All posts by admin

چھبیسویں آئینی ترمیم کے مجوزہ ڈرافٹ کی تیاری حتمی مرحلے میں داخل ہو گئی ہے اور اس نئے ڈرافٹ کے اہم نکات اور تجاویز بھی سامنے آگئی ہیں

چھبیسویں آئینی ترمیم کے مجوزہ ڈرافٹ کی تیاری حتمی مرحلے میں داخل ہو گئی ہے اور اس نئے ڈرافٹ کے اہم نکات اور تجاویز بھی سامنے آگئی ہیں۔ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے پانچ یا نو رکنی آئینی بینچ کے قیام کی تجویز مجوزہ نکات میں شامل کی گئی ہے۔’مجھ پر پریشر ہے‘، بی این پی سینیٹر نعیمہ احسان کا نم آنکھوں سے آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے کا اعلانڈرافٹ میں موجود تجاویز کے مطابق آئینی بینچ کی تشکیل جوڈیشل کمیشن کرے گا، آئینی بینچ کا سربراہ بھی جوڈیشل کمیشن مقرر کرے گا۔تجویز دی گئی ہے کہ آئینی بینچ میں ردوبدل کا اختیار چیف جسٹس سپریم کورٹ کو نہیں ہو گا۔ڈرافٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ آئینی بینچ کے تقرر کی میعاد مقرر کی جائے گی، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا تقرر تین سینئیر ترین ججز میں سے ہوگا۔ذرائع کے مطابق چیف الیکشن کمیشنر کے تقرر کا طریقہ کار بھی تبدیل کرنے کی تجویز بھی مجوزہ مسودہ کا حصہ ہے، وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر میں اتفاق نہ ہونے پر چیف الیکشن کمشنر کا تقرر پارلیمانی کمیٹی کرے گی۔ذرائع کے مطابق آرٹیکل 63 اے میں ترمیم کے بعد پارٹی پالیسی کے تحت ووٹ شمار ہوگا۔آرٹیکل 48 میں ترمیم بھی مجوزہ آئینی ڈرافٹ میں شامل ہے۔ذرائع کے مطابق وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کی صدر کو بھیجی گئی ایڈوائس چیلنج نہیں ہوسکے گی، کسی ادارے، عدالت یا اتھارٹی کو صدر کو بھیجی گئی ایڈوائس پر تحقیقات یا کارروائی کا اختیار نہیں ہوگا۔وزیر قانون کا تیار کردہ ڈرافٹوزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے تیار کردہ ڈرافٹ کے مطابق حکومت نے آئین کے آرٹیکل 48 کی شق 4 میں ترمیم کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد جیسا کہ پہلے بتایا گیا صدر مملکت، کابینہ اور وزیر اعظم کی طرف سے منظور کردہ مشورہ کسی عدالت یا ٹربیونل اور کہیں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔حکومت نے آئینی ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 63 اے میں ترمیم کی تجویز دی ہے، جس کے بعد پارٹی سربراہ کی ہدایت کے خلاف ووٹ گنا جائے گا، پارٹی سربراہ اُس کے بعد کارروائی کرسکتا ہے۔آئین کے آرٹیکل 111 میں بھی ترمیم کی کی تجویز ہے، جس کے مطابق اب ایڈووکیٹ جنرل کے ساتھ ایڈوائزر بھی قانونی معاملات صوبائی اسمبلی میں بات کرسکتا ہے۔حکومت نے ججز تقرری آرٹیکل 175 اے میں ترمیم کی تجویز دی ہے۔جوڈیشل کمیشن جو صرف ججز کی تقرری کرتا تھا، اب ہائیکورٹ کے ججز کی کارکردگی جائزہ لے سکے گا۔سپریم کورٹ میں ججز تقرری میں بھی ترمیم کی تجویز ہے۔ سپریم کورٹ ججز کی تعیناتی میں چار اسمبلی ارکان کمیٹی کے ممبرز ہوں گے، جن میں سے دو حکومت اور دو اپوزیشن کے ارکان ہوں گے، حکومت کی طرف سے ایک سینیٹر اور ایک ایم این اے کا نام وزیر اعظم تجویز کریں گے، اپوزیشن کی طرف سے دو نام اپوزیشن لیڈر تجویز کریں گے۔ترمیم کے مطابق چیف جسٹس کی تعیناتی خصوصی پارلیمانی کمیٹی کرے گی، خصوصی کمیٹی کے 8 ارکان قومی اسمبلی اور چار ارکان سینیٹ کے ہوں گے، کُل 12 رکنی پارلیمانی کمیٹی چیف جسٹس کا تقرر کرے گی۔مجوزہ ترمیم کے مطابق اب موسٹ سینئر جج چیف جسٹس نہیں بنے گا، تین موسٹ سینئر ججز میں کسی ایک کا انتخاب ہوگا۔اسلام آباد ہائیکورٹ چیف جسٹس کی تعنیاتی کے لئے پہلے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اور موسٹ سینئر جج مل کر چُنتے تھے، ترمیم کے بعد ان دونوں کے ساتھ 15 سال تجربہ رکھنے والا ایک سینئر وکیل ہوگا، ایک وفاقی وزیر ممبر ہوگا جو وزیر اعظم کا نامزد کردہ ہوگا۔حکومت نے آرٹیکل 184میں ترمیم کی تجویز بھی دی ہے، حکومت کی جانب سے چیف جسٹس سے سُومو نوٹس لینے کا اختیار ختم کرنے کی تجویز ہے۔ چیف جسٹس پیٹیشن کے متعلق ہی نوٹس جاری کرسکے گا۔حکومت نے آرٹیکل 179 میں ترمیم کی تجویز بھی دی ہے، جس کے مطابق چیف جسٹس کی مدت تین سال ہوگی، چیف جسٹس 65 سال عمر ہوتے ہی مدت سے پہلے ریٹائر ہوجائیں گے، اگرچہ 60 سال کی عمر میں چیف جسٹس بن گئے تو تین سال کے بعد عہدے سے ریٹائر ہونا ہوگا۔حکومت نے آئین میں نیا آرٹیکل 191 اے شامل کرنے کی تجویز بھی دی ہے، جس کے مطابق سپریم کوٹ میں آئینی بنچ بنائی جائے گی، آئینی بنچ کے ججز کی تقرری جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کرے گا، آئینی بینچ میں تمام صوبوں سے برابر ججز تعینات کئے جائیں گے۔ آئینی مقدمات آئینی بینچ کو منتقل ہوجائیں گے،حکومت نے آرٹیکل 199 میں ترمیم کی تجویز دی ہے کہ تمام آئینی مقدمات آئینی بینچ سنے گی۔آرٹیکل 209 میں مجوزہ ترمیم کے مطابق عدلیہ استدعا سے زیادہ کسی آئینی معاملے پر حکم یا تشریح نہیں کرسکتی۔حکومت کی آرٹیکل 215 میں مجوزہ ترمیم کے مطابق سپریم جوڈیشل کاؤنسل کی تشکیل میں چیف جسٹس سپریم کورٹ، دو سینئر موسٹ ججز اور دو ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ممبر ہوں گے تجویز۔حکومت کی آئین کے فورتھ شیڈول میں مجوزہ ترمیم کے مطابق چیف الیکشن کمشنر مدت ختم ہونے کے بعد 90 دن عہدے پر رہ سکتے ہیں، جبکہ نیا چیف چیف الیکشن کمشنر تعینات ہو۔کینٹومنٹ کو لوکل ٹیکسز لینے کا اختیار دینے کی تجویز بھی ڈرافٹ میں شامل ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ معیشت میں ٹیکسوں کا حصہ 13.5 فیصد تک پہنچانا چاہتے ہیں۔امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم سے ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور دو طرفہ تعاون پر تبادلہ خیال

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ معیشت میں ٹیکسوں کا حصہ 13.5 فیصد تک پہنچانا چاہتے ہیں۔امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم سے ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور دو طرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے انہوں نے ٹیکسیشن، توانائی اور ایس او ای کے محاذوں پر وسیع البنیاد اصلاحات جاری رکھنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات کو کم سے کم کرنا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ٹیکس اصلاحات خوش آئند ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں توانائی کی اصلاحات قابل تعریف ہیں۔۔۔۔۔پاکستان کے ساتھ سرمایہ کاری اور تجارتی تعاون بڑھانا چاہتے ہیں۔

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے سوشل میڈیا پر لاہور میں نجی کالج کی طالبہ سے مبینہ زیادتی کا پروپیگنڈا کرنے کے الزام میں متعدد صحافیوں اور یوٹیوبرز سمیت 38 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے سوشل میڈیا پر لاہور میں نجی کالج کی طالبہ سے مبینہ زیادتی کا پروپیگنڈا کرنے کے الزام میں متعدد صحافیوں اور یوٹیوبرز سمیت 38 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کی جانب سے درج کردہ مقدمے میں سینئر صحافی و تجزیہ کار ایاز امیر، عمران ریاض، سمیع ابراہیم، فرح اقرار، صحافی شاکر محمود اعوان اور دیگر کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ایف آئی اے کی جانب سے درج کیے گئے مقدمے میں راجا احسن نوید، فیصل پاشا، نعیم بخاری، عمر دراز گوندل، رابعہ ملک، ثاقب جمیل، فرقان، ایڈووکیٹ میاں عمر اور حسیب احمد کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل نے درج مقدمے پر مزید کارروائی بھی شروع کردی ہے۔

مینگل گروپ کی خانوں سینٹر سینٹ میں دھاڑیں مار کر رو پڑی

بی این پی مینگل کی سینیٹر نسیمہ احسان سینیٹ میں رو پڑیں، آئینی ترامیم کی حمایت میں ووٹ دینے کا عندیہ دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق بی این پی مینگل کی سینیٹر نسیمہ احسان کے بیٹے کے مبینہ اغوا سے متعلق اطلاعات سامنے آنے کے بعد خاتون سینیٹر نے جمعرات کے روز سینیٹ اجلاس میں شرکت کی اور اظہار خیال کرتے ہوئے رو پڑیں۔انہوں نے سینیٹ اجلاس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں، چادر چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا ہے۔ سینیٹر نسیمہ احسان نے کہا کہ اگر مل بیٹھ کر بات کی جائے تو بہتر ہوگا کہ مسائل کا حل ہو، کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس کا بیٹھ کر حل نہ نکالا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سینیٹر نسیمہ احسان آبدیدہ ہو گئیں جس پر ایوان میں موجود خواتین سینیٹرز ان کی نشست پر پہنچ گئیں۔خواتین اراکین سینیٹ نے سینیٹر نسیمہ احسان کو دلاسا دیا۔ جبکہ چئیرمین سینیٹ نے کہا کہ اگر آپ یہاں بات نہیں کر سکتیں تو چیمبر میں آئیں مجھ سے بات کریں۔ جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے نسیمہ احسان کے آبدیدہ ہونے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس اسمبلی اس ایوان کے اراکین کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ کسی ماں بہن کے بچے کو اٹھا کر ووٹ لینے سے کیا حاصل ہوگا۔سردار اختر مینگل پارلیمنٹ سے مستعفی ہو چکے ہیں، اب اس خاتون بہن کو بھی اسی طرح ایوان سے نکالنا چاہتے ہیں؟ بچوں کو اغوا کر کے ووٹ نہیں لیا جا سکتا، آرام سے ووٹ لینے کی بات کریں۔ واضح رہے کہ سردار اختر مینگل کی جانب سے گزشتہ روز انکشاف کیا گیا تھا کہ میری پارٹی کی سینیٹر نسیمہ احسان اپنے اپارٹمنٹ تک محدود ہیں، اور ان کے بیٹے کو بھی اغوا کرلیا گیا ہے۔ اس انکشاف کے بعد جمعرات کے روز سینیٹر نسیمہ احسان نے اچانک وزیراعظم کے ظہرانے میں شرکت کی اور بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آئینی ترامیم کیلئے ووٹ دینے کا عندیہ دے دیا۔

دہشتگردی کے خلاف جنگ کی مد میں خیبرپختونخوا کو 14 سال میں 4 کھرب 99 ارب روپے موصول ہوئے۔ این ایف سی ایوارڈ کے 1 فیصد وار آن ٹیرر فنڈ کی تفصیل خیبرپختونخوا اسمبلی میں پیش کردی گئی

دہشتگردی کے خلاف جنگ کی مد میں خیبرپختونخوا کو 14 سال میں 4 کھرب 99 ارب روپے موصول ہوئے۔ این ایف سی ایوارڈ کے 1 فیصد وار آن ٹیرر فنڈ کی تفصیل خیبرپختونخوا اسمبلی میں پیش کردی گئی۔محکمہ خزانہ کی رپورٹ میں 2010 سے مارچ 2024 تک وار آن ٹیرر کی مد میں جاری رقم کی تفصیل شامل ہیں۔مالی سال 2010- 11 میں وفاق سے 14 ارب 55 کروڑ روپے موصول ہوئے۔دستاویز کے مطابق مالی سال 2022-23 میں صوبے کو سب سے زیادہ 70 ارب 66 کروڑ 40 لاکھ روپے موصول ہوئے۔مالی سال 2023- 24 میں مارچ تک 56 ارب 46 کروڑ سے ذائد رقم ملی ہے یعنی خیبرپختونخوا کو 14 سال میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کی مد میں 4 کھرب 99 ارب روپے موصول ہوئے ہیں۔

پنجاب کے تمام سکولز کالجز بند وزیر اعلی ان ایکشن دفعہ 144 نافذ۔حالات کشیدہ صورتحال نازک

پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ۔ تفصیلات کے مطابق مریم نواز کی پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں ہر قسم کے احتجاج، جلسے جلوسوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق صوبے بھر میں 2 روز کیلئے دفعہ 144 نافذ رہے گی۔ فیصلے کے تحت صوبے میں کسی بھی مقام پر احتجاج، جلسے اور جلوسوں کی اجازت نہیں ہو گی۔پنجاب حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ جب ایک جانب لاہور کے نجی کالج میں طالبہ کے مبینہ ریپ کے واقعے پر طلبا احتجاج کر رہے ہیں تو دوسری جانب تحریک اںصاف نے بھی مجوزہ آئینی ترمیم کیخلاف ملک بھر میں احتجاج کی کال دے دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے دستور میں ترمیم کے حکومتی منصوبے کی بھرپور مزاحمت کا فیصلہ کرلیا ہے، جس کے تحت پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے آئین میں ترمیم اور بانی چیئرمین عمران خان کو بدترین سلوک کا نشانہ بنائے جانے کے خلاف جمعتہ المبارک کو ملک گیر سطح پر شدید احتجاج کا اعلان کیا ہے۔پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کے اعلامیہ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے آئینی ترمیم کے حکومتی منصوبے کے خلاف جمعتہ المبارک کو ملک گیر سطح پر شدید احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ سیاسی کمیٹی کی جانب سے اڈیالہ میں قید بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے روا رکھی جانے والی زیادتیوں کی شدید مذمت کی گئی۔ عمران خان کے بنیادی حقوق کی اور ان تک اہلِ خانہ، وکلاء اور تحریکی قائدین کی رسائی کی فوری بحالی کا بھی مطالبہ کیا گیا۔تمام ریجنل اور مقامی تنظیمات کو تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز پر نمازِ جمعہ کے بعد بھرپور مگر پُرامن احتجاج کی ہدایت کی گئی ہے۔ آئینی ترمیم کے ذریعے دستور کو مسخ کرنے کی حکومتی کوشش کو کسی طور پر قبول نہ کرنے پر مکمل اتفاق کیا گیا۔ آئین کی بالادستی پر یقین رکھنے والے تمام طبقات کو پرامن احتجاج میں شرکت کی اپیل کی گئی ہے۔ اجلاس میں پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں ترمیم کا راستہ روکنے کیلئے بھی ہر ممکن کوشش پر اتفاق کیا گیا۔اعلامیہ کے مطابق سیاسی کمیٹی کی جانب سے بانی چیئرمین عمران خان کی بہنوں علیمہ خانم اور عظمیٰ خانم کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ انتظار حسین پنجوتھہ ایڈووکیٹ، اعظم سواتی اور تحریک انصاف بلوچستان کے صدر سمیت تمام گرفتار قائدین، کارکنان اور اراکینِ پارلیمان کی فوری رہائی پر بھی زور دیا گیا ہے۔

ایران نے غیر قانونی طور داخل ھونے والے 290 افغان باشندے ھلاک کر دئے

ایرانی صوبے سیستان بلوچستان میں فائرنگ سے 200 سے زیادہ افغان شہری جاں بحق ہوگئے۔ افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ افغان شہری غیرقانونی طریقے سے ایران میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایران میں داخل ہونے والے افغان شہریوں کو ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا۔ایرانی انسانی حقوق کے گروپ کا کہنا ہے کہ ایران میں داخلے کی کوشش کرنے والے افغانوں کی تعداد 300 تھی۔ ایرانی بارڈر گارڈز نے پہاڑوں میں چھپ کر افغان شہریوں کو نشانہ بنایا۔انسانی حقوق گروپ نے یہ بھی بتایا کہ ایرانی بارڈر گارڈز کی فائرنگ سے صرف 50 افغانی بچ سکے۔واقعے کے ایک عینی شاہد افغان باشندے کا کہنا ہے کہ ہمیں ایران کے علاقے کلگان سراوان میں نشانہ بنایا گیا۔ ہمارے قافلے میں 300 افراد تھے جن میں سے 270 یا 280 مارے گئے۔ادھر ترجمان افغان حکومت ذبیح اللّٰہ مجاہد کا کہنا ہے کہ افغان حکومت واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔