عیدالفطر کادن رمضان المبارک کے حوالے سے یوم تکمیل رحمت الہی اور یوم تشکر ہے۔ اللہ تعالی کی بے پایاں نعمت و رحمت کا تقاضا ہے کہ ہم قادر مطلق کے احکامات کی روشنی میں اپنے روز و شب کو منور کریں کیونکہ یہی صراط مستقیم ہے جس پر چل کر ہم دنیا اور آخرت کی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ سید یوسف رضاگیلانی نے کہا کہ آج کے دن ہمیں عید کی خوشیاں مناتے ہوئے اس بات کا خصوصی خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ اپنے عزیز و اقارب، پڑوسیوں اوراردگردبسنے والے ضرورت مند بہن بھائیوں کو اپنی خوشیوں میں شامل کرسکیں۔ یہی ہمارے مذہب کی تعلیمات اور معاشرے کا وصف ہے۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے عید الفطر کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ ہمیں ملک کی ترقی و خوشحالی کے لئے مل کر کام کرنے کا عہدکرنا ہوگا تاکہ ملک کو درپیش مسائل کا حل مل کر نکالا جا سکے۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ عید الفطر امن اور محبت کے ساتھ خوشیاں باٹنے کا درس دیتا ہے اور ہمیں ملک کو امن کا گہوارہ بنانے کیلئے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عید الفطر مسلم دنیا کیلئے اہم دن کی حیثیت رکھتا ہے۔ عید الفطر کی مناسبت سے ہمیں باہمی اختلافات کو بھلا کرملکی ترقی و خوشحالی کیلئے آگے بڑھنا ہوگا۔
یوسف رضا گیلانی بلا مقابلہ چئیرمین سینٹ منتخب
عیدالفطر گفٹ ۔۔۔فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 4 روپے 92 پیسے فی یونٹ مہنگی اضافہ فروری کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیاگیا، نوٹیفیکیشنوصولی صرف اپریل کے بلوں میں ہوگی، نوٹیفیکیشن
عیدالفطر گفٹ ۔۔۔فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 4 روپے 92 پیسے فی یونٹ مہنگیاضافہ فروری کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیاگیا، نوٹیفیکیشنوصولی صرف اپریل کے بلوں میں ہوگی، نوٹیفیکیشن
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اپنے بھارتی ہم منصب راج ناتھن کی جانب سے پاکستان کو دی گئی دھمکیوں کے جواب میں بجا طور پر واضح کردیا ہے۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اپنے بھارتی ہم منصب راج ناتھن کی جانب سے پاکستان کو دی گئی دھمکیوں کے جواب میں بجا طور پر واضح کردیا ہے کہ مودی سرکار نے کسی ایڈونچر کی کوشش کی تو منہ توڑ جواب دیں گے اور بھارت کا کوئی ادھار باقی نہیں رہنے دیں گے ۔ دفتر خارجہ کی ترجمان نے بھی بھارتی وزیر دفاع کے بیان کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے اس کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس معاملے کا پس منظر یہ ہے کہ برطانوی اخبار گارڈین کی ایک حالیہ اشاعت میں شامل بین الاقوامی دہشت گردی میں بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے ملوث ہونے کی تفصیلات پر مبنی رپورٹ نے مودی سرکار کو شدید رسوا کن صورت حال سے دوچار کردیا۔ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھن سنگھ نے اس کے اثرات زائل کرنے کی خاطر دیے گئے ٹی وی انٹرویو میں ایک طرف گارڈین کی اس رپورٹ کو حقائق کے منافی قرار دیا جس کے مطابق 2020 ءسے اب تک پاکستان میں کم از کم 20افراد کو بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے قتل کرایا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ’’اگر کسی بھی پڑوسی ملک سے کوئی دہشت گرد بھارت میں خلل ڈالنے یا دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی کوشش کرے گا تواس کا منہ توڑ جواب دیں گے اور اگر وہ بھاگ کر پاکستان جائے گا تو پاکستان میں گھس کر ماریں گے۔‘‘ انہوں نے اس طریق کار کو مودی سرکار کی باقاعدہ پالیسی بھی قرار دیا۔ اس طرح راج ناتھن نے خود ہی بھارت کا سرحد پار قتل و غارت میں ملوث ہونا تسلیم کرلیا۔ ڈھائی ماہ پہلے پاکستان کے اندر قتل کی وارداتوں میں بھارت کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد پاکستانی دفتر خارجہ دنیا کے سامنے پیش کرچکا ہے اور اب گارجین کی رپورٹ سے اس کی پوری طرح توثیق ہوگئی ہے۔تاہم بھارتی دہشت گردی کا دائرہ محض پاکستان تک محدود نہیں۔ گزشتہ سال ستمبر میں کنیڈا میں مقیم سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارتی حکومت کے ملوث ہونے کے مضبوط شواہد کی بناء پر کنیڈا نے بھارت کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا تھا اور دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات بری طرح متاثر ہوئے تھے۔ وائٹ ہاؤس نے بھی اس معاملے میں کنیڈا کی مکمل حمایت کی تھی اور بھارت کو متنبہ کیا تھا کہ ایسی کارروائیاں قابل برداشت نہیں۔ اس کے بعد نومبر میں خود امریکی حکومت نے یہ انکشاف کیا کہ بعض بھارتی اہلکاروں نے امریکہ میں مقیم سکھ رہنما پتونت سنگھ کو قتل کرانے کی سازش کی تھی جسے امریکی خفیہ اداروں نے ناکام بنادیا۔ بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی ایسی مزید کئی کارروائیاں منظر عام پر آچکی ہیں جن سے اس کا بین الاقوامی دہشت گرد ہونا ثابت ہے ۔ تاہم پاکستان کو اس کی تازہ دھمکیوں کے اصل محرک کی جو نشان دہی خواجہ آصف نے کی ہے حالات کی روشنی میں وہ عین ممکن دکھائی دیتی ہے۔ان کے مطابق آئندہ عام انتخابات میں حکمراں جنتا پارٹی اپنے لیے ماحول کو سازگار بنانے کی کوئی ویسی ہی کارروائی کرنے کی کوشش میں دکھائی دیتی ہے جیسے پچھلے انتخابات سے قبل پلوامہ حملے کا ڈراما رچا کر اور پھر پاکستانی حدود میں ناکام فضائی کارروائی کی شکل میں کی گئی تھی لیکن پاکستانی شاہینوں کے ہاتھوں بھارتی جہاز کے گرائے جانے اور پائلٹ کے پکڑے جانے پر مودی حکومت کو سخت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم یوں بھارت کے اندر حکمراں جماعت کے حق میں فضا پیدا کرنے میں کامیابی ضرور حاصل کرلی گئی تھی ۔عیار بھارتی حکمرانوں سے ایک بار پھر ایسی کوئی منصوبہ بندی ہر گز بعید نہیں لیکن انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان سے ویسا ہی جواب ملے گا جس کا تجربہ پچھلی بار انہیں ہوچکا ہے جبکہ عالمی برادری کو بھی یہ حقیقت ملحوظ رکھنا ہوگی کہ ایسا ہوا تو علاقے کی دو ایٹمی طاقتوں کی محاذ آرائی پوری دنیا کے امن کو شدید خطرے میں ڈال سکتی ہے اور تباہی کا دائرہ کسی بھی حد تک وسیع ہوسکتا ہے۔
5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ بھارت میں 100 ڈالر کی سرمایہ کاری کر دی گئی۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر
سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم عزت مآب شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہباز شریف کے درمیان باضابطہ ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیہ سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم عزت مآب شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر اعظم جناب محمد شہباز شریف نے آج الصفاء پیلس مکہ المکرمہ میں ایک باضابطہ ملاقات کی۔سعودی ولی عہد نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کو منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے سعودی عرب کی غیر متزلزل حمایت اور مہمان نوازی پر سعودی ولی عہد کا شکریہ ادا کیا اور دوطرفہ تعلقات اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت کا محور دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو بڑھانے کے راستے تلاش کرنا تھا۔ملاقات میں پاکستان کی معیشت میں سعودی عرب کے تعاون کو سراہا گیا اور دونوں ممالک کے درمیان کاروبار اور سرمایہ کاری کے حوالے سے تعاون بڑھانے کے باہمی عزم کا اظہار کیا گیا۔دونوں رہنماؤں نے پاکستان میں 5 بلین ڈالر مالیت کے نئے سعودی سرمایہ کاری پیکج کے پہلے فیز کو جلد از جلد پایہ ء تکمیل تک پہنچانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔دونوں رہنماؤں نے غزہ کی تشویشناک صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کی علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی تبادلہء خیال کیا۔ انہوں نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو روکنے اور انسانی جانی نقصان کو کم کرنے کے لیے بین الاقوامی کوششوں پر زور دیا۔۔دونوں رہنماؤں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ بڑھائیں تا کہ وہ اپنے غیر قانونی اقدامات سے باز آئے اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرے۔ دونوں رہنماؤں نے غزہ تک بلا روک ٹوک انسانی امداد کی رسائی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی متعلقہ قراردادوں کے ساتھ ساتھ عرب امن اقدام کے عمل کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر تبادلہء خیال کیا جس کا مقصد ایک آزاد فلسطینی ریاست، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو ، کے قیام کے لیے ایک منصفانہ اور جامع حل تلاش کرنا ہے۔ دونوں فریقین نے خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات بالخصوص جموں و کشمیر کے تنازع کو حل کرنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کی اہمیت پر زور دیا۔وزیراعظم پاکستان نے سعودی ولی عہد کو جلد از جلد پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت دی جسے ولی عہد نے قبول کرلیا۔
میں ماننے کے لیے تیار ھوں، عمران خان۔ عمران خان نے اور کیا کھا تفصیلات بادبان ٹی وی پر
بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ میں کسی کی غلامی قبول نہیں کرتا غلامی سے بہتر موت ہے، قمر باجوہ نے ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپا، حکومت گرانے کے باوجود ان سے ملاقات کرسکتا ہوں تو کسی سے بھی ملاقات کر سکتا ہوں، اس وقت میری ذات کا مسئلہ نہیں پاکستان کا ایشو ہے مجھے قائل کر لیں۔پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری اعلامیہ کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیررسمی گفتگو میں سنگین الزامات عائد کئے، انہوں نے کہا کہ لندن پلان کے لیے ججز کو بھی ساتھ ملایا گیا خفیہ ایجنسی نے ججز کی تقرریاں کروائیں۔ اگست میں جب مجھے پکڑا گیا تو پولیس میرے بیڈ روم میں داخل ہوئی وہاں سے میرا پاسپورٹ اور چیک بک بھی لے لئے گئے۔انعام شاہ اور توشہ خانہ کے ایک ملازم کو خفیہ ایجنسی نے میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنایا۔ توشہ خانہ میں سزا دلوانے کے لیے دبئی میں پارٹ ٹائم سیلز مین سے گراف جولری سیٹ کی مالیت کا تخمینہ لگوایا گیا۔ توشہ خانہ ریفرنس بنانے پر چیئرمین نیب اور انعام شاہ کے خلاف کیس کروں گا۔ فواد چوہدری پریس کانفرنس کر چکا تھا لیکن اس کے باوجود اسے وعدہ معاف گواہ بنانے کے لیے پکڑے رکھا۔پرویز الہی اور شاہ محمود قریشی آج پریس کانفرنس کر دیں تو اس کے کیسز ختم ہو جائیں گے۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ قاضی فائز عیسی کو فیصل آباد کیس اور بھٹو کیس بھی یاد ہے۔ قاضی فائز عیسی کو نظر نہیں آرہا کہ لوگ ملٹری جیلوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی نے ایک اور الزام عائد کیا کہ 18 مارچ کو مجھے جوڈیشل کمپلیکس میں قتل کرنے کا منصوبہ تھا۔24 گھنٹے پہلے ہی جوڈیشل کمپلیکس کو ٹیک اوور کر لیا گیا تھا۔ سادہ کپڑوں میں ملبوس بہت سے لوگ جوڈیشل کمپلیکس میں موجود تھے۔ کیوں جوڈیشل کمپلیکس کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے نہیں لائی جا رہی۔ جو ایسٹ پاکستان میں ہوا وہی اج ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرقی پاکستان میں مجیب الرحمن کا مینڈیٹ چوری کر کے ملک توڑا گیا۔ مجیب الرحمن کی اکثریت سے یحیی خان کی طاقت ختم ہو جاتی۔حمود الرحمن کمیشن رپورٹ میں لکھا ہے کہ مجیب الرحمن الیکشن جیت گیا تھا۔ مشرقی پاکستان کی طرح اب بھی ہمارا مینڈیٹ کم کر کے ہمیں کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس وقت بادشاہ پیچھے بیٹھا ہوا ہے اور محسن نقوی وائسرائے بنا ہوا ہے۔ شہباز شریف فیتے کاٹتا پھر رہا ہے اس کے پاس کوئی طاقت نہیں ہے۔ ملک کا معاشی طور پر بیڑا غرق ہونے لگا ہے۔ججز کہہ رہے ہیں کہ ایجنسیاں دھمکا رہی ہیں۔ آصف زرداری اور شریف فیملی کے اربوں ڈالر بیرون ملک پڑے ہوئے ہیں۔ اصف زرداری نے بیان دیا کہ ایک سیاسی جماعت فوج کا امیج خراب کر رہی ہے۔ جب ہم اقتدار میں تھے تو فوج کا امیج آسمان پر تھا۔ فوج کا امیج اس دن خراب ہوا جب یہ چوروں کے ساتھ بیٹھے۔ زرداری اور شریف خاندان کی کرپشن کا ہمیں خفیہ ایجنسی اور جنرل باجوہ نے خود بھی بتایا تھا، زرداری اور نواز شریف نے توشہ خانہ سے گاڑیاں لیں ان کا کیس کیوں نہیں سنا جا رہا۔جنرل عاصم منیر کی تقرری سے پہلے عارف علوی کے ذریعے پیغام بھیجا تھا کہ ہم تمہارے مخالف نہیں، میں نے عارف علوی کے ذریعے جنرل عاصم منیر کو ٹیلی فون کروایا تھا کہ مجھے اس کے لندن پلان کے بارے میں معلوم ہے، علی زیدی بھی رابطے میں تھا اس کے ذریعے بھی پیغام دیا تھا کہ نیوٹرل رہیں اور ملک کو چلنے دیں، ہمیں کہا گیا کہ فکر نہ کرو وہ نیوٹرل رہیں گے، میں کسی کی غلامی قبول نہیں کرتا غلامی سے بہتر موت ہے۔بانی پی ٹی آئی نے ایک سوال کہ کیا اپ کو قاضی فائز عیسی سے انصاف کی امید ہے؟ کے جواب میں کہا کہ بانی پی ٹی ائی کچھ دیر خاموش رہے اوربولے قوم سب کچھ دیکھ رہی ہے میں اس پر کوئی رائے دینا نہیں چاہتا، آج ملک بدل چکا ہے اور لوگوں میں شعور آ چکا ہے۔ ہمیں غدار بنایا گیا نو مئی میں پھنسایا گیا لیکن قوم نے آٹھ فروری کو بتا دیا کہ وہ کہاں کھڑی ہے۔کئی ججز، محسن نقوی چیف الیکشن کمشنر اور نگران حکومت لندن پلان کا حصہ تھے۔ میں نے کبھی فوج سے لڑائی نہیں کی جنرل باجوہ نے ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپا۔ میں جنرل باجوہ کو ڈی نوٹیفائی کر سکتا تھا لیکن نہیں کیا۔ ہم نے اس سب کے باوجود بھی جنرل باجوہ سے ملاقات کے لیے کمیٹی بنائی۔ صرف سپہ سالار فوج نہیں وہ الیکشن لڑ کر نہیں آیا۔ جنرل یحیی نے بھی اپنی طاقت کے لیے ملک کو تباہ کیا تھا۔جنرل یحیی مجیب سے بات کر لیتا تو سرنڈر نہ کرنا پڑتا۔ 1971 میں ملک ٹوٹا اج ملک کی معاشی کمر ٹوٹنے لگی ہے۔ بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ اس وقت جتنی تگڑی جماعت تحریک انصاف ہے اتنی تگڑی جماعت اور کوئی نہیں، آج دوبارہ الیکشن کروا لیں دوبارہ سب کو پتہ چل جائے گا۔ حکومت گرانے کے باوجود دو مرتبہ جنرل باجوہ سے ملاقات کرسکتا ہوں تو کسی سے بھی ملاقات کر سکتا ہوں کیونکہ اس وقت میری ذات کا مسئلہ نہیں پاکستان کا ایشو ہے مجھے قائل کر لیں، موجودہ حالات میں عدلیہ بالکل بھی آزاد نہیں ہے۔
ملٹری کورٹس سے سزا پانے والے بیس افراد کی تفصیلات منظرِ عام پر آ گئیاِن بیس افراد کو ۶ اور ۷ اپریل کو رہا کیا گیا ان تمام افراد کو ملٹری کورٹس نے ایک سال کی سزا سنائی یہ وہ لوگ تھے جو کم درجے کی قانونی خلاف ورزی اور جرم میں مُلوث تھے
*بریکنگ*
ملٹری کورٹس سے سزا پانے والے بیس افراد کی تفصیلات منظرِ عام پر آ گئیاِن بیس افراد کو ۶ اور ۷ اپریل کو رہا کیا گیا ان تمام افراد کو ملٹری کورٹس نے ایک سال کی سزا سنائی یہ وہ لوگ تھے جو کم درجے کی قانونی خلاف ورزی اور جرم میں مُلوث تھے سپریم کورٹ کی ہدایت اورانسانی ہمدردی کی بنیاد پر چیف آف آرمی سٹاف نے عید الفطر سے پہلے انکی باقی ماندا سزا کو قانون کے مطابق معاف کر دیا یہ افراد اب تک نو سے دس ماہ کی سزا کاٹ چکے ہیں جنکی تفصیلات یوں ہیں: ۱- محمد ادریس ولد محمد شریف ساکن راولپنڈی۲- اسواد راجپوت ولد محمد اجمل، ساکن راولپنڈی۳- نادر خان ولد محمد اسرار خان، ساکن راولپنڈی۴- شہریار ذوالفقار ولد ذوالفقار احمد، ساکن راولپنڈی۵- لال شاہ ولد جہان زیب، ساکن راولپنڈی۶- عبد الرحمان ولد مشتاق احمد، ساکن راولپنڈی۷- محمد فیصل ولد محمد اشرف، ساکن راولپنڈی۸- یاسر امان ولد امان اللہ ساکن راولپنڈی۹- فیصل ارشاد ولد ظفر احسن ساکن لاہور۱۰۔ حسن شاکر ولد شاکر حسین ساکن لاہور۱۱- عبداللہ عزیز ولد عزیز الرحمان ساکن لاہور۱۲- محمد انس ولد محمد ریاض ساکن گوجرانوالہ۱۳- عبد الجبار ولد عبد الستار ساکن گوجرانوالہ۱۴- عبد الستار ولد محمد سرور ساکن گوجرانوالہ۱۵- محمد راشد ولد غلام حیدر ساکن گوجرانوالہ۱۶- راشد علی ولد لیاقت علی ساکن گوجرانوالہ۱۷- عمر محمد ولد پیندا رحمان ساکن دیر۱۸ خلمات خان ولد نیاز محمد ساکن دیر۱۹- اعجاز الحق ولد فاروق ساکن دیر ۲۰- شاہ زیب ولد علی حیدر ساکن مردان









