
لاہور میں سی ٹی ڈی ہیڈکوارٹرز سے جاسوس ڈرون ٹکرا کر گر گیا، سیکیورٹی خدشات پیدالاہور (3D میڈیا) لاہور میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) ہیڈکوارٹرز کی عمارت سے ایک جدید سرویلنس ڈرون ٹکرا کر گرنے کے واقعے کے بعد سیکیورٹی خدشات پیدا ہوگئے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ 31 اکتوبر اور یکم نومبر کی درمیانی شب تقریباً ساڑھے 12 بجے پیش آیا، جب ایک ڈرون سی ٹی ڈی ہیڈکوارٹرز کی بیرونی دیوار سے ٹکرا کر نیچے گر گیا۔پولیس حکام کے مطابق ڈرون کے ذریعے مبینہ طور پر عمارت کے اندرونی حصوں کی نگرانی اور ریکی کی جا رہی تھی۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کیا گیا، جس نے ڈرون کا معائنہ کرنے کے بعد اسے کلیئر قرار دے دیا۔واقعے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے صورتحال کا جائزہ لیا، تاہم تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ڈرون کہاں سے آیا، اسے کون آپریٹ کر رہا تھا اور اس کا مقصد کیا تھا۔واقعے سے متعلق مزید تحقیقات اور ڈرون کی ملکیت و آپریٹر کے تعین کے بارے میں تفصیلات سامنے آنے کے بعد صورتحال واضح ہو گی۔

مسجد الحرام کے منبر سے ’’آپریشن دعائے شکست‘‘ — مذہبی منبر یا سیاسی محاذ؟مکہ مکرمہ: یمن تنازع ایک نئے نظریاتی اور مذہبی محاذ میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں مسجد الحرام کے خطبۂ جمعہ میں حوثی تحریک (انصار اللہ) کے خلاف دعائیں کی گئیں اور اسے جارحیت و ظلم سے تعبیر کرتے ہوئے اس کی شکست کی دعا مانگی گئی۔اس پیش رفت نے سعودی قیادت میں 2015 کے فوجی آپریشن ’’فیصلہ کن طوفان‘‘ (Operation Decisive Storm) اور یمن میں برسوں جاری فوجی کارروائیوں کے انسانی و سیاسی نتائج پر بحث دوبارہ زندہ کر دی ہے۔ناقدین نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا مقدس مذہبی منبر کو علاقائی سیاسی و عسکری کشمکش کا حصہ بنایا جا رہا ہے؟ ان کے مطابق یمن کے تمام مظلوم شہریوں کے لیے یکساں انصاف اور دعا ہونی چاہیے،

نہ کہ تنازع کے صرف ایک فریق کو نشانہ بنایا جائے۔اس معاملے کا بنیادی سوال یہ ہے: کیا مسجد الحرام کا منبر تمام مسلمانوں کے لیے غیر جانب دار مذہبی مقام رہے گا یا علاقائی محاذ آرائی کی علامت بنتا جائے گا؟یمن










