
امریکی نائب صدر کا استقبال سید عاصم منیر نے نور خان ائیر بیس پر کیا انکے ساتھ ای ایس ای کے سربراہ جنرل عاصم ملک وزیر خارجہ اسحاق ڈار موجود یاد رہے نائب صدر کے ھمراہ امریکی فوج کے سربراہ بھی موجود تفصیلات کے لیے بادبان نیوز


خواجہ صاحب کے حقیقت پہ مبنی موقف کی بھرپور حمایت لیکن خواجہ صاحب دوڑ گۓ جے😂خواجہ صاحب کا مشہور زمانہ بیان یاد آ گیا کہہم امریکا کے وینٹلیٹر پہ لیٹے ہیں خواجہ صاحب کی بھی سانس تھوڑی بحال ہوئ ہی تھی کہ ٹوئیٹ کر دیا لیکن اکسیجن فراہم کرنے والوں نے اچانک سے یاد دلوایا کہ خواجہ صاحب اپ اج بھی وینٹیلیٹر پہ لیٹے ہیں وہ بھی ہماری مصنوعی اکسیجن پہبس پھر کیا تھا خواجہ صاحب کی سانس پھر پھولنے لگی تو ٹوئیٹ ڈیلیٹ کر کہ پھر سے مصنوعی آکسیجن لگا کہ وینٹیلیٹر پہ لیٹ گۓ😂🤣
خواجہ آصف نے حقیقت پہ مبنی زبردست ٹوئیٹ کیلیکن اسر ریلی کر*ائم منسٹر کا جواب آنے پہ پڑنے والے پریشر سے ٹوئیٹ ڈیلیٹ کر کہ موقف سے بھاگنا بزدلی ہےمیں ذاتی طور پہ خواجہ صاحب کے موقف کی تائید کرتا ہوں لیکن میدان سے بھاگنا نہیں چاہیے تھایا بولنے سے پہلے تولتے یا پھر بول کہ اپنے موقف پہ ڈٹ جاتے لیکن جو حق بولا\لکھا اسے ڈیلیٹ کر کہ سارے موقف پہ پانی پھیر دیایقیننا پوچھے بغیر لکھ دیا ہو گا اور اچانک پریشر پڑا کہپوچھے بغیر نہیں لکھنا تھا اب لکھا ہے تو حذف کر دواور پھر سب حذف ہو گیا

پاکستانی لڑاکا طیارے ایرانی وفد کو بحفاظت پاکستان لے جانے کے لیے بندر عباس، ایران کے اوپر نظر آئے۔- پاکستان ایئر فورس نے ایران اور خلیج فارس میں ایک “حفاظتی شیلڈ” قائم کی ہے جس میں لڑاکا طیاروں اور AWACS کی مدد سے ایرانی وفد کو اسرائیل کی طرف سے کسی بھی مہم جوئی سے بچایا جا سکتا ہے۔ایرانی وفد کی قیادت ممکنہ طور پر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کر رہے ہیں، امریکہ کے ساتھ بات چیت کے لیے آج رات اسلام آباد پہنچے گا۔ ان شاءاللہ

ادھورے سیز فائر سے مذاکرات تک ======================شاہد اقبال کامران ==================ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے بلاجواز ،مجرمانہ اور بین الاقوامی قوانین کے صریحاً خلاف حملے چالیس روز بعد دو ہفتوں کے لیے رک چکے ہیں۔ اصطلاح میں اس عمل کو سیز فائر کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا سیز فائر ہے جس میں ایک فتنہ ساز اور خر دماغ فریق یعنی اسرائیل نے اپنی فتنہ سازی اور تباہ کاری میں تعطل نہیں آنے دیا۔ اس نے بیروت کی شہری آبادی پر شدید ترین بمباری کرتے ہوئے غارت گری کا ایک نیا باب رقم کر دیا ہے۔ یہ جنگ کا کون سا اصول ہے؟ اس سے پہلے بد بخت ، جرائم پیشہ اور درندہ صفت ملک اسرائیل نے لبنان کے ایک گاؤں کو بیک آن صفحہ ہستی سے مٹا دیا تھا ۔کیا کرہ ارض کا کوئی اصول ضابطہ اس وحشیانہ عمل کی اجازت دیتا ہے؟ اقوام متحدہ کے قوانین، یورپ امریکہ کی مبینہ انسان دوستی اور مفروضہ انصاف پسندی کہاں گم ہو گئی ہے۔ کیا اب وہ وقت نہیں آ گیا کہ اسرائیل سے بطور ایک ملک باقی رہنے کا حق چھین لیا جائے۔ ؟ یہ تہذیب کا دشمن ، شائستگی کا قاتل اور بداخلاق ذہنی مریض حکمرانوں کا ملک ہے۔یہ ملک یہودیوں کو بدنام اور مطعون کرنے کی یورپی مسیحی سازش ہے۔یہ مسلمان ریاستوں کی طرف سے صدیوں تک یورپ کے ستائے ہوئے اور ملک بدر کئے گئے یہودیوں کو پناہ دینے اور ان کی حفاطت کرنے کی سزا ہے جو یورپی/ امریکی مسیحیت مسلمانوں کو دے رہی ہے۔ جس طرح طالبان، داعش ،القایدہ اور فلاں فلاں خراسان جیسی تنظیموں کا تعلق اسلام سے نہیں ،بلکہ امریکہ یعنی” مسیحان یہود کش ” کے ساتھ ہے ۔

اسی طرح اسرائیل پر مسلط انتہا پسند صیہونی دنیا کے پرامن ، تعلیم و تحقیق سے محبت کرنے والے اور معیشت شناس یہودیوں کے نمائندے نہیں ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ پہلی دوسری جنگ عظیم کے بعد یہود دشمن یورپی مسیحی ریاستوں نے یہودیوں کو اسرائیل کی صورت میں ایک عذاب میں بسنے کی ترغیب اس شرط پر دی تھی کہ وہ خطے کے مسلمانوں کو اپنے وجود کا دشمن سمجھتے ہوئے ہمہ وقت ان کے ساتھ برسر پیکار رہیں گے۔ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اسرائیل کا قیام اور خلافت عثمانیہ کے غدار عرب سرداروں کو نت نئے ملک بنا کر ،ان کے بادشاہ بنانے کے مقاصد بھی ایک سے تھے۔آج بھی عالم عرب اپنی اسی ڈیوٹی پر کمر بستہ ہے ۔ ہمیں خلیج کے عرب ممالک کے معاملے میں زیادہ جذباتی اور حساس نہیں ہونا چاہیئے۔ اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے ایران کے پاور اسٹیشنز، آئل ریفائنریز، بڑے پل ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی بڑی بڑی یونیورسٹیاں ہولناک بموں سے تباہ کر دی گئی ہیں۔کیا کسی عرب ملک نے اس کی جارحیت کی مذمت کی؟ الٹا ایران کی طرف سے اسرائیل کی جانب فائر کئے جانے والے میزائل اور ڈرونز کو سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک بھی انٹرسیپٹ کرتے رہے ہیں۔کیا پاکستانیوں کو بتایا گیا ہے کہ عرب ممالک اسرائیل کی حقیقی “پراکسیز” ہیں۔ یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ پچھلے سال مئی 25ء میں انڈیا کے ساتھ ہونے والے جنگ میں کسی ایک عرب ملک نے بھی پاکستان کا ساتھ نہیں دیا تھا۔ الٹا عرب ممالک کی طرف سے پاکستان کو خاموش رہنے اور برداشت کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ ہمیں ان معاملات کا تجزیہ کرتے ہوئے مذہب اور فرقہ واریت کے حوالے کو ایک طرف رکھ کر صرف یہ دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیئے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایک آزاد و خودمختار ملک ایران پر بلاجواز حملہ کیا، اس ملک کی اعلی قیادت کو تاک تاک کر قتل کر دیا اور کہا کہ ہم نے رجیم چینج کر دیا ہے ، اس عمل میں خطے کے عرب ممالک کی سرزمین (جہاں امریکہ کے جنگی اڈے ہیں) ایران کے خلاف استعمال کی گئی۔اب جبکہ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی بینڈ بجا دی ہے ، انہیں اپنی میزائل فائر پاور اور ڈررون حملوں سے بے بس کر دیا ہے اور اعلی ترین قیادت کی جگہ ایک مربوط نظام کے ساتھ قیادت کے تسلسل کو قائم رکھا ہے۔

تو ہمیں یہاں بیٹھ کر تماشا دیکھتے ہوئے اپنی فرقہ وارانہ وابستگی سے بلند ہو کر دیکھنے ، سوچنے اور بولنے کی مشق تو کرنی چاہیئے ۔ ایران سے اپنے تباہ شدہ جنگی جہاز کے پائلٹ اور معاون پائلٹ کی تلاش اور اس کی آڑ میں کی گئی واردات نے بھی ان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ؛ تباہ شدہ جنگی جہاز سے ایجیکٹ کرنے والے پائلٹ اور اس کا ساتھی معاون پائلٹ مکمل ترین نیویگیشن سسٹمز سے آراستہ ( یا مسلح) ہوتے ہیں ۔وہ زندہ ہوں یا اگر کسی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہوں ، تو پھر بھی ان کی لوکیشن فضا میں اڑنے والے امریکی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کو مل رہی ہوتی ہے۔یہ سسٹمز خاص اسی قسم کے مقاصد کے لیے بنائے اور ایجیکٹ کرنے والی کرسی میں سجائے/چپکائے اور اٹکائے جاتے ہیں۔اب امریکہ کو اپنے مطلوب ائرمین یا پائیلٹ کی متعین لوکیشن معلوم تھی۔تو پھر اس تلاش اور اٹھائی گیری میں اتنا زیادہ نقصان کیسے ہوگیا؟ وہاں پر ایرانی فورسز ایک ان دیکھے شکار کی تلاش میں تھیں۔مقامی آبادی کے لوگ بھی قاتل مجرم پائیلٹ کو تلاش کر رہے تھے ۔ ایسے میں شدید نقصانات اٹھا کر ،اپنے دو جہاز اور ہیلی کاپٹر تباہ و برباد کروا کر اگر امریکی اپنا ائرمین نکال کر لے گئے ہیں تو یہ گویا ایک طرح سے ایرانی فضاؤں میں امریکہ کے جدید ترین جنگی جہاز کی تباہی کی حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کرنے والی بات ہے۔امریکہ کا یہ ریکارڈ رہا ہے کہ وہ اپنے نقصانات کا اعتراف نہیں کرتا۔

خاص طور پر اس لیے بھی کہ امریکی صدر بڑے تکبر سے
اعلان کر چکا تھا کہ امریکہ ایران کی فضائیہ کو مکمل طور پر تباہ کر چکا ہے اور یہ کہ اب ایران کی فضاوں پر امریکہ کا راج ہے۔تو ایسے میں ایران نے اس “راج” کو مستریوں کے حوالے کر دیا ، جو یا تو اس کی مرمت کریں گے یا پھر تلف کر دیں گے ۔زمین پر امریکی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کے بکھرے ملبے سے بھی ایک کہانی پوچھی جا سکتی ہے۔ اور وہ کہانی یہ ہے کہ پائیلٹ کی تلاش کی آڑ میں امریکہ ںے اصفہان کے قرب میں ،یعنی تباہ کئے گئے جنگی جہاز سے ایجیکٹ کرنے والے معاون پائلٹ کے گرنے کی جگہ سے میلوں دور لاتعداد ہوائی جہازوں ، انواع و اقسام کے ہیلی کاپٹروں اور اسپیشل فورسز کے ساتھ بزعم خود ایران کی افزودہ یورینیم پر قبضہ کرنے آئے تھے۔پھر اس کے بعد کیا ہوا؟ وہاں ہونے والی تباہی و بربادی کی تصاویر دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے

۔شاید یہی وہ واقعہ ہے جس کے بعد معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی طرف رجحان ہوا ہو گا۔ پھر بھی سیز فائر “جاری” ہے ،اسلام آباد میں مذاکرات کی تیاری ہے۔چونکہ ہم مسلمانوں کا زیادہ دارومدار دعاؤں پر ہی رہتا ہے تو پھر ہم سب کو مل کر ان مذاکرات کی بامراد کامیابی کے لیے دعا کرنی چاہیئے۔ہاں مگر اس سے پہلے بنجمن نیتن یاہو کو باندھ کر رکھنا ہو گا۔کیونکہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر یہ “سیز فائر” کو کاٹنے اور کھانے کی کوشش کرتا رہے گا۔ ویسے سب سے مناسب بات تو یہ ہے کہ اس عالمی مجرم کو حوالہ زندان کر دیا جائے۔ ======================

اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان 11 اپریل کو ہونے والے مذاکرات میں کون کون شامل ہوگا۔✅میزبان:◀️محمد شہباز شریف (وزیراعظم پاکستان)◀️فیلڈ مارشل سید عاصم منیر (آرمی چیف)◀️اسحاق ڈار (نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ)✅امریکی وفد:◀️جے ڈی وینس (امریکی نائب صدر)◀️اسٹیو وٹکوف (وائٹ ہاؤس خصوصی ایلچی)◀️جیرڈ کشنر (سابق صدارتی مشیر)◀️بریڈ کوپر (سینٹ کام کے کمانڈر)✅ایرانی وفد:◀️محمد باقر قالیباف (اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ)◀️عباس عراقچی (وزیر خارجہ)◀️ محمد باقر ذوالقدر (سیکرٹری سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل)◀️مجید تخت روانچی (نائب وزیر خارجہ)

امریکی سی 17 طیارہ نور خان ایئر بیس پر لینڈ کرگیا۔ نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں وفد نے پاکستان پہنچنا ہے۔ ممکنہ طور پر اس وفد کی آمد سے پہلے سیکورٹی ٹیم مطلوبہ سازوسامان کے ساتھ اسلام آباد پہنچی ہے۔ فوجی کارگو طیارے سی 17 کی آمد عموماً لازمی لاجسٹک اور سیکیورٹی تیاریوں کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ایسے طیارے عام طور پر وفد کی آمد سے قبل عملہ، سیکیورٹی آلات، گاڑیاں اور دیگر انتظامی سامان منتقل کرتے ہیں تاکہ اعلیٰ سطح دورہ بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے
حکومتِ پاکستان نے پاکستان شہریت ایکٹ 1951 میں ترمیم کرتے ہوئے ایک اہم قانون منظور کیا ہے، جسے 2026 سے فوری طور پر نافذ العمل قرار دیا گیا ہے۔🔹 اس ترمیم کے تحت:دفعہ 5 میں لفظ “والد” (Father) کو تبدیل کر کے “والدین” (Parent) کر دیا گیا ہے۔چنانچہ اب وہ تمام افراد، جن کے والد یا والدہ میں سے کوئی ایک پاکستانی شہری ہو، انہیں پاکستانی شہریت کا حقدار تسلیم کیا جائے گا، خواہ ان کی تاریخِ پیدائش کچھ بھی ہو۔🔹 پس منظر:متعدد ایسے معاملات سامنے آئے جن میں پاسپورٹ کی درخواستیں اس بنیاد پر مؤخر یا مسترد کی گئیں کہ درخواست دہندگان کے والد غیر ملکی تھے، حالانکہ ان کے پاس نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (NADRA) کے جاری کردہ قومی شناختی کارڈ موجود تھے۔🔹 عدالتی نظائر:پشاور ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے معزز فیصلوں میں یہ قرار دیا گیا کہ سنہ 2000 کی ترمیم کو ماضی سے مؤثر (Retrospective Effect) سمجھا جائے، تاکہ ایسے افراد کو بھی شہریت کے حقوق فراہم کیے جا سکیں۔🔹 ترمیم کا مقصد:✔ شہریت کے حصول میں قانونی وضاحت پیدا کرنا✔ متاثرہ افراد کو ان کے بنیادی حقوق کی فراہمی✔ پاسپورٹ کے اجرا کے عمل میں سہولت پیدا کرنایہ ترمیم انصاف اور مساوات کے اصولوں کے عین مطابق ایک اہم پیش رفت ہے۔
ایران آبنائے ہرومز تنگی سے اربوں ڈالر کما سکتا ہےتہران: ایران ماہانہ 8 ارب ڈالر کی آمدنی ہرومز کی تنگی سے فیس کے ذریعے حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایران دنیا کو اپنا تیل اور گیس چین کے شمارے (CNY) میں فروخت کر کے سالانہ 100 ارب ڈالر کما سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق، اس اضافی آمدنی سے ایران کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں 20 فیصد اضافہ ہوگا، جو 475 ارب ڈالر سے بڑھ کر 571 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ یہ رقم براہِ راست ملک کی تعمیر نو اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں استعمال کی جائے گی۔اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے ایران کی مالی حالت مضبوط ہوگی اور خطے میں اس کی اقتصادی طاقت میں اضافہ ہوگا۔

امریکہ کے سابق صدر جمی کارٹر جب یروشلم گئے تو اس وقت کے اسرائیلی وزیر اعظم بیجن ان کو دیوار گریہ کے پاس لے گئے جو یروشلم میں یہودیوں کی مقدس ترین جگہ ہے – وہاں جمی کارٹر نے دعا کرتے ہوئے کہا: “اے خدا! عربوں کو اور اسرائیل کو امن تک پہنچنے میں مدد کر”بیجن نے کہا: “آمین” اس کے بعد کارٹر نے دعا کی کہ :”خدایا مصریوں کو اور اسرائیل کو پُر امن طور پر ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کی توفیق دے” بیجن نے کہا :”آمین” اس کے بعد بیجن نے دعا کی کہ :”خدایا اسرائیلوں کو بتا دے کہ وہ عربوں کو وہ تمام علاقے واپس کردیں جن پر انھوں نے 1967 کی جنگ میں قبضہ کیا ہے” یہ سن کر بیجن نے کہا :” جناب صدر! میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ آپ ایک دیوار کو خطاب کر رہے ہیں”بحوالہ: ریڈرز ڈائجسٹ، مئی 1981