
“کسی بھی مہذب معاشرے میں لاقانونیت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اگر کوئی مطالبہ ہے، اگر کوئی معاملات ہیں، ان کو میز پر بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔ جن لوگوں نے جان بوجھ کر معاملات کو خراب کیا، وہ اغیار کے اشاروں پر یہ کام کر رہے تھے، جس کے واضح ثبوت ہیں۔الیکشن سے پہلے مظفرآباد میں ہم نے آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کروایا، جس میں تمام پارٹیز شریک ہوئیں، ماسوائے ایک پارٹی کے۔ وہاں پر بڑی بھرپور گفتگو ہوئی، خرابی کرنے یا انارکی پھیلانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔”وزیراعظم محمد شہباز شریف کی کابینہ اجلاس سے گفتگو

مظفرآباد ڈویژن: راجہ فاروق حیدر، مصطفیٰ بشیر، مختار احمد خان، باذل نقوی، دیوان چغتائی ممبر قانون ساز اسمبلی منتخب◾ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے سلسلے میں مظفرآباد کے مختلف حلقوں کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے اہم نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے◾ حلقہ ایل اے-32 مظفرآباد 6 میں مسلم لیگ (ن) کے راجہ فاروق حیدر 17,387 ووٹ لے کر آگے رہے جبکہ پیپلز پارٹی کے اشفاق ظفر 13,494 ووٹ حاصل کر سکے◾ حلقہ ایل اے-30 مظفرآباد 4 میں مسلم لیگ (ن) کے مصطفیٰ بشیر 17,749 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے، جبکہ پیپلز پارٹی کے مبشر منیر 11,987 ووٹ حاصل کر سکے◾ حلقہ ایل اے-29 مظفرآباد 3 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے مختار عباسی 19,791 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے افتخار گیلانی 16,730 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے◾ حلقہ ایل اے-28 مظفرآباد 2 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے بازل نقوی 18,750ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے چوہدری شہزاد 16,960 ووٹ حاصل کر سکے◾ حلقہ ایل اے-33 میں دیوان علی خان چغتائی 19,521 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے، جبکہ چوہدری محمد رشید 15,591 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے تاہم حلقہ لچھراٹ میں ابھی 54 پولنگ سٹیشن پر پولنگ نہیں ہوسکی لیکن نتائج کو دیکھتے ہوئے یہی امکان ہے باذل نقوی بقیہ پولنگ سٹیشن میں بھی اکثریت حاصل کر سکتے ہیں

کہتے ہیں ایک تصویر ایک ہزار الفاظ پر بھاری ہوتی ہے لاہور میں اہم ٹراییکا 🔺 ایک صفحے پر خبر ہے کہ صرف اس ایک لمحے کے لئے مستقل گورنر عارضی رخصت پر گئے۔میرے خواب میں آیا کہ اس فریم میں صدر۔وزیراعظم اور وزیراعلی ہیںہن پیکا نہ لا دینا۔۔🙏🏻۔خواب ہے یار ۔۔۔۔🫣حالانکہ ایسا کچھ نہیں 🎁
وزارتِ عظمیٰ کی مبارک باد؟ شاہ غلام قادر بھی ڈر گئے!“چوہدری یاسین کے ساتھ جو ہونا تھا، ہو گیا، اب دیکھتے ہیں میرے ساتھ کیا ہوتا ہے۔وہ بھی پارٹی صدر اور مہاجر ہیں، میں بھی پارٹی صدر اور مہاجر ہوں۔اس لیے ابھی وزارتِ عظمیٰ کی مبارک باد لینے سے ڈر رہا ہوں۔”— شاہ غلام قادر، صدر مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر

*ایران نے مبینہ طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدت ختم ہونے تک امریکہ کے ساتھ مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے*مارکیٹیں کسی بھی مزید پیش رفت کے لیے انتہائی حساس رہ سکتی ہیں، خاص طور پر سونا، تیل اور امریکی ڈالر۔چوکنا رہیں۔ اتار چڑھاؤ تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔
، 10 اگست 2026وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا۔اجلاس کے آغاز میں کابینہ نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی جس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ان کی مدبرانہ اور دور اندیش قیادت، پاکستان کا عالمی تشخص بلند کرنے اور ملک کے قومی مفادات کے مؤثر دفاع پر خراج تحسین پیش کیا گیا۔ کابینہ ارکان نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کو بھی اہم سفارتی و دفاعی پیش رفت قرار دیا۔ قرارداد نے اس معاہدے کو امت مسلمہ کے مابین اتحاد و اتفاق کو مزید تقویت دینے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا۔کابینہ نے نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2026ء اور اس پر عملدرآمد کےلئے ایکشن پلان کی منظوری دے دی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ نیشنل ہاؤسنگ پالیسی قومی و بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل ورکنگ گروپ نے تیار کی، جبکہ اس کی تیاری کے دوران وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور ترقیاتی شراکت داروں سے بھی مشاورت کی گئی۔کابینہ کو بتایا گیا کہ پالیسی کا بنیادی مقصد تمام شہریوں کے لیے پائیدار، محفوظ اور معیاری رہائش کی فراہمی ہے۔ کابینہ نے ہدایت کی کہ ہاؤسنگ منصوبوں میں زوننگ قوانین کی مکمل پابندی یقینی بنائی جائے اور زمین کے مؤثر استعمال کے لیے عمودی رہائش (Vertical Housing) کو ترجیح دی جائے۔ ساتھ ہی کابینہ نے ہدایت کی کہ انرجی ایفیشنسی کوڈز کو بھی نیشنل ہاؤسنگ پالیسی کا لازمی حصہ بنایا جائے تاکہ نئی تعمیرات توانائی کے مؤثر اور ماحول دوست تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔کابینہ کو وزیراعظم کے ’اپنا گھر‘ اسکیم کے تحت پیش رفت پر بھی بریفنگ دی گئی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ اپنے گھر کے خواہشمند درخواست گزاروں کو مختلف بینکوں کی جانب سے 220 ارب روپے کے قرضوں کی منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو 32 ارب روپے سے زائد کی رقوم بھی جاری کی جا چکی ہیں۔کابینہ نے بورڈ آف انویسٹمنٹ کی جانب سے پیش کی گئی سمری پر پاکستان اور سویڈن کے درمیان 1981ء میں طے پانے والے دو طرفہ سرمایہ کاری کے معاہدے کے خاتمے کا نوٹس واپس لینے کی منظوری دے دی۔وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے کابینہ کو پاکستان انفارمیشن سکیورٹی فریم ورک 2026ء (PISF 2026) کا مسودہ پیش کیا گیا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ یہ فریم ورک CERT Rules 2023ء کے تحت تیار کیا گیا ہے،

جس کا مقصد انفارمیشن سکیورٹی کے بنیادی یکساں معیارات کا ایک جامع اور متحد نظام وضع کرنا اور مرکزی نگرانی کو یقینی بنانا ہے۔ کابینہ نے پاکستان انفارمیشن سکیورٹی فریم ورک 2026ء کی منظوری دیتے ہوئے اسے سائبر سکیورٹی کے لیے ایک اہم راہنما دستاویز قرار دیا اور ہدایت کی کہ اس پر مقررہ مدت کے اندر مؤثر انداز میں عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔وفاقی کابینہ نے 28 جولائی کو منعقدہ کابینہ کمیٹی برائے توانائی (CCoE) کے اجلاس میں لئے گئے فیصلے کی بھی توثیق کی۔ اس فیصلے کے تحت پاکستان آئل ریفایننگ پالیسی 2023 میں مجوزہ ترامیم کی توثیق کی گئی جن کے مطابق آئل ریفائنریز کی اپگریڈیشن کی جائے گی تاکہ ملکی توانائی کی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کیا جا سکے۔کابینہ نے 27 جولائی اور 4 اگست کو منعقدہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) کے اجلاسوں میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔اجلاس میں کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی (CCLC) کے 24 جولائی کو منعقدہ اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔
آزاد کشمیر انتخابات : بُرج الٹ گئے ۔ سابق اور موجودہ وزرائے اعظم کی تاریخی ناکامی کے آثار ۔۔۔اسلام آباد ( Epna )آزاد جموں و کشمیر کے انتخابی معرکے کے آخری و تیسرے مرحلے میں غیر متوقع اور حیران کن سیاسی الٹ پھیر دیکھنے میں آیا ہے، جہاں عوام کے ناتجربہ کار اور نئے چہروں نے روایت پسند سیاست کے برج الٹ دیے ہیں۔ پونچھ ڈویژن کے چاروں اہم انتخابی معرکوں میں نگران و موجودہ وزیراعظم سمیت خطے کی تین سابق اہم ترین شخصیات کو بدترین سیاسی شکست کا سامنا ہے۔ اس غیر معمولی تبدیلی کے نتیجے میں کئی دہائیوں سے چلی آرہی خاندانی اور روایتی سیاست کا سورج غروب ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔غربی باغ (ایل اے 14): چار دہائیوں کی سیاسی اجارہ داری کا خاتمہانتخابی نتائج کا سب سے بڑا سیاسی زلزلہ حلقہ ایل اے 14 غربی باغ (دھیرکوٹ) میں محسوس کیا گیا۔ مسلم کانفرنس کے سربراہ اور سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کو اپنے سیاسی کیریئر میں پہلی بار ایک غیر معروف اور نووارد امیدوار کے ہاتھوں عبرتناک ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ ‘عوامی دست و بازو’ کے بانی اور پہلی مرتبہ انتخابی میدان میں اترنے والے ساجد اقبال عباسی نے شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے مسلم کانفرنس کے چار دہائیوں سے قائم قلعے کو زمین بوس کر دیا۔ 214 میں سے 182 پولنگ اسٹیشنز سے موصولہ غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ساجد عباسی نے 34,692 ووٹ حاصل کر کے میدان مار لیا، جبکہ سردار عتیق احمد خان محض 16,443 ووٹ سمیٹ کر دوسرے نمبر پر رہے۔ اس تاریخی اپ سیٹ نے آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کو تاریخ میں پہلی بار ایوان کی نمائندگی سے محروم کر دیا ہے۔وسطی باغ (ایل اے 15): تنویر الیاس اور مشتاق منہاس کو ہزیمتحلقہ ایل اے 15 وسطی باغ میں بھی سیاسی منظر نامہ مکمل طور پر بدل گیا۔ استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے مرکزی رہنما و سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر ترین رہنما مشتاق احمد منہاس کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتدائی و غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار ضیاء القمر نے میدان مار لیا۔ اس مقابلے میں (ن) لیگ کے مشتاق منہاس دوسرے، بریگیڈیئر (ر) محمد خان تیسرے جبکہ سابق وزیراعظم تنویر الیاس چوتھے نمبر پر چلے گئے۔شرقی باغ اور حویلی: ن لیگ کی پیش قدمی، موجودہ وزیراعظم پیچھے شرقی باغ (ایل اے 16): اس حلقے کے ابتدائی نتائج میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سردار میر اکبر خان کو اپنے حریف پیپلز پارٹی کے سردار قمر الزمان پر نمایاں برتری حاصل ہے۔

حویلی فارورڈ کہوٹہ (ایل اے 17): اس اہم ترین سرحدی حلقے میں آزاد کشمیر کے موجودہ وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کے امیدوار فیصل ممتاز راٹھور بھی شکست کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔ 190 میں سے 70 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے چوہدری محسن عزیز 16,500 ووٹ لے کر سرفہرست ہیں، جبکہ وزیراعظم فیصل راٹھور 11,050 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔مجموعی تاثر : پونچھ ڈویژن کے ان نتائج سے قبل پہلے اور دوسرے مرحلے میں مسلم لیگ (ن) نے واضح برتری قائم کی ہوئی ہے: پہلا مرحلہ (میرپور ڈویژن): کل 13 نشستوں میں سے مسلم لیگ (ن) نے 9 اور پیپلز پارٹی نے 4 نشستیں حاصل کیں۔ دوسرا مرحلہ (مظفر آباد ڈویژن و مہاجرین): کل 21 نشستوں (مظفر آباد 9، مہاجرین 12) میں سے مسلم لیگ (ن) 15 اور پیپلز پارٹی 6 نشستوں پر کامیاب ہوئی۔پونچھ ڈویژن کا تیسرا مرحلہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں اس لحاظ سے یادگار بن گیا ہے کہ اس نے روایتی بیانیے اور طاقتور خاندانی سیاست کو مکمل طور پر رد کر دیا ہے۔










