
معاہدے کے اہم نکات . تینوں ممالک اپنے دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنائیں گے۔خطے اور دنیا میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے مل کر کام کریں گے۔. اگر تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ ہوتا ہے، تو اسے تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔. کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع اور اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنایا جائے گا۔. دفاع، سکیورٹی، تربیت، انٹیلی جنس اور دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔

مکہ مکرمہ ،سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی سربراہی اجلاسوزیراعظم شہباز شریف، ترک صدر رجب طیب اردوان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی ملاقاتمکہ مکرمہ سربراہی اجلاس میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط محمد بن سلمان، رجب طیب اردوان اور شہباز شریف نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیےتینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے تمام شعبوں کو مزید فروغ دینے پر اتفاق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے اجتماعی سلامتی کے عزم کا اعادہ کردیا مشترکہ دفاعی معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کی اجتماعی سلامتی اور دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے، ترجمانمشترکہ دفاعی معاہدہ خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے عزم کا عکاس ہے،

دفتر خارجہمعاہدے کے تحت کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، دفتر خارجہسعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے کسی بھی جارحیت کے خلاف اجتماعی دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کا عزم کیا، دفتر خارجہتینوں ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات اور اسلامی یکجہتی مشترکہ دفاعی تعاون کی بنیاد ہیں، دفتر خارجہمکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی معاہدہ تینوں ممالک کے مشترکہ اسٹریٹجک مفادات اور دیرینہ دفاعی تعاون کا عکاس ہے، دفتر خارجہمشترکہ دفاعی معاہدے سے تینوں ممالک کے درمیان اجتماعی دفاع اور مزاحمتی صلاحیت مزید مضبوط ہوگی، دفتر خارجہسعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے محفوظ اور خوشحال مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا، دفتر خارجہ










