All posts by admin

پارلیمنٹ اج آئین میں ترامیم کی حتمی منظوری دے گی تاریخ ایک بار پھر دھرائی جاے گی جب ذوالفقار علی بھٹو نے ڈھاکہ جانے والوں کی ٹانگیں توڑنے کا کھا تھا اور وزیر اعظم بن گئے تھے اور اج انکے نوائسے نے ترامیم نہ کرنے اور ووٹ نہ دینے والوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی ھے اور وزیر اعظم بننے کے لئے آخری سیڑھی پر قدم رکھا ھے تاریخ گواہ ہے اس وقت بھی مولانا مفتی اور اج مولانا فضل الرھمان کا کردار بھی آپ کے سامنے ہے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ترامیم کو ماننے اور اس کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے سھیل رانا لاءیو میں

کراچی کی عوام کو سستی بجلی کی فراہمی ممکن بنانے کےلیے کے الیکٹرک کی جانب سے اہم اقدام اٹھا لیا گیا ہے

کراچی کی عوام کو سستی بجلی کی فراہمی ممکن بنانے کےلیے کے الیکٹرک کی جانب سے اہم اقدام اٹھا لیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق کے الیکٹرک نے کئی دہائیوں کی کوششوں کے بعد کراچی کا پہلا 500 کے وی گرڈ اسٹیشن قائم کرلیا ہے، جو ایک بڑی کامیابی ہے۔کے الیکٹرک کو ’کینپ‘ کے ایٹمی پلانٹ سے سستی ترین بجلی کی فراہمی ممکن ہوسکے ہو گئی۔کےالیکٹرک نے 500 کے وی کا KKI (کے کے آئئی) گرڈ 22 ماہ کی قلیل ترین مدت میں مکمل کر لیا ہے۔ نجی شعبے میں جانے کے کافی عرصے بعد کے کے آئی گرڈ 500کےوی کا کراچی میں اپنی نوعیت کا پہلا گرڈ ہے۔کے کے آئی گرڈ کے ذریعے نیشنل گرڈ اور کے-الیکٹرک کے نیٹ ورک میں بجلی کی ترسیل کا کنکشن ہو گیا ہے۔کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی نے اس حوالے سے مختلف اسٹیک ہولڈرز بشمول حکومت پاکستان، حکومت سندھ، نیپرا اور دیگر کے درمیان تعاون کو سراہا۔مونس علوی کا کہنا تھا کہ الحمدللہ، کے الیکٹرک اور کراچی کے لیے ایک اور تاریخی لمحہ ہے، کے-الیکٹرک کے 500 کلو واٹ گرڈ اسٹیشن نے نیشنل گرڈ سے کراچی کو سستی بجلی کی ترسیل ممکن ہو گئی یہ رابطہ صنعتوں اور ملک کے جنوبی علاقوں کیلئے انرجی سیکیورٹی کو مزید تقویت پہنچائے گا۔

ناصر حسین: “یہ کرکٹ کا دیکھنے کے قابل دن تھا، جس میں 346 رنز بنے اور 11 وکٹیں گریں۔ ساجد خان نے شاندار کارکردگی دکھائی، اور پاکستان نے آخری گھنٹے میں زبردست کھیل پیش کیا، جس سے ہوم ٹیم کی جانب سے زبردست مقابلہ کرتے ہوئے میچ اپنے حق میں کر لیا”۔.

تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان سیاسی اتفاق رائے کے بغیر کوئی بھی آئینی ترمیم تاریخ کے کوڑے دان میں جگہ پائے گی۔

????تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان سیاسی اتفاق رائے کے بغیر کوئی بھی آئینی ترمیم تاریخ کے کوڑے دان میں جگہ پائے گی۔ یہ متفقہ آئین 1973 کو مزید متنازع بنا دے گا۔یہ فیڈریشن کے لیے بہت خطرناک ہو گا۔ وفاقی حکومت تحمل کا مظاہرہ کرے۔ میاں رضا ربانی، سابق چیئرمین سینیٹ

پارلیمان کی خصوصی کمیٹی میں منظور مسودے کی تفصیلات سامنے آگئیں، مسودے میں آرٹیکل 175 اے میں ترمیم تجویز کی گئی۔مسودے کے متن میں کہا گیا کہ چیف جسٹس پاکستان کی تقرری خصوصی پارلیمانی کمیٹی کرے گی

پارلیمان کی خصوصی کمیٹی میں منظور مسودے کی تفصیلات سامنے آگئیں، مسودے میں آرٹیکل 175 اے میں ترمیم تجویز کی گئی۔مسودے کے متن میں کہا گیا کہ چیف جسٹس پاکستان کی تقرری خصوصی پارلیمانی کمیٹی کرے گی، خصوصی پارلیمانی کمیٹی سپریم کورٹ کے 3 سینئر ترین ججز میں سے ایک کو نامزد کرے گی، سپریم کورٹ کے ججز کی تعیناتی کیلئے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نو ہوگی، چیف جسٹس جوڈیشل کمیشن کے سربراہ ہوں گے۔آئینی ترمیم کا مسودہ متفقہ طور پر منظور کرلیا گیامتن میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے 4 سینئر ترین ججز جوڈیشل کمیشن کے ارکان ہوں گے، جوڈیشل کمیشن میں وفاقی وزیر قانون اور اٹارنی جنرل، پاکستان بار کونسل کا ایک نمائندہ ہوگا، قومی اسمبلی اور سینیٹ سے 2، 2 ارکان جوڈیشل کمیشن کے رکن ہوں گے، جوڈیشل کمیشن میں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے حکومت اور اپوزیشن کا ایک ایک نمائندہ لیا جائے گا۔ججز تعیناتی کے کمیشن میں ایک خاتون یا غیرمسلم رکن ہوں گے، یہ خاتون یا غیر مسلم سینیٹ میں ٹیکنوکریٹ کا الیکشن لڑنے کے اہل ہونے چاہئیں، ایسی خاتون یا غیر مسلم کی بطور رکن تقرری چیئرمین سینیٹ کریں گے۔مجوزہ 26ویں آئینی ترمیم کے نئے مسودے میں 26 ترامیم شامل کی گئی ہیں، نئے مسودے میں ایک بار پھر آئینی بینچ تشکیل دینے کی تجویز دی گئی ہے، جوڈیشل کمیشن آئینی بینچز اور ججز کی تعداد کا تعین کرے گا، آئینی بینچز میں جہاں تک ممکن ہو تمام صوبوں سے مساوی ججز تعینات کیے جائیں گے، آرٹیکل 184 کے تحت از خود نوٹس کا اختیار آئینی بینچز کے پاس ہوگا، آرٹیکل 185 کے تحت آئین کی تشریح سے متعلق کیسز آئینی بینچز کے دائرہ اختیار میں آئیں گے۔چیف جسٹس کے تقرر کے لیے پارلیمانی کمیٹی 12 رکنی ہوگی، کمیٹی میں 8 ارکان قومی اسمبلی، 4 ارکان سینٹ شامل ہوں گے، پارلیمانی کمیٹی میں تمام پارلیمانی جماعتوں کی متناسب نمائندگی ہوگی۔مسودے کے متن میں کہا گیا کہ پارلیمانی کمیٹی کی سفارش پر چیف جسٹس کا نام وزیراعظم صدر مملکت کو بھجوائیں گے، کسی جج کے انکار کی صورت میں اگلے سینیئر ترین جج کا نام زیر غور لایا جائے گا، چیف جسٹس آف پاکستان کی مدت تین سال ہوگی ، چیف جسٹس کے لیے عمر کی بالائی حد 65 سال مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے، آرٹیکل 184 تین کے تحت سپریم کورٹ اپنے طور پر کوئی ہدایت یا ڈیکلیریشن نہیں دے سکتی، آرٹیکل 186 اے کے تحت سپریم کورٹ ہائیکورٹ کے کسی بھی کیس کو منتقل کر سکتی ہے، سپریم کورٹ ہائیکورٹ کے کسی بھی کیس کو کسی دوسری ہائیکورٹ یا اپنے پاس منتقل کر سکتی ہے، ججز تقرری کمیشن ہائی کورٹ کے ججز کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لے گا۔

وفاقی وزیر اطلاعا ت و نشریات عطا تارڑ کی سینیٹ میں تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان نے کھڑے ہوکر احتجاج کیا

وفاقی وزیر اطلاعا ت و نشریات عطا تارڑ کی سینیٹ میں تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان نے کھڑے ہوکر احتجاج کیا۔اپنے خطاب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم میں لاء اینڈ آرڈر صوبوں کو منتقل کیا گیا، نیشنل ایکشن پلان کے تحت کراچی کا امن 2013 سے 2017 کے دوران بحال ہوا۔انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوا، پھر دو لوگوں نے طالبان کو لاکر واپس آباد کیا، وہ دونوں لوگ اپنے کیے کی سزا بھگت رہے ہیں۔عطا تارڑ نے مزید کہا کہ یہ پالیسی فیصلہ اس وقت کے وزیراعظم نے کیا، جس نے نہیں دیکھا کہ نیشنل ایکشن پلان موجود تھا، جن دہشت گردوں کو واپس لا کر بسایا گیا تو وہ اب حملے کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ اور پشاور سیف سٹی سے کیوں محروم رہا، وفاق دہشت گردی کا خاتمہ کرے اور ایک پی ایم گڈ طالبان کہہ کر انہیں لاکر واپس آباد کردے۔وفاقی وزیر نے یہ بھی کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر 2018ء سے 2022 ء تک وزیراعظم نے ایک اجلاس نہیں کیا، دہشت گردی کا خاتمہ ان کی ترجیح نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ چادر اور چار دیواری کو پامال کرنے کی روایت بانی پی ٹی آئی نے ڈالی، پوچھتا ہوں جہانگیر ترین کی بیٹیوں پر کس نے پرچے کیے؟عطا تارڑ نے کہا کہ جو سیاسی روایات اس ملک میں ڈالی گئیں سیاست کو آلودہ کیا گیا، نفرت پھیلائی جو نفرت کی فصل بوئی تھی وہ آج کاٹ رہے ہیں۔