تازہ تر ین

سینکڑوں اھم شخصیات ایگرٹ کنٹرول لسٹ میں شامل ائیر پورٹس پر سیکیورٹی سخت۔ھزاروں ارب روپے کی کرپشن کرنے والے شکنجے میں۔۔درجنوں وزراء سینکڑوں بیورو کریٹ شکنجے میں غیر یقینی صورتحال سعودی فارمولا۔۔ ٹیم میں شامل کھلاڑی آپس میں گھتا گھتا باپر کے لیے پریشانی۔عدالت نے قرار دیا کہ مفت بجلی واپڈا ملازمین کا قانونی حق نہیں بلکہ صرف ایک انتظامی رعایت تھی، جسے ختم کرنا حکومت کا اختیار ہے۔۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

اگر الیکشن کریڈیبل نہیں ہے، صاف شفاف اور منصفانہ نہیں ہے، غیر جانبدارانہ نہیں ہے تو اس الیکشن کو کوئی نہیں مانے گا۔ یہ صرف پیپلز پارٹی کی بات نہیں، آزاد کشمیر کا کوئی باشندہ اور ووٹر یہ بات تسلیم نہیں کرے گا۔ پانچ سال انتظار کرنے کے بعد ووٹر سے اس کے ووٹ کا حق بھی محروم کر دیا گیا ہے۔سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی آزاد کشمیر انتخابات کے حوالے سے اہم پریس کانفرنس

قومی احتساب بیورو (نیب) میں اعلی افسران کے تبادلوں اور تعیناتیوں کی منظوریچیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) نے فوری طور پر نافذ العمل ہونے والے احکامات کے تحت گریڈ 19 اور 20 کے چار افسران کے تبادلوں اور تعیناتیوں کی منظوری دے دی ہے۔سید محمد آفاق (ڈائریکٹر، گریڈ 20) کو نیب کراچی سے ایڈمنسٹریشن اینڈ پرسنل ڈویژن، نیب ہیڈکوارٹر منتقل کر دیا گیا۔محمد سلیم احمد (ڈائریکٹر، گریڈ 20) کو نیب بلوچستان سے نیب کراچی تعینات کر دیا گیا۔محمد عبید اللہ اعظم (ڈائریکٹر، گریڈ 20) کو نیب ہیڈکوارٹر سے نیب کراچی منتقل کر دیا گیا۔اصغر خان (ایڈیشنل ڈائریکٹر، گریڈ 19) کو نیب ہیڈکوارٹر سے نیب کراچی میں اپنے موجودہ پے اینڈ اسکیل پر بطور ڈائریکٹر تعینات کیا گیا ہے جبکہ وہ نیب ہیڈکوارٹر میں لینڈ ڈائریکٹوریٹ کی اضافی ذمہ داریاں بھی انجام دیتے رہیں گے۔نوٹیفکیشن کے مطابق متعلقہ افسران کو قواعد کے مطابق ٹی اے ڈی اے اور جوائننگ ٹائم بھی دیا جائے گا۔ یہ نوٹیفکیشن 28 جولائی 2026 کو جاری کیا گیا۔Kamran Zehri Journalist Kamran Zehri Kamran Zehri Journalist #kamranzehri #Sindh #journalist #سندھ #SindhiNews #Pakistan #karachi #PakistanNews

#پاکستانی ہیرو کی ناقابل یقین کارکردگی۔37 سال اور 44 سال کی عمر میں چمپیئن بننا۔۔۔۔! دنیا کے عظیم ترین اسکوائش کھلاڑیوں میں شمار ہونے والے ہاشم خان نے 37 سال کی عمر میں اپنا پہلا ‘برٹش اوپن’ ٹائٹل جیتا تھا؟ وہ عمر جب اکثر کھلاڑی ریٹائرمنٹ لے چکے ہوتے ہیں، ہاشم خان نے وہاں سے دنیا پر راج کرنا شروع کیا اور 44 سال کی عمر میں اپنا آخری برٹش اوپن ٹائٹل جیت کر تاریخ رقم کر دی!پشاور کے تاریخی گاؤں “نواں کلی” سے تعلق رکھنے والے ہاشم خان پیدائش1914ء نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک برطانوی کلب میں بال بوائے (Ball Boy) اور کورٹس کی صفائی سے کیا۔ ممبران کے جانے کے بعد، وہ کڑکتی دھوپ میں ننگے پاؤں اور ٹوٹے ہوئے ریکیٹس کے ساتھ گھنٹوں پریکٹس کرتے تھے۔ اسی بے مثال محنت اور جنون نے انہیں ایک عام بال بوائے سے عالمی چیمپئن بنا دیا۔ شاندار کامیابیوں کا سفر اور عمر کے تاریخی ریکارڈزپہلا برٹش اوپن (1951ء): صرف 37 سال کی عمر میں اپنا پہلا برٹش اوپن ٹائٹل جیتا اور عالمی اسکوائش میں پاکستان کی آمد کا اعلان کیا۔آخری برٹش اوپن (1958ء): 44 سال کی پختہ عمر میں اپنا ساتواں اور آخری برٹش اوپن جیتا (جس کے بعد 1960ء میں 46 سال کی عمر میں بھی وہ اس ٹورنامنٹ کے فائنل میں پہنچے)۔عالمی فتوحات: 7 بار برٹش اوپن جیتنے کے علاوہ انہوں نے 3 بار ‘یو ایس اوپن’ اور 3 بار ‘کینیڈین اوپن’ بھی اپنے نام کیا۔خان ڈائنسٹی (Khan Dynasty) کی بنیاد: ان کی کامیابیوں سے اسکوائش کی وہ عظیم “خان ڈائنسٹی” وجود میں آئی جس میں ان کے بھائی اعظم خان، روشن خان، اور بعد میں جہانگیر خان اور جان شیر خان نے اسکوائش کی دنیا پر دَہائیوں تک پاکستان کا پرچم لہرایا۔⚡ کھیل کا اندازعدم برداشت کی حد تک تیز رفتار، ناقابلِ یقین اسٹیمنا اور زبردست حکمتِ عملی! وہ کورٹ میں اتنی چستی اور مہارت سے حرکت کرتے تھے کہ بین الاقوامی میڈیا نے انہیں “فلائنگ خان” (The Flying Khan) کا لقب دیا تھا۔🕊️ عظیم وراثت18 اگست 2014ء کو 100 سال کی عمر میں انتقال کر جانے والے ‘بابائے اسکوائش’ ہاشم خان نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی اسپورٹس کی تاریخ کا ایک بے مثال اور روشن باب ہیں۔#شیرد

ایک زمانہ تھا جب عمران خان کی پہچان یہ نہیں تھی کہ وہ عمران خان ہیں… بلکہ لوگ کہتے تھے، “یہ ماجد خان کے کزن ہیں۔” 🇵🇰🏏کرکٹ کی تاریخ میں کچھ نام صرف رنز نہیں بناتے، بلکہ ایک معیار قائم کرتے ہیں۔ ماجد خان انہی شخصیات میں سے ایک تھے۔1946 میں لدھیانہ میں پیدا ہونے والے ماجد خان کا تعلق پاکستان کے اس عظیم کرکٹ خاندان سے تھا جس نے کئی نسلوں تک قومی کرکٹ کی خدمت کی۔ ان کے والد ڈاکٹر جہانگیر خان ٹیسٹ کرکٹر تھے، جبکہ جاوید برکی، عمران خان اور بعد میں بازید خان بھی اسی خاندان کی پہچان بنے۔لیکن ماجد خان کی اصل پہچان ان کا خاندان نہیں، بلکہ ان کی اپنی کلاس تھی۔برطانوی میڈیا نے انہیں “Majestic Khan” کا لقب دیا، کیونکہ ان کی بیٹنگ میں طاقت سے زیادہ نفاست، اعتماد اور خوبصورتی نظر آتی تھی۔ ان کا ہر کور ڈرائیو اور ہر آن ڈرائیو دیکھنے والوں کو دیر تک یاد رہتا تھا۔🏏 چند یادگار کارنامے:⭐ پاکستان کی تاریخ کی پہلی ون ڈے سنچری (109 بمقابلہ انگلینڈ، 1974)⭐ 1976 کراچی ٹیسٹ میں لنچ سے پہلے سنچری مکمل کرنے والے دنیا کے چند خوش نصیب بلے بازوں میں شامل⭐ 1976-77 میں ویسٹ انڈیز کے خوفناک فاسٹ بولنگ اٹیک کے خلاف پوری سیریز میں 530 رنز، جس میں تاریخی 167 رنز کی اننگ بھی شامل تھی۔⭐ گلیمورگن کے لیے 9,000 سے زائد فرسٹ کلاس رنز، 21 سنچریاں اور کامیاب کپتانی⭐ کیمبرج یونیورسٹی کے کپتان بنے، لارڈز میں ڈبل سنچری اسکور کی، اور اپنی ہی قومی ٹیم پاکستان کو یونیورسٹی کی جانب سے شکست دینے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔لیکن ماجد خان صرف ایک عظیم بلے باز نہیں تھے۔وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ، باوقار، نرم گفتار اور کھیل کی روایات کا احترام کرنے والے حقیقی جینٹلمین کرکٹر تھے۔ اگر انہیں یقین ہوتا کہ گیند بلے سے لگی ہے تو وہ امپائر کے فیصلے کا انتظار کیے بغیر خود واپس چل دیتے تھے۔📊 ٹیسٹ کیریئر:🏏 63 ٹیسٹ میچز🏏 3,931 رنز🏏 8 سنچریاں، 23 نصف سنچریاں📊 فرسٹ کلاس کرکٹ:🏏 27,000 سے زائد رنز🏏 73 سنچریاںوقت کے ساتھ نئی نسل شاید انہیں کم جانتی ہو، مگر تاریخ گواہ ہے کہ ماجد خان پاکستان کے پہلے عالمی معیار کے اسٹائلش اوپنرز میں شمار ہوتے ہیں۔وہ صرف رنز نہیں بناتے تھے… وہ کرکٹ کو خوبصورت بناتے تھے۔ ❤️🇵🇰💬 آپ کے خیال میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے اسٹائلش بلے باز کون تھا؟ ماجد خان، ظہیر عباس، یا کوئی اور؟#CMLU #CricketMatchLiveUpdate #MajidKhan #PakistanCricket #TestCricket #ODICricket #CricketHistory #ImranKhan #Glamorgan #CambridgeCricket

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved