All posts by admin

ناصر حسین: “یہ کرکٹ کا دیکھنے کے قابل دن تھا، جس میں 346 رنز بنے اور 11 وکٹیں گریں۔ ساجد خان نے شاندار کارکردگی دکھائی، اور پاکستان نے آخری گھنٹے میں زبردست کھیل پیش کیا، جس سے ہوم ٹیم کی جانب سے زبردست مقابلہ کرتے ہوئے میچ اپنے حق میں کر لیا”۔.

تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان سیاسی اتفاق رائے کے بغیر کوئی بھی آئینی ترمیم تاریخ کے کوڑے دان میں جگہ پائے گی۔

????تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان سیاسی اتفاق رائے کے بغیر کوئی بھی آئینی ترمیم تاریخ کے کوڑے دان میں جگہ پائے گی۔ یہ متفقہ آئین 1973 کو مزید متنازع بنا دے گا۔یہ فیڈریشن کے لیے بہت خطرناک ہو گا۔ وفاقی حکومت تحمل کا مظاہرہ کرے۔ میاں رضا ربانی، سابق چیئرمین سینیٹ

پارلیمان کی خصوصی کمیٹی میں منظور مسودے کی تفصیلات سامنے آگئیں، مسودے میں آرٹیکل 175 اے میں ترمیم تجویز کی گئی۔مسودے کے متن میں کہا گیا کہ چیف جسٹس پاکستان کی تقرری خصوصی پارلیمانی کمیٹی کرے گی

پارلیمان کی خصوصی کمیٹی میں منظور مسودے کی تفصیلات سامنے آگئیں، مسودے میں آرٹیکل 175 اے میں ترمیم تجویز کی گئی۔مسودے کے متن میں کہا گیا کہ چیف جسٹس پاکستان کی تقرری خصوصی پارلیمانی کمیٹی کرے گی، خصوصی پارلیمانی کمیٹی سپریم کورٹ کے 3 سینئر ترین ججز میں سے ایک کو نامزد کرے گی، سپریم کورٹ کے ججز کی تعیناتی کیلئے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نو ہوگی، چیف جسٹس جوڈیشل کمیشن کے سربراہ ہوں گے۔آئینی ترمیم کا مسودہ متفقہ طور پر منظور کرلیا گیامتن میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے 4 سینئر ترین ججز جوڈیشل کمیشن کے ارکان ہوں گے، جوڈیشل کمیشن میں وفاقی وزیر قانون اور اٹارنی جنرل، پاکستان بار کونسل کا ایک نمائندہ ہوگا، قومی اسمبلی اور سینیٹ سے 2، 2 ارکان جوڈیشل کمیشن کے رکن ہوں گے، جوڈیشل کمیشن میں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے حکومت اور اپوزیشن کا ایک ایک نمائندہ لیا جائے گا۔ججز تعیناتی کے کمیشن میں ایک خاتون یا غیرمسلم رکن ہوں گے، یہ خاتون یا غیر مسلم سینیٹ میں ٹیکنوکریٹ کا الیکشن لڑنے کے اہل ہونے چاہئیں، ایسی خاتون یا غیر مسلم کی بطور رکن تقرری چیئرمین سینیٹ کریں گے۔مجوزہ 26ویں آئینی ترمیم کے نئے مسودے میں 26 ترامیم شامل کی گئی ہیں، نئے مسودے میں ایک بار پھر آئینی بینچ تشکیل دینے کی تجویز دی گئی ہے، جوڈیشل کمیشن آئینی بینچز اور ججز کی تعداد کا تعین کرے گا، آئینی بینچز میں جہاں تک ممکن ہو تمام صوبوں سے مساوی ججز تعینات کیے جائیں گے، آرٹیکل 184 کے تحت از خود نوٹس کا اختیار آئینی بینچز کے پاس ہوگا، آرٹیکل 185 کے تحت آئین کی تشریح سے متعلق کیسز آئینی بینچز کے دائرہ اختیار میں آئیں گے۔چیف جسٹس کے تقرر کے لیے پارلیمانی کمیٹی 12 رکنی ہوگی، کمیٹی میں 8 ارکان قومی اسمبلی، 4 ارکان سینٹ شامل ہوں گے، پارلیمانی کمیٹی میں تمام پارلیمانی جماعتوں کی متناسب نمائندگی ہوگی۔مسودے کے متن میں کہا گیا کہ پارلیمانی کمیٹی کی سفارش پر چیف جسٹس کا نام وزیراعظم صدر مملکت کو بھجوائیں گے، کسی جج کے انکار کی صورت میں اگلے سینیئر ترین جج کا نام زیر غور لایا جائے گا، چیف جسٹس آف پاکستان کی مدت تین سال ہوگی ، چیف جسٹس کے لیے عمر کی بالائی حد 65 سال مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے، آرٹیکل 184 تین کے تحت سپریم کورٹ اپنے طور پر کوئی ہدایت یا ڈیکلیریشن نہیں دے سکتی، آرٹیکل 186 اے کے تحت سپریم کورٹ ہائیکورٹ کے کسی بھی کیس کو منتقل کر سکتی ہے، سپریم کورٹ ہائیکورٹ کے کسی بھی کیس کو کسی دوسری ہائیکورٹ یا اپنے پاس منتقل کر سکتی ہے، ججز تقرری کمیشن ہائی کورٹ کے ججز کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لے گا۔

وفاقی وزیر اطلاعا ت و نشریات عطا تارڑ کی سینیٹ میں تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان نے کھڑے ہوکر احتجاج کیا

وفاقی وزیر اطلاعا ت و نشریات عطا تارڑ کی سینیٹ میں تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان نے کھڑے ہوکر احتجاج کیا۔اپنے خطاب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم میں لاء اینڈ آرڈر صوبوں کو منتقل کیا گیا، نیشنل ایکشن پلان کے تحت کراچی کا امن 2013 سے 2017 کے دوران بحال ہوا۔انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوا، پھر دو لوگوں نے طالبان کو لاکر واپس آباد کیا، وہ دونوں لوگ اپنے کیے کی سزا بھگت رہے ہیں۔عطا تارڑ نے مزید کہا کہ یہ پالیسی فیصلہ اس وقت کے وزیراعظم نے کیا، جس نے نہیں دیکھا کہ نیشنل ایکشن پلان موجود تھا، جن دہشت گردوں کو واپس لا کر بسایا گیا تو وہ اب حملے کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ اور پشاور سیف سٹی سے کیوں محروم رہا، وفاق دہشت گردی کا خاتمہ کرے اور ایک پی ایم گڈ طالبان کہہ کر انہیں لاکر واپس آباد کردے۔وفاقی وزیر نے یہ بھی کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر 2018ء سے 2022 ء تک وزیراعظم نے ایک اجلاس نہیں کیا، دہشت گردی کا خاتمہ ان کی ترجیح نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ چادر اور چار دیواری کو پامال کرنے کی روایت بانی پی ٹی آئی نے ڈالی، پوچھتا ہوں جہانگیر ترین کی بیٹیوں پر کس نے پرچے کیے؟عطا تارڑ نے کہا کہ جو سیاسی روایات اس ملک میں ڈالی گئیں سیاست کو آلودہ کیا گیا، نفرت پھیلائی جو نفرت کی فصل بوئی تھی وہ آج کاٹ رہے ہیں۔

ملتان میں ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان نے انگلینڈ کو 152 رنز سے شکست دیکر تین میچوں کی سیریز ایک ایک سے برابر کر دی

ملتان میں ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان نے انگلینڈ کو 152 رنز سے شکست دیکر تین میچوں کی سیریز ایک ایک سے برابر کر دی۔ ملتان کے انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے میچ میں انگلینڈ نے چوتھے روز کے کھیل کا آغاز دو وکٹ کے نقصان پر 36 رنز سے کیا لیکن ساجد خان نے ایک رن کے اضافے پر ہی اولی پوپ کو پویلین کی راہ دکھا دی جبکہ 18 کے انفرادی اسکور پر نعمان علی نے جو روٹ کو ایل بی ڈبلیو کر دیا۔نعمان علی نے 78 کے مجموعے پر ہیری بروک کو بھی ایل بی ڈبلیو آؤٹ کر دیا۔ نعمان علی نے 78 کے مجموعے پر ہیری بروک کو بھی ایل بی ڈبلیو آؤٹ کر دیا جبکہ نعمان علی نے اپنا چوتھا شکار انگلش وکٹ کیپر بیٹر جیمی اسمتھ کو بنایا جو 6 رن بنا کر کپتان شان مسعود کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔انگلش کپتان بین اسٹوکس نعمان علی کے پانچویں شکار بنے جو 37 رنز بنا کر اسٹمپڈ آؤٹ ہوئے۔برینڈن کیرس اور جیک لیچ کو بھی نعمان علی نے آؤٹ کیا۔ انگلینڈ کی آخری وکٹ بھی نعمان علی کے حصے میں آئی۔ انگلینڈ کی جانب سے دوسری اننگز میں بین اسٹوکس 37 رنز بنا کر نمایاں رہے جبکہ برینڈن کیرس نے 27 اور اولی پوپ نے 22 رنز اسکور کیے۔ پاکستان کی جانب سے نعمان علی نے 8 اور ساجد خان نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔اس سے قبل تیسرے دن کھیل کے اختتامی لمحات میں پاکستان نے انگلش اوپنرز کو چلتا کیا تھا، ساجد نے پہلے ہی اوور میں بین ڈکِٹ کی قیمتی وکٹ لی تھی جبکہ زیک کرالی کو نعمان علی نے پویلین بھیجا تھا۔پاکستان نے پہلی اننگز میں 366 رنز اسکور کیے تھے جس کے جواب میں انگلینڈ کی ٹیم 75 رنز کے خسارے کے ساتھ 291 رنز پر آؤٹ ہو گئی تھی۔ دوسری اننگز میں پاکستانی ٹیم 221 رنز پر آؤٹ ہو گئی تھی اور انگلینڈ کو جیت کے لیے 297 رنز کا ہدف دیا۔ پاکستان کا اسکواڈ کپتان شان مسعود، صائم ایوب، عبد اللہ شفیق، سعود شکیل، محمد رضوان، سلمان علی آغا، کامران غلام، نعمان علی، زاہد محمود اور ساجد خان پر مشتمل ہے جب کہ انگلینڈ کا اسکواڈ کپتان بین اسٹوکس، زیک کرولی، بین ڈکٹ، اولی پوپ، جو روٹ، ہیری بروک، جیمی سمتھ، بریڈن کارس، میٹ پوسٹ، جیک لیچ اور شعیب بشیر پر مشتمل ہے۔

افغانستان کی عبوری طالبان حکومت نے کہاہے کہ وہ ایران کی سرحد پر 250 کے قریب افغان باشندوں کی ہلاکت کی اطلاعات کی تحقیقات کر رہے ہیں

افغانستان کی عبوری طالبان حکومت نے کہاہے کہ وہ ایران کی سرحد پر 250 کے قریب افغان باشندوں کی ہلاکت کی اطلاعات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ طالبان کی جانب سے ایرانی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں افغان شہریوں کے مبینہ ہلاکت اور زخمی ہونے کا یہ پہلا اعتراف ہے۔ قبل ازیں، طالبان نے پہلے ان رپورٹس کو افواہیں قرار دیا تھا۔ ایرانی صوبے سیستان و بلوچستان کے علاقے سراوان کے مرکز کالگان میں فائرنگ سے درجنوں افغان شہری ہلاک ہوئے ہیں۔