روسی فوجی سربراہ بم دھماکے میں جاں بحق

روسی فوج کے نیوکلیئر، بایولوجیکل اور کیمیکل پروٹیکشن فورسز کے چیف لیفٹیننٹ جنرل ایگور کری لوف بم دھماکے میں ہلاک ہوگئے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق منگل کی صبح روس کے دارالحکومت ماسکو میں ایک بم دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں نیوکلیئر، بایولوجیکل اور کیمیکل پروٹیکشن فورسز کے چیف لیفٹیننٹ جنرل ایگور کری لوف اپنے معاون سمیت ہلاک ہوگئے۔رپورٹس میں بتایا گیا کہ بم کو ایک رہائشی عمارت کے باہر سکوٹر میں نصب کیا گیا تھا جس کی تصدیق روسی تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے بھی کی گئی ہے۔رواں سال اکتوبر میں برطانیہ نے لیفٹیننٹ جنرل ایگور کری لوف پر پابندیاں عائد کی تھیں اور یہ موقف اختیار تھا کہ انہوں نے یوکرین میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی نگرانی کی اور کریملن کی غلط معلومات پھیلانے کے لیے ایک اہم ماؤتھ پیس کے طور پر کام کیا، تاہم روسی حکام نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔برطانیہ کی پابندیوں کے تحت ان کے اثاثے منجمد اور ان پر سفری پابندی عائد تھی۔دوسری جانب یوکرین نے روسی جنرل کے قتل کی ذمہ داری قبول کی اور یوکرینی سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ انہیں یوکرینی سکیورٹی سروس نے ماسکو میں کیے گئے خصوصی آپریشن میں ہلاک کیا۔یوکرینی اخبار کیو انڈیپنڈنٹ نے ایس بی یو سکیورٹی سروس کے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ریلوف ایک جنگی مجرم اور مکمل طور پر جائز ہدف تھا کیونکہ انہوں نے یوکرین کی فوج کے خلاف ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے احکامات دیے تھے۔

مھنگای کا گیس دھماکہ عوام جھلس گئے اوگرا نے قیمتوں میں اضافہ کر دیا

*آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے رواں مالی سال کے لیے گیس کی قیمت بڑھانے کی منظوری دے دی۔*اعلامیے کے مطابق سوئی ناردرن کے لیے گیس کی قیمت میں 8.71 فیصد جبکہ سوئی سدرن کےلیے گیس کی قیمت میں 25.78 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی ہے۔اوگرا کے مطابق سوئی ناردرن کے لیے گیس کی اوسط قیمت 1778روپے 35 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کرنے کی منظوری دی گئی۔سوئی سدرن کے لیے گیس کی اوسط قیمت 1762 روپے 51 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔اوگرا کا کہنا ہے کہ گیس کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ وفاقی حکومت کو بھیج دیا گیا ہے گیس کی قیمتوں میں اضافے کا حتمی فیصلہ وفاقی حکومت کی ایڈوائس کے بعد ہو گا۔

پی سی بی خود پاکستان دشمن ھے۔عمران نذیر۔پاکستان سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، 1 لاکھ 15 ہزار پوائنٹس کی حد بحال۔اسٹاک ایکسچینج میں ہفتے کا زبردست آغاز، انڈیکس ایک لاکھ 15 ہزار پوائنٹس عبور۔جوڈیشل کمپلیکس سے 57 گرفتار ورکرز کو رہا کر دیا گیا تمام ورکرز جوڈیشل کمپلیکس سے نکل کر اپنے اپنے گھروں کو روانہ پولیس نے گرفتاری کی کوشش نہیں کی۔۔دوائیوں کی عدم دستیابی 19 بچے جان بحق۔امریکی تاریخ کی سب سے بڑی ملک بدری کا اعلان۔جھوٹے دعوے اور بھارت کے خلاف کارروائی کا حکم۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

انفارمیشن گروپ کے سابق سیکرٹری اطلاعات سہیل علی خان کی خدمات وزارتِ اطلاعات و نشریات کے سپرد،گریڈ 20 کے محمد عمر چیمہ کو وزارت امور کشمیر میں چیف فنانس اینڈ اکاؤنٹس اافسر تعینات کر دیاگیا۔گریڈ 20 کے شہزاد اقبال رانا کا وزارت اقتصادی امور میں بطور چیف فنانس اینڈ اکاؤنٹس افسر تبادلہ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

انفارمیشن گروپ کے سابق سیکرٹری اطلاعات سہیل علی خان کی خدمات وزارتِ اطلاعات و نشریات کے سپرد،گریڈ 20 کے محمد عمر چیمہ کو وزارت امور کشمیر میں چیف فنانس اینڈ اکاؤنٹس اافسر تعینات کر دیاگیا۔گریڈ 20 کے شہزاد اقبال رانا کا وزارت اقتصادی امور میں بطور چیف فنانس اینڈ اکاؤنٹس افسر تبادلہ، گریڈ 18 کے کیپٹن ریٹائرڈ علی بن طارق کی خدمات وزارتِ داخلہ کے سپرد کی گئیں۔کیپٹن ریٹائرڈ علی بن طارق کو نیشنل کرائسسز انفارمیشن منیجمنٹ سیل میں تعینات کیا جائے گا، گریڈ 19 کے عبد القیوم پتافی ہی خدمات حکومت سندھ سے لے کر حکومت بلوچستان کے سپردہوں گی۔گریڈ 18 کے شہزادہ عمر عباس بابر کی خدمات حکومت بلوچستان کے سپرد کر دی گئیں،اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے تمام تقرریوں و تعیناتیوں کے نوٹیفکیشن جاری کر دئیے۔

امریکہ میں پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے تین اراکین کانگریس سے الگ الگ ملاقات کی جس میں جامع شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

امریکہ میں پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے تین اراکین کانگریس سے الگ الگ ملاقات کی جس میں جامع شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے پر اتفاق کیا گیا۔تفصیلات کے مطابق پاکستانی سفیر نے رکن کانگریس بل فوسٹر، گلین آئیوی اور ڈیوڈ شویکرٹ سے ملاقاتیں کی اور پاک امریکہ دوطرفہ تعلقات اور تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔پاکستانی سفیر نے ٹوئیٹر پر لکھا کہ ان ملاقاتوں میں پاک امریکہ تعلقات کو معاشی روابط کے ذریعے مستحکم بنانے پر بات چیت ہوئی۔رضوان سعید شیخ نے کہا کہ کانگریس مین گلین آئیوی سے پاک امریکہ دوطرفہ تعلقات پر اچھی بات چیت ہوئی، سیاست سمیت علاقائی و عالمی معاملات پر بھی گفتگو ہوئی۔

روالپندی اسلام آباد میں بجلی کی 8 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ عوام کو لوٹنے والی کمپنیاں بجلی دینے سے قاصر۔اسلام آباد کے پی بلوچستان پنجاب اسلام آباد میں ججز تعیناتی آخری مراحل میں۔یونان کشتی حادثہ، ریسکیو کئے گئے47پاکستانیوں کی فہرست۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کا سانحہ آرمی پبلک اسکول کے دس برس مکمل ہونے پر پیغامآج، جب کہ پاکستان کی تاریخ کے ایک ناقابل فراموش سانحے، ایک بہت بڑے نقصان کے دس سال مکمل ہو رہے ہیں

وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کا سانحہ آرمی پبلک اسکول کے دس برس مکمل ہونے پر پیغامآج، جب کہ پاکستان کی تاریخ کے ایک ناقابل فراموش سانحے، ایک بہت بڑے نقصان کے دس سال مکمل ہو رہے ہیں، ہمارا دل غم زدہ اور خون کے آنسو روتا ہے. یہ ایک ایسا دل سوز واقعہ تھا جس کی یاد ایک دہائی سے ہمارے دلوں کو مضطرب کر رہی ہے. 16 دسمبر 2014 کو بزدل، بے رحم اور حیوانیت سے بھرپور دہشت گرد, آرمی پبلک سکول پشاور کے احاطے میں گھس کر تباہی و بربادی کرتے ہوئے 144 معصوم جانوں کو ہم سے ہمیشہ کیلئے جدا کر گئے. اس حیوانیت کا شکار ہوکر شہید ہونے والوں میں سے اکثریت کم سن بچوں کی تھی جو کہ بہت ہی کم عمری میں ہمیں غمگین کرکے دنیا سے چلے گئے۔ ان کی زندگی، ان کے خواب، ان کی امیدیں، ان کا مستقبل ان سے چھین لیا گیا۔ اس سانحے کو خواہ کتنا ہی وقت کیوں نہ گزر جائے، ان معصوم و کم سن بچوں کی جدائی کے صدمے کو مٹا نہیں سکتا. ان ننھی کونپلوں نے اس دن ناقابل برداشت ظلم و بربریت کا سامنا کیا اور جام شہادت نوش کیا. ان خاندانوں اور والدین جنہوں نے اپنے پیاروں کو اس بھیانک سانحے میں کھو دیا، جن کے لخت جگر ان سے چھین لئے گئے، کے غم اور تکلیف کو کسی طور بھی کم نہیں کیا جا سکتا ہے، قوم کو یاد رکھنا چاہیے کے فتنہ الخوارج اور ان جیسے دوسرے دہشت گرد ملک دشمن گروہوں کا نا دین سے کوئی تعلق ہے اور نا ہی کسی بھی معاشرتی اقدار سے – بیرونی ملک دشمن عناصر کی ایماء پر یہ بزدل معصوم پاکستانیوں کو اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے نشانہ بناتے ہیں – پوری قوم ان بزدل دہشت گردوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہے اور انشاء اللہ کھڑی رہے گی مجھ سمیت پوری قوم ہمارے بچوں و اساتذہ کی بہادری کو سلام، انہیں خراج عقیدت، ان کے خاندانوں کی قربانیوں اور ہماری سیکورٹی فورسز کی بہادری کو خراج تحسین پیش کرتی ہے جو آج بھی تمام ملک دشمن عناصر سے پوری ہمت اور جواں مردی سے نبرد آزما ہیں۔ آئیے آج ہم ایک پر امن اور محفوظ پاکستان کی تعمیر کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کریں، جہاں کسی معصوم کو دوبارہ اس ظلم و بربریت سے نقصان نہ پہنچے، کسی بھی بچے کو خوف کے عالم میں اسکول نہ جانا پڑے، اور ایسی کسی بھی ناانصافی کی کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔ یہ ایک عہد ہے جو ہمیں مل کر کرنا ہے۔ یہ سب ہم پر اس سانحے کے متاثرین و شہداء کا قرض ہے کہ ہم سب اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی جانیں رائیگاں نہیں گئیں۔ ہم کبھی نہیں بھولیں گے۔ ہم کبھی معاف نہیں کریں گے۔ پاکستان پائندہ باد!

او میرا پتر اگیا اب میں 100 فیصد صحت مند ھوں مائیں تو مائیں ہیں تفصیلات کے لئے بادبان نیوز نہ کھلنے سے صورت میں وی پی این کا استعمال کرے

خود کو اپنے والدین سے دور مت کریںہائی سٹریٹ ساہیوال پر موٹر سائیکل کو پنکچر لگواتے ہوئے میں فیصلہ کر چکا تھا کہ اس ہفتے بھی اپنے گھر واپس کبیروالا نہ ہی جاوں تو بہتر ہے ،دیر تو ویسے بھی ہوچکی تھی اورجہاں پچھلےتین ہفتے گزر گئے ہیں یہ بھی گزار ہی لوں تو گرمیوں کی چھٹیوں میں ایک ہی بار چلا جاوں گا۔ اسی سوچ بچار میں روڈ پر کھڑے میں نے پندرہ سولہ سال کے ایک نوجواں کو اپنی طرف متوجہ پایا۔وہ عجیب سوالیہ نظروں سے میری جانب دیکھ رہا تھا،جیسے کوئی بات کرنا چاہ رہا ہو۔لیکن رش کی وجہ سے نہیں کر پا رہاتھا۔جب پنکچر لگ گیا تو میں نے دکاندار کو 100 روپے کا نوٹ دیا اس نے 20 روپے کاٹ کر باقی مجھے واپس کر دیے۔میں موٹر سائیکل پر سوار ہوکر جونہی واپس شہر کی طرف مڑنے لگاتو وہ لڑکا جلدی سے میرے پاس آکر کہنے لگا ” بھائی جان میں گھر سے مزدوری کرنے آیا تھا،آج دیہاڑی نہیں لگی آپ مجھے واپسی کا کرایہ 20 روپے دے دیں گے”میں نے ایک اچٹتی سی نگاہ اس پر ڈالی ،سادہ سا لباس،ماتھے پر تیل سے چپکے ہوئے بال ،پاوں میں سیمنٹ بھراجوتا۔مجھے وہ سچا لگا،میں نے 20 روپے نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھ دئیے ،وہ شکریہ ادا کر کے چلنےلگا تو نہ جانے میرے دل کیا خیال آیا ،میں نے کہا،سنو ،تمہیں دیہاڑی کتنی ملتی ہے،اس کے جواب دینےسے پہلے ہی میں نے باقی کے 60 روپے بھی اس کی طرف بڑھا دیے۔وہ ہچکچاتے ہوئے پیچھے ہٹا اور کہنے لگا”نہیں بھائی جان !میرا گھر منڈھالی شریف ہے،میں پیدل بھی جاسکتا تھا لیکن کل سےماں جی کی طبیعت ٹھیک نہیں ،اوپر سے دیہاڑی بھی نہیں لگی،سوچا آج جلدی جا کر ماں جی کی خدمت کر لوں گا”۔میں نے کہا اچھا یہ پیسے لے لو ماں جی کے لیے دوائی لے جانا۔وہ کہنے لگا” دوائی تو میں کل ہی لے گیا تھا۔آج میں سارا دن ماں جی کے پاس رہوں گا تو وہ خود ہی ٹھیک ہو جائیں گی،مائیں دوائی سے کہاں ٹھیک ہوتی ہیں بابوجی!” میں نے حیران ہو کرپوچھا ،تمہارا نام کیا ہے؟ اتنے میں اس کی بس بھی آگئی،وہ بس کے گیٹ میں لپک کر چڑھ گیا اور میری طرف مسکراتے ہوئے زور سے بولا”گلو” ۔گلو کی بس چل پڑی لیکن گلو کے واپس کیے ہوئے 60 روپے میری ہتھیلی پر پڑے ہوئے تھے اورمیں ہائی سٹریٹ کے رش میں خود کو یک دم بہت اکیلا محسوس کرنے لگا۔کچھ سوچ کر میں نے موٹرسائیکل کارخ ریلوے اسٹیشن کی طرف موڑ لیا۔موٹر سائیکل کو اسٹینڈ پر کھڑا کرکے ٹوکن لیا اور ٹکٹ گھر سے 50 روپے میں خانیوال کا ٹکٹ لے کر گاڑی کے انتظار میں بینچ پر بیٹھ گیا۔کب گاڑی آئی ،کیسے میں سوار ہوا کچھ خبر نہیں، خانیوال اسٹیشن پر اتر کے پھاٹک سے کبیروالا کی وین پر سوار ہوا،آخری بچے ہوئے10 روپے کرایہ دے کر جب شام ڈھلے اپنے گھر کے دروازے سے اندر داخل ہوا تو سامنے صحن میں چارپائی پر امی جان سر پر کپڑا باندھے نیم دارز تھیں۔میرا بڑا بھائی دوائی کا چمچ بھر کر انہیں پلا رہا تھا۔مجھے دیکھتے ہی امی جان اٹھ کر کھڑی ہوئیں اور اونچی آواز میں کہنے لگیں” او! میرا پترخیر سے گھر آگیا ہے! اب میں بالکل ٹھیک ہوں “۔ میں آنکھوں میں آنسو بھرتے ہوئے دوڑ کر ان کے سینے سے جالگا۔ بس کے گیٹ میں کھڑے گلوکا مسکراتا ہوا چہرہ یک دم میری آنکھوں کے سامنے آگیا اور میں سمجھ گیا کہ اس نے مجھے 60روپے واپس کیوں کیےتھے۔چراغ لے کے کوئی ،راستے میں بیٹھا تھامجھے سفر میں جہاں رات ہونے والی تھی

کھربوں روپے کی کرپشن کرنے والے وفاقی وزیر مصدق ملک جو آذربائیجان سے معاھدے کرنے کے لیے سیکرٹری پٹرولیم اور ایڈیشنل سیکرٹری پٹرولیم پر دباو ڈال کر ایڈیشنل سیکرٹری کو گھر پھنچا چکے ہیں وزارت سے ھٹانے کا فیصلہ تفصیلات کے لئے بادبان میگزین کا تازہ شمارہ اپنے ھاکر سے 16 دسمبر کی شام کو حاصل کرے