تازہ تر ین

آئی ایم ایف سے 1.2 ارب ڈالر ملنے کا امکان،۔مکمل طور پر ناکام وفاقی وزیر کا اپنی حکومت پر عدم اعتماد۔۔نوجوان ہمارے روشن مستقبل کے معمار ہیں: وزیراعظم شہباز شریف ۔۔بلوچستان میں 3 واقعات میں 20 جان بحق۔۔۔۔8 دھشت گرد ھلاک 3 شھری شھید۔۔ ۔کھربوں روپے فراڈ کرنے والہ ھاوسنگ سوسائٹی کا گواہ فرار۔۔ پولیس حراست سے۔۔حج کوٹہ کی منتقلی میں شفافیت وزارت مذہبی امور ان ایکشن۔۔ ۔۔عامر سھیل مرزا اور فاروق احمد کی سربراہی میں حج کوٹہ میں 100 کمپنیوں کو اوٹ کر دیا گیا۔۔سابق پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم عامر سھیل اور سابق ایڈیشنل سیکرٹری فاروق نے کسی دباو کو ماننے سے انکار کر دیا۔۔28 کمپنیوں کو شارٹ لسٹ کر لیا گیا مافیا کی چیخ وپکار جاری۔سپر پاور کے 12 جرنلز سے استعفی لے لیا گیا۔۔ ۔ایران نے امریکہ کو سپر پاور سے باھر کر دیا۔۔1945 میں طلوع ھونے والہ امریکی سورج 2026 میں غروب ھو گیا۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلیمی تعاون کا نیا پانچ سالہ معاہدہاسلام آباد: پاکستان اور امریکہ نے تعلیمی شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے لیے یونائیٹڈ اسٹیٹس ایجوکیشنل فاؤنڈیشن اِن پاکستان (USEFP) اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے درمیان نئے پانچ سالہ معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔معاہدے کا بنیادی مقصد فل برائٹ (Fulbright) اور دیگر تعلیمی تبادلہ پروگراموں کو وسعت دینا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کے طلبہ، اساتذہ، محققین اور پیشہ ور افراد کے لیے اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور پیشہ ورانہ تربیت کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔نئے معاہدے کے تحت علمی و تحقیقی تبادلوں، مشترکہ تحقیق، پیشہ ورانہ استعداد میں اضافے اور پاکستانی و امریکی جامعات کے درمیان روابط کو فروغ دینے پر توجہ دی جائے گی۔فل برائٹ پروگرام طویل عرصے سے پاکستانی طلبہ اور اسکالرز کو امریکہ میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیقی تجربات حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرتا آ رہا ہے۔ نئے پانچ سالہ معاہدے سے ان مواقع میں مزید وسعت متوقع ہے۔یہ شراکت داری پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلیمی سفارت کاری، عوامی روابط اور علمی تعاون کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا سکتی ہے۔ بین الاقوامی تعلیمی اور تحقیقی مواقع تک بہتر رسائی سے پاکستانی نوجوانوں اور محققین کی مہارتوں، علمی استعداد اور عالمی سطح پر مسابقتی صلاحیت میں اضافہ ممکن ہوگا۔اہم نکات:- USEFP اور HEC کے درمیان پانچ سالہ تعلیمی معاہدہ۔

– فل برائٹ اور دیگر تعلیمی تبادلہ پروگراموں میں توسیع۔- پاکستانی اور امریکی طلبہ و اسکالرز کے لیے مزید مواقع۔- مشترکہ تحقیق اور علمی تعاون کا فروغ۔- جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان روابط میں اضافہ۔- پیشہ ورانہ تربیت اور استعدادِ کار کو بہتر بنانے پر توجہ۔- پاکستان اور امریکہ کے درمیان عوامی و تعلیمی روابط کا مزید استحکام۔تجزیاتی نکتہ:تعلیم اور تحقیق کے شعبے میں اس نوعیت کی طویل مدتی شراکت داری دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو صرف سرکاری سطح تک محدود رکھنے کے بجائے عوامی، علمی اور ادارہ جاتی سطح پر مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

*🚨پشاور میں شادی سے انکار پر لڑکی نے لڑکے پر تیزاب پھینک دیا.** لڑکے کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کردیا گیا، تھانہ چمکنی میں لڑکی کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا پولیس حکام *🚨بلوچستان میں گاڑی میں نصب بم قبل از وقت پھٹنے سے 8 دہشت گرد ہلاک، 3 شہری شہید*راولپنڈی: بلوچستان کے ضلع سوراب میں فتنہ الہندستان سے وابستہ دہشت گردوں کی جانب سے تیار کیے جانے والا گاڑی میں نصب دیسی ساختہ بم تیاری کے مرحلے کے دوران اچانک پھٹ گیا، قبل از وقت دھماکے کے نتیجے میں 8 دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق دھماکے اور دہشت گردوں کی جانب سے وہاں ذخیرہ کیے گئے دیگر بارودی مواد کے ثانوی دھماکے کے نتیجے میں قریب موجود 3 شہری بھی جاں بحق ہوئے۔ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ واقعے کے فوری بعد سکیورٹی فورسز اور بلوچستان پولیس نے موقع پر پہنچ کر مشترکہ کلیئرنس آپریشن شروع کیا، کارروائی کے دوران فرار ہونے والے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگا کر مؤثر کارروائی کی گئی، جس میں مزید 10 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔اِسی طرح ان واقعات میں اب تک فتنہ الہندستان سے وابستہ مجموعی طور پر 18 دہشت گرد ہلاک کیے جاچکے ہیں، شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران 2 بہادر جوان بھی زخمی ہوئے۔

*🚨پشاور میں شادی سے انکار پر لڑکی نے لڑکے پر تیزاب پھینک دیا.** لڑکے کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کردیا گیا، تھانہ چمکنی میں لڑکی کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا پولیس حکام *🚨بلوچستان میں گاڑی میں نصب بم قبل از وقت پھٹنے سے 8 دہشت گرد ہلاک، 3 شہری شہید*راولپنڈی: بلوچستان کے ضلع سوراب میں فتنہ الہندستان سے وابستہ دہشت گردوں کی جانب سے تیار کیے جانے والا گاڑی میں نصب دیسی ساختہ بم تیاری کے مرحلے کے دوران اچانک پھٹ گیا، قبل از وقت دھماکے کے نتیجے میں 8 دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق دھماکے اور دہشت گردوں کی جانب سے وہاں ذخیرہ کیے گئے دیگر بارودی مواد کے ثانوی دھماکے کے نتیجے میں قریب موجود 3 شہری بھی جاں بحق ہوئے۔ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ واقعے کے فوری بعد سکیورٹی فورسز اور بلوچستان پولیس نے موقع پر پہنچ کر مشترکہ کلیئرنس آپریشن شروع کیا، کارروائی کے دوران فرار ہونے والے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگا کر مؤثر کارروائی کی گئی، جس میں مزید 10 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔اِسی طرح ان واقعات میں اب تک فتنہ الہندستان سے وابستہ مجموعی طور پر 18 دہشت گرد ہلاک کیے جاچکے ہیں، شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران 2 بہادر جوان بھی زخمی ہوئے۔

*آسٹریلیا میں بھارت کو شکست، باسمتی چاول کے نام پر پاکستان کو بڑی قانونی فتح*“`آسٹریلوی وفاقی عدالت نے باسمتی ورڈ مارک کیس میں بھارتی ادارے اپیڈا کی اپیل خارج کر دی“`

چاغی میں مائننگ سائٹ پر مسلح افراد کا حملہ، 7 ملازمین اغوابلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے ماہیان کور میں مسلح افراد نے نجی مائننگ کمپنی کی سائٹ پر حملہ کرکے قیمتی سامان قبضے میں لے لیا۔ذرائع کے مطابق حملہ آور سات ملازمین کو اپنے ساتھ لے گئے۔ مسلح افراد سائٹ سے گاڑیاں، سولر پلیٹس، موٹر سائیکل اور دیگر سامان بھی لے گئے۔پولیس کے مطابق مغویوں کی بازیابی اور مزید کارروائی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔شکست وہ جو پیچھا نہ چھوڑے۔۔۔ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کا دلچسپ فارمیٹایمسٹرڈیم :ہاکی میں عام طور پر میچ ختم ہوتے ہی اس کا حساب بھی ختم سمجھا جاتا ہے۔ آخری سیٹی بجی، جیتنے والی ٹیم نے پوائنٹس حاصل کیے، ہارنے والی ٹیم نے اگلے میچ کی تیاری شروع کردی۔لیکن ہاکی ورلڈ کپ 2026 میں کہانی کچھ مختلف ہے۔اس بار ممکن ہے ایک میچ ختم ہوجائے، اگلا مرحلہ شروع ہوجائے، مخالف ٹیم کے ساتھ دوبارہ مقابلہ بھی نہ ہو، لیکن پہلے میچ کا نتیجہ پھر بھی آپ کے ساتھ چلتا رہے۔یہی اس عالمی کپ کے نئے فارمیٹ کو دلچسپ بناتا ہے۔ آئیے پہلے پورا فارمیٹ سمجھتے ہیں، پھر پاکستان کے ایک تصوراتی سفر سے جانتے ہیں کہ یہ نظام قومی ٹیم کے لیے کتنا اہم ہوسکتا ہے۔پہلے فارمیٹ سمجھ لیتے ہیںورلڈ کپ میں 16 ٹیمیں شریک ہیں، جنہیں 4 پولز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر پول میں 4 ٹیمیں شامل ہیں۔پاکستان پول ڈی میں بھارت، انگلینڈ اور ویلز کے ساتھ موجود ہے۔ پاکستان پہلے مرحلے میں اپنے پول کی تینوں ٹیموں کے خلاف ایک، ایک میچ کھیلے گا۔یعنی قومی ٹیم کے سامنے پہلے مرحلے میں 3 میچز ہوں گے اور مقصد ہوگا پول کی ٹاپ 2 ٹیموں میں جگہ بنانا۔کیونکہ ہر پول سے صرف پہلی 2 ٹیمیں دوسرے مرحلے میں جائیں گی۔اس طرح پہلے مرحلے کے اختتام پر 16 میں سے 8 ٹیمیں ٹائٹل کی دوڑ میں برقرار رہیں گی، جبکہ باقی 8 ٹیمیں 9ویں سے 16ویں پوزیشن کے لیے کھیلیں گی۔اصل دلچسپ مرحلہ یہاں سے شروع ہوتا ہےاب پہلے مرحلے سے آگے جانے والی 8 ٹیموں کو دوبارہ 2 نئے گروپس میں تقسیم کیا جائے گا۔پول اے اور ڈی سے آنے والی ٹاپ 2،2 ٹیمیں ایک نئے گروپ میں ہوں گی، جبکہ پول بی اور سی کی ٹاپ 2،2 ٹیمیں دوسرے گروپ میں شامل ہوں گی۔ یہاں ہر ٹیم مزید 2 میچز کھیلے گی۔لیکن ایک میچ ایسا ہوگا جو پہلے ہی کھیلا جاچکا ہوگا۔اور یہی اس فارمیٹ کا سب سے دلچسپ نکتہ ہے۔فرض کریں پاکستان پہلے مرحلے میں بھارت کو شکست دے دیتا ہے۔اب اگر پاکستان اور بھارت دونوں اپنے پول کی ٹاپ 2 ٹیموں میں شامل ہوکر دوسرے مرحلے میں پہنچ جاتے ہیں تو دونوں ایک ہی نئے گروپ میں ہوں گے۔لیکن پاکستان اور بھارت دوسرے مرحلے میں دوبارہ ایک دوسرے کے خلاف نہیں کھیلیں گے۔تو پھر پہلے میچ کا کیا ہوگا؟وہ نتیجہ ختم نہیں ہوگا۔پاکستان نے اگر بھارت کو شکست دی تو اس میچ کے پوائنٹس دوسرے مرحلے کی مجموعی پوزیشن میں بھی شمار ہوں گے۔اور اگر پاکستان بھارت سے ہار گیا تو دوبارہ میچ تو نہیں ہوگا، لیکن اس شکست کے کوئی پوائنٹس بھی پاکستان کو نہیں ملیں گے۔یعنی آسان الفاظ میں:یعنی اگلے مرحلے میں مخالف دوبارہ سامنے نہیں آئے گا، لیکن اس کے خلاف پہلے میچ کا نتیجہ ضرور ساتھ آئے گا۔یعنی پاکستان کے دوسرے مرحلے کا حساب صرف ان دو نئے میچز سے نہیں بنے گا،

بلکہ بھارت کے خلاف پہلے مرحلے کا نتیجہ بھی اس میں شامل ہوگا۔اب ذرا منظر بدلیں۔اگر پاکستان بھارت سے ہار گیا اور دونوں ٹیمیں دوسرے مرحلے میں پہنچ گئیں تو پاکستان کو اس شکست کے کوئی پوائنٹس نہیں ملیں گے، لیکن وہ نتیجہ بھی ختم نہیں ہوگا۔یعنی جیت کا فائدہ آگے جائے گا اور شکست کا نقصان بھی حساب میں موجود رہے گا۔لیکن ایک اہم شرط ہےیہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ پاکستان کے پہلے مرحلے کے تینوں میچز کے نتائج دوسرے مرحلے میں نہیں جائیں گے۔صرف اس ٹیم کے خلاف نتیجہ آگے شمار ہوگا جو پاکستان کے ساتھ پہلے مرحلے میں بھی کھیلی ہو اور دوسرے مرحلے میں بھی پاکستان کے ساتھ اسی گروپ میں پہنچ جائے۔ پھر سیمی فائنل کا راستہ؟دوسرے مرحلے کے دونوں گروپس میں سے ٹاپ 2،2 ٹیمیں سیمی فائنل میں پہنچیں گی۔یعنی 8 ٹیموں میں سے صرف 4 ٹیمیں ٹائٹل کی دوڑ میں باقی رہیں گی۔دوسرے مرحلے میں تیسری اور چوتھی پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیمیں 5ویں سے 8ویں پوزیشن کے لیے کھیلیں گی، جبکہ پہلے مرحلے میں تیسری اور چوتھی پوزیشن پر آنے والی 8 ٹیمیں 9ویں سے 16ویں پوزیشن کے لیے مقابلہ کریں گی۔ پاکستان کے لیے اصل امتحان کیا ہے؟یہ فارمیٹ پاکستان کو ایک سادہ سا سبق دیتا ہے وہ یہ کہ پہلے مرحلے میں صرف اگلے مرحلے تک پہنچنا کافی نہیں، بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ آپ کن ٹیموں کے ساتھ اگلے مرحلے میں پہنچتے ہیں اور ان کے خلاف پہلے مرحلے میں کیا نتیجہ حاصل کیا ہے۔کیونکہ ایک جیت آگے چل کر سیمی فائنل کی دوڑ میں فائدہ دے سکتی ہے، جبکہ ایک شکست کا نقصان بھی اگلے مرحلے تک ساتھ رہ سکتا ہے۔اسی لیے پاکستان کے لیے پول ڈی کا ہر میچ اہم ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایران کے سیکریٹری سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میجر جنرل محسن رضائی سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال، سکیورٹی اور اسلامی ممالک کے درمیان تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ایرانی میڈیا کے مطابق محسن نقوی نے ملاقات میں پاکستانی قیادت کا پیغام محسن رضائی تک پہنچایا، جبکہ ایرانی عہدیدار نے موجودہ صورتحال میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔ محسن رضائی نے پاکستانی حکومت، افواج اور عوام کو عالم اسلام کا اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے کی ترقی کے لیے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔محسن رضائی نے بڑے اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران، پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور انڈونیشیا کو اسلامی اتحاد کی جانب قدم بڑھانا چاہیے۔ انہوں نے پاکستان اور ایران کو ایک دوسرے کا اسٹریٹجک پارٹنر قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان مزید سرمایہ کاری کی ضرورت پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام کی پاکستان اور پاکستانی عوام کی ایران کے لیے محبت بے مثال ہے، تاہم پاکستان میں دہش*تگردی کے واقعات ایرانی عوام کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔اس موقع پر محسن نقوی نے محسن رضائی کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں تعیناتی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کا تجربہ اور ذہانت خطے میں پائیدار امن و سلامتی کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں پاک ایران تعلقات ماضی کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہوئے ہیں اور دوطرفہ تعلقات کے استحکام میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کردار کلیدی ہے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved