
جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران کے خلاف جنگ میں فوجی دستے یا عسکری وسائل تعینات نہیں کرے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ جنوبی کوریا جنگ میں براہ راست شامل نہ ہونے کے اصول پر قائم ہے اور آئندہ بھی اسی پالیسی پر عمل کرے گا۔رپورٹس کے مطابق امریکا نے جنوبی کوریا پر ایران کے خلاف جنگ میں تعاون کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔ امریکی صدر نے جنوبی کوریاکے جنگ میں شامل نہ ہونے پر تنقید بھی کی ہے۔ایران بھی خبردار کرچکا ہے آبنائے ہرمز یا بحیرہ احمر میں کسی بھی ملک کی جانب سے فوجی تعینات ایران کے خلاف جارحیت تصور کی جائے گی اور اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔

🔥 عمران خان کے حوالے سے ایک اور اہم دعویٰ سامنے آگیا۔مائیکل ایڈورڈز سے منسوب بیان سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے، جبکہ عمران خان کے بیٹوں نے بھی حالیہ انٹرویو میں ان کی سلامتی اور جیل کے حالات پر شدید خدشات کا اظہار کیا تھا۔
پی ٹی آئی احتجاج سے قبل اسلام آباد سیل، حکام کی جانب سے سخت ترین سیکیورٹی اقداماتدفاع و سیکیورٹی ڈیسک | اسلام آباداسلام آباد، پاکستان — 18 ستمبر 2026: پاکستان کا وفاقی دارالحکومت 27 ستمبر کو پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے مجوزہ احتجاج اور مارچ سے قبل داخلی سیکیورٹی کے حوالے سے انتہائی الرٹ مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ حکام نے ریڈ زون تک رسائی محدود کرنے اور دارالحکومت کے اہم سیکیورٹی حصار کو مزید مضبوط بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ڈی چوک کو کنٹینرز لگا کر سیل کر دیا گیا ہے، جبکہ دارالحکومت کے حساس اور انتہائی سیکیورٹی والے علاقوں کی جانب جانے والے اہم راستوں پر مزید رکاوٹیں نصب کی جا رہی ہیں۔رپورٹس کے مطابق حکام حساس سرکاری تنصیبات اور اہم داخلی راستوں کے گرد کثیر سطحی فزیکل سیکیورٹی حصار قائم کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔تہہ در تہہ حفاظتی حصار اور راستوں کی بندشسیکیورٹی ذرائع سے منسوب رپورٹس کے مطابق ریڈ زون کی جانب جانے والے پانچ اہم راستوں کو بند کرنے کا منصوبہ ہے۔ ان راستوں پر کنٹینرز کی دوہری تہہ قائم کی جائے گی، جبکہ داخلی مقامات پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی جائے گی

۔وسیع ریڈ زون کو بھی بدستور سیل رکھنے کی توقع ہے، جہاں رسائی محدود ہوگی اور صرف ہنگامی صورتِ حال میں راستے کھولے جانے کی اطلاعات ہیں۔سیکیورٹی نقطۂ نظر سے یہ انتظام شہری علاقوں میں ہجوم کو کنٹرول کرنے اور حساس تنصیبات سے ایک محفوظ فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے استعمال ہونے والے کثیر سطحی کنٹینمنٹ ماڈل کی عکاسی کرتا ہے۔اس سے قبل رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ اسلام آباد پولیس نے ریڈ زون، ہائی سیکیورٹی زون اور دارالحکومت کے اہم داخلی و خارجی راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے ایک ہزار سے زائد کنٹینرز طلب کیے تھے۔ان کنٹینرز کو دارالحکومت کی جانب آنے والے مظاہرین کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے اہم شاہراہوں اور مرکزی راستوں پر بھی استعمال کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔جمعہ کو سامنے آنے والی رپورٹس میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ بعض کنٹینرز کی بیرونی سطح پر باہر کی جانب نوکیلے کیل نصب کیے گئے ہیں تاکہ انہیں مظاہرین کے لیے اپنی جگہ سے ہٹانا مشکل بنایا جا سکے۔تاہم یہ تفصیل سیکیورٹی رپورٹس سے منسوب ہے اور اسے کنٹینرز کی تصدیق شدہ سرکاری ساخت یا حتمی آپریشنل خصوصیت کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔پولیس کو مسلسل آپریشنل تیاری پر رکھا گیاسیکیورٹی انتظامات کے ساتھ اسلام آباد کیپیٹل پولیس کی بڑے پیمانے پر نفری کو بھی متحرک کیا گیا ہے۔18 ستمبر کو جاری کیے گئے اسلام آباد پولیس کے ایک سرکلر کے مطابق پولیس افسران اور اہلکاروں کی معمول کی چھٹیوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جس میں کیژول، ارنڈ اور ایکس پاکستان لیو بھی شامل ہیں، جبکہ ہنگامی چھٹی کو استثنا حاصل رہے گا۔

رپورٹس کے مطابق بعض اقسام کی چھٹی پر موجود اہلکاروں کو بھی اپنی تعیناتی کے مقامات پر واپس رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔یہ پابندی 5 اکتوبر 2026 تک برقرار رہنے والی ہے۔آپریشنل نقطۂ نظر سے اس حکم کا مطلب یہ ہے کہ مجوزہ احتجاج کے دوران پولیس کے دستیاب افرادی وسائل کا ایک بڑا حصہ مسلسل ڈیوٹی پر برقرار رکھا جا سکے گا۔دوسری جانب، پڑوسی شہر راولپنڈی کی پولیس کمانڈ نے بھی آئندہ سیاسی مظاہروں کی تیاریوں کے دوران چھٹیوں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیکیورٹی منصوبہ بندی صرف اسلام آباد کی انتظامی حدود تک محدود نہیں بلکہ وسیع جڑواں شہروں کے سیکیورٹی ماحول کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔عدالتی فریم ورکحالیہ سیکیورٹی اقدامات اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) کے پی ٹی آئی کے مجوزہ مارچ سے متعلق جاری کردہ تفصیلی 37 صفحات پر مشتمل فیصلے کے بعد سامنے آئے ہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ سیاسی جماعتوں، سیاسی رہنماؤں، صوبائی حکومتوں اور عوامی عہدہ رکھنے والے افراد کو عوامی سڑکوں، شاہراہوں، انٹرچینجز، ٹول پلازوں یا سرکاری عمارتوں پر قبضہ کرنے یا انہیں بلاجواز بند کرنے کا قانونی حق حاصل نہیں۔عدالت نے اس امر پر بھی زور دیا کہ سیاسی سرگرمیوں کے باعث شہریوں کے بنیادی حقوق، بشمول سڑکوں، کام کی جگہوں، کاروباری مراکز، اسپتالوں اور تعلیمی اداروں تک رسائی متاثر نہیں ہونی چاہیے۔عدالت نے صوبائی حکومتوں کو یہ بھی ہدایت کی کہ مجوزہ مارچ کو سہولت فراہم کرنے کے لیے سرکاری مشینری اور عوامی وسائل کا استعمال نہ کیا جائے۔فیصلے میں مزید واضح کیا گیا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی آئینی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتی ہے اور ذمہ دار سرکاری اہلکاروں کے لیے قانونی نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔اس طرح عدالت کا فیصلہ احتجاجی سرگرمیوں اور حکومتی سیکیورٹی ردِعمل، دونوں کے لیے ایک واضح قانونی اور آئینی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔حکومت کی جانب سے سخت انتباہوفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے خبردار کیا ہے کہ حکومت اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے کی کوششوں کو روکے گی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایات کی خلاف ورزی کی صورت میں توہینِ عدالت کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔نقوی کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں مظاہرین کے داخلے کو روکنے کے لیے صوبائی حکومتوں کے ساتھ رابطہ اور انتظامات مکمل کیے گئے ہیں۔انہوں نے احتجاج کے دوران کسی بھی جانی نقصان کی صورت میں منتظمین کی ذمہ داری کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔حکومت کا مؤقف ہے کہ موجودہ سیکیورٹی انتظامات عدالتی احکامات پر عمل درآمد، عوامی تنصیبات کے تحفظ اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔دوسری جانب پی ٹی آئی مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ اس کی مجوزہ سیاسی سرگرمی اور احتجاج پُرامن ہوگا، اور 27 ستمبر کی mobilisation کو اپنی سیاسی مہم کا حصہ قرار دیتی ہے۔آپریشنل تجزیہسیکیورٹی منصوبہ بندی کے تناظر میں موجودہ انتظامات کسی ایک رکاوٹ پر انحصار کرنے کے بجائے کثیر سطحی کنٹینمنٹ ماڈل کی عکاسی کرتے ہیں۔رپورٹ کردہ اقدامات میں درج ذیل عناصر شامل ہیں:- بیرونی راستوں کی پابندی: مظاہرین کو حساس سیکیورٹی حصار تک پہنچنے سے پہلے ہی اہم راستوں پر محدود کرنا۔- فزیکل بیریئرز: کنٹینرز کے ذریعے مستقل نوعیت کی سڑک بندش اور حساس علاقوں سے اضافی فاصلہ قائم کرنا۔- افرادی قوت کا ارتکاز: معمول کی چھٹیاں معطل کر کے زیادہ تعداد میں پولیس اہلکاروں کو مسلسل ڈیوٹی پر رکھنا۔- حساس علاقوں کا تحفظ: ریڈ زون اور وسیع ریڈ زون کے گرد حفاظتی حصار مزید مضبوط کرنا۔- بین الصوبائی رابطہ: مظاہرین کے بڑے گروہوں کے اسلام آباد پہنچنے سے قبل ان کی نقل و حرکت کی نگرانی اور انتظام کرنا۔- قانونی نفاذ: غیر قانونی سڑک بندش یا محدود سرکاری علاقوں پر قبضے کی کوششوں کے خلاف عدالتی فریم ورک کے تحت کارروائی۔مجموعی طور پر رپورٹ کردہ حکمتِ عملی کے بنیادی عناصر رسائی پر کنٹرول، راستوں کی بندش، حفاظتی حصار کا تحفظ اور ہجوم سے نمٹنے کے لیے مسلسل تیاری ہیں۔شہری زندگی پر ممکنہ اثراتموجودہ سیکیورٹی پوزیشن اسلام آباد میں شہری نقل و حرکت پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے

۔ریڈ زون، ہائی سیکیورٹی زون اور اہم شاہراہوں کے گرد پابندیوں کے نتیجے میں متبادل راستوں، ٹریفک کے دباؤ، تاخیر اور ممکنہ طور پر شدید ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، بالخصوص اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان سفر کرنے والے شہریوں کے لیے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں عام شہریوں کے سڑکوں، روزگار، تجارتی مراکز، اسپتالوں اور تعلیمی اداروں تک رسائی کے تحفظ پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔اس کے نتیجے میں حکام کے سامنے ایک بیک وقت دوہرا تقاضا موجود ہے: حساس علاقوں کو محفوظ بنانا اور سیکیورٹی پابندیوں کے باوجود جہاں تک ممکن ہو ضروری شہری آمدورفت اور بنیادی خدمات تک رسائی برقرار رکھنا۔تزویراتی اہمیتحالیہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکام 27 ستمبر کی mobilisation کو محض ایک محدود یا ایک روزہ احتجاج کے طور پر نہیں دیکھ رہے بلکہ اس کے گرد کئی روز تک جاری رہنے والی داخلی سیکیورٹی تیاری کر رہے ہیں۔5 اکتوبر تک پولیس کی چھٹیوں کی معطلی، ایک ہزار سے زائد کنٹینرز کی مبینہ تیاری، ریڈ زون کے پانچ اہم راستوں کی ممکنہ بندش اور وسیع ہائی سیکیورٹی حصار کی مضبوطی مجموعی طور پر ایسے سیکیورٹی انتظام کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو مجوزہ سیاسی سرگرمی کے اردگرد پورے عرصے میں برقرار رکھا جا سکتا ہے۔تاہم چونکہ یہ سرگرمی بنیادی طور پر سیاسی نوعیت کی ہے، اس لیے حکومتی سیکیورٹی ردِعمل براہِ راست عدالتی احکامات، آئینی حقوق اور امن و امان سے متعلق قوانین کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔حکام کے لیے بنیادی آپریشنل چیلنج یہ ہوگا کہ محدود اور حساس علاقوں میں غیر مجاز داخلے کو روکا جائے، جبکہ قانونی شہری نقل و حرکت برقرار رہے اور غیر ضروری شہری خلل کم سے کم ہو۔مجموعی جائزہاسلام آباد 27 ستمبر کو پی ٹی آئی کی مجوزہ mobilisation سے قبل انتہائی بلند سطح کی داخلی سیکیورٹی تیاری کی جانب بڑھ رہا ہے۔کنٹینرز کے ذریعے فزیکل رکاوٹیں قائم کی جا رہی ہیں، پولیس نفری کو بلند سطح کی آپریشنل تیاری پر رکھا جا رہا ہے، جبکہ ریڈ زون میں رسائی محدود کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔حکام حالیہ عدالتی فریم ورک کے تحت بھی کام کر رہے ہیں، جس میں شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور عوامی انفراسٹرکچر کی غیر قانونی بندش کی روک تھام پر واضح زور دیا گیا ہے۔موجودہ سیکیورٹی منظرنامے کے بنیادی عناصر راستوں کی بندش، حفاظتی حصار کی مضبوطی، پولیس کی وسیع پیمانے پر تعیناتی اور قانونی نفاذ ہیں۔27 ستمبر قریب آنے کے ساتھ سیکیورٹی انتظامات کی عملی کارکردگی کا انحصار صرف فزیکل بیریئرز کی مضبوطی پر نہیں ہوگا، بلکہ اس امر پر بھی ہوگا کہ حکام بڑے پیمانے پر عوامی نقل و حرکت کو کس حد تک منظم کرتے ہیں اور ساتھ ہی مقامی آبادی، ہنگامی خدمات، کاروباری سرگرمیوں اور ضروری شہری ٹریفک کے لیے رسائی کس حد تک برقرار رکھتے ہیں۔
اسلام آباد کے داخلی راستوں پر سیکیورٹی چیکنگ، ٹریفک کی روانی متاثراسلام آباد، 18 ستمبر: وفاقی دارالحکومت کے مختلف داخلی و خارجی راستوں پر سیکیورٹی چیکنگ میں اضافے کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہونے اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں ممکنہ احتجاجی سرگرمیوں کے پیش نظر شہر کے اہم داخلی و خارجی مقامات پر سیکیورٹی انتظامات سخت کیے گئے ہیں، جبکہ چیک پوسٹوں پر گاڑیوں اور مسافروں کی جانچ پڑتال کے باعث بعض مقامات پر ٹریفک کی رفتار معمول سے کم ہو گئی ہے۔راولپنڈی اور دیگر شہروں سے اسلام آباد آنے والے شہریوں کو بعض داخلی راستوں پر اضافی انتظار کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شہریوں کے مطابق سیکیورٹی چیکنگ کے باعث سفر کا دورانیہ بڑھ گیا ہے اور متعدد مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔اسلام آباد ایئرپورٹ جانے اور ایئرپورٹ سے وفاقی دارالحکومت کی جانب آنے والے مسافروں کے لیے بھی ٹریفک کی صورتحال مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔ مسافروں کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ وہ ایئرپورٹ روانگی کے لیے معمول سے پہلے گھر سے نکلیں تاکہ ممکنہ تاخیر سے بچا جا سکے۔دریں اثنا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے 14 ستمبر کو اپنے ریمارکس میں قرار دیا تھا کہ کسی سیاسی جماعت یا سرکاری عہدیدار کو شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت متاثر کرنے یا وفاقی دارالحکومت کی سڑکیں بند کرنے کا قانونی اختیار حاصل نہیں۔دوسری جانب نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کی 18 ستمبر کی تازہ سفری اطلاع کے مطابق ایم ون اسلام آباد روٹ کو روڈ اینڈ ویدر کلیئر قرار دیا گیا ہے۔ اس صورتحال میں موٹروے پر مجموعی ٹریفک صورتحال اور اسلام آباد کے مختلف داخلی راستوں پر مقامی ٹریفک صورتحال میں فرق ہو سکتا ہے۔اسلام آباد پولیس کی جانب سے بھی حالیہ دنوں میں شہر کے اہم داخلی و خارجی راستوں اور حساس علاقوں میں سیکیورٹی چیکنگ بڑھانے کی تصدیق کی گئی ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اقدامات کے دوران ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے متبادل انتظامات اور مؤثر ٹریفک مینجمنٹ کی ضرورت ہے، تاکہ سیکیورٹی تقاضوں کے ساتھ شہریوں کی آمدورفت بھی کم سے کم متاثر ہو۔










