
وزیراعظم شہباز شریف کی بیجنگ میں تیانمن سکوائر پر عوامی جمہوریہ چین کے ہیروز کی یادگار پر حاضری ،پھول چڑھائے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بیجنگ میں تیانمن سکوائر پر عوامی جمہوریہ چین کے ہیروز کی یادگار پر حاضری دی اورپھول چڑھائے۔ پیرکو بیجنگ کے دورے کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف کی یادگار آمد پر دونوں ملکوں کے قومی ترانے بجائے گئے۔وزیراعظم نے سادہ مگر پروقار تقریب میں یادگار پر پھول رکھ کر چین کے قومی ہیروز کو خراج عقیدت پیش کیا۔ تقریب میں وفاقی وزرا ء، پاکستانی وفد کے ارکان اور چین کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔بیجنگ کے قلب میں واقع تیانمن سکوائر چین کی تاریخ، ثقافت اور قومی شناخت کی اہم علامت مانا جاتا ہے۔


وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی بیجنگ میں صدر شی جنپنگ کے ساتھ ملاقات*وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج بیجنگ میں چین کے صدر شی جنپنگ سے نہایت گرمجوشی اور خوشگوار ماحول میں ملاقات کی۔ یہ ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے تناظر میں ہوئی۔ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سمیت دیگر اعلیٰ وزراء اور سرکاری حکام بھی موجود تھے۔وزیراعظم نے صدر شی جنپنگ کی جانب سے پرتپاک استقبال پر ان کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان۔

چین دیرینہ اسٹریٹیجک کوآپریٹو شراکت داری پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی تناظر میں دونوں ممالک کی آہنی دوستی کی اسٹریٹجک اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔وزیراعظم نے چین کے بنیادی مفادات، خصوصاً “ون چائنا پالیسی” پر پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، قومی ترقی اور معاشی استحکام کے لیے چین کی مسلسل حمایت کو سراہا۔وزیراعظم نے ایک روز قبل ہانگژو کے کامیاب دورے کا ذکر کرتے ہوئے ژجیانگ صوبے کی ترقی میں صدر شی جن پنگ کے کلیدی کردار کو سراہا،

جہاں وہ 2002ء سے 2007ء تک گورنر رہے تھے۔انہوں نے صدر شی جنپنگ کی جراتمندانہ اور دوراندیش قیادت کی بھی تعریف کی، جس نے چین کو ایک عالمی طاقت میں تبدیل کر دیا۔علاقائی امن کے لیے چین کی حمایت کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ صدر شی جن پنگ کی علاقائی امن کے لیے پیش کردہ چار نکاتی تجویز کو وسیع پیمانے پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ غیر یقینی اور کشیدہ عالمی حالات میں پاکستان اور چین کی دوستی اور تعاون خطے اور دنیا میں استحکام کا اہم ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔

انہوں نے صدر شی جن پنگ کے وژن پر مبنی عالمی اقدامات، جن میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو، گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو، گلوبل سکیورٹی انیشی ایٹو، گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو اور گلوبل گورننس انیشی ایٹو شامل ہیں، کو سراہا۔ وزیراعظم نے “انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی حامل عالمی برادری” کے وژن کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا بھی اعادہ کیا۔وزیراعظم نے دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ اسٹریٹجک رابطہ کاری کو مزید مضبوط کیا جائے، سی پیک کی ترقی کو آگے بڑھایا جائے اور چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے کو “اڑان پاکستان” پروگرام سے ہم آہنگ کیا جائے۔ تاکہ صنعتکاری، باہمی روابط، سائنس و ٹیکنالوجی، زراعت، قابل تجدید و صاف توانائی اور ڈیجیٹل تبدیلی کے شعبوں میں وسیع تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے

۔وزیراعظم نے کہا کہ چین کے خلائی اسٹیشن پروگرام کے لیے پاکستانی خلا بازوں کا انتخاب پاکستان۔چین تعاون کی بڑھتی ہوئی مضبوطی کا مظہر ہے۔صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور پاکستان نے باہمی اعتماد، تفہیم اور تعاون پر مبنی “ناقابلِ شکست روایتی دوستی” قائم کی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی حالات میں تبدیلیوں کے باوجود چین اپنی ہمسایہ پالیسی میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ہمیشہ ترجیح دے گا۔دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان۔چین دوستی کی تاریخی وراثت کو آگے بڑھاتے ہوئے 75ویں سالگرہ کو اسٹریٹجک، عملی اور مستقبل پر مبنی تعاون کے ایک نئے دور میں تبدیل کیا جائے گا۔










