تازہ تر ین

سپریم کورٹ عمران خان صاحب کی صحت متعلقہ توہین عدالت درخواست دائر ہونے لگے۔۔ حکومت مکمل طور پر ناکام بڑے حادثے کی گونج۔۔۔ایمرجنسی سگنل جاری خلیجی فارس اور آبنائے ھرمز۔اھم ترین شخصیات کو گرفتار کر لیا گیا۔۔ بڑے معاہدے اور عوام کی خودکشیاں۔۔بھارت اور جرمنی کو شکست ھالینڈ اور برطانیہ کی جیت۔۔شاید کچھ روز بعد ہم اسمبلی میں نہ رہیں، آپ کو اپنے اسٹائل کی جمہوریت مبارک ہو، بیرسٹر گوہر، چیئرمین پی ٹی آئی۔۔فضل الرحمٰن نے کہا کہ وزیر اعظم مذاکرات کی دعوت تو دے رہے ہیں لیکن تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے اور ’یہاں ایک ہی ہاتھ ہے جو قوم کے چہرے پر تھپڑ مارتا ہے اور تھپڑ کی گونج جمھوریت کے نام پر سیاسی جماعتوں کو گھنوھا کھیل جاری۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

اصل گیم اب شروع ہوا ہے ، Pti اٹھائیسویں ترمیم کے حق میں ووٹ دینے پر آمادہ ہوگئی ہے ، کراچی اور گوادر وفاق کے پاس چلا جائیگا ، ووٹ حاصل کرنے کیلئے جاری کیگئی بےنظیر انکم سپورٹ والی آٹھ سو ارب کی بھیک بھی ختم ہوگی ، اس پیسے سے عام عوام کو بجلی اور پٹرول کی مد میں ریلیف ملے گا _اس کے بدلے میں عمران خان کو بنی گالہ شفٹ کر کے پارٹی کی کمان اکبر ایس بابر کے حوالے کی جائیگی ، مطلب پپلے جدے گئے نہ گئے یدے ضرور گئے 😜

2005/2006 کی بات ہے میر پور (کشمیر) پولیس ایک کیس میں گجر خان (راولپنڈی) سے ایک گھر کی چھ سات لڑکیاں/خواتین کو اٹھا کر لے گئی اور بغیر کسی مقدمے یا مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیے دس بارہ دن سے تھانے کے ایک کمرے میں قید کر رکھا تھا۔ ان خواتین کے ساتھ ایک بارہ تیرہ سالہ لڑکی بھی تھی۔ پولیس کا کہنا تھا ان کا نوجوان مرد ایک سنگین کیس میں مطلوب تھا جب تک وہ سرنڈر نہیں کرے گا ان خواتین کو رہا نہیں کیا جائے گا۔ میں نے رات کے دس گیارہ بجے ایک اخبار میں سنگل کالم خبر پڑھی تو مجھ سے کھانا نہ کھایا گیا کہ دس بارہ دن سے وہ تھانے میں قید ہیں اور گھر کا مرد بھاگا ہوا ہے۔پاکستان میں ہم مردوں کے کرتوتوں کا خیمازہ گھر کی خواتین اور بچے ہی ادا کرتے ہیں۔

پہلا ظلم گھر کے مرد کوئی جرم کر کے اپنی عورتوں پر کرتے ہیں جنہیں کچھ علم نہیں ہوتاکہ ان کے مرد باہر کیا وارداتیں کرتے پھرتے ہیں اور اچانک پولیس انہیں مارپیٹ کرتے گالیاں دیتی گھسیٹی لے جاتی ہے تو دوسرا ظلم یہ وردی پہنے قانون کے مرد محافظ کرتے ہیں۔ خیر وہ لمبی اسٹوری ہے کہ اگلے دن میں میرپور گیا۔ بڑی مشکل سے چھپ چھپا کر کسی بندے کی مدد سے تھانے میں ان خواتین سے بات چیت کی۔ ان کی حالت زار دیکھ کر کانپ گیا۔ تھانے کے کمرے سے دور سے ہی شدید بو آرہی تھی جہاں وہ قید تھیں۔ ایک کمرے میں دس بارہ دن سے قید ۔۔ نہ نہانے کو پانی نہ عورتوں کی مخصوص ضروریات کی فراہمی۔۔ اوپر سے انہوں نے بتایا کچھ پولیس والوں ان خواتین پر روز تشدد بھی کرتے تھے۔ خیر میں نے اسلام آباد پہنچ کر دی نیوز میں پوری دردناک اسٹوری لکھی تو سینٹ کا اجلاس تھا جس میں چند ارکان نے معاملہ اٹھا دیا۔ بڑا رولا پڑ گیا۔ اس خبر کے چھپنے پر میر پور پولیس کے ڈی ایس پی نے میرے خلاف پرچہ درج کرا دیا کہ یہ صحافی بھی ملزمان کا ساتھی ہے۔ اگلے دن سینٹ میں میرے خلاف مقدمے پر مزید رولا پڑ گیا۔

اس وقت کے وزیرمملکت برائے داخلہ ڈاکٹر وسیم شہزاد کا اللہ بھلا کرے ایکشن میں آئے اور آزادکشمیر حکومت سے رابطہ کیا اور فورا خواتین کو رہا کرایا گیا۔ اور انہی پولیس والوں کے خلاف مقدمہ درج ہوا جنہوں نے خواتین کو اغوا کیا تھا اور میرے خلاف ایف آئی ار دی تھی۔ اس وقت ایک ڈی ایس پی نے بھی یہی بیان جاری کیا تھا کہ اس رپورٹر کی کیا ذاتی انڑیسٹ تھی۔ویسے ہی یہ بیس سالہ پرانا واقعہ یاد آیا جب آج کل ملتان ہوٹل پولیس کیس میں میرے ملتانی مہربان سوالات اٹھا رہے ہیں کہ اسلام آباد کے صحافی کا اس کیس میں یقینا ذاتی انڑیسٹ ہوسکتا ہے۔۔ کچھ نے تو ہوٹل میں میری پارٹنرشپ کا بھی دعوی کر دیا ہے۔ کچھ کہ رہے ہیں میں ہر دفعہ ملتان جا کر مفت وہاں ٹھہرتا ہوں۔۔ کچھ نے تو ایسے ایسے خوبصورت فوائد کی طویل فہرست چھاپی ہے جنہیں پڑھ کر تو میرے اپنے منہ میں پانی آگیا ہے۔ میں خود بھی اس طرح کی خبریں/اسٹوریز بریک اور طاقتور طبقات سے سینگ اڑانے اور پھڈے کرنے کے بعد ہر دفعہ اپنے خلاف چلنے والی ذاتی مہم کے بعد خود سے ضرور پوچھتا ہوں یار ویسے میرا اس کیس میں کیا ذاتی انٹریسٹ ہوسکتا ہے۔۔؟ تحریر/رئوف کلاسرا

ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی فضائیہ کے نگرانی کرنے والے طیارے نے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے قریب پرواز کے دوران ایمرجنسی سگنل جاری کیا جس کے بعد وہ اس علاقے سے اچانک غائب ہوگیا۔رپورٹ کے مطابق ایمرجنسی سگنل سامنے آنے کے بعد خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں طیارے کو ممکنہ طور پر انٹرسیپٹ یا حم*لے کا سامنا ہونے سے متعلق قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں تاہم ابھی تک کسی امریکی یا دیگر حکام نے طیارے پر حم*لے نقصان یا مار گرائے جانے کی تصدیق نہیں کی۔

سینیٹ سیکریٹریٹمیڈیا ڈائریکٹوریٹپریس ریلیزچیئرمین سینیٹ کا ملائیشیا کے وزیر داخلہ کا خیرمقدم، پاک ملائیشیا تعلقات مزید مستحکم بنانے پر زوراسلام آباد، 21 اگست 2026ء: ملائیشیا کے وزیر داخلہ داتوک سری سیف الدین نصر بن اسماعیل نے وفد کے ہمراہ آج پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران چیئرمین سینیٹ نے ملائیشیا کے وزیر داخلہ کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تاریخی، برادرانہ اور دوستانہ تعلقات مشترکہ مذہبی، ثقافتی اور تاریخی اقدار اور عوامی سطح پر مضبوط روابط پر استوار ہیں۔چیئرمین سینیٹ نے ملائیشیا کے ساتھ اپنی دیرینہ وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مختلف حیثیتوں میں ملائیشیا کے متعدد دورے کیے، جن میں سابق وزیراعظم، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور موجودہ چیئرمین سینیٹ کی حیثیت سے دورے شامل ہیں۔ انہوں نے اپنے حالیہ دورۂ ملائیشیا کا بھی ذکر کیا، جہاں انہوں نے گلوبل مسلم بزنس فورم میں شرکت کی اور انہیں فورم کا سرپرستِ اعلیٰ مقرر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے روابط نے دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔سید یوسف رضا گیلانی نے انٹر پارلیمانی اسپیکرز کانفرنس (ISC) کے ساتھ اپنی وابستگی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ملائیشیا کے ایوان نمائندگان کے اسپیکر عزت مآب داتو سری جوہری عبداللہ کی جانب سے انہیں آئی ایس سی کے بانی چیئرمین کے منصب کے لیے نامزد کیا جانا قابلِ تحسین ہے۔چیئرمین سینیٹ نے ملائیشیا میں مقیم پاکستانی طلبہ اور پاکستانی کمیونٹی کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس وقت تقریباً 5 ہزار پاکستانی طلبہ ملائیشیا کی جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملائیشیا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی دونوں ممالک کے درمیان ایک قیمتی پل کی حیثیت رکھتی ہے اور ملائیشیا کی معاشی و سماجی ترقی میں مثبت کردار ادا کر رہی ہے۔وزیراعظم ملائیشیا داتو سری انور ابراہیم کے 2024ء میں پاکستان کے دورے اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کے 2025ء میں ملائیشیا کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ اعلیٰ سطحی دوروں کے مسلسل تبادلے سے پاک ملائیشیا تعلقات کو نئی تقویت ملی ہے۔ انہوں نے ملائیشیا کے وزیر داخلہ کے دورۂ پاکستان کو دونوں برادر ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی روابط کے تسلسل میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔چیئرمین سینیٹ نے ملائیشیا کے معزز بادشاہ اور ملکہ کو پاکستان کے دورے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام ان کی آمد کے منتظر ہیں۔ انہوں نے ملائیشیا کے وزیر خارجہ کے جلد پاکستان کے دورے اور مشترکہ وزارتی کمیشن کے آئندہ اجلاس کے جلد انعقاد کی امید بھی ظاہر کی۔چیئرمین سینیٹ نے ملائیشیا کے وزیر داخلہ کے دورۂ پاکستان کے دوران قیدیوں کی بین الاقوامی منتقلی سے متعلق معاہدے پر دستخط کا خیرمقدم کیا اور فوجداری معاملات میں باہمی قانونی معاونت کے معاہدے پر مزید پیش رفت کی امید ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات دونوں ممالک کے درمیان ادارہ جاتی اور قانونی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہیں۔اقتصادی تعاون کے حوالے سے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان بہترین سیاسی تعلقات کو تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری سطح پر تعاون میں مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کو غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ون ونڈو پلیٹ فارم قرار دیتے ہوئے ملائیشین سرمایہ کاروں کو پاکستان میں دستیاب سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔انہوں نے پاکستان کے اہم جغرافیائی محلِ وقوع کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ملائیشین کاروباری اداروں کے لیے افغانستان، وسطی ایشیا اور مغربی چین تک رسائی کا دروازہ بن سکتا ہے، جس سے علاقائی رابطوں، تجارت اور اقتصادی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔چیئرمین سینیٹ نے سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں تعاون کے وسیع امکانات پر بھی زور دیا اور کہا کہ ملائیشیا نے اس شعبے میں نمایاں ترقی کی ہے، جبکہ پاکستان بھی اس شعبے میں باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو فروغ دینے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔پاکستان کی نوجوان آبادی کا ذکر کرتے ہوئے سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ملک کی تقریباً 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو انسانی وسائل کا ایک بڑا اور باصلاحیت ذخیرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ملائیشیا کی افرادی قوت کی ضروریات پوری کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے، بالخصوص سیکیورٹی گارڈز سمیت مختلف شعبوں میں پاکستانی افرادی قوت ملائیشیا کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔چیئرمین سینیٹ نے پاک ملائیشیا دفاعی تعاون میں ہونے والی مسلسل پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان دفاعی پیداوار کے شعبے میں تعاون مزید بڑھانے اور ملائیشیا کی ضروریات کے مطابق دفاعی سازوسامان اور اسلحہ فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ملائیشیا کے وزیر داخلہ نے پاکستان کی جانب سے پرتپاک میزبانی کو سراہا اور دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ملائیشیا کے عزم کا اعادہ کیا۔ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان دوستی اور تعاون کو مزید گہرا اور مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا، جس میں پارلیمانی، سیاسی، اقتصادی، تعلیمی، دفاعی اور عوامی سطح کے روابط کو مزید فروغ دینا شامل ہے۔ملاقات میں سینیٹ میں قائد حزب اختلاف، مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے پارلیمانی رہنماؤں اور وزیر مملکت برائے داخلہ نے بھی شرکت کی۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved