حکومت نے اسلام آباد کے علاقہ بری امام میں ظلم و ستم کی انتہا کر دیجب زمین کی قیمت انسان کی قیمت سے بڑھ جائےمجھے یہ جملہ لکھتے ہوئے بہت اذیت ہو رہی ہے ,لیکن کیا کروں میرے دل و دماغ میں وہ قیامت کے مناظر ہیں جو میری روح کو بھی زخمی کئیے جاتے ہیں۔ آج بری امام کی بستی اسلام آباد پولیس کے محاصرے میں ہے۔ بجلی پچھلے آٹھ گھنٹوں سے بند کر دی گئی ہے۔ پورا گاؤں اندھیرے میں ڈوبا ہؤا ہے۔ قائد اعظم یونیورسٹی سے بری امام جانے کا راستہ بند کیا گیا ہے۔ خواتین ، بچوں اور بوڑھوں کو پیدل گھر جانے کی بمشکل اجازت دی جا رہی ہے۔آپ تصور کریں کہ گزشتہ رات جو لوگ اپنے گھروں میں سوئے ہوئے تھے ، آج کی رات وہ بے سرو سامان بچوں کے ساتھ اپنے گھروں کے ملبے پہ ماتم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا کہ چند گھنٹوں میں بے گھر ہو جائیں گے۔ یہ وزیراعظم شہباز شریف کا ویژن 27 کا ٹریلر ہے۔ جو متاثرین اسلام آباد کی تباہی سے شروع ہوا ہے۔ اور اس فلم کا ڈائیریکٹر وزیر داخلہ محسن نقوی ہے۔ نہ جانے کیوں یہ بات میرے ذہن میں گردش کر رہی ہے، کہ اس ملک کے تقریباً سبھی محسنوں کے ساتھ جو سلوک کیا گیا ویسا ہی بری امام سرکار کے مکینوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ جنہوں نے اپنے آباؤ اجداد کی زمینیں وفاقی دارالحکومت کے قیام کے لئے قربان کیں۔۔ مگر آج ان کی اولادوں کو چند گھنٹوں کی وارننگ سے گھروں سے نکال کر ان کے آشیانوں کو مسمار کر دیا گیا ۔ بارہ گھنٹے جاری رہنے والا آپریشن رات دس بجے رکا ۔ امکان ہے کہ صبح دوبارہ شروع ہو گا۔شاید ہی دنیا کا کوئی ملک ہو جو اپنے شہریوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک روا رکھے۔ جس طرح بری امام کے مکینوں کو چند گھنٹوں میں طاقت کے زور پر گھروں سے باہر نکالا گیا ہو۔ اور ان کے بچوں کے سامنے ان کے سائبان زمین بوس کیے گئے ہوں۔ یقیناً جب زمین کی قیمت انسان کی قیمت سے بڑھ جائے تو پھر انسان انسانیت اور جذبات و احساسات سے محروم ہو جاتا ہے ۔ اس کا مشاہدہ آپ بری امام میں کر سکتے ہیں۔اس وقت بری امام کے مکینوں کے لئے حکومت کے تمام دروازے بند کر دیئے گئے ہیں۔ اب ان کی فریاد اور اہ یقیناً بارگاہ الٰہی کے دربار پر دستک دے گی۔ انتطار کریں کس طرح برق چمکتی ہے۔ ایک بات طے ہے۔خدا ظلم کو پسند نہیں کرتا اور ظالموں کا پیچھا کرتا ہے۔ کربلا میں دنیاوی منصب کی لالچ میں خانوادہ رسول ص کو شہید کیا گیا۔ مگر ان ظالموں کو وہ منصب نصیب نہیں ہوئے جن کے لئے انہوں نے ظلم کئے۔ اور امیر مختار نے ان سب سے انتقام لیا۔ معاملہ کسی اور کے دربار میں ہے۔ وہاں دیر ہے اندھیر نہیں محترم وزیراعظم صاحب اور محترم فیلڈ مارشل صاحب یہ کون لوگ ہیں جو آپ کی عزت اور وقار کو خراب کر رہے ہیں۔ اگر آپ ان ظلم کرنے والوں کو نہیں روکتے۔۔ تو یقین کیجئے میرا اللہ سب دیکھ رہا ہےسیدنا حضرت علیؓ کا قول ہے ‘کفر کی حکومت قائم رہ سکتی ہے، ظلم کی نہیں
پاک فوج کو آواز ۔۔۔۔نور پور شاہاں میں قیامت سے پہلے قیامت چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے نور پور شاہاں ماڈل ویلج کے فیصلے کے خلاف سی ڈی اے کی انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت 7 اپریل 2026 کو کی تھی اور رٹ پٹیشن نمبر 4026/2020 کے فیصلے کو معطل کر دیا ۔ جس کے تحت متاثرین نور پور شاہاں کو سی ڈی اے کے اپنے فیصلوں کے تحت عدالت عالیہ نے تحفظ یقینی بنایا تھا۔قانون کے مطابق انٹرا کورٹ اپیل دائر کرنے کی مدت 28 جولائی 2025 کو ختم ہو گئی تھی۔ لیکن 6 ماہ بعد عدالت نے فیصلہ معطل کر دیا۔ وکلاء اور لوگ حیران ہیں۔فیصلے کی خلاف ورزی پر عدالت میں توہین عدالت کی کاروائی بھی جاری ہے۔عدالت عالیہ کی طرف سے فیصلے کی معطلی کے بعد آج سی ڈی اے نے بھاری پولیس نفری کے ساتھ نور پور شاہاں کے محلہ نوری باغ میں اچانک دھاوا بولا اور مکانات گرانے شروع کئے۔ لوگوں کو سامان تک نہ نکالنے دیا گیا۔ پولیس نے بھر پور طاقت کا استعمال کیا۔ یہ قیامت خیز مناظر سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔اس وقت جو لا قانونیت وفاقی دارالحکومت میں ہو رہی ہے۔ شاید ہی پاکستان کے کسی حصے میں ہو۔ اس ملک میں افغان مہاجرین کو پاکستان سے نکالنے کےلئے سال سے زیادہ وقت دیا گیا۔ لیکن جن لوگوں کی زمینوں پر وفاقی دارالحکومت بنا ، ان کے ساتھ وہ سلوک کیا جا رہا ہے۔ جو اسرائیلی فوج غزہ کے مسلمانوں کے ساتھ کر رہی ہے۔ جو اچانک گھروں میں گھس مکینوں کو بے دخل کرتی ہے۔ اس وقت اسلام آباد میں اہلیان نورپور شاہاں کی آواز کوئی نہیں سن رہا۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ممبران خاموش ہیں۔ طارق فضل چوہدری صاحب کی نمائندگی ایک سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ عدالت عالیہ نے اپنے جج کے فیصلے کی حتمی حیثیت اختیار ہونے کے باوجود معطل کر کے لوگوں کو عدالتی تحفظ سے محروم کر دیا۔ نور پور شاہاں بری امام کے مکینوں کی حیثیت اب یہ ہے، کہ اس ملک میں انہیں کوئی سیاسی ، قانونی ، آئینی ، اخلاقی اور سماجی تحفظ دینے کے لئے موجود نہیں۔ تمام ادارے تماشائی بنے ہوئے ہیں یا وہ بھی عوام کی طرح بے بس ہو گئے ہیں ۔پر امن احتجاج اس ملک میں دہشتگردی بن گیا ہے۔ اور دہشتگردوں سے مذاکرات کو ترجیح دی جاتی رہی ہے۔ لیکن اپنے شہریوں کے ساتھ وفاقی حکومت کے ذمہ دار گفتگو و شنید سے مسئلہ حل کرنے کی بجائے طاقت کے استعمال کو ترجیح دے رہے ہیں۔عوام میں یہ تاثر جڑیں پکڑتا جا رہا ہے کہ یہ سب کچھ اسٹیبلشمنٹ کی ایما پر محسن نقوی وزیر داخلہ کر رہے ہیں۔ پاک فوج کے ساتھ ہر پاکستانی کی والہانہ محبت ہے۔ جو سرحدوں کی محافظ ہے۔ آج نور پور شاہاں کے متاثرین اور بری امام سرکار کے خدمت گزار پاک فوج کو آواز دے رہے ہیں ۔ وہ آئے اور سرحدوں کی طرح ان کے گھروں کی محافظت کرے۔ اور محسن نقوی کے ظلم و ستم سے مظلوم عوام کو نجات دلائے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کہا ہے کہ ملک کی مسلح افواج اپنی اعلیٰ ترین جنگی تیاری کی سطح پر پہنچ چکی ہیں اور ہر قسم کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق ابراہیم رضائی کا یہ بیان قائم مقام وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل ابنالرضا کی جانب سے کمیٹی کو دی گئی بریفنگ کے بعد سامنے آیا، جس میں حالیہ عسکری صورتحال اور صہیونی و امریکی افواج کے ساتھ جاری تنازع پر تفصیلات فراہم کی گئیں۔جنرل ابنالرضا نے بریفنگ کے دوران کہا کہ ایران نے ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کر رکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’ہماری مسلح افواج اپنی جنگی تیاری کے عروج پر ہیں۔ دشمن کی کسی بھی جارحیت یا شرارت کا جواب سخت اور پشیمان کرنے والا ہوگا‘۔
پٹرول کے بعد بجلی بھی پہنچ سے دور ہونے لگی، بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے بعد حکومت نے ملک بھر میں لوڈ شیڈنگ کرنے کا حکم دے دیااسلام آباد میں 8 گھنٹے بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہو گی آئیسکو حکام نے لوڈ شیڈنگ کا شیڈول جاری کر دیا۔
سابق وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کے مطابق صرف مارچ کے مہینے میں ریفائنریز نے 75 ارب روپے سے زائد کا “اضافی منافع” کمایا ہے۔۔۔یہ 75 ارب روپے کا اضافی منافع اس معمول کے نفع سے ہٹ کر ہے جو ریفائنریز عام حالات میں بناتی ہیں۔۔ مفتاح اسماعیل
ایران چین کی ریڈ لائن ہے ۔چین ایران کے تیل پر امریکی قبضہ نہیں ہونے دے گا ۔ اپنی صنعتی مشین زنگ آلود نہیں ہونے دے گا ۔امریکی پیچھے نہ ہٹے دنیا تیسری عالمی جنگ کا طبل ۔ ایران ڈیل کے لیے بیتاب ہے، آج ہی ’متعلقہ افراد‘ کی کال موصول ہوئی تھی: ڈونلڈ ٹرمپیقین ہے کہ ایرانی بالآخر جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر بھی راضی ہو جائیں گے، امریکی صدر
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا. وزیرِ اعظم نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خطے کی صورتحال اور پاکستان کی امن کیلئے کوششوں کے حوالے سے گفتگو کی. وفاقی کابینہ نے اتفاقِ رائے سے قرارداد منظور کی جس کا متن مندرجہ ذیل ہے.
*قرارداد*وفاقی کابینہ ربِ ذوالجلال کے حضور سجدہ شکر ادا کرتی ہے کہ اس نے وطن عزیز پاکستان کو موقع دیا کہ وہ خطے اور دنیا میں قیام امن کیلئے مرکزی ادا کرے. ہم ایران اور امریکہ کے درمیان ان تاریخ ساز امن مذاکرات کے انعقاد پر وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف، نائب وزیرِ اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنے معاونین کے ہمراہ انتھک لگن، محنت اور تدبر کے ساتھ دو متحارب فریقین کو اکٹھے بٹھا دیا اور تقریباً نصف صدی پر محیط تعطل کا خاتمہ کیا.
وفاقی کابینہ بالخصوص نائب وزیرِ اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی شبانہ روز کوششوں کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے جنہوں نے راتیں جاگ کر انتہائی احسن طریقے سے معاملات کو نبھایا. ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی امن کے اس سفر میں انہیں کامیابیاں عطا فرمائے.
بلاشبہ اقوام عالم کی تاریخ میں پاکستان کا یہ کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا. ہماری دعا ہے کہ پاکستانی قیادت کی یہ پر خلوص کوششیں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور دنیا میں قیام امن کا باعث بنیں.
آبنائے ہرمز پر ایران کا مکمل کنٹرول موجود ہے، پاسداران انقلاب ایراندشمن کو “موت کے بھنور” میں پھنسا دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، پاسداران انقلاب ایرانآبنائے ہرمز میں کسی بھی حملے یا اشتعال انگیزی کی صورت میں فوری اور سخت ردعمل دیا جائے گا، پاسداران انقلاب ایران
*ٹرمپ سے کہہ دو ۔۔۔ ہم جنگ بندی کی کوئی جلدی نہیں…ہم لمبی جنگ کیلئے بھی تیار ہے۔ایرانی وفد**ہم اپنے مطالبات سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹایا گئے… ایرانی وفد**ٹرمپ نے واضع احکامات دئیے تھے کہ ایرانیوں سے ملنے اور مزاکرات کی فوٹو اتارانے۔ ورنہ ساری زندگی ہماری بدنامی ہوگئی۔زرائع**ایرانی اسپیکر نے کہاں کہ لمبی جنگ کا سارا نقصان امریکہ کو ہے ، ہمیں نہیں،**امریکہ ایران سے آبنائے ہرمز حصہ مانگ رہا ہے، مگر ایسا مکمن نہیں۔ایرانی وفد**کیا امریکہ پانامہ کے سمندر سے وصول کرنےوالے ڈالروں سے ایران کو حصہ دے گا،ایرانی وفد**آبنائے ہرمز سے امریکہ کا کوئی لین دنیے نہیں ۔۔ اسکا ٹیکس ہم ہی وصول کرینگے، ایرانی وفد**ہمیں ایٹمی ہتھیاروں سے روکنے پر زور دے رہے ہے مگر اسرائیل کو کیوں نہیں روکا جائے رہا، اس نے 90 ایٹمی ہتھیار بنا چکا ہے اسکو کون روکے گا۔ایرانی وفد*
مذاکرات کیوں ناکام ہوئے ۔اظہر سیدایران امریکہ جنگ بندی مذاکرات بظاہر کامیاب نہیں ہو سکے لیکن دوبارہ بات چیت ہو گی اور مذاکرات کامیاب ہونگے کہ امریکہ کے پاس دوسری کوئی آپشن موجود نہیں ۔ایٹمی حملہ یا زمینی افواج بھیجنا کامیابی نہیں تیسری عالمی جنگ کا باقائدہ آغاز ہو گا جو کسی کیلئے قابل قبول نہیں
۔امریکی نائب صدر کے پاس صرف ایک مینڈیٹ تھا وہ ایران کے ساتھ سابقہ ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدہ سے مزید آگے تھا جو صرف اور صرف بدنیتی کہلائے گا اور کچھ نہیں ۔امریکی وفد اگر صدر اوباما کے 2015 کے معاہدہ تک محدود رہتا صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کو موجودہ ایڈونچر کا جواب دینا پڑتا ۔صدر اوباما کے دور میں ہوئے معاہدہ کے مطابق ایران کی تینوں نیوکلیر تنصیبات مسلسل نگرانی میں تھیں اور ایران کا ایٹمی ہتھیار تیار کرنا ممکن ہی نہیں تھا کہ یورنیم کا ذخیرہ تین سو کلو گرام تک محدود تھا اور افزودگی کی حد 3.37 تک محدود تھی
۔ایران نے معاہدے کے تحت اپنے ہزاروں سینٹری فیوجز ختم کر دئے تھے ۔فروا یورنیم افزودگی تنصیبات کو ریسرچ سینٹر میں تبدیل کر دیا گیا تھا ۔صدر ٹرمپ نے اسرائیلی لابی کی ایما پر اس معاہدہ کا ناکافی قرار دے کر ناٹو ممالک کی مخالفت کے باوجود معاہدہ یکطرفہ ختم کر دیا تھا ۔نائب صدر اگر سابقہ معاہدے کا اعادہ کرتے صدر ٹرمپ کی سیاسی موت ہوتی ۔سابقہ معاہدہ میں مزید اضافہ ایران کیلئے اس لئے قابل قبول نہیں تھا کہ ایٹمی عدم پھیلاؤ کا ہدف سابقہ معاہدے کے تحت بھی ممکن تھا کہ اس معاہدہ میں ناٹو ممالک کے ماہرین اور مشاورت شامل تھی ۔بات چیت کا موجودہ دور صرف ٹرمپ انتظامیہ اور اسرائیلی لابی کی وجہ سے ناکام ہوا ہے ۔بات چیت ہو گی اور معاہدہ بھی ہو گا کہ دوسری آپشن صرف اور صرف تباہی بربادی ہے ۔
*امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کی فوری سمندری ناکہ بندی کا اعلان*جو کوئی بھی سمندر میں ایران کو غیرقانونی ٹیکس دے گا، اسے سمندروں میں محفوظ راستہ نہیں ملے گا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپامریکا آبنائے ہرمز میں ایران کی بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو بھی تباہ کرنا شروع کرے گا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپجو بھی ایرانی یا پُرامن جہازوں پر فائر کرے گا، اسے تباہ کردیا جائے گا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
واپڈا: “بجلی تو آنی جانی ہے، بل تو آنی ہی آنی ہے!” 💡امریکہ اور ایران کے مذاکرات تو ہو گئے، اب میری واپڈا کے “سپر پاور” حکمرانوں سے گزارش ہے کہ ذرا جنیوا نہ سہی، کسی گرڈ اسٹیشن کے باہر ہی عوام سے مذاکرات کر لیں! 🤝🔌 شاید لوڈ شیڈنگ کا کوئی ایسا حل نکل آئے جو ہمیں “پتھر کے دور” سے واپس لے آئے۔ 🙏🕯️سچ تو یہ ہے کہ واپڈا والوں کا اپنا ہی ایک “رومانوی” مزاج ہے:: ہم پنکھے کے نیچے بیٹھ کر ان کے آنے کی “دعا” کرتے ہیں اور وہ بٹن گرا کر ہماری “دعا” قبول کرتے ہیں! 🤲⚡💨مذاکرات کا ایجنڈا کچھ یوں ہونا چاہیے:بجلی کا آنا: ایک معجزہ، جس پر بحث کی ضرورت ہے۔ ✨😲بجلی کا جانا: ایک قومی فریضہ، جو واپڈا بڑی ایمانداری سے نبھاتا ہے! 🫡📉میٹر کی رفتار: جس کی سپیڈ دیکھ کر لگتا ہے کہ میٹر بجلی نہیں، “راکٹ” پی رہا ہے! 🚀💸چنیوٹ کی پہچان: اب ہماری پہچان فرنیچر نہیں بلکہ “اندھیرا” بنتی جا رہی ہے۔ 🌚🪑واپڈا والے بھی بڑے کمال کے لوگ ہیں؛ پوری دنیا میں سورج روشنی دیتا ہے، یہاں واپڈا والے سورج ڈھلتے ہی “اندھیرے کا تحفہ”
بانٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان سے مذاکرات کا مطلب ہے کہ وہ آپ کو قائل کر لیں گے کہ “اندھیرے میں آنکھیں زیادہ تیز ہوتی ہیں!” 🤡🔦🔌 بلکہ ہو سکے تو ہمارے ضلع چنیوٹ کے منتخب نمائندوں کو بھی اس میز پر بٹھائیں، اگر وہ ووٹ مانگنے کے بعد کہیں “دستیاب” ہوں تو! 🕵️♂️ پچھلے الیکشن میں تو وہ ایسے بجلی بنے پھرتے تھے کہ لگتا تھا اب چنیوٹ میں چاند بھی واپڈا کی مرضی سے چڑھے گا! 🌕🕯️سچ تو یہ ہے کہ چنیوٹ کے عوام اب اتنے صبر والے ہو گئے ہیں کہ اگر بجلی آ جائے تو حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں کہ “لگتا ہے کسی کا فون چارج کرنے کے لیے غلطی سے بٹن دب گیا ہے!” 🔋😲
پاکستانی ائرفورس نے ایرانی وفد کے لیئے صرف ائر شیلڈ فراہم نہیں کی بلکہ دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ائر کوریڈور فراہم کیا جس میں اواکس، ائر ری فیولنگ ، C 130ایف 16 تھنڈر جے 17 طیارے شامل تھے پاکستان فورسز زندہ باد پاکستان پائندہ باد
نو ڈیل – مگر کہانی ابھی باقی ہے! 21 گھنٹے۔ ایران، امریکہ مذاکرات میں کوئی معاہدہ نہیں۔ مگر کہانی ختم نہیں ہوئی۔12 اپریل 2026۔ صبح ساڑھے چھ بجے اسلام آباد کا وقت۔ جے ڈی وینس سرینا ہوٹل سے باہر آیا۔ صحافیوں کے سامنے کھڑا ہوا۔ بہت مختصر بات کی۔ ایکسیوز نے فوری خبر چلائی: “امریکہ ایران مذاکرات بغیر معاہدے کے ختم۔”وینس نے کہا: “جو بھی کمی رہی، وہ پاکستانیوں کی وجہ سے نہیں۔ انھوں نے شاندار کام کیا اور واقعی ہماری اور ایرانیوں کی فاصلے پاٹنے کی کوشش کی۔” پھر کہا: “ہم اکیس گھنٹے سے یہاں ہیں اور ایرانیوں کے ساتھ کئی ٹھوس بات چیت ہوئی۔ یہ اچھی خبر ہے۔ بری خبر یہ ہے کہ معاہدہ نہیں ہوا اور یہ ایران کے لیے امریکہ سے کہیں زیادہ بری خبر ہے۔”سوال پوچھا گیا: ایرانیوں نے کیا مسترد کیا؟ وینس نے تفصیل میں جانے سے انکار کیا مگر ایک بات واضح کی: “سادہ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں ایران سے اس بات کا واضح عہد چاہیے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا اور ایسے آلات حاصل نہیں کرے گا جو فوری طور پر ایٹمی ہتھیار بنانے میں مدد دیں۔ نہ صرف ابھی، نہ صرف دو سال بعد، بلکہ طویل مدت کے لیے۔ ہم نے ابھی تک یہ عہد نہیں دیکھا۔ امید ہے کہ دیکھیں گے۔”پھر وینس نے ایک اور جملہ کہا: “ہم کافی لچکدار تھے، کافی معاون تھے۔ صدر نے ہمیں کہا تھا کہ نیک نیتی سے جاؤ اور معاہدے کے لیے پوری کوشش کرو۔ ہم نے کیا۔ مگر ہم آگے نہیں بڑھ سکے۔”اب اس بیان کو پڑھیں۔ الفاظ تولے ہوئے ہیں۔ وینس نے کئی پیغام دیے ہیں بیک وقت:پہلا: پاکستان کو مکمل عزت دی۔ “شاندار میزبان” کہا۔ “ناکامی ان کی وجہ سے نہیں” کہا۔ یہ سفارتی زبان میں اعلان ہے کہ امریکہ پاکستان کے ثالثی کردار سے مطمئن ہے اور مستقبل میں بھی اسی راستے سے آئے گا۔دوسرا: ایران پر الزام رکھا۔ “انھوں نے ہماری شرائط قبول نہیں کیں” کہا۔ مگر دروازہ بند نہیں کیا۔ “امید ہے دیکھیں گے” کہا۔ “ابھی تک” کے الفاظ استعمال کیے۔
“ابھی تک” کا مطلب ہے “ابھی نہیں مگر شاید بعد میں۔”تیسرا: ایٹمی نکتے کو مرکزی بنایا۔ آبنائے ہرمز نہیں، لبنان نہیں، منجمد اثاثے نہیں۔ ایٹمی ہتھیار۔ یہ ٹرمپ کا بھی تازہ ترین موقف ہے جو اس نے جمعے کو واضح کیا تھا: “ایٹمی ہتھیار نہیں۔ یہی بنیادی مقصد ہے۔” وینس نے ٹرمپ کے بیانیے سے ہٹ کر کچھ نہیں کہا۔ وفادار رہا۔مگر ایرانی طرف سے کہانی مختلف ہے۔ایران کی حکومت نے ایکس پر لکھا: “14 گھنٹے کی بات چیت کے بعد مذاکرات فی الحال ختم ہو گئے ہیں۔ کچھ اختلافات باقی ہیں مگر مذاکرات جاری رہیں گے۔” ایرانی ریاستی ٹی وی کے نامہ نگار نے بتایا کہ مذاکرات اتوار کو جاری رہیں گے۔ سی این بی سی نے تصدیق کی۔ یعنی ایران نہیں مانتا کہ مذاکرات ناکام ہوئے۔ ایران کہتا ہے مذاکرات ابھی ختم نہیں ہوئے، ایک وقفہ ہے۔فرق سمجھیں: وینس کہتا ہے “ہم واپس جا رہے ہیں، معاہدہ نہیں ہوا۔” ایران کہتا ہے “مذاکرات جاری رہیں گے۔” یہ دو مختلف بیانیے ہیں اور دونوں بیک وقت سچ ہو سکتے ہیں۔ وینس واپس جا رہا ہے مگر تکنیکی ٹیمیں رہ سکتی ہیں۔ سیاسی سطح کا دور ختم ہوا مگر ماہرین کی سطح کا دور جاری رہ سکتا ہے۔یہاں ایک بات اور سمجھنی ضروری ہے۔ وینس نے “quite flexible” اور “quite accommodating” کے الفاظ استعمال کیے۔ یہ الفاظ سفارتکاری میں اپنی پوزیشن ظاہر کرنے کے لیے بہت کم استعمال ہوتے ہیں۔ عام طور پر فریق کہتا ہے “ہماری پوزیشن واضح ہے۔” وینس نے کہا “ہم لچکدار تھے۔” اس کا مطلب ہے کہ وینس اندرونی طور پر جانتا ہے کہ امریکی پوزیشن میں کمزوری تھی اور وہ عوام کو پیغام دے رہا ہے: ہم نے پوری کوشش کی، ناکامی ہماری وجہ سے نہیں۔ایم ایس ناؤ نے اپنے تجزیاتی مضمون میں لکھا تھا کہ وینس کے لیے یہ مذاکرات “زہر میں بجھا ہوا پیالہ” ہیں۔ اگر کامیابی ہو تو سہرا ٹرمپ کا ہو گا۔ اگر ناکامی ہو تو الزام وینس پر آئے گا۔ اور اگر جنگ بندی ٹوٹے تو “ٹرمپ اپنے نائب صدر کو بس کے نیچے پھینک دے گا۔” کرسچین سائنس مانیٹر نے سابق امریکی خصوصی ایلچی مچل ریس کا حوالہ دیا: “آپ مہاتما گاندھی بن کر بھی امریکہ کی نمائندگی میں آئیں تو ایرانیوں پر اس وقت اثر نہیں ہو گا۔”
سٹمسن سنٹر کی بربارا سلاوین نے کہا کہ دونوں فریقوں کے مطالبات اتنے دور ہیں کہ پیش رفت کے امکانات کم ہیں۔اب سب سے اہم سوال: جنگ بندی کا کیا ہو گا؟جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہوتی ہے۔ دس دن باقی ہیں۔ وینس بغیر معاہدے کے واپس جا رہا ہے مگر ایران کہتا ہے بات جاری رہے گی۔ ایکسیوز نے لکھا: “مذاکرات کا تعطل دو ہفتے کی جنگ بندی کو غیر یقینی صورتحال میں رکھتا ہے اور جنگ کے دوبارہ بھڑکنے اور بڑھنے کا امکان ہے۔”وینس نے ایک اور جملہ کہا جو نوٹ کرنے کا ہے: “ہم نے اپنی سرخ لکیریں واضح کر دی ہیں، جن نکات پر ہم انھیں جگہ دینے کو تیار ہیں اور جن پر نہیں ہیں، وہ بھی واضح کر دیے ہیں۔ ہم نے زیادہ سے زیادہ واضح ہونے کی کوشش کی اور انھوں نے ہماری شرائط قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔””انھوں نے فیصلہ کیا” اور “ہم نے فیصلہ کیا” میں فرق ہے۔ وینس نے الزام ایران پر رکھا۔ مگر ذرا ولی نصر کی بات یاد کریں: ایران سمجھتا ہے کہ وٹکاف اور کشنر کو مسائل پر گرفت نہیں تھی۔ کیا آج رات بھی وہی ہوا؟ 71 ماہرین نے تکنیکی نکات اٹھائے اور تین آدمیوں کے پاس ان کا جواب نہیں تھا؟ ابھی یہ واضح نہیں ہے۔ ایرانی طرف سے تفصیلی بیان آنا باقی ہے۔فی الحال حقائق یہ ہیں:اکیس گھنٹے مذاکرات ہوئے۔ تین رسمی دور ہوئے۔ پہلا بالواسطہ، دوسرا براہ راست، تیسرا تکنیکی۔ ساتھ کھانا کھایا گیا۔ 47 سال بعد پہلی بار آمنے سامنے ملاقات ہوئی۔ ایٹمی عہد، آبنائے ہرمز اور لبنان تین بڑے اختلافات رہے۔ وینس واپس جا رہا ہے۔ ایران کہتا ہے بات جاری رہے گی۔ پاکستان کو دونوں طرف سے عزت ملی۔مگر سب سے بڑی بات وہ ہے جو وینس نے سب سے پہلے کہی: “جو بھی کمی رہی، وہ پاکستانیوں کی وجہ سے نہیں۔”یہ جملہ سفارتی زبان میں سرٹیفیکیٹ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ غالباً اگلا دور بھی اسلام آباد میں ہو سکتا ہے۔ ثالث بھی پاکستان ہو گا۔ معاہدہ نہیں ہوا مگر دروازہ بھی بند نہیں ہوا۔ وینس نے “ابھی تک” کہا ہے “ختم” نہیں کہا۔ ایران نے “وقفہ” کہا ہے “ناکامی” نہیں کہا۔ اور اس “ابھی تک” اور “وقفے” کے درمیان جو جگہ ہے وہیں پاکستان کھڑا ہے۔اکیس گھنٹے ضائع نہیں ہوئے۔
اکیس گھنٹوں میں 47 سال کی خاموشی ٹوٹی ہے۔ اکیس گھنٹوں میں سرخ لکیریں واضح ہوئی ہیں۔ اکیس گھنٹوں میں دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھا ہے۔ اور جب آنکھوں میں دیکھنے کا مرحلہ آ جائے تو بم گرانا مشکل ہو جاتا ہے۔22 اپریل قریب ہے۔ دس دن باقی ہیں۔ ان دس دنوں میں دو میں سے ایک بات ہو گی: یا تو ماہرین کی سطح پر بات آگے بڑھے گی اور وینس دوبارہ آئے گا۔ یا جنگ بندی ختم ہو گی اور بم دوبارہ گریں گے۔پاکستان نے اپنا کام کر دکھایا. اب دنیا کے باقی چاچے مامے درمیان میں آئیں. . اپنی ساکھ داؤ پر لگا کر 21 ویں صدی کے خون ریز تنازعہ میں امن کے لیے مہلت پیدا کرنے کی کوشش کی. دنیا میں اپنی نوعیت کے سب سے بڑے حریفوں کو سامنے لا بٹھایا. شاباش پاکستان!کہانی ابھی باقی ہے میرے دوست!
ایرانی میڈیا نے کہا ہے کہ امریکاکےحد سے زیادہ مطالبات نے مشترکا فریم ورک اور معاہدے کی راہ میں رکاوٹ ڈالی، آبنائے ہرمز اور جوہری حقوق سمیت کئی مسائل مذاکرات میں اختلاف کا باعث بنے، امریکا نے وہ سب کچھ مانگا جو وہ جنگ کے دوران حاصل نہیں کر سکے تھے، معاہدے پر نہ پہنچنےکےباوجودہرمز کی صورتحال تبدیل نہیں ہوگی۔دوسری جانب ذرائع نے بتایا کہ نائب امریکی صدر جے ڈی وینس وفد کے ہمراہ اسلام آباد سے واپس امریکا روانہ ہوگئے۔Iranian media has said that the excessive demands of the US have obstructed the joint framework and agreement, many issues including the Strait of Hormuz and nuclear rights have led to disagreements in the negotiations, the US has demanded everything that it could not get during the war,
مذاکرات کا تیسرا راؤنڈ ناکام ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے اپنی طرف سے بہت کوشش کی اور یہ بات امریکی نائب صــــدر ڈی جے وینس نے بھی جاتے ہوئے کہی کہ پاکستان نے بہت کوشش کی۔۔۔۔۔۔ لیکن پھر بھی ہمارے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔۔۔ اب ظاہر ہے کہ ایران غلامی کے لیے تیار نہیں ہے ہزاروں ایرانی لوگ شـہید ہوچکے ہیں جن میں سے تقریباً 250 صرف سکول کے بچے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ DJ Vance نے کوئی لچک دکھائی ہوگئی،،،،،، کیونکہ اکیس گھنٹے بعد امریکہ واپس جانا سمجھ سے باہر ہے۔اگر وہ واقعی مذاکرات کے لیے آئے تھے۔۔۔۔۔ پھر وہ ایک دو دن مزید انتظار کرلیتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاید کوئی حل نکل آتا لیکن نہیں، انہوں نے ایک گھنٹہ بھی نہیں دیا۔۔۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ امریکہ ڈرامہ کر رہا ہے اور دنیا کو دیکھا رہی ہے کہ ہم نے ایـران کے ساتھ معاہدہ کرنے کی کوشش کی لیکن ایران اسے ماننے کو تیار نہیں تھا۔خود امـــریکہ نہیں چاہتا کہ ایران آبنائے ہرمز کو دنیا کے لیے کھول دے کیونکہ صـــــدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود گزشتہ ہفتے یورپی ممالک سے کہا تھا کہ وہ ایران کے بجائے امـریکا سے تیل خریدیں۔۔ چونکہ معاہدہ ناکام ہوا،،،،،،،،، اس سے امریکہ کے لیے دو فائدے ہیں ایک تو امریکہ کے پاس دنیا کے سامنے ایک جـواز بن گیا کہ ہم نے ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کی کوشش کی لیکن ایران راضی نہیں ہوئے۔ اب وہ دنیا کو بتائیں گے کہ آبنائے ہرمز جیسے خطرناک راستے سے تیل خرید کر لے جانے سے بہتر ہے کہ امــــــریکہ سے ڈائریکٹ تیل خرید لیں۔ اس کے علاؤہ اسسسسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو بھی یہی کہیں گے کہ ہم نے آپ کی وجہ سے ڈیل نہیں کیا، کیونکہ کل انہوں نے بیان دیا تھا کہ ہم ایران پر حملے جاری رکھیں گے۔ابنائے ہرمز دنیا کا سب سے حساس سمندری گزرگاہ ہے حیرت انگیز بات یہ ہے۔۔۔
اس سے روزانہ تقریبا بیس ملین بیرل تیل گزرتا ہے۔ یہ ایک تنگ سمندری راستہ لگتا ہے، لیکن اس کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ پوری دنیا کی معیشت اس سے جڑی ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔ اس کے ذریعے مشرق وسطیٰ کا تیل دنیا کے مختلف ممالک تک پہنچتا ہےاس سمندری راستے سے روزانہ ہزاروں بڑے آئل ٹینــــکرز گزرتے ہیں ایک اندازے کے مــطابق دنیا کا 20 فیصد تیـل اسی ایک راستے سے منتقل ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ اگر یہاں کوئی “مسـئلہ” پیدا ہوتا ہے، تو اس کے اثرات صرف ایک ملک تک مــحدود نہیں ہوتے بلکہ پوری دنیا کی معیشت متاثر ہوتی ہے،۔ امریکہ روزانہ خود بہت زیادہ تیل پیدا کرتا ہے امریکہ دنیا کے ٹاپ پروڈیوسر میں سے ایک ہے، امریکہ یورپ اور بعض ایشیائی ممالک کو تیل بھیجتا ہے۔۔۔ اگر آبنائے ہرمز بند رہا تو امریکہ سے تیل کی مانگ بڑھ جائے گی۔۔۔۔۔۔ اگر یہ راستہ مکمل بند ہوگیا، تو اس کے اثرات بہت سنـگین ہوسکتے ہیں اگر چہ امریکہ اور اسسسرائیل کے لیے کوئی مسلہ نہیں ہوگا لیکن دنیا بھر میں تیل کی سپلائی متاثر ہوسکتی ہے ہم جیسے غریب ممالک اس سے بہت متاثر ہو جائیں گے۔ اس کے علاؤہ امریکہ پتا نہیں اب کیا کریں گے کیونکہ اب تو ان کے لیے ٹھوس جواز بھی مل گیا۔۔۔۔۔!!!
ایران کے میڈیا کے مطابق امریکہ کے حد سے زیادہ مطالبات نے مشترکہ فریم ورک اور معاہدے کی راہ میں رکاوٹ ڈالی، آبنائے ہرمز اور جوہری حقوق سمیت کئی مسائل مذاکرات میں اختلاف کا باعث بنے، اور مذاکرات معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے۔مذاکرات میں آبنائے ہرمز ،جوہری معاملات، جنگی ہرجانوں اور پابندیوں کے خاتمے پر بات ہوئی ایران کے خلاف جنگ کا مکمل خاتمہ اور خطے کی صورت حال پر بات ہوئی۔ضروری ہے کہ دوسرا فریق زیادہ سے زیادہ اور غیر قانونی مطالبات سے گریز کرے اور ایران کے حقوق کو تسلیم کیا جائے۔
اہم: ہم بات چیت میں متعدد نکات پر اتفاق رائے پر پہنچ گئے، لیکن 2 اہم امور پر رائے مختلف تھی جو معاہدے کی طرف نہیں لے جا سکا، ہمیں اندازہ تھا کہ ایک ہی نشست میں کسی معاہدے تک نہیں پہنچا جا سکے گا، پاکستان اور دوسرے دوستوں کے درمیان رابطے اور مشاورت جاری رہے گی، ترجمان ایرانی وزارت خارجہ
سعودی عرب کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ پاکستان کا ایک فوجی دستہ دو طرفہ اسٹریٹیجک دفاعی معاہدے کے تحت کنگ عبدالعزیز ائیر بیس پہنچ گیا ہے۔ایکس پر جاری بیان میں سعودی وزارت دفاع نے بتایا کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان طے پانے والے مشترکہ اسٹریٹیجک دفاعی معاہدے کے تحت اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ایک فوجی دستہ مشرقی علاقے میں واقع کنگ عبدالعزیز ائیر بیس پر پہنچ گیا ہے۔سعودی وزارت دفاع کے مطابق یہ پاکستانی دستہ پاک فضائیہ کے لڑاکا اور معاون طیاروں پر مشتمل ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کی افواج کے درمیان فوجی تعاون کو مضبوط بنانا، عملی تیاری کی سطح کو بلند کرنا اور علاقائی و عالمی سطح پر امن و استحکام کو فروغ دینا
نور خان ایئربیس پر “خاموش گفتگو” کا راز کیا ہے؟اسلام آباد کے نور خان ایئربیس پر آج ایک ایسا منظر دیکھنے میں آیا جس نے رسمی پروٹوکول سے بڑھ کر سفارتی اشاروں کو نمایاں کر دیا۔ جب امریکی نائب صدر JD Vance جے ڈی وینس پاکستان پہنچے تو ان کا استقبال فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کیا۔ اس مختصر ملاقات میں الفاظ کم تھے، مگر چہروں کے تاثرات بہت کچھ بیان کر رہے تھے۔بین الاقوامی سیاست میں اکثر اصل پیغام تقریروں سے نہیں بلکہ جسمانی زبان، اندازِ مصافحہ، نظریں ملانے کے طریقے اور چہرے کے اعتماد سے سمجھا جاتا ہے۔ آج بھی کچھ ایسا ہی محسوس ہوا۔ ایک جانب عالمی طاقت کے نائب صدر تھے، دوسری طرف پاکستان کے وہ عسکری قائد جنہیں خطے کی نئی تزویراتی حقیقتوں کا معمار سمجھا جا رہا ہے۔JD Vance جے ڈی وینس بخوبی جانتے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن تبدیل ہو چکا ہے۔ پاکستان نے حالیہ برسوں میں دفاعی حکمتِ عملی، سفارتی توازن اور علاقائی کردار کے ذریعے اپنی اہمیت منوائی ہے۔ اسی لیے آج کی ملاقات محض خیرسگالی نہیں بلکہ اس امر کا اعتراف بھی ہے کہ پائیدار امن کے لئے پاکستان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے چہرے پر اعتماد، سکون اور سنجیدگی نمایاں تھی، جو اس بات کی علامت سمجھی جا سکتی ہے کہ پاکستان اس وقت دفاعی اور سفارتی دونوں محاذوں پر خوداعتماد پوزیشن میں کھڑا ہے۔ دوسری جانب جے ڈی وینس کے انداز سے یہ تاثر ملا کہ United States امریکہ اس وقت خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے قابلِ اعتماد شراکت داروں کی تلاش میں ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں ای ران، صہیونی ریاست م اور امریکہ کے درمیان تناؤ کے تناظر میں پاکستان کا کردار مزید اہم ہو گیا ہے۔ اگر اسلام آباد سفارتی پل کا کردار ادا کرتا ہے
تو یہ نہ صرف پاکستان کی عالمی حیثیت مضبوط کرے گا بلکہ خطے میں امن کے امکانات بھی بڑھیں گے۔یہ ملاقات ایک واضح پیغام دیتی ہے: دنیا بدل رہی ہے، طاقت کے مراکز بدل رہے ہیں، اور پاکستان اب صرف ناظر نہیں بلکہ فیصلہ ساز کردار کی طرف بڑھ رہا ہے۔ نور خان ایئربیس پر ہونے والی یہ چند لمحوں کی خاموش ملاقات شاید آنے والے دنوں کی بڑی سفارتی کہانی کا آغاز ثابت ہو۔By Dr Jam Sajjad Hussain #Pakistan #JDVance #AsimMunir #NurKhanAirbase #Islamabad #Diplomacy #Geopolitics #USA #Iran #MiddleEast #Leadership #SouthAsia #BreakingNews #DrJamSajjadHussain