
ن لیگی ایم این اے سیدہ نوشین افتخار نےخاوندسےبچوں کی حوالگی کےلئے عدالت سے رجوع کرلیاعدالتی حکم پردونوں بچوں پندر سالہ سکینہ اور گیارہ سالہ امام مرتضی کوعدالت پیش کیاگیاعدالت نے میاں بیوی کو مصالحت کا موقع دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردیعدالت نے رکن قومی اسمبلی نوشین افتخار اور انکے خاوند سابق رکن قومی اسمبلی سید مرتضی امین کو چیمبر میں بلالیاعدالت نے والد کی جانب سے بچوں کی پرورش پراطمینان کا اظہار کیا

عدالت نے میاں بیوی کےتنازع میں شادی برقرار رہنے کےعمل کو مثبت قرار دے دیاعدالتی سماعت کےبعد عدالت نےعبوری طور پردونوں بچوں کو والد کےساتھ جانے کی اجازت دےدیجسٹس ملک اویس خالد نے سماعت کی ڈسکہ سے ن لیگی رکن قومی اسمبلی سیدہ نوشین افتخارنے دونوں بچوں کی حوالگی کےلئے عدالت سے رجوع کررکھاہے

پاکستان میں فضائی آپریشن ایک بار پھر شدید بحران کا شکار ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر کے مختلف ہوائی اڈوں پر ملکی اور غیر ملکی پروازیں منسوخ ہونے کی وجہ سے ہزاروں مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ایوی ایشن ذرائع کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق،

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مجموعی طور پر 83 ملکی اور بین الاقوامی پروازیں منسوخ کر دی گئیں، جبکہ اس دوران صرف 430 پروازیں ہی اپنے شیڈول کے مطابق آپریٹ ہو سکیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بحران کی وجہ سے کراچی، اسلام آباد، لاہور، ملتان، پشاور، کوئٹہ، فیصل آباد، سکھر اور گلگت ایئرپورٹس پر فلائٹ آپریشن سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

پروازوں کی اچانک منسوخی اور تاخیر کے باعث مسافروں کو متبادل فلائٹس نہ مل سکیں، جس کی وجہ سے وہ کئی کئی گھنٹے ایئرپورٹس کے لاؤنجز میں انتظار کرنے پر مجبور رہے اور شدید خوار ہوئے۔اعداد و شمار کے مطابق اس صورتحال کے باوجود اسلام آباد ایئرپورٹ سے 134، کراچی سے 123 جبکہ لاہور سے 100 پروازیں چلائی گئیں۔ اس کے علاوہ ملتان سے 23، سیالکوٹ سے 20، پشاور سے 16 اور کوئٹہ سے صرف 10 پروازیں آپریٹ ہو سکیں۔ایوی ایشن حکام نے اس تعطل کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ متعدد پروازیں ناگزیر انتظامی اور آپریشنل وجوہات کی بنا پر منسوخ کرنا پڑیں۔

ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا کہ خاص طور پر جدہ آنے اور جانے والی 20 سے زائد پروازیں مسافروں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے منسوخ کی گئیں، جس کا براہِ راست اثر عمرہ زائرین اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں پر پڑا۔ ہوائی بازی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ حالیہ دنوں میں فضائی شعبے میں نافذ کیے جانے والے سخت حفاظتی اقدامات اور آپریشنل تبدیلیوں کے باعث بھی فلائٹ شیڈول برقرار رکھنا چیلنج بن گیا ہے

۔ دوسری طرف شدید پریشانی میں مبتلا مسافروں نے ایئرلائنز انتظامیہ کی بدانتظامی پر گہرے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے لیے فوری طور پر متبادل پروازوں کا انتظام کیا جائے اور ان کے معاوضے کی ادائیگی یقینی بنائی جائے۔

پاکستان کے وزیر دفاع نے پیر کو کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے پیش کیا گیا ابراہم معاہدہ قابل قبول نہیں کیوں کہ یہ ہمارے بنیادی نظریات سے متصادم ہے۔نجی چینل سماء سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ’میرا نہیں خیال کہ ہمیں کسی ایسے معاہدے میں شامل ہوں گے جو ہمارے بنیادی نظریات سے متصادم ہو۔ اس وقت ہم نے کوئی اقدام لیا ہے نہ کسی نے ہمیں (باضابطہ اس میں شامل ہونے کو) کہا ہے۔ اس وقت بھی غزہ (فائر بندی) معاہدے کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، تو ان لوگوں کے ساتھ کیسے بیٹھا جا سکتا ہے

جن پر ایک دن کا بھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔‘انہوں نے مزید کہا: ’ہمارا واضح موقف ہے کہ یہ (ابراہم معاہدہ) ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے اور ہم واحد ملک ہیں جس کے پاسپورٹ پر اسرائیل کا نام ہی شامل نہیں ہے۔‘خواجہ آصف کا یہ بیان صدر ٹرمپ کی سوشل میڈٰیا پوسٹ کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان، سعودی عرب، قطر، ترکی، مصر، اردن سمت دیگر مسلم ممالک ایران کے ساتھ معاہدے کے بعد ابراہم معاہدے میں شامل ہوں۔تصویر: اے ایف پی










