تازہ تر ین

فیفا ورلڈ کپ 50 ھزار ارب روپے پاکستانی کے انعامات۔۔انعام دینے والوں میں پاکستانی بزنس ٹائیکون بھی شامل۔ اسپین کے مسلمان کھلاڑی کو سب سے زیادہ کیش انعام ملا۔۔ہحوثی خطرات کے خلاف سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں: پاکستان۔۔ ہم تیل نہیں بیچیں گے تو کوئی اور بھی تیل نہیں بیچ سکے گا: باقر قالیباف۔۔۔امریکی حملوں کے بعد ایران اج جوابی حملوں میں عرب ممالک پر جوابی حملوں میں شدت لانے کے لیے پرعزم۔۔لنکا پریمیئر لیگ میں شاھنواز داھانی نے جافنا کنگز کے خلاف 4 اوورز میں 25 رنز دے کر 2 وکیٹس حاصل کی دونوں وکیٹس 19وین اوور میں حاصل کی۔۔عوام دشمن حکومت عوام کے صبر کا امتحان لینے لگی۔۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اس سال وینزویلا کے تیل کی فروخت سے 43 ارب ڈالر سے زائد کی آمدنی حاصل کی بادبان ٹی وی الرٹ۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر450

د. لبنیٰ فرحمشرقِ وسطیٰ میں نئی اسٹریٹجک صف بندیاں، سعودی عرب کا سویلین جوہری پروگرام اور دفاعی تیاریوں میں تیزیریاض: مشرقِ وسطیٰ تیزی سے ایک نئے اسٹریٹجک مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں علاقائی سلامتی، توانائی کے تحفظ، جدید دفاعی صلاحیتوں اور سویلین جوہری ٹیکنالوجی کے گرد نئی صف بندیاں تشکیل پا رہی ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خلیجی ریاستوں کو اپنی قومی سلامتی، دفاعی تیاریوں اور علاقائی شراکت داریوں کا ازسرِنو جائزہ لینے پر مجبور کر دیا ہے۔اسی تناظر میں سعودی عرب ویژن 2030 کے تحت توانائی کے متبادل ذرائع، جدید ٹیکنالوجی اور پرامن سویلین جوہری پروگرام کی ترقی کو قومی ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے۔ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق ریاض اور واشنگٹن کے درمیان سویلین جوہری تعاون پر مذاکرات جاری ہیں، جن کا مقصد توانائی کے شعبے میں تعاون، اقتصادی سرمایہ کاری اور طویل المدتی اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔

تاہم اس حوالے سے کسی حتمی معاہدے کا باضابطہ اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔علاقائی کشیدگی کے پیشِ نظر سعودی عرب سمیت متعدد خلیجی ممالک نے احتیاطی دفاعی اقدامات اختیار کیے ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق شہریوں اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے حفاظتی الرٹس جاری کیے گئے، جنہیں صورتحال معمول پر آنے کے بعد واپس لے لیا گیا۔ اسی دوران دفاعی تیاریوں، فضائی نگرانی اور حساس تنصیبات کے تحفظ کے اقدامات کو مزید مؤثر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔متعدد میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی قیادت نے دفاعی استعداد، مشترکہ فوجی مشقوں، عسکری تربیت اور قریبی دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کی ہدایات دی ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کو بھی خطے کی ابھرتی ہوئی اسٹریٹجک شراکت داری کا اہم پہلو قرار دیا جا رہا ہے، اگرچہ ان رپورٹس کے بعض نکات کی سرکاری سطح پر باضابطہ تصدیق ابھی باقی ہے۔سلامتی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی توانائی کی رسد، سمندری تجارت، سپلائی چین، سرمایہ کاری، انشورنس اور بین الاقوامی اقتصادی استحکام بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم بحری راستے عالمی معیشت کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں، اس لیے ان کی سلامتی بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔دوسری جانب بحرین، اردن اور دیگر علاقائی ممالک نے بھی دفاعی نگرانی اور فضائی تحفظ کے اقدامات میں اضافہ کیا ہے، جبکہ عرب اتحاد کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے سے متعلق رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں۔سیاسی تجزیہموجودہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن صرف عسکری قوت کے ذریعے نہیں بلکہ توانائی، جدید ٹیکنالوجی، جوہری صلاحیت، سفارتی اتحاد اور اقتصادی شراکت داریوں کے امتزاج سے تشکیل پا رہا ہے۔

سعودی عرب اپنی قومی سلامتی اور اقتصادی تبدیلی کے اہداف کو یکجا کرتے ہوئے ایک ایسا تزویراتی ماڈل اختیار کر رہا ہے جس میں دفاعی تیاری، سفارت کاری اور ترقیاتی منصوبے ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔خلاصہخطے کی موجودہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ عسکری تیاریوں کے ساتھ ساتھ سفارتی ذرائع، سیاسی مذاکرات اور علاقائی تعاون کو بھی فروغ دیا جائے۔ اگرچہ سویلین جوہری پروگرام، دفاعی تعاون اور علاقائی صف بندیوں سے متعلق متعدد رپورٹس زیرِ بحث ہیں، تاہم مستقبل کی کسی بھی پیش رفت کا انحصار متعلقہ حکومتوں کے سرکاری فیصلوں، بین الاقوامی سفارت کاری اور خطے کی مجموعی سلامتی کی صورتحال پر ہوگا۔ادارتی نوٹ: اس رپورٹ میں شامل بعض معلومات سرکاری بیانات، بین الاقوامی میڈیا رپورٹس اور اسٹریٹجک تجزیوں پر مبنی ہیں۔ جن دفاعی، عسکری یا جوہری منصوبوں کی متعلقہ حکومتوں نے باضابطہ تصدیق نہیں کی، انہیں اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے

شگر: بالائی علاقہ داسو میں دھماکہ، تین افراد زخمی۔شگر: دھماکے سے متعدد دکانیں تباہ۔شگر: زخمیوں کو شگر اور سکردو کے اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔شگر: دھماکے کی نوعیت سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔- شگر: ڈپٹی کمشنر شگر اور مقامی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ہیں۔

*ایس اینڈ پی گلوبل نے پاکستان کی طویل مدتی کریڈٹ ریٹنگ بہتر کردی**پاکستان کی ریٹنگ ’B-‘ سے بڑھا کر ’B‘ کردی گئی**ریٹنگ میں بہتری کی وجہ بیرونی مالی پوزیشن میں استحکام قرار دیا گیا*

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved