*اپیکس کمیٹی میٹنگ میں آرمی چیف کا خطاب*دہشت گردی کی جنگ میں ہر پاکستانی سپاہی ہے، کوئی یونیفارم میں اور کوئی یونیفارم کے بغیر، آرمی چیفہم سب نے ملکر دہشت گردی کے ناسور سے لڑنا ہے، آرمی چیفہم سب پر آئین پاکستان مقدم ہے- آئین ہم پر پاکستان کی اندرونی اور بیرونی سیکورٹی کی ذمہ داری عائد کرتا ہے، آرمی چیفجو کوئی بھی پاکستان کی سیکورٹی میں رکاوٹ بنے گا اور ہمیں اپنا کام کرنے سے روکے گا اسے نتائج بھگتنا ہونگے، آرمی چیف پاکستان آرمی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے گورننس میں موجود خامیوں کو روزانہ کی بنیاد پر اپنے شہیدوں کی قربانی دے کر پورا کر رہے ہیں، آرمی چیف
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق رہنما فیصل واوڈا صحافی کے غدار کہنے پر بھڑک اٹھے۔منگل کو پریس کانفرنس کے دوران صحافی نے فیصل واوڈا کو کہا کہ جس پارٹی کی بنیاد پر آپ نے سیاست کا آغاز کیا اس کو سب سے پہلے چھوڑ کر آپ نے غداری کی اور اب پی ٹی آئی میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنے والوں پر آپ تنقید کر رہے ہیں، سب سے پہلے پی ٹی آئی سے غداری کرنے والے تو آپ تھے۔جس پر فیصل واوڈا نے کہا کہ آپ کا شکریہ آپ آج مجھے غداری کا سرٹیفیکیٹ دے رہے ہیں کل مذہب کا دیں گے تو دونوں سرٹیفیکیٹ اپنے پاس رکھیں۔اس کے بعد انہوں نے صحافی سے ان کے ادارے کا نام پوچھا اور پھر کہا کہ ان کی تصویر لے لیں تاکہ کل کو پی ٹی آئی والے ان کی تعریف کرسکیں۔دیگر صحافیوں نے پوچھا کہ آپ دھمکی دے رہے ہیں؟ جس پر فیصل واوڈا نے کہا کہ بات کو غلط اینگل مت دیں، تصویر کا اس لئے کہا کہ پی ٹی آئی والے ان کی تعریف کریں۔
بھارتی ریاست ہریانہ کے ایک کالج میں خطرناک واقعہ پیش آیا جب طالب علموں کے ایک گروپ نے اپنی خاتون ٹیچر کی کرسی پر بم نصب کرکے دھماکا کردیا۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حرکت بارہویں جماعت کے طالب علموں نے کی جنہوں نے سائنس ٹیچر کی کرسی کے نیچے پٹاخے نما آلے سے دھماکا کیا۔ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق مبینہ طور پر ٹیچر کی جانب سے ڈانٹ ڈپٹ کیے جانے کے بعد طالب علموں نے دھماکا خیز ڈیوائس بنانے کے لیے یوٹیوب کا استعمال کیا، طریقہ سیکھنے کے بعد انہوں نے کرسی پر مواد نصب کیا جسے ریموٹ کے ذریعے اڑایا۔تاہم خوش قسمتی سے ٹیچر اس دھماکے میں محفوظ رہیں لیکن طلبا کی جانب سے اس قسم کی حرکت کے بعد کئی سوالوں نے جنم لے لیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق ہریانہ کے محکمہ تعلیم نے سخت کارروائی کرتے ہوئے واقعے میں ملوث 13 طلبہ کو ایک ہفتے کے لیے معطل کر دیا ہے۔اس واقعے نے آن لائن پلیٹ فارمز کے غلط استعمال اور اسکولوں میں اساتذہ کی حفاظت کے بارے میں خدشات کو بھی جنم دیا ہے۔
*اپیکس کمیٹی میٹنگ میں آرمی چیف کا خطاب*دہشت گردی کی جنگ میں ہر پاکستانی سپاہی ہے، کوئی یونیفارم میں اور کوئی یونیفارم کے بغیر، آرمی چیفہم سب نے ملکر دہشت گردی کے ناسور سے لڑنا ہے، آرمی چیفہم سب پر آئین پاکستان مقدم ہے- آئین ہم پر پاکستان کی اندرونی اور بیرونی سیکورٹی کی ذمہ داری عائد کرتا ہے، آرمی چیفجو کوئی بھی پاکستان کی سیکورٹی میں رکاوٹ بنے گا اور ہمیں اپنا کام کرنے سے روکے گا اسے نتائج بھگتنا ہونگے، آرمی چیف پاکستان آرمی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے گورننس میں موجود خامیوں کو روزانہ کی بنیاد پر اپنے شہیدوں کی قربانی دے کر پورا کر رہے ہیں، آرمی چیف
*وزیراعظم محمد شہباز شریف کا شوگر ملوں، شوگر ڈیلرز کے حوالے سے بڑا فیصلہ*ایف بی آر، ایف آئی اے اور آئی بی کو چینی کی فروخت پر ٹیکس چوری، غیر دستاویزی سیلز اور قیمتوں میں اضافے کی روک تھام کیلئے مشترکہ کارروائی کی ہدایت۔ نوٹیفکیشن جاری ایف بی آر، آئی بی اور ایف آئی اے شوگر سیکٹر میں سیلز ٹیکس کی چوری کے سدباب کو یقینی بنائیں، وزیراعظم کی ہدایتشوگر کرشنگ سیزن شروع ہو رہا ہے، شوگر ملوں اور ڈیلرز سے جی ایس ٹی کی 100 فیصد وصولی کو یقینی بنایا جائے، وزیراعظم کی ہدایتوزیراعظم کا شوگر ملوں میں کیمرے نصب کرنے کا فیصلہ۔ چینی کی ذخیرہ اندوزی نہیں ہو سکے گی اور قیمتوں میں توازن رہے گاٹیکس چوری اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث شوگر ملز مالکان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی کیمروں کے ذریعے شوگر ملوں کے پیداواری عمل اور ذخیرہ اندوزی پر نظر رکھی جائے گی، سیلز ٹیکس کی ادائیگی یقینی بنائی جائے گی، وزیراعظمچینی کی قیمتوں میں اضافہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، وزیراعظم کی ہدایتوزیراعظم کی شوگر سٹہ مافیا کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایتاسٹیل، سگریٹ، سیمنٹ اور مشروبات سمیت دیگر شعبوں میں بھی اسی طرح کے اقدامات کیے جائیں، وزیراعظم کی ہدایت ****
*12ویں دفاعی نمائش ’آئیڈیاز 2024‘ “امن کے لیے ہتھیار” دفاعی سفارتکاری میں اہم قدم* (بادبان رپورٹ) دفاعی ساز و سامان کی عالمی نمائش آئیڈیاز 2024ء کراچی ایکسپو سینٹر میںآج 19نومبر کو شروع ہوگی جس میں پاکستان کے عزم “امن کے لیے ہتھیار” کو اجاگر کیا جائے گا۔4 روزہ نمائش 22 نومبر تک جاری رہے گی‘ نمائش کا افتتاح وزیراعظم میاں شہباز شریف کریں گے‘ پاکستان پویلین میں جدید ترین ٹینک حیدر اور ڈرون شاہپر کی رونمائی بھی کی جائے گی جبکہ آخری روز نشان پاکستان سی ویو پر ائرشو بھی نمائش کا حصہ ہوگا جو غیر ملکی معززین اور کراچی کے عوام کے لیے منعقد کیا جائے گا‘ آئیڈیاز2024ء کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے پاکستان کی دفاعی برآمدات میں اضافہ ہوتا ہے،
جو ملک کی معیشت کو مزید مستحکم کرتا ہے دفاعی نمائش آئیڈیاز کے 12ویں ایڈیشن میں دنیا بھر کے نمائش کنندگان اپنی دفاعی مصنوعات اور ساز و سامان پیش کریں گے‘ پہلی بار یوکرین، اٹلی اور ایران میں آئیڈیاز نمائش میں شریک ہوں گے‘ 38 ممالک سے 532 نمائش کنندگان اور350 غیر ملکی مندوبین شرکت کریں گے جبکہ 30 عالمی مقررین دفاعی صنعتوں سے متعلق سیمینار سے خطاب کریںگے نمائش میں15 بین الاقوامی پویلین بھی بنائے گئے ہیں‘52 ہزار ٹریڈ وزیٹر نمائش کا دورہ کریں گے۔آئیڈیاز میں پاکستان مقامی طور پر تیار ہونے والے ہمہ جہت جنگی ہتھیاروں کی نمائش کرتا ہے۔
ان میں فضائی جنگ کے لیے تیار کردہ جے ایف 17 تھنڈر کے علاوہ لڑاکا پائلٹس کی تربیت کے لیے مشاق، سپر مشاق اور کے 8 طیارے بھی نمائش کے لیے پیش کیے جاتے ہیں۔ پاکستان کا عالمی امن کے استحکام اور توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار رہا ہے اور آئیڈیاز کی میزبانی خطے میں تکنیکی ترقی اور تبادلے کی حوصلہ افزائی کے لیے ہمارے عہد کا منہ بولتا ثبوت ہےاور سنہ 2000 کے آغاز کے بعد سے یہ ایونٹ قومی اور عالمی دفاعی صنعت کی پہچان دفاعی سفارتکاری میں اہم قدم اورمستقل طور پر ایک بڑا اجتماع بن گیا ہے۔ آئیڈیاز کو اب دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے، دفاعی نمائش میں جدید ٹیکنالوجی کو پاکستان اور اس سے باہر علم کے تبادلے کو فروغ ملتا ہے 25 سال سے کامیابی سے جاری آئیڈیاز نمائش کا انعقاد اس سال آج19نومبرسے 22 نومبر تک کراچی میں ہورہا ہے اس سلسلے میں عوام کی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے 21 نومبر کو سی ویو نشان پاکستان پر شہریوں کے لیے کراچی شو کا اہتمام کیا جائے گا۔نمائش کے پیش نظر وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے شہر کو صاف رکھنے کی ہدایت کردی۔وزیر اعلیٰ سندھ نے اس حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آئیڈیاز 2024 سے پاکستان کے اسٹریٹیجک تعلقات کو فروغ حاصل ہو گا اور یہ مجموعی طور پر پاکستان کے لیے ایک کامیابی ہو گی۔ مراد علی شاہ نے آئیڈیاز 2024 کے انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ مضبوط نمائندگی اس تقریب کی کامیابی کے لیے ہماری مشترکہ عزم کی عکاسی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ شہر میں فٹ پاتھ کو پینٹ کر کے گرین بیلٹ میں پودے اور گھاس لگائیں اور آئیڈیاز کے ایونٹ سے پہلے جن سڑکوں اور راستوں کو مرمت کی ضرورت ہے، وہاں پیچ ورک مکمل کیا جائے جبکہ اسٹریٹ لائٹس درست کرنے کے ساتھ ساتھ سگنلز کی صفائی اور ان کو پینٹ کر کے بہتر کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے عوام کو نمائش کے دنوں میں مشکلات سے بچانے کے لیے ٹریفک پولیس کو ٹریفک مینجمنٹ اور متبادل راستوں کا انتظام کرنے کی ہدایت بھی کی۔ان کا کہنا تھا کہ تمام متعلقہ پارٹنرشپ آئیڈیا پلیٹ فارم کے لیے حکومت سندھ کی غیر متزلزل حمایت کی تصدیق کرتی ہے جبکہ دفاعی نمائش عالمی شراکت داروں کے ساتھ ہمارے گہرے و باہمی تعلقات کا ثبوت ہیں۔وزیر اعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ مشترکہ پلیٹ فارم سے عالمی امن، استحکام اور خوشحالی کا پیغام جاتا ہے اور نمائش میں غیر ملکی مندوبین و دفاعی صنعت کار امن و سلامتی کے چیلنجز پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔اور سنہ 2000 کے آغاز کے بعد سے یہ ایونٹ قومی اور عالمی دفاعی صنعت کی پہچان اور مستقل طور پر ایک بڑا اجتماع بن گیا ہے۔ آئیڈیاز کو اب دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے، دفاعی نمائش میں جدید ٹیکنالوجی کو پاکستان اور اس سے باہر علم کے تبادلے کو فروغ ملتا ہے سال 2000 میں پہلی بار انٹرنیشنل ڈیفنس ایگزیبیشن اینڈ سیمینار (آئیڈیاز) کا آغاز کیا گیا اور تب سے اب تک اس کا انعقاد مستقل بنیادوں پر ہورہا ہے۔ ملک کی سب سے بڑی دفاعی نمائش کی میزبانی کے لیے ایک بار پھر کراچی کا انتخاب کیا گیا ہے اور 12ویں آئیڈیاز 19 سے 22 نومبر تک منعقد کی جارہی ہے جو خطے میں دفاعی سازو سامان کی نمائش کا سب سے بڑا فورم بن گیا ہے۔جب 1990ء کی دہائی میں امریکا نے پاکستان کی جانب سے ایف 16 طیاروں کی قیمت کی ادائیگی کے باوجود جہاز پاکستان کو فراہم کرنے سے انکار کردیا تب پاکستان نے اپنے دفاعی شعبے کے لحاظ سے ایک سبق سیکھا اور وہ سبق تھا خود انحصاری کا سبق تھا۔امریکا کے اس فیصلے سے خطے میں طاقت کا عدم توازن قائم ہونے لگا اور پاکستان کو اپنے دفاعی آلات کے حوالے سے ایک الگ سمت کی جانب دیکھنا پڑا۔اس دہائی میں پالیسی سازوں نے مقامی سطح پر ہتھیاروں کی تیاری کی منصوبہ بندی کی جو اس قدر کامیاب رہی کہ پاکستان نے نہ صرف مقامی ضروریات کو پورا کرنا شروع کردیا ہے بلکہ یہ ہتھیار عالمی مارکیٹ کا بھی حصہ بننا شروع ہوگئے۔ بس اپنی اسی کامیابی کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے سال 2000ء میں پہلی بار انٹرنیشنل ڈیفنس ایگزیبیشن اینڈ سیمینار (آئیڈیاز) کا آغاز کیا گیا اور تب سے اب تک اس کا انعقاد مستقل بنیادوں پر ہورہا ہے۔آئیڈیاز میں اسلحے کی صنعت سے متعلق مقامی اور غیر ملکی کمپنیوں اور ڈیلرز کو اپنی مصنوعات اور خدمات کو اجاگر کرنے کا موقع ملتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ یہاں دفاعی پیداوار سے متعلق مشترکہ منصوبے، آوٹ سورسنگ اور تعاون پر تبادلہ خیال کے مواقع بھی موجود ہوتے ہیں۔آئیڈیاز 2024ء ایسے وقت میں منعقد ہورہی ہے جب دنیا میں سیاسی، تجارتی اور دفاعی سطح پر نئے بلاک ابھر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں اس وقت دفاعی اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔دنیا میں اسلحے کی صنعت و تجارت اور دفاعی اخراجات پر نظر رکھنے والے ادارے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹوٹ (ایس آئی پی آر آئی) کے مطابق دفاعی اخراجات میں اضافہ کرنے والے ممالک میں امریکا، چین، بھارت، برطانیہ اور روس نمایاں ہیں۔ ایس آئی پی آر آئی کے مطابق گزشتہ سال سے دنیا میں ایک مرتبہ پھر دفاعی شعبے میں اخراجات بڑھ رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ اقوامِ عالم میں ایک مرتبہ پھر بڑھتا ہوا باہمی عدم اعتماد ہے۔ صورتحال یہ ہوچکی ہے کہ دفاعی اخراجات سالانہ عالمی جی ڈی پی کے 6.1 فیصد کی شرح سے بڑھ رہے ہیں اور دنیا کی مجموعی پیداوار کا 2.2 فیصد دفاع پر خرچ ہورہا ہے۔اس وقت امریکا دنیا میں کہیں بھی جنگ میں مصروف نہیں مگر اس کے باوجود امریکی افواج نے 801 ارب ڈالر یعنی امریکی جی ڈی پی کا 3.5 فیصد صرف دفاع پر خرچ کیا ہے۔امریکا کے زیادہ تر اخراجات دفاعی تحقیق پر ہورہے ہیں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا نئی جنگی ٹیکنالوجی پر کام کررہا ہے۔روس اس وقت یوکرین کے ساتھ جنگ کررہا ہے اور اس وجہ سے اس کے دفاعی اخراجات میں اضافہ ہوا ہے، مگر اس جنگ کی تیاری روس نے اپنے بجٹ کو 65 ارب 90 کروڑ ڈالر تک بڑھا دیا جو روسی جی ڈی پی کا 2.9 فیصد ہےبرِاعظم ایشیا میں بھی متعدد ملکوں کے دفاعی اخراجات میں اضافہ ہوا ہے جس میں چین سرِفہرست ہے۔ ویسے تو چین گزشتہ 29 سال سے اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ کررہا ہے مگ اس نے 239 ارب ڈالر اپنی افواج پر خرچ کیے جو چینی جی ڈی پی کا 4.7 فیصد ہے۔ چین اپنے قیام کے بعد سے ہی دفاع سے متعلق 5 سالہ پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے اور ابھی اس حوالے سے 14واں منصوبہ جاری ہے جو 2025ء میں مکمل ہوگا۔۔ چین اور بھارت کی مسلح افواج گزشتہ کئی سال سے لداخ، سکم، ڈوکلام اور لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے دونوں اطراف آمنے سامنے ہیں۔جاپان نے دفاعی بجٹ میں 7 ارب ڈالر کا اضافہ کرتے ہوئے اسے 54 ارب ڈالر کردیا ہے۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ چین ہے کیونکہ جاپان سمندروں میں چین کی قائم ہوتی بالادستی سے خائف ہے۔ اسی کے ساتھ آسٹریلیا کا فوجی بجٹ بھی 31 ارب 80 کروڑ ڈالر ہوگیا ہے۔ آسٹریلیا چین کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکا سے 128 ارب ڈالر مالیت کی 8 ایٹمی آبدوز حاصل کررہا ہے۔وسطی اور مغربی یورپ میں دفاع پر خرچ کرنے والا سب سے بڑا ملک جرمنی ہے جس نے 2021ء میں 56 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں۔ قطر کے دفاعی اخراجات میں بھی اضافہ ہوا ہے جو 11 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے ہیں۔ دنیا میں دفاع پر ہونے والے اخراجات کے حوالے سے بھارت 76 ارب 60 کروڑ ڈالر کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ اس کے دفاعی اخراجات میں 33 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔دفاعی اخراجات میں اضافے کے اس تجزیے کا جائزہ لینا اس لیے اہم ہے کہ دنیا میں اگر تیزی سے دفاعی اخراجات بڑھ رہے ہیں اور ہر ملک اپنے اپنے دفاع کے حوالے سے فکر مند ہے تو ایسے میں دفاعی نمائش آئیڈیاز خطے کے ممالک کو ایک موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ کس طرح مغربی ملکوں پر انحصار کیے بغیر انتہائی کم قیمت پر معیاری دفاعی مصنوعات حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ نمائش دفاعی سفارتکاری میں اہم ترین تصور کی جاتی ہے۔آئیڈیاز دراصل دفاعی سفارتکاری کا ایک بڑا اور اہم موقع ہوتا ہے۔ یہ نمائش عالمی برادری کے سامنے پاکستان کو ایک جدید، ترقی یافتہ اور پُرامن بقائے باہمی پر یقین رکھنے والی ریاست کے طور پر اجاگر کرنے کا بھی موقع فراہم کرتی ہے۔دفاعی شعبے میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹیکنالوجی سے دفاعی شعبے میں ایک کلیدی تبدیلی ممکن ہے سیمنار میں وزرا، وزارتِ دفاع کے اعلٰی حکام، دفاعی ٹیکنالوجی سے متعلق ادارے، اس شعبے کی تدریس سے متعلق افراد، محققین اور دفاعی تجزیہ کار شرکت کررہے ہیں۔آئیڈیاز کا سال 2000ء میں پہلی مرتبہ انعقاد کیا گیا اور تب سے اب تک ہر نمائش میں ملکی اور غیر ملکی دفاعی صنعت کی کمپنیوں کی شرکت بڑھ رہی ہے۔ پہلی آئیڈیاز میں شامل کمپنیوں کی تعداد 100 سے کچھ زائد تھی اس نمائش میں افریقہ، امریکا، ایشیائی ممالک، وسطی ایشیائی ممالک، یورپ اور مشرق وسطیٰ کے ممالک بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔آئیڈیاز میں شریک مندوبین پاکستان نیوی کے مقامی سطح پر تیار ہونے والے آلات کا جائزہ پاک نیوی ڈاک یارڈ اور کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینیئرنگ ورکس پر لیتے ہیں جہاں چھوٹے اور درمیانے درجے کے بحری جہازوں کی تیاری کے علاوہ آبدوزیں بھی تیار کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں جدید او پی وی، میزائل بوٹس، بارودی سرنگیں تلاش کرنے والے بحری جہاز، فریگیٹ، ہمہ جہت استعمال ہونے والے جنگی بحری جہاز اور دیگر اسلحے کی تیاری اور مرمت و دیکھ بھال بھی کی جاتی ہے۔ یہاں مغربی ممالک کم اخراجات میں مرمت اور اپ گریڈیشن کی سہولت سے بھی مستفید ہوسکتے ہیں۔پاکستان میں بری افواج کے لیے مقامی طور پر تیار کردہ الخالد ٹینک میں متعدد ممالک دلچسپی لے رہے ہیں,یاد رہے کہ اسے مین بیٹل ٹینک قرار دیے جانے کے ساتھ ساتھ دنیا کے جدید ٹینکوں میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔ہلکی جنگ کے لیے الضرار، بکتر بند سعد جیسے بڑے ہتھیاروں کے علاوہ پی او ایف میں تیار کردہ ویپن سسٹم، چھوٹے ہتھیار، بارود، میزائل اور میزائل کی ری لائفننگ کی سہولت کو بھی نمائش میں پیش کیا جائے گا۔ ری لائفننگ سے مراد کسی میزائل کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ میزائل میں لگی بیٹریاں اور دیگر آلات قابلِ استعمال نہیں رہتے جنہیں تبدیل کرکے میزائل کو دوبارہ قابلِ استعمال بنالیا جاتا ہے یوں پورے میزائل کو تبدیل کرنے سے بچا جاسکتا ہے۔دفاعی شعبے میں ہتھیاروں کا ہونا ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس کے لیے افواج کے اندر جوش، جذبے، نظم و ضبط کے ساتھ ساتھ ان ہتھیاروں کو بہتر طریقے سے چلانا سب سے زیادہ ضروری ہے۔ پاکستانی مسلح افواج نے بری، بحری اور فضائی جنگ کی تربیت کے جو مراکز قائم کیے ہیں وہ خطے میں سب سے زیادہ بہترین تصور کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد دوست ملکوں کے فوجی افسران پاکستان میں تربیت پاکر اپنی اپنی مسلح افواج میں اعلیٰ ترین عہدوں پر پہنچ چکے ہیں۔پاکستان میں بری افواج کی تربیت کے لیے سب سے مشہور پاکستان ملٹری اکیڈمی ہے۔ جبکہ بری افواج کے اعلیٰ افسران کی تربیت کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ میں کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اسٹریٹجک تربیت کے لیے نیشنل ڈیفنس یورنیورسٹی قائم ہے۔ پاک فضائیہ کے پائلٹس، افسران اور ایئر مینز کی تربیت کے لیے رسالپور میں تربیتی مرکز قائم ہے جبکہ نیوی کے پی این ایس ہمالیہ، نیوی وار کالج اور سمندری غوطہ غوری کے جیسے مراکز قائم ہیں,اس صدی میں اقوام کو دہشتگردی کا بھی سامنا ہے۔ اس میں شہروں کے اندر لڑائی کا بھی سامنا ہے۔ یہ لڑائی روایتی جنگ سے یکسر مختلف اور دشوار ہے۔ پاکستان نے قلیل عرصے میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کی ہے اور دنیا کی تاریخ میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے اندرونی خلفشار کو ختم کیا۔ مگر اس جنگ سے یہ سبق بھی سیکھا کہ بیرونی دشمن کے ساتھ ساتھ اندرونی دشمن کے خلاف بھی تیاری مکمل رکھنی چاہیے۔اس کام کے لیے پبی میں نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر (این سی ٹی سی) قائم کیا گیا ہے جہاں انسداد دہشتگردی کی مکمل تربیت دی جاتی ہے۔ دوست ملکوں کی جانب سے اپنی مسلح افواج کی یہاں تربیت کی درخواست کی گئی ہے۔ پاکستان، سعودی عرب، بحرین چین اور اردن کے ساتھ انسدادِ دہشتگردی کی تربیت اور مشترکہ مشقیں کی ہے۔پاکستان دنیا کو دفاعی شعبے میں کم قیمت اور قابل بھروسہ دفاعی ہتھیار ہی نہیں بلکہ مکمل دفاعی نظام فراہم کرنے کے قابل ہوگیا ہے۔ پاکستان دنیا کو اپنے تجربات سے روشناس کروانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان کی یہ صلاحیت دنیا میں قیامِ امن کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ اگر ملکوں کے درمیان طاقت کا توازن برقرار نہیں رہے گا تو اس سے عالمی امن کو خطرات لاحق رہیں گے۔ اس لیے امن کے لیے ہتھیار اور جنگ کی تیاری سب سے اہم ہے۔ ایکسپو سینٹر میں منعقد ہونے والی دفاعی نمائش آئیڈیاز کے لیے ٹریفک پولیس کی جانب سے کراچی کے لیے متبادل راستوں کا پلان جاری کردیا گیا ہے۔ ٹریفک پولیس کے مطابق صبح 7 بجے سے شام 7 بجے سرسلیمان روڈ بند ہوگی‘ حسن اسکوائر سے اسٹیڈیم تک کی سڑک ہر قسم کے ٹرفک کے لیے بند ہوگی‘ متبادل سڑکیں تمام مرمت ہو چکی ہیں‘ متبادل سڑکوں کا پلان عوام کی آگاہی کے لیے جاری کیا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے اعداد و شمار کے مطابق رواں برس اب تک سعودی عرب 100 سے زائد غیر ملکی شہریوں کو پھانسی دے چکا ہے، جس میں تازہ ترین سزا پر عمل ہفتے کے روز ہوا، جب ایک یمنی شہری کی گردن مار دی گئی۔سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق تازہ ترین پھانسی، نجران کے جنوب مغربی علاقے میں ہفتے کے روز ایک یمنی شہری کو خلیجی مملکت میں منشیات اسمگل کرنے کے جرم میں دی گئی۔سعودی عرب: رواں برس سو سے زائد افراد کے سر قلم کر دیے گئےاس سزا کے ساتھ 2024 میں اب تک سعودی عرب میں 101 غیر ملکی باشندوں کو موت کی سزا دی جا چکی ہے۔ اے ایف پی کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ یہ تعداد سن 2023 اور 2022 کے اعداد و شمار سے تین گنا زیادہ ہے، جب حکام نے ایک سال میں 34 غیر ملکی شہریوں کو سزائے موت دی تھی۔اس حساب سے اس برس مملکت میں موت کی سزاؤں میں تقریباً تین گنا اضافہ ہوا ہے۔رواں برس جن غیر ملکیوں کو سزائے موت دی گئی، اس میں سب سے زیادہ 21 افراد کا تعلق پاکستان سے تھا۔ یمن کے 20، شام کے 14، نائجیریا سے 10، مصر کے نو، اردن کے آٹھ اور ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے سات افراد کو موت کی سزا دی گئی۔سوڈان، بھارت اور افغانستان سے بھی تین تین، جبکہ سری لنکا، اریٹیریا اور فلپائن سے تعلق رکھنے والے ایک ایک شہری کو موت کی سزا دی گئی۔عراق: داعش کے رہنما ابوبکر البغدادی کی بیوہ کو سزائے موتاس سے قبل خبر رساں ادارے ایف پی نے ستمبر میں رپورٹ کیا تھا کہ اس برس مجموعی طور پر سعودی عرب نے تین دہائیوں سے زائد عرصے میں سب سے زیادہ موت کی سزاؤں پر عمل کیا اور سن 2022 میں 196 اور سن 1995 میں 192 کی گزشتہ بڑی تعداد کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ایرانی سپریم کورٹ نے گلوکار صالحی کو سنائی گئی سزائے موت منسوخ کر دیموت کی سزاؤں پر عمل میں تیزیاے ایف پی کے مطابق سلطنت میں موت کی سزاؤں پر عمل تیزی سے جاری ہے اور اتوار تک اس برس موت کی سزا پانے والوں کی مجموعی تعداد 274 تک پہنچ گئی ہے۔برلن میں واقع یورپی-سعودی تنظیم برائے انسانی حقوق (ای ایس او ایچ آر) نے اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس برس موت کی سزاؤں نے پہلے ہی ریکارڈ توڑ دیا ہے۔گروپ کے قانونی ڈائریکٹر طحہٰ الحجی نے کہا کہ “ایک برس کے دوران غیر ملکیوں کو پھانسی دینے کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔ سعودی عرب نے ایک سال میں کبھی بھی 100 غیر ملکیوں کو پھانسی نہیں دی تھی۔”