
*ٹھٹھہ میں بجلی کے تاروں سے ٹریکٹر ٹرالی ٹکرا گئی، 6 افراد جاں بحق*ٹھٹھہ: پیر جو گوٹھ کے قریب ٹریکٹر ٹرالی بجلی کے تاروں سے ٹکرا گئی، کرنٹ لگنے سے ٹریکٹر ٹرالی میں سوار ایک خاتون سمیت 6 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد مزدور تھے اور چاول کی فصل کاٹ کر اپنے گھروں کو جا رہے تھے۔

مکہ دفاعی معاہدہ: سعودی کشیدگی کے بعد پاکستان کا عسکری مؤقف واضح، فوری فوجی کارروائی زیرِبحث نہیںاسٹریٹجک افیئرز ڈیسک | 10 ستمبر 2026اسلام آباد — سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان نے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت فوری فوجی ردِعمل کے حوالے سے اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت اسلام آباد میں کسی فوجی کارروائی پر بات چیت نہیں ہو رہی۔پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ مکہ معاہدے کے تحت فی الحال کسی فوجی ردِعمل پر کوئی بحث نہیں ہو رہی، تاہم پاکستان معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار نہیں ہوا۔ ترجمان نے کہا کہ جب کارروائی کا وقت آئے گا تو پاکستان معاہدے کے تحت اقدام کرے گا۔یہ وضاحت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں میں اضافے اور یمن کے تنازع کے سعودی سرزمین تک پھیلنے کے خدشات نے مکہ دفاعی معاہدے کے عملی اطلاق کے بارے میں سوالات پیدا کر دیے ہیں۔اس سے قبل پاکستانی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے بھی اس امر کی جانب اشارہ کیا تھا کہ اگر یمن کی جنگ سعودی عرب کے خلاف براہِ راست فوجی خطرے میں تبدیل ہوتی ہے تو مکہ معاہدے کے دفاعی میکنزم زیرِعمل آ سکتے ہیں۔ تاہم وزارتِ خارجہ کی تازہ وضاحت سے یہ تاثر کم ہوا ہے کہ پاکستان نے فوری طور پر کسی فوجی مداخلت یا تعیناتی کا فیصلہ کر لیا ہے۔مکہ معاہدے کی دفاعی اہمیتپاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے گزشتہ ماہ مکہ میں ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کا بنیادی تصور یہ ہے کہ کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں ممالک کے مشترکہ دفاع کے تناظر میں دیکھا جائے گا۔تاہم معاہدے کے سیاسی اعلان اور اس کے مکمل فوجی آپریشنلائزیشن میں فرق ہے۔ مشترکہ کمانڈ، رابطہ کاری، انٹیلی جنس تعاون، قواعدِ کار، دفاعی منصوبہ بندی اور عملی ردِعمل کے طریقۂ کار جیسے عناصر کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔31

اگست کو استنبول میں مکہ معاہدے سے متعلق Strategic Political and Defence Committee کے پہلے اجلاس میں تینوں ممالک نے مشترکہ دفاعی صلاحیت، دفاعی ہم آہنگی، عسکری تعاون، اجتماعی بازداریت اور دفاعی صنعت میں تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا تھا۔اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاہدہ محض ایک سیاسی اعلامیے تک محدود رکھنے کے بجائے بتدریج ایک ادارہ جاتی اور دفاعی فریم ورک میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔سعودی عرب پر حوثی حملے اور پاکستان کا محتاط ردِعملحالیہ کشیدگی میں یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے حملوں نے خلیجی سلامتی کے خدشات میں اضافہ کیا ہے۔ حوثی تحریک کو ایران کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے والے ایک مسلح گروپ کے طور پر دیکھا جاتا ہے، تاہم کسی بھی فوجی یا سیاسی دعوے کو اس کے دستیاب شواہد اور سرکاری بیانات کے مطابق ہی بیان کرنا ضروری ہے۔سعودی عرب نے اپنی سرزمین اور اہم تنصیبات کے دفاع کو اولین ترجیح قرار دیا ہے، جبکہ یمن میں فوجی کارروائیوں کے باعث تنازع کے مزید پھیلنے کا خطرہ برقرار ہے۔اسی وسیع تر سفارتی تناظر میں پاکستان نے ایران کو سعودی تحفظات سے آگاہ کرنے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطہ کاری بھی کی ہے۔ اسلام آباد کا یہ کردار اس کی روایتی پالیسی کے مطابق ہے، جس میں ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ اس کے دفاعی اور اسٹریٹجک تعلقات برقرار رکھنا اور دوسری طرف ایران کے ساتھ کشیدگی کو براہِ راست محاذ آرائی میں تبدیل ہونے سے روکنا شامل ہے۔فوری جنگی شمولیت کیوں نہیں؟پاکستان کی تازہ وضاحت کو فوری فوجی مداخلت سے گریز کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، لیکن اسے مکہ معاہدے سے پسپائی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔معاہدے کی موجودہ حیثیت میں تین سطحیں الگ رکھنا ضروری ہیں:اول: سیاسی اور دفاعی عزم؛دوم: مشترکہ دفاعی ادارہ جاتی میکنزم کی تشکیل؛سوم: کسی مخصوص حملے کے جواب میں عملی فوجی کارروائی۔پاکستان نے پہلی سطح کے عزم کی تردید نہیں کی۔ وزارتِ خارجہ کا بیان بنیادی طور پر تیسری سطح، یعنی فوری فوجی ردِعمل کے حوالے سے تھا۔اس لیے اسلام آباد کا موجودہ مؤقف بیک وقت دو پیغامات دیتا ہے: پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے اپنے عزم سے پیچھے نہیں ہٹ رہا، لیکن ہر حوثی حملے کو فوری طور پر تین ملکی مشترکہ فوجی کارروائی میں تبدیل کرنے کا فیصلہ بھی نہیں کیا گیا۔اسٹریٹجک جائزہاسٹریٹجک افیئرز ڈیسک کا تجزیہ: پاکستان کا محتاط مؤقف مکہ دفاعی معاہدے کی ابتدائی عملی تشکیل کے مرحلے سے مطابقت رکھتا ہے۔ معاہدہ اگرچہ اجتماعی دفاع کا سیاسی و دفاعی فریم ورک فراہم کرتا ہے، لیکن اس کے تحت کسی مخصوص حملے پر خودکار فوجی کارروائی کے لیے عملی طریقۂ کار، مشترکہ کمانڈ و رابطہ کاری اور سیاسی فیصلے کے مراحل اہم ہوں گے۔لہٰذا موجودہ صورتِ حال میں اسلام آباد کا پیغام یہ معلوم ہوتا ہے کہ مکہ معاہدہ فعال سیاسی و دفاعی عزم رکھتا ہے، مگر فوری فوجی تعیناتی یا جنگی کارروائی کا فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔

یہ بھی ممکن ہے کہ پاکستان بیک وقت تین مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہو: سعودی عرب کو دفاعی یقین دہانی، ایران کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی سے گریز، اور نئے مکہ دفاعی ڈھانچے کو کسی ابتدائی بحران میں قبل از وقت عسکری تصادم میں تبدیل ہونے سے روکنا۔تاہم یہ ایک تجزیاتی تشریح ہے، پاکستانی حکومت کی جانب سے بیان کردہ باقاعدہ وجہ نہیں۔نتیجہمکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے پاکستان کی تازہ وضاحت کو پسپائی کے بجائے فوری فوجی کارروائی سے متعلق احتیاط کے طور پر پڑھنا زیادہ درست ہوگا۔اسلام آباد نے ایک طرف یہ واضح کیا ہے کہ فی الحال سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں کے جواب میں مکہ معاہدے کے تحت کسی فوجی کارروائی پر غور نہیں ہو رہا، جبکہ دوسری جانب یہ دروازہ بھی کھلا رکھا ہے کہ حالات معاہدے کے دفاعی میکنزم کو فعال کرنے کی سطح تک پہنچے تو پاکستان اپنے وعدوں کے مطابق اقدام کرے گا۔یوں موجودہ بحران مکہ دفاعی معاہدے کے لیے اس کا پہلا بڑا سیاسی اور ممکنہ طور پر عملی امتحان بن چکا ہے، جبکہ تینوں ممالک ابھی اس نئے دفاعی فریم ورک کو مکمل عسکری صلاحیت اور واضح آپریشنل میکنزم میں تبدیل کرنے کے مرحلے میں ہیں۔

حوثیوں کا المخا پر قبضہ، باب المندب پر دباؤ میں خطرناک اضافہاسٹریٹجک افیئرز ڈیسک | 10 ستمبر 2026یمن میں حوثی تحریک انصار اللہ اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی افواج کے درمیان لڑائی میں نمایاں شدت آگئی ہے۔ حوثی فورسز نے بحیرۂ احمر کے اہم ساحلی شہر المخا (Mocha/Mokha) پر قبضہ کر لیا ہے، جس سے انہیں تزویراتی آبنائے باب المندب کے قریب مزید اہم زمینی پوزیشن حاصل ہوگئی ہے۔رائٹرز نے یمنی حکومت کے تین ذرائع کے حوالے سے المخا پر حوثیوں کے قبضے کی تصدیق کی، جبکہ چار یمنی فوجی ذرائع کے مطابق حوثی افواج باب المندب کے اطراف میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کی پیش قدمی میں المخا کے علاوہ ذباب (Dhubab) اور ساحلی علاقوں کی جانب دباؤ بھی شامل ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) کے مطابق المخا پر حوثیوں کا قبضہ 2022 کی جنگ بندی کے بعد ان کی سب سے بڑی علاقائی کامیابیوں میں شمار ہوتا ہے۔ AP نے حوثی سیاسی بیورو کے رکن حزام الاسد اور حکومت نواز نیشنل ریزسٹنس فورسز کے کمانڈر احمد باش کے حوالے سے بھی قبضے کی تصدیق کی۔باب المندب: اصل عسکری اہمیتالمخا بحیرۂ احمر کے جنوبی حصے میں واقع ایک اہم بندرگاہی شہر ہے اور باب المندب سے تقریباً 80 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ باب المندب بحیرۂ احمر کو خلیج عدن سے ملاتا ہے اور عالمی تجارت و توانائی کی ترسیل کے لیے اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔ AP کے مطابق اس راستے سے عالمی تیل اور دیگر اشیا کی تقریباً 12 فیصد ترسیل وابستہ رہی ہے، جبکہ دیگر اندازوں میں عالمی بحری تجارت کا تقریباً 10 فیصد اس خطے سے منسلک بتایا جاتا ہے۔اس لیے المخا پر قبضہ خود باب المندب پر قبضہ نہیں، تاہم اس سے حوثیوں کو آبنائے کے شمالی approaches، ساحلی نقل و حرکت اور بحیرۂ احمر کی جہازرانی پر دباؤ بڑھانے کے لیے زیادہ مضبوط پوزیشن مل سکتی ہے۔عسکری صورتِ حالحالیہ پیش قدمی ایک وسیع تر حوثی offensive کا حصہ دکھائی دیتی ہے، جس کا مقصد یمن کے مغربی ساحل پر اپنا کنٹرول وسیع کرنا اور باب المندب کے قریب تزویراتی گہرائی حاصل کرنا ہے۔ رائٹرز کے مطابق حوثی پیش قدمی کے نتیجے میں سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز کو بعض ساحلی علاقوں میں پسپائی یا ازسرنو صف بندی کرنا پڑی ہے۔حکومت نواز فورسز نے المخا کے جنوب میں نیا کمانڈ سینٹر قائم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے،

جو اس بات کی علامت ہے کہ وہ ساحلی محاذ پر دفاعی لائن کو دوبارہ منظم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔دوسری جانب سعودی عرب نے حوثی اہداف کے خلاف فضائی کارروائیاں تیز کی ہیں، جبکہ حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں نے سعودی تنصیبات اور خطے کے وسیع تر سکیورٹی ماحول پر دباؤ بڑھایا ہے۔اس پیش رفت کے ممکنہ اسٹریٹجک اثرات1۔ باب المندب پر دباؤ:المخا، ذباب اور دیگر ساحلی مقامات پر حوثی کنٹرول مضبوط ہونے کی صورت میں باب المندب کے شمالی approaches پر ان کی عسکری نگرانی اور حملہ آور صلاحیت بڑھ سکتی ہے۔2۔ بحیرۂ احمر کی جہازرانی:حوثیوں کی ساحلی پوزیشن مضبوط ہونے سے تجارتی جہازوں کے لیے خطرے کی سطح بڑھ سکتی ہے، خصوصاً اگر میزائل، ڈرون یا سمندری حملوں کی کارروائیاں دوبارہ وسیع پیمانے پر شروع ہوتی ہیں۔3۔ عالمی توانائی کی سپلائی:باب المندب اور آبنائے ہرمز دونوں کے گرد بیک وقت کشیدگی عالمی توانائی منڈی کے لیے غیر معمولی خطرہ پیدا کر سکتی ہے۔ موجودہ علاقائی بحران کے باعث باب المندب کی اہمیت پہلے ہی بڑھ چکی ہے۔4۔ سعودی عرب پر اضافی دباؤ:سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز کے لیے مغربی ساحل کا دفاع مزید اہم ہوگیا ہے، کیونکہ حوثیوں کی ساحلی پیش قدمی سعودی عرب کے بحیرۂ احمر سے متعلق سلامتی اور توانائی کے مفادات کو متاثر کر سکتی ہے۔5۔ یمن میں جنگ بندی کا خاتمہ:2022 سے بڑی سطح کی لڑائی نسبتاً محدود رکھنے والی غیر رسمی جنگ بندی اب شدید دباؤ میں ہے۔ موجودہ لڑائی اگر شمال، تعز، الحدیدہ اور مغربی ساحل کے مختلف محاذوں سے جڑ گئی تو یمن دوبارہ وسیع پیمانے کی جنگ کی طرف جا سکتا ہے۔بین الاقوامی تشویشاقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پہلے ہی یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں، بحیرۂ احمر میں جہازرانی کے خطرات اور خطے میں وسیع ہوتی کشیدگی پر متعدد اجلاسوں میں بحث کر چکی ہے۔ حالیہ UN ریکارڈ میں باب المندب، تجارتی جہازرانی اور حوثی حملوں کو علاقائی سلامتی کے بڑے خدشات میں شمار کیا گیا ہے۔اہم تصحیح: 10 ستمبر 2026 کے لیے اقوام متحدہ کے سرکاری Security Council پروگرام میں الگ “یمن ہنگامی اجلاس” درج نہیں ہے؛ اس روز Military Staff Committee کا اجلاس درج ہے۔ لہٰذا موجودہ خبر میں یہ دعویٰ شامل کرنا کہ “سلامتی کونسل آج جمعرات کو یمن پر ہنگامی اجلاس کر رہی ہے” مزید آزاد تصدیق کے بغیر مناسب نہیں۔عسکری جائزہالمخا پر قبضہ حوثیوں کے لیے محض ایک مقامی علاقائی کامیابی نہیں بلکہ بحیرۂ احمر کے جنوبی ساحلی محاذ پر ایک اہم تزویراتی پیش رفت ہے۔ تاہم اسے باب المندب پر براہِ راست قبضہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔اصل خطرہ اس وقت پیدا ہوگا جب حوثی فورسز المخا → ذباب → باب المندب/پیریم کے محور پر مسلسل پیش قدمی، ساحلی میزائل و ڈرون صلاحیت، اور سمندری نگرانی کو ایک مربوط عسکری نظام میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔ایسی صورت میں حوثیوں کے پاس عالمی جہازرانی پر براہِ راست اثر ڈالنے، سعودی عرب کے بحیرۂ احمر کے مفادات کو دباؤ میں رکھنے اور علاقائی طاقتوں کو ایک نئے بحری محاذ میں کھینچنے کی صلاحیت بڑھ سکتی ہے۔نتیجہ:المخا کا سقوط باب المندب کا سقوط نہیں، لیکن باب المندب کی طرف حوثی پیش قدمی کے لیے ایک اہم آپریشنل قدم ضرور ہے۔ موجودہ صورتحال کا اگلا فیصلہ کن مرحلہ ذباب، ساحلی کوریڈور اور باب المندب کے شمالی approaches پر حکومت نواز فورسز کی دفاعی صلاحیت اور حوثیوں کی مزید پیش قدمی پر منحصر ہوگا۔

د. لبنى فرح الجزائر نے متحدہ عرب امارات سے سفارتی تعلقات منقطع کر دیے، اماراتی سفیر کو 48 گھنٹے کی مہلتاسٹریٹجک افیئرز ڈیسک | 10 ستمبر 2026الجزائر — الجزائر نے جمعرات کو متحدہ عرب امارات کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات باضابطہ طور پر منقطع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اماراتی سفیر کو ملک چھوڑنے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دے دی۔ الجزائر کی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات برقرار رکھنے کے لیے دستیاب تمام سفارتی ذرائع استعمال کیے جانے کے بعد کیا گیا۔الجزائری حکومت نے امارات کی بعض کارروائیوں کو ’’اشتعال انگیز یا معاندانہ‘‘ قرار دیا، تاہم سرکاری بیان میں ان کارروائیوں کی تفصیلی نوعیت یا کسی ایک مخصوص واقعے کو فوری طور پر اس فیصلے کی واحد وجہ قرار نہیں دیا گیا۔ Reuters اور Associated Press کے مطابق الجزائر نے کہا کہ اس نے تعلقات کو برقرار رکھنے کے لیے تمام ممکنہ سفارتی راستے استعمال کر لیے تھے۔سفیر کو باضابطہ طور پر فیصلے سے آگاہ کیا گیاالجزائر کی وزارتِ خارجہ نے اماراتی سفیر کو طلب کرکے انہیں حکومت کے فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا۔ سفیر کو 48 گھنٹے کے اندر الجزائر سے روانہ ہونے کی ہدایت کی گئی، جو اس بحران کی غیر معمولی شدت کی علامت ہے۔یہ اقدام محض سفارتی احتجاج یا سفیر کی عارضی واپسی سے کہیں آگے ہے۔ سفارتی تعلقات منقطع ہونے کے بعد دونوں ریاستوں کے درمیان معمول کے سرکاری رابطوں، سفارتی نمائندگی اور دوطرفہ سیاسی مشاورت کا موجودہ ڈھانچہ شدید متاثر ہوگا۔بحران اچانک پیدا نہیں ہواالجزائر اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات گزشتہ عرصے میں بتدریج کشیدہ ہوتے رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات صرف دوطرفہ سطح تک محدود نہیں رہے بلکہ مغربی صحارا، شمالی افریقہ، ساحل خطے اور مشرقِ وسطیٰ کے مختلف علاقائی معاملات پر دونوں حکومتوں کے نقطۂ نظر میں نمایاں فرق بھی موجود رہا ہے۔Reuters کے مطابق الجزائر متحدہ عرب امارات اور مراکش کے بعض علاقائی مؤقف سے مختلف پوزیشن رکھتا ہے،

خصوصاً مغربی صحارا کے معاملے میں الجزائر Polisario Front کی حمایت کرتا ہے، جبکہ ابوظبی مراکش کے مؤقف کی حمایت کرتا ہے۔ اسی طرح دونوں ممالک کی بعض علاقائی پالیسیوں میں بھی اختلافات رہے ہیں۔فضائی معاہدے پر پہلے ہی اختلاف سامنے آ چکا تھاتعلقات میں خرابی کا ایک اہم اشارہ اس وقت سامنے آیا جب الجزائر نے فروری 2026 میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ فضائی خدمات کے معاہدے کو منسوخ کرنے کا عمل شروع کیا۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی ایک نمایاں علامت سمجھا گیا۔تاہم موجودہ فیصلے کو صرف ایک معاہدے یا ایک واقعے کا نتیجہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ الجزائر کے تازہ سرکاری مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ فیصلہ ایک طویل سفارتی تناؤ اور بار بار کی تنبیہات کے بعد کیا گیا۔الجزائر کا مؤقف: سفارتی گنجائش ختم ہو چکی تھیالجزائری وزارتِ خارجہ کے مطابق حکومت نے طویل عرصے تک تحمل کا مظاہرہ کیا اور دوطرفہ تعلقات کو برقرار رکھنے کے لیے متعدد سفارتی کوششیں کیں، مگر اس کے مطابق اماراتی جانب سے مبینہ طور پر ’’اشتعال انگیز یا معاندانہ‘‘ اقدامات کا سلسلہ جاری رہا۔الجزائر کا کہنا ہے کہ ان حالات میں تعلقات کو معمول کے مطابق برقرار رکھنا مزید ممکن نہیں رہا۔یہ فیصلہ علاقائی سیاست کے لیے کیوں اہم ہے؟الجزائر شمالی افریقہ کی ایک بڑی فوجی، سیاسی اور توانائی کی طاقت ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات خلیجی خطے کی ایک اہم اقتصادی اور سفارتی ریاست ہے۔ دونوں کے درمیان مکمل سفارتی قطع تعلق عرب دنیا کے اندر موجود علاقائی صف بندیوں اور پالیسی اختلافات کو مزید نمایاں کرتا ہے۔اس فیصلے کے ممکنہ اثرات تین بڑے دائروں میں دیکھے جا سکتے ہیں:اول، شمالی افریقہ:الجزائر اور مراکش کے درمیان مغربی صحارا کا تنازع پہلے ہی خطے میں ایک بنیادی جغرافیائی سیاسی تقسیم پیدا کر چکا ہے۔ امارات کا مراکش کے ساتھ قریبی تعلق اور الجزائر کا Polisario کے لیے حمایت پر مبنی مؤقف اس وسیع تر کشمکش کو مزید حساس بناتا ہے۔دوم، ساحل اور افریقی سیاست:الجزائر اپنے جنوبی پڑوسیوں اور ساحل خطے میں سلامتی اور سیاسی استحکام کے معاملات کو اپنی قومی سلامتی کا اہم حصہ سمجھتا ہے۔ ابوظبی بھی افریقہ میں وسیع سفارتی، اقتصادی اور تجارتی روابط رکھتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اس خطے میں ان کے باہمی مفادات کے تصادم کو مزید نمایاں کر سکتی ہے۔سوم، عرب سفارتی نظام:یہ اقدام اس سوال کو بھی دوبارہ نمایاں کرتا ہے کہ عرب ریاستیں علاقائی بحرانوں، مداخلت کے الزامات اور متضاد خارجہ پالیسیوں کے باعث کس حد تک ایک دوسرے سے دور جا رہی ہیں۔تاہم ایک اہم احتیاطموجودہ مرحلے پر یہ کہنا کہ الجزائر اور امارات کے درمیان تمام اقتصادی، تجارتی، فضائی اور دیگر معاہدے خودکار طور پر ختم ہو گئے ہیں درست نہیں ہوگا۔ سفارتی تعلقات منقطع کرنا اور ہر دوطرفہ معاہدے کو بیک وقت ختم کرنا الگ قانونی و انتظامی اقدامات ہیں۔اسی طرح الجزائر کے سرکاری بیان میں کسی مخصوص ملک، تنظیم یا ایک واحد واقعے کو تعلقات منقطع کرنے کی واحد وجہ قرار نہیں دیا گیا۔ اس لیے اس فیصلے کو کسی ایک متنازع علاقائی فائل سے براہِ راست جوڑنے کے بجائے وسیع تر اور طویل مدتی سفارتی بحران کے تناظر میں دیکھنا زیادہ محتاط تجزیہ ہوگا۔اماراتی ردِعمل پر نظراس وقت تک سامنے آنے والے اماراتی سرکاری بیانات میں الجزائر کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کے فیصلے پر تفصیلی جوابی اعلان سامنے نہیں آیا۔ متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے 8 ستمبر کو ایک الگ بیان میں میڈیا رپورٹس اور حکومتی رہنماؤں کے درمیان مبینہ مذاکرات سے متعلق قیاس آرائیوں پر تبصرہ نہ کرنے کا مؤقف اختیار کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کی پالیسی علاقائی کشیدگی کم کرنے اور استحکام کے فروغ پر مرکوز ہے۔تجزیہالجزائر کا یہ اقدام معمول کا سفارتی احتجاج نہیں بلکہ دوطرفہ تعلقات میں ایک انتہائی سنگین بریک پوائنٹ ہے۔ 48 گھنٹے کی مہلت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ الجزائر نے معاملے کو طویل سفارتی مشاورت کے مرحلے سے نکال کر عملی فیصلہ سازی کے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔تاہم اگلا مرحلہ زیادہ اہم ہوگا: آیا دونوں ممالک سفارتی تعلقات کی مکمل بحالی کی طرف کبھی واپس آتے ہیں، یا موجودہ بحران وسیع تر علاقائی صف بندیوں کا مستقل حصہ بن جاتا ہے۔فی الحال سب سے محتاط نتیجہ یہی ہے کہ الجزائر نے متحدہ عرب امارات کو ایک سخت اور غیر معمولی سفارتی پیغام دیا ہے، لیکن اس فیصلے کے مکمل علاقائی، اقتصادی اور سلامتی کے اثرات آنے والے دنوں میں زیادہ واضح ہوں گے۔
ایران کا نیا مالیاتی محاذ؛ چین کے ساتھ خفیہ بارٹر نظام کے ذریعے امریکی پابندیوں کو بائی پاس کرنے کی کوششاسٹریٹجک افیئرز ڈیسک | 10 ستمبر 2026تہران نے امریکی پابندیوں اور بین الاقوامی مالیاتی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے چین کے ساتھ ایک متبادل تجارتی و مالیاتی نظام کو وسعت دی ہے، جس کے تحت ایرانی تیل سے پیدا ہونے والی مالیت کو روایتی بین الاقوامی بینکاری نظام سے گزارنے کے بجائے چینی مصنوعات، خدمات اور ایران میں جاری منصوبوں کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔رائٹرز کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، یہ طریقۂ کار ایران کو امریکی پابندیوں کے سب سے اہم ہدف، یعنی بین الاقوامی مالیاتی لین دین، سے جزوی طور پر دور رہتے ہوئے چین سے ضروری درآمدات جاری رکھنے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔ اس نظام میں روایتی معنوں میں نقد رقم کی براہِ راست منتقلی کے بجائے ایرانی تیل کی مالیت کو چینی اشیا اور خدمات کے حصول کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔تیل کے بدلے اشیا اور خدماتاس ماڈل کا بنیادی تصور نسبتاً سادہ ہے۔ ایران اپنا تیل چین کو فروخت کرتا ہے، لیکن اس کی پوری مالیت روایتی ڈالر ٹرانسفر یا بین الاقوامی بینکاری چینلز کے ذریعے تہران کو واپس منتقل نہیں ہوتی۔ اس کے بجائے تیل سے حاصل ہونے والی مالیت کو چینی برآمد کنندگان، کمپنیوں اور ایران میں کام کرنے والے منصوبوں کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق، اس نظام کے ذریعے ایران نے مختلف نوعیت کی مصنوعات حاصل کی ہیں، جن میں ادویات، گاڑیاں، ٹیلی کمیونیکیشن آلات اور دیگر صنعتی و ضروری سامان شامل ہیں۔ بعض ذرائع نے اس وسیع نیٹ ورک کو عسکری نوعیت کے سازوسامان سے بھی جوڑا ہے، تاہم ایسے دعووں کی تفصیلات اور مخصوص لین دین کی آزادانہ تصدیق محدود ہے۔رائٹرز کے مطابق، بعض چینی مینوفیکچررز ممکنہ طور پر اس بات سے بھی لاعلم رہے ہوں کہ ان کی مصنوعات بالآخر ایرانی خریداروں تک پہنچ رہی ہیں۔ChuXin: نظام کی مبینہ مالیاتی کڑیاس متبادل تجارتی ڈھانچے میں ChuXin نامی ایک چینی ادارے یا مالیاتی واسطے کا ذکر خاص اہمیت رکھتا ہے۔رائٹرز سے بات کرنے والے ذرائع کے مطابق، ChuXin سے منسلک ایک خصوصی انتظام ایرانی تیل سے پیدا ہونے والی مالیت کو چینی برآمد کنندگان اور ایران میں جاری منصوبوں تک منتقل کرنے میں استعمال کیا گیا۔تاہم اس معاملے میں ایک اہم صحافتی احتیاط ضروری ہے۔ رائٹرز کو چینی کمپنی رجسٹریوں میں ChuXin کے نام سے کسی واضح اور قابلِ تصدیق مالیاتی ادارے کا ریکارڈ نہیں ملا۔ بعض ذرائع نے امکان ظاہر کیا کہ ChuXin کسی باقاعدہ قانونی کمپنی کے بجائے اندرونی مالیاتی ریکارڈ یا اسپریڈشیٹ میں استعمال ہونے والا نام ہو سکتا ہے۔ایرانی اور چینی حکام نے اس حوالے سے رائٹرز کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔2 سے 2.5 ارب ڈالر کا مالیاتی راستہذرائع کے اندازوں کے مطابق، گزشتہ ایک سال کے دوران اس مخصوص خصوصی مالیاتی انتظام، یعنی Special Purpose Vehicle (SPV) کے ذریعے تقریباً 2 ارب سے 2.5 ارب ڈالر مالیت کے لین دین کیے گئے۔رائٹرز کے مطابق، یہ نظام کم از کم 2021 سے موجود ہے اور ابتدا میں ادویات اور کووڈ-19 ویکسین جیسی اشیا کی فراہمی کے لیے استعمال ہوا۔ بعد ازاں ایران پر امریکی پابندیوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے ساتھ اس کا دائرہ وسیع ہوتا گیا۔یہ رقم ایران اور چین کے درمیان مجموعی تیل تجارت یا تمام بارٹر لین دین کی نمائندگی نہیں کرتی۔ امریکی U.S.-China Economic and Security Review Commission کی سابقہ رپورٹنگ میں چین سے متعلق ایک بڑے oil-for-infrastructure انتظام کے تحت 2024 میں تقریباً 8.4 ارب ڈالر کے لین دین کا ذکر بھی کیا گیا تھا۔لہٰذا 2 سے 2.5 ارب ڈالر کا تخمینہ اس مخصوص مالیاتی چینل سے متعلق سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ ایران کی مجموعی چینی تجارت کا حجم۔پابندیوں کا اصل ہدف: مالیاتی نظامایرانی حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد تیل کی برآمدات کو امریکی پابندیوں سے مکمل طور پر محفوظ بنانا نہیں بلکہ تیل کی آمدنی کو ایسے تجارتی کریڈٹ اور ادائیگی کے راستوں میں تبدیل کرنا ہے جنہیں امریکی مالیاتی پابندیوں کے ذریعے براہِ راست روکنا زیادہ مشکل ہو۔روایتی نظام میں ایرانی تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم بینکوں، کرنسی کلیئرنگ نظام اور دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے گزرتی ہے۔ امریکی پابندیاں اسی مالیاتی انفراسٹرکچر کو نشانہ بناتی ہیں۔بارٹر یا oil-for-goods ماڈل اس عمل کو تبدیل کر دیتا ہے۔ایرانی تیل → چینی خریدار → تجارتی کریڈٹ/مالیاتی انتظام → چینی مصنوعات و خدمات → ایراناس طریقے میں نقد ڈالر کی براہِ راست منتقلی کی ضرورت کم ہو جاتی ہے اور تجارت کا ایک بڑا حصہ چینی مالیاتی و تجارتی ماحول کے اندر رہ سکتا ہے۔بیجنگ کو بھی معاشی فائدہیہ نظام صرف تہران کے لیے فائدہ مند نہیں۔چین کو ایرانی تیل نسبتاً رعایتی نرخوں پر حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے، جبکہ ایران کو اپنی معیشت کے لیے درکار مصنوعات، صنعتی سامان، ٹیکنالوجی اور خدمات تک رسائی حاصل رہتی ہے۔امریکی-چینی اقتصادی و سلامتی کمیشن کے مطابق، ایرانی تیل کی بعض فروخت عالمی benchmark قیمتوں کے مقابلے میں نمایاں رعایت پر ہوتی رہی ہے، جس سے چینی خریداروں کو معاشی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔یوں دونوں ممالک کے مفادات ایک خاص نقطے پر مل جاتے ہیں:چین کو نسبتاً سستا ایرانی تیل ملتا ہے، جبکہ ایران کو پابندیوں کے باوجود چینی مارکیٹ اور مصنوعات تک رسائی حاصل رہتی ہے۔کیا ایران نے متوازی معیشت قائم کر لی؟ایران کی موجودہ حکمتِ عملی کو مکمل طور پر ایک ’’متوازی معیشت‘‘ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔زیادہ درست تعبیر یہ ہے کہ تہران نے پابندیوں کے ماحول میں متبادل تجارتی اور مالیاتی راستوں کا ایک نیٹ ورک تشکیل دینے کی کوشش کی ہے۔یہ نیٹ ورک ایران کو امریکی مالیاتی نظام پر انحصار کم کرنے، تیل کی آمدنی کو براہِ راست اشیا میں تبدیل کرنے اور بعض درآمدات کو پابندیوں کے باوجود جاری رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکی پابندیوں کا معاشی اثر ختم ہو گیا ہے۔ایرانی معیشت اب بھی کرنسی کی کمزوری، مہنگائی، درآمدی دباؤ، سرمایہ کاری کی کمی اور بین الاقوامی مالیاتی تنہائی جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔چین: تہران کی معاشی لائف لائن؟موجودہ حالات میں چین ایران کے لیے ایک اہم معاشی ستون بنتا دکھائی دے رہا ہے۔چین ایرانی تیل کا بڑا خریدار ہے اور دونوں ممالک نے ایسے تجارتی طریقے بھی اختیار کیے ہیں جن سے ڈالر پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بیجنگ تہران کو ایک ایسی معاشی گنجائش فراہم کرتا ہے جو مغربی پابندیوں کے ماحول میں دیگر عالمی طاقتوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ اہم ہے۔تاہم چین کی پالیسی مکمل طور پر بے خطر نہیں۔ چینی بینکوں اور بڑی کمپنیوں کو امریکی ثانوی پابندیوں اور عالمی مالیاتی نظام سے ممکنہ کٹاؤ کا خطرہ درپیش رہتا ہے۔اسی لیے چین کا رویہ بیک وقت تعاون اور احتیاط پر مبنی دکھائی دیتا ہے۔واشنگٹن کے دباؤ کو نظرانداز کرتے ہوئے ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھنا بیجنگ کے لیے اسٹریٹجک اور معاشی مفاد رکھتا ہے، لیکن چین اپنی بڑی مالیاتی کمپنیوں کو امریکی مالیاتی نظام سے محروم کرنے کا خطرہ بھی نہیں اٹھانا چاہتا۔پابندیوں کے خلاف ایرانی ماڈلتہران کا یہ ماڈل ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس میں:- ڈالر پر انحصار کم کرنا؛- روایتی بینکاری چینلز سے بچنا؛- تیل کے بدلے اشیا اور خدمات حاصل کرنا؛- چینی کمپنیوں اور ثالثی اداروں کے ذریعے تجارت جاری رکھنا؛- خصوصی مالیاتی گاڑیوں اور متبادل ادائیگی کے نظام استعمال کرنا؛- اور پابندیوں کے نفاذ کے دائرے کو محدود کرناشامل ہے۔یہ حکمتِ عملی اس تصور پر مبنی ہے کہ اگر کسی ملک کی تجارت کو مکمل طور پر عالمی مالیاتی نظام سے الگ کر دیا جائے، تو وہ براہِ راست نقد لین دین کے بجائے اشیا، خدمات، تجارتی کریڈٹ اور مقامی مالیاتی نظام کے ذریعے اپنی اقتصادی سرگرمی جاری رکھ سکتا ہے۔واشنگٹن کے لیے نیا چیلنجامریکی پالیسی سازوں کے لیے یہ ماڈل ایک اہم مسئلہ پیدا کرتا ہے۔اگر پابندیوں کا بنیادی مقصد ایران کی تیل آمدنی کو محدود کرنا ہے، لیکن تہران اس آمدنی کو روایتی مالیاتی چینلز کے بجائے چینی مصنوعات اور خدمات میں تبدیل کرنے کے قابل رہتا ہے، تو پابندیوں کی مؤثریت کا ایک حصہ کم ہو سکتا ہے۔اس صورت میں امریکی دباؤ صرف ایرانی اداروں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ چینی خریداروں، ثالثی کمپنیوں، برآمد کنندگان، مالیاتی اداروں اور تجارتی نیٹ ورکس تک بھی پھیل سکتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں ایران-چین تجارت ایک دوطرفہ معاشی معاملے سے بڑھ کر واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان وسیع تر جغرافیائی و معاشی مسابقت کا حصہ بن سکتی ہے

۔اسٹریٹجک نتیجہایران نے امریکی پابندیوں کو ختم نہیں کیا اور نہ ہی عالمی مالیاتی نظام سے مکمل آزادی حاصل کی ہے۔ تاہم تہران نے پابندیوں کے گرد متبادل تجارتی و مالیاتی راستے بنانے میں قابلِ ذکر پیش رفت ضرور کی ہے۔چین اس حکمتِ عملی کا مرکزی ستون بنتا جا رہا ہے۔تیل → چینی خریدار → متبادل ادائیگی/تجارتی کریڈٹ → چینی اشیا و خدمات → ایرانیہ ماڈل تہران کو ڈالر پر انحصار کم کرنے، کچھ درآمدات برقرار رکھنے اور امریکی مالیاتی دباؤ کے اثرات کو محدود کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔اس لیے موجودہ شواہد کی بنیاد پر زیادہ محتاط اور درست نتیجہ یہی ہے کہ ایران نے مکمل متوازی معیشت نہیں بلکہ چین کے ساتھ ایک بڑھتا ہوا متوازی تجارتی و مالیاتی نظام ضرور تشکیل دیا ہے۔اور اگر یہ نظام مزید وسیع ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایران کی معیشت تک محدود نہیں رہیں گے؛ یہ امریکی پابندیوں کے نفاذ، عالمی ڈالر نظام، چین کی توانائی ضروریات اور واشنگٹن-بیجنگ اسٹریٹجک مسابقت کے لیے بھی ایک اہم چیلنج بن سکتے ہیں۔










