
تین سال میں تین سو ملک گھوم لیے۔ جہازوں کا کرایہ، ہوٹلوں کے بل، وفد کے خرچے، سب قوم کے خزانے سے گیا۔واپسی پر کیا لائےنہ ایک ڈالر کی سرمایہ کاری، نہ ایک فیکٹری کا وعدہ، نہ کسی ملک کا بھروسہ۔دنیا جانتی ہے کہ چوروں پر کوئی اعتماد نہیں کرتا۔

جو قوم کا پیسہ لوٹ کر باہر رکھیں، ان کے ساتھ ہاتھ کون ملائےیہ دورے قوم کے لیے نہیں تھے۔ یہ صرف تصویریں بنوانے میڈیا میں سرخیاں لگوانے اور اپنی کرسی بچانے کے لیے تھے۔یہ عمران خان سے مقابلہ کرنے چلے ہیں۔


وہ شخص خالی ہاتھ جاتا تھا نمل یونیورسٹی اور کینسر ہسپتال کے لیے اربوں لے کر واپس آتا تھا۔

وہ ٹیلی تھون کرتا تھا تو ایک گھنٹے میں پانچ ارب جمع کر کے دکھاتا تھا۔یہ اس کی جوتی کے برابر بھی نہیں۔ یہ لوگ لیڈر وہ ہوتا ہے جو قوم کو دے کر آئے، جو قوم کا لے کر جائے وہ صرف بوجھ ہوتا ہے۔

تین سو دوروں کا حساب دو۔ قوم کا مزید پیسہ برباد مت کرو تم پے اپنی قوم اعتماد نھی کرتی باھر والے کیا خاک اعتماد کرینگے عوام کی جان چھوڑو یھی کافی ھے










