وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی، وفاق کے غیر منصفانہ فیصلے کے خلاف ڈٹ گئے۔خیبرپختونخوا حکومت نے نیشنل فنانس کمیشن (NFC) کے مذاکرات میں شامل ہونے سے انکار کر دیا، کیونکہ دیگر تین صوبوں نے وسائل کی تقسیم کے کسی بھی نئے فارمولے میں ضم شدہ اضلاع کی 6.1 ملین آبادی کو شامل کرنے سے انکار کیا ہے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور صوبائی وزیر خزانہ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت قبائلی عوام کے حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔
سردار ایاز صادق سپیکر قومی اسمبلی نے تاریخی بچت کر کے باقی اداروں کی رہنمائی کر دی قومی اسمبلی میں ایک روپے کی کرپشن اور غیر ضروری اخراجات مکمل طور پر ختم کر دیئے ھے 50 کروڑ روپے کی بجت
صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس میں وزراعظم شہباز شریف فیلڈ مارشل عاصم منیر بلاول بھٹو اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی شرکت،
تیل کی ممکنہ قلت اور بڑھتی قیمتوں کے تناظر میں معیشت و توانائی صورتحال کا جائزہ،
مہنگائی کنٹرول، توانائی تحفظ اور کفایت شعاری اقدامات پر زور، جبکہ علاقائی صورتحال کے سکیورٹی اور معیشت پر اثرات پر بھی غور کیا
*وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے ایم کیو ایم کے وفد کی ملاقات*کنوینر ایم کیو ایم خالد مقبول صدیقی کی سربراہی میں ایم کیو ایم کے وفد کی وزیرِ اعظم شہباز شریف سے کراچی میں ملاقات. وفد میں سابق گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری، وفاقی وزیرِ قومی صحت مصطفی کمال، ڈاکٹر فاروق ستار، سید امین الحق اور سینیٹر فیصل سبزواری شریک تھے. نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احسن اقبال، عطاء اللہ تارڑ، وزیرِ مملکت کھئیل داس، مشیر وزیرِ اعظم رانا ثناء اللہ اور گورنر سندھ نہال ہاشمی بھی ملاقات میں شریک تھے. وزیرِ اعظم نے سابق گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کی خدمات کو سراہا. ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا. وزیرِ اعظم نے وفد کو پاکستان کی خطے میں امن کے قیام کیلئے سفارتی کوششوں و اقدامات سے آگاہ کیا. ملاقات میں صوبہ سندھ بشمول کراچی کی صورتحال اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی.
26 مارچ 2026۔وزیراعظم محمد شہباز شریف کی رکن سندھ اسمبلی فریال تالپور کی رہائش گاہ آمد وزیراعظم کی فریال تالپور کی بیٹی عائشہ تالپور کی شادی پر انہیں اور ان کے اہل خانہ کو مبارکباد ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، گورنر سندھ نہال ہاشمی، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی ڈاکٹر احسن اقبال، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ بھی موجود تھے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی کراچی آمد* *سینیٹر شیری رحمان کی رہائش گاہ پر تعزیت کے لئے پہنچے*وزیراعظم کی سینیٹر شیری رحمان سے انکی بیٹی ماروی ملک کے انتقال پر اظہار تعزیت وزیراعظم کی مرحومہ کے لیے دعائے مغفرت.جواں عمر اولاد کے بچھڑنے کا غم والدین کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتا ہے، وزیراعظم اولاد سے بچھڑنے کے غم کو بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں، وزیراعظم اللہ تعالی مرحومہ کو جنت الفروس میں جگہ دے اور اہل خانہ کو صبر دے.
وزیر اعظم ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، گورنر سندھ نہال ہاشمی، وفاقی وزیر منصوبہ بندی ڈاکٹر احسن اقبال، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ بھی موجود تھے۔
خطے کی کشیدہ صورتحال اور قومی سلامتی کے معاملات پر وزیراعظم شہباز شریف اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کے درمیان اہم ملاقات ہوئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ملاقات میں خطے کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر کیے گئے اقدامات پر بات چیت کی گئی اور وزیراعظم نے ایران امریکا جنگ میں پاکستان کے سفارتی کردار پر بلاول بھٹو زرداری کو اعتماد میں لیا،
ملاقات میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیراعلی
بلوچستان سرفراز بگٹی بھی شریک تھے، دونوں وزرائ اعلیٰ نے وزیراعظم کو صوبوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن سے متعلق حکمت عملی پر بریفنگ دی۔ رپورٹس کے مطابق ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات میں وزیراعظم کے ہمراہ حکومتی وزراء
سعودی وزارت داخلہ نے ویزوں کی میعاد سے متعلق نئی سہولت کا اعلان کیا ہے۔حکام کے مطابق جن افراد کے ویزوں کی مدت 25 فروری تک تھی، وہ مقررہ فیس ادا کرکے 18 اپریل تک مملکت میں قیام کر سکتے ہیں۔وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ایسے افراد جن کے ویزوں کی میعاد 25 فروری کو ختم ہو چکی ہے، وہ بغیر کسی اضافی فیس کے مملکت کی بین الاقوامی گزرگاہوں سے روانہ ہو سکتے ہیں۔سعودی حکام کے مطابق یہ سہولت عمرہ، ٹرانزٹ اور وزٹ ویزوں کے حامل افراد کے لیے دستیاب ہوگی، جو 18 اپریل تک اس پیشکش سے فائدہ اٹھا سکتے
اپنے بچوں کو 10 سال کی عمر سے ہی بتانا شروع کر دیں کہ اس دنیا کا نظام غیر منصفانہ ہے ، ان سے جھوٹ نہ بولیں کہ وہ اس دنیا میں جو چاہیں گے انہیں مل جاۓ گا یا ان کی تعلیم ان کو اعلی مقام تک لے جائیگی بلکہ انہیں ایک غیر منصفانہ نظامِ زندگی کے لیئے تیار کریں
تاکہ جب وہ پریکٹیکل لائف میں آئیں تو انہیں اس بات کا پوری طرح ادراک ہو کہ انہہوں نے اس غیر منصفانہ نظام سے اپنی صلاحیتوں کے مطابق اپنا حصہ کیسے وصول کرنا ہے