All posts by admin

منی جانے کے لیے بسیں غائب پاکستانی حاجی دھکم پیل حاجی شھید ڈائریکٹر جنرل سومرو غائب 14 سو مفت کے معاون کھا ھے ’’ہم قرض میں ڈوب چکے ہیں‘‘ – کار میں زہر کھا کر ایک ہی خاندان کے 7 افراد نے خودکشی کرلیآسٹریلیا کرکٹ ٹیم اگلے سال کے شروع میں وائٹ بال سیریز کے لئے پاکستان کا دورہ کرے گی۔ اس کے دادا نے قائد اعظم سے غداری کی اس کے باپ فاروق لغاری سے غداری کی اور یہ شریف خاندان سے غداری کرے گا کل یہ کسی اور جماعت میں ھو گا اس کو پاکستان کی عوام سے کیا یہ تو بجلی کے میٹڑ پر ماہانہ ایک ھزار اور 180 روپے جی ایس ٹی وصول کر رہے ہیں۔بکنگز الیون پنجاب کو انکا راجہ پکشے لے ڈوبا۔ ۔ٹرمپ نے کہا نریندر سرنڈر راھول گاندھی کے مودی پر وار۔مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر کوئی جنوبی ایشیا میں امن نھی ھو سکتا ۔پاکستان ھر طرح کی دھشت گردی کی مذمت کرتا ہے اسلام آباد پولیس نے مجرم گرفتار کر لیا لکین قتل کیوں ھوا پھول نے پھول کو دفنایا۔دشمن سے نہیں، اُس منافق سے ڈروجو بیچ میں میٹھی دوغلی چالیں چلتا ہے۔بادبان ٹی وی الرٹ۔ تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

وزیراعظم ۔۔۔۔خطاب خیبر پختونخوا کے لیے این ایف سی میں مقرر کردہ ایک فیصد فنڈ دہشت گردی کے خاتمے تک جاری رہے گا، سندھ طاس معاہدے کے تحت پانی کا ایک ایک قطرہ پاکستانی عوام کا حق ہے،

—وزیراعظم ۔۔۔۔خطابخیبر پختونخوا کے لیے این ایف سی میں مقرر کردہ ایک فیصد فنڈ دہشت گردی کے خاتمے تک جاری رہے گا، سندھ طاس معاہدے کے تحت پانی کا ایک ایک قطرہ پاکستانی عوام کا حق ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا پشاور میں جرگہ سے خطابپشاور۔ 03 جون وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مد میں خیبر پختونخوا کے لیے این ایف سی میں مقرر کردہ ایک فیصد فنڈ دہشت گردی کے خاتمے تک جاری رہے گا، 2010ء سے اس مدد میں خیبرپختونخوا کو 700 ارب روپے سے زیادہ فنڈز دئیے گئے ہیں، 1960 ء کے سندھ طاس معاہدے کے تحت پانی کا ایک ایک قطرہ پاکستانی عوام کا حق ہے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان نے ہندوستان کو زندگی کا وہ سبق سکھایا جو وہ تاقیامت نہیں بھلائیں گے، اگر ہندوستان نے پھر کوئی حرکت کی تو انہیں پھر سبق سکھائیں گے، خیبرپختونخوا کےغیور عوام نے پاکستان کے دفاع کےلیے قربانیاں دی ہیں، خیبرپختونخوا عظیم صوبہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں منگل کو پشاور میں جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی ،وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور، کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عمر بخاری ،وفاقی و صوبائی وزراء، سینیٹرز، اراکین صوبائی اسمبلی اور قبائلی زعماء بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج میرے لئے بہت عزت کی بات ہے کہ میں اس جرگے میں آپ کے سامنے موجود ہوں، ہم نے زعماء کی باتیں سنیں، وزیراعلی خیبر پختونخوا کی باتیں سنیں، ہم سب آپ کی باتیں سننے کے لیے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا عظیم صوبہ ہے، میں نے ہمیشہ اپنی تقاریر میں کہا کہ یہ پاکستان کے خوبصورت ترین صوبوں میں ہے جہاں پر برف پوش پہاڑ ہیں، وادیاں اور انتہائی دلیر عوام ہیں، آپ نے 1947ء میں ریفرنڈم میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دے کر ثابت کیا کہ آپ واقعی پاکستان کے بہت بڑے حامی تھے۔ آپ نے پاکستان کا دفاع کیا، خیبر پختونخوا کے ہمارے بے شمار بھائی، بزرگ اور بہنیں شہید ہوئیں، یہ وہ عظیم قربانیاں ہیں جن کو تاریخ کبھی بھلا نہیں پائے گی۔یقیناً جب بھی پاکستان کی بات آئی، آپ نے تمام اختلافات کو ایک طرف رکھ کرپاکستان کا سبز ہلالی جھنڈا بلند کیا، میں آپ کو دل کی گہرائیوں سے تحسین پیش کرنے آیا ہوں۔ پشاور میں 2016ء میں اے پی ایس کا واقعہ ہوا، وہاں پر بچوں اور اساتذہ کو شہید کیا گیا اور پھر پشاور میں میٹنگ ہوئی، سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا گیا اور اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ ہم سب کے سامنے ہے، آج جو باتیں عمائدین اور مشران نے کی ہیں، اس پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا اور مل بیٹھ کر فیصلے کرنے ہوں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وزیراعلی علی امین گنڈاپور نے این ایف سی پر نظر ثانی کی بات کی، یہ بات اسلام آباد میں ڈیرھ ماہ قبل ہوئی اور میں نے فوراً کمیٹی بنائی، این ایف سی کے لیے جو صوبوں کی نمائندگی ہوتی ہے، اس کےلیے نام دیئے گئے ہیں، پہلی میٹنگ اگست میں بلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 2010ء کے این ایف سی ایوارڈ میں سب سے پہلے آئٹم میں چاروں صوبوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مد میں خیبرپختونخوا کےلیے ایک فیصد فنڈز پر اتفاق کیا۔ یہ جائز اور درست فیصلہ تھا جو دہشت گردی کے خاتمے تک جاری رہے گا تاہم اس میں بلوچستان شامل نہیں کیا گیا۔وزیراعظم نے کہا کہ اب تک اس مد میں خیبرپختونخوا کو 700 ارب روپے سے زیادہ فنڈز حوالے کیا گیا ہے، وزیراعلیٰ نے دوسرے مطالبات کئے ان پر مل بیٹھ حل نکال لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی ہمارے پاس وسائل ہیں، وہ پاکستان کے وسائل ہیں جس میں سارے صوبوں کا حصہ ہے، میں معاملات کے حل کےلئے کمیٹی تشکیل کرتا ہوں جو گورنر خیبر پختونخوا، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ،کور کمانڈر اور قبائلی زعماء کے ساتھ بیٹھے گی اور معاملہ آگے بڑھا تو ہم اس کو پارلیمنٹ میں بھی لے جائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ابھی ہندوستان کے ساتھ جنگ ہوئی ، پاکستان کے تمام صوبوں کے عوام کی دعائیں شامل تھیں، 6 اور 7 مئی کو جس طرح دشمن نے گھات لگا کر حملہ کیا اور ہمارے بے گناہ پاکستانیوں کو شہید کیا، فیلڈ مارشل کی قیادت میں افواج پاکستان نے ہندوستان کو زندگی کا سبق سکھایا ہے جو وہ قیامت تک نہیں بھولیں گے۔ اتحاد سے ہم پاکستان کی تقدیر بدلیں گے، جس طرح اس جنگ میں کامیابی عطا ہوئی، اسی طرح پاکستان معاشی میدان میں بھی کامیابیاں حاصل کرے گا۔

ابھی چار ممالک کا دورہ کرکے آیا ہوں، سب کے چہروں پر خوشی تھی، آج پوری قوم یکجا ہے ،ہمیں پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کےلیے بڑے فیصلے کرنے ہیں، چاروں صوبوں کی قیادت بلا کر ہم مل کر بیٹھیں گے۔ مثال کے طور پر ہندوستان کو شکست فاش ہوئی ہے اور مودی سرکار اپنے زخم چاٹ رہی ہے، ہندوستان پانی کی دھمکیاں دیتا ہے، 1960ء کے سندھ طاس معاہدے کے تحت پانی کے ایک ایک قطرہ پر پاکستانی عوام کا حق ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پانی کے اوپر ہمیں فیصلہ کرنا ہے تاکہ ہندوستان کے مذموم عزائم دفن ہو جائیں، ہمارے پاس بے شمار ڈیم ہیں جہاں پر ہم پانی ذخیرہ کر سکتے ہیں، ہمیں سوچ سمجھ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔ شرکا نے پاکستان کے شہداء کے لیے فاتحہ خوانی کی اور ملک کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سویلین اور فوجی جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔

رل تے گئے ا پر چس بڑی ای جے۔ بھارت کی اجارہ داری ختم؛ مودی کی زندگی خطرے میں۔سکھوں مسلمانوں بھاریوں کو وزیر اعظم کی سیکورٹی سے ھٹھا لیا گیا۔۔مودی کو سیکورٹی سٹاف سے قتل ھونے کا خطرہ بھارت کی خفیہ ایجنسی را کا الرٹ جاری۔مودی کی سیکورٹی صرف ھندو فورس کے حوالے بھارت کی سب سے بڑی جمہوریت خطرے میں ۔اسلام آباد بادبان رپورٹ سھیل رانا سے۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

* *ڈی جی آئی ایس پی آر کیHILAL TALKS میں اساتذہ سے خصوصی گفتگو* * بلوچستان ، پاکستان کا حصہ ہے اور کبھی پاکستان سے الگ نہیں ہو سکتا۔* ہندوستان اور ہندوستانی پراکسیز پورے خطے کے لیے خطرہ ہیں۔ * بی ایل اے ( فتنہ الہندوستان ) کو ہندوستان سے مکمل مالی معاونت حاصل ہے۔* کشمیر بنے گا پاکستان ۔* ⁠عوام سے افواج ہیں اور افواج سے عوام ۔ یہ محبت کا لازوال رشتہ ہمیشہ قائم دائم رہے گا ۔ انشاء اللّٰہ

قاتل حکومت غریب نے عید پر نئے کپڑے مانگنے پر 3 بچوں کو قتل کر کے خود کشی کر لی۔۔ نہ آسمان گرا نہ زمین پھٹی 3 سالوں میں پاکستانی 24 کروڑ عوام کی زندگی آخری سسکیاں لے رھی ھے۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*ہائے یہ غربت۔۔۔۔**رحیم یار خان، عید کے کپڑے مانگنے پرباپ نے 3 بچوں کو زہردے کر خودکشی کرلی*رحیم یار خان میں عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے 3 بچوں کو زہردے کر خودکشی کرلی۔پولیس کے مطابق رکن پور کے علاقے سردار گڑھ بستی حاجی پیرمیں پیش آیا جہاں ایک محنت کش نے 2 معذور بیٹوں اوربیٹی سمیت زہریلی گولیاں کھالیں۔ اس حوالے سے ترجمان شیخ زید اسپتال نے بتایاکہ زہریلی گولیاں کھانے سے 2 بیٹے اورباپ دم توڑگیا جبکہ بیٹی کی حالت خطرے سے باہر ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہری ٹریکٹر ٹرالی چلا کرمحنت مزدوری کرتا تھا مگر کام نہ ملنے کے باعث کافی روزسے پریشان تھا۔

قاتل وزیر یا کوی اور ؟ اسلام آباد میں سی ڈی اے کے آپریشن کے دوران ریڑھی اٹھانے پر بزرگ ریڑھی بان دل کادورہ پڑنے سے جانبحق، متوفی منتیں کرتا رہا سی ڈی اے اہلکار ریڑھی اٹھا کرلے گئے ،غریب کو دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا

🚨اسلام آباد میں سی ڈی اے کے آپریشن کے دوران ریڑھی اٹھانے پر بزرگ ریڑھی بان دل کادورہ پڑنے سے جانبحق، متوفی منتیں کرتا رہا سی ڈی اے اہلکار ریڑھی اٹھا کرلے گئے ،غریب کو دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا

کرپشن کیس میں پاکستان میں وزارت حج کا 21 واں نمبر ھے کھانوں بلڈنگز بسوں کے بعد منی میں 90 ھزار حجاج کو فروخت کرنا ہے منی میں حج مشن نہ لینے پر سومرو کو پھانسی پر لٹکا دینا چاہیے مری ھوی مرغیاں کھلانے پر اسکو اور اس کے خاندان کو بھی سزا دینی چاہیے گزشتہ سال ھمارے معاونین کو گرفتار کیا گیا اور اس سال تو خطرہ اس سے بھی زیادہ ہے بادبان ٹی وی رپورٹ کے مطابق ان معاونین کو اب ناظم کا درجہ دے دیا ہے یہ ناظم اب 180 حجاج کو انکو خیموں میں پھنچاے گا شیطانوں کو کنکریاں مرواے گا ٹرین پر چڑھاے گا راستہ دکھاے گا 5 روز انکو کھانا کھلاے گا اگر 180 میں کوی بیمار ھو جاے یا گم جاے تو وہ انکو ڈھونڈے گا اسکے عوض وہ انکے ساتھ حج کر پاے گا کیونکہ سومرو حج مشن نھی لے سکا اور نہ ھی ان معلمین سے 1000 معاونین کی رھاشیی منی میں لے سکا کیونکہ اس نے ایک کمپنی کو 90 ھزار حاجی فروخت کئے اور کروڑوں ریال وصول کئے ان معاونین کے پاس منی میں رھنے کا قانونی حق نھی یہ وہ ناظم ھے کلرک ھیڈ کلرک سکول کالجز کے استاد ھے یا تو یہ ناظم مر جائے گیے یا بھاگ جاے گءے یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک ناظم 180 افراد حجاج کو سنبھال سکے اج سے تمام بسیں بند ھے اور حجاج 3 زلحج سے حرم نھی جا پارھے