All posts by admin

وزیراعظم شہباز شریف نے ملک بھر میں دو سو یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کو تین ماہ کے لیے رعایت دینے کا اعلان کر تے ہوئے کہاہے کہ 200 یونٹ والے صارفین کو اگلے 3 ماہ کے لیے رعایت دے رہے ہیں

وزیراعظم شہباز شریف نے ملک بھر میں دو سو یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کو تین ماہ کے لیے رعایت دینے کا اعلان کر تے ہوئے کہاہے کہ 200 یونٹ والے صارفین کو اگلے 3 ماہ کے لیے رعایت دے رہے ہیں۔میرے اعلان سے 94 فیصد صارفین مستفید ہوں گے، جن چیلنجز کا ہمیں سامنا ہے وہ ہم مل کر حل کر لیں گے،اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے شکریہ کہ حالیہ بجٹ پاس کرنے میں آپ نے دل جمعی کے ساتھ حصہ لیا، بجٹ کو ہم نے بڑی محنت سے منظور کروایا، اگر ہم نے ریاست کو نہ بچایا ہوتا تو پھر کہاں کا بجٹ اور کہاں کی سیاست ، اللہ کا شکر ہے کہ وہ زمانہ گزر گیا اور پاکستان ڈیفالٹ ہونے سے بچ گیا۔انہوں نے بتایا کہ ہم سے پچھلے دور میں سیاست کو چمکانے کے لیے بڑے بول بولے گئے، دعوے کیے گئے، کہا گیا کہ 90 دن میں کرپشن کو ختم کردیا جائے گا، کرپشن ختم نہیں ہوئی مگر اتنے بڑے اسکینڈل آئے جو کہ سب کے سامنے ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ چینی اور گندم کو پہلے ایکسپورٹ کیا گیا اور پھر امپورٹ کیا گیا اور دوستوں کی جیبیں بھری گئیں، پھر کہا گیا کہ پاکستان کا 300 ارب ڈالر لوٹا ہوا واپس لائیں گے مگر اس کا ایک ڈھیلا تک واپس نہیں آیا تاہم این سی اے کی مہربانی سے 190 ملین پاونڈ بھجوائے گئے تاکہ یہ رقم قوم کے خزانے میں جمع ہو مگر کس طرح پیرا پھیری سے اس پیسے پر بھی پاتھ صاف کیے گئے، یہ ہے وہ ریکارڈ اس زمانے کا اور اس حکومت کا۔انہوں نے بتایا کہ نواز شریف کی قیادت میں ہم نے جو عوامی خدمت کا بیڑہ اٹھایا ہے اس میں کہیں بھی غلط بیانی سے کام نہیں لیا، ہم نے دانستہ طور پر عوام سے کوئی جھوٹ نہیں بولا، یہ 76 سالہ نتیجے میں آج قوم جہاں کھڑی ہے اور جن چیلنجز کا ہمیں سامنا ہے وہ ہم مل کر حل کر لیں گے، اس حوالے سے باتیں کی گئیں کہ شہباز شریف نے کہا کہ ہم آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر بجٹ بنا رہے ہیں تو اس میں کوئی بات راز کی نہیں ہے، ہم آئی ایم ایف کے ساتھ 3 سالہ پروگرام کرنے جارہے ہیں، اس زمانے میں ان کے بانی نے کہا تھا کہ مر جاوں گا مگر آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاوں گا اور اسی میں کئی ماہ لگادیے۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وقت نکلنے کے بعد وہ آئی ایم ایف کے پاس گئے اور ان سے مہنگا قرضہ لیا اور پھر اس پروگرام کو سیاست کی نذرکردیا کہ دنیا میں تیل کی قیمتیں آسمان پر تھیں اور عدم اعتماد کے خدشے کے باعث یکا یک تیل کی قیمتیں کم کر کے انہوں نے قومی خزانے کو بے پناہ نقصان پہنچایا۔انہوں نے بتایا کہ نواز شریف نے ہمیشہ دل کی گہرائیوں سے قومی کی خدمت کی، ہم اسی وژن پر عمل پیرا ہیں، مشکلات بے پناہ ہیں، کل کوئٹہ میں ہم نے صوبائی حکومت کے ساتھ معاہدہ کیا، بلوچستان میں 28 ہزار کے قریب جو لیگل کنکشنز ہیں ہمارے ہاریوں کے اس کے اوپر بجلی وہ استعمال کر رہے تھے مگر بل نہیں دیتے تھے اور تقریبا 80 ارب روپے سالانہ وفاق کو اس مد میں نقصان ہوتا تھااور یہ خسارہ اٹھایا جاتا تھا اور اوسط ایک اندازے کے مطابق پچھلے 8،10 سالوں میں 500 ارب روپے خزانے کے پانی میں بہہ گئے، یہی پیسہ اگر عوام کی خدمت میں لگا ہوتا تو خوشحالی اور بہتری کا نیا دور،کل ہم نے اس باب کو ختم کیا اور کل ہم نے 28 ہزار ٹیوب ویل کاٹنے اور ان کو شمسی توانائی سے چلانے کا فیصلہ کیا، اس پر 55 ارب روپے خرچ ہوں گے جس میں 70 فیصد وفاق اور 30 فیصد بلوچستان کی حکومت برداشت کرے گی۔شہباز شریف کے مطابق اس کے نتیجے میں جو سالانہ خسارہ ہوتا تھا وہ ختم ہوجائے گا ہمیشہ کے لیے اور سستی بجلی شمسی توانائی سے پیدا ہوگی اور کسان کی لاگت میں بے پناہ کمی آئے گی، یہی ماڈل ہم باقی صوبوں میں بھی لاگو کریں گے، پاکستان میں 10 لاکھ ٹیوب ویل تیل سے چلتے ہیں اس تیل کی قیمت ساڑھے تین ارب ڈالر ہے، یہ ہمارے خزانے میں بہت بڑا بوجھ ہے تو اس کو میں نے اور کابینہ نے مل کے فیصلہ کیا تھا کہ ہم نے تیل پر چلنے والے ٹیوب ویلز کے لیے ماڈل بنانا ہے، ہم جلد سے جلد ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر لے کر آئیں گے، آج سولر انرجی دنیا بھر میں کم ترین قیمت پر مہیا ہے، اس سے فائدہ نہ اٹھانا کفران نعمت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس بجٹ میں ٹیکس لگے ہیں اور اشرافیہ اور امرا پر نئے شعبوں میں ٹیکس پہلی دفعہ لگا ہے، جیسا کہ زمین کے جو کاروبار کرتے ہیں اور سرمایہ کاری کرتے ہیں تو وہ سرمایہ کاری سالا سال رہتی ہے اور زمین کی قیمتیں بڑھتی ہیں اور فائدہ ہوتا رہتا ہے بیٹھے بیٹھے، تو ہم نے اس پر بھی ٹیکس لگایا ہے جس کے نتیجے میں 100 ارب روپے آمدن کی توقع ہے مگر اسی حوالے سے جو سیلری کلاس ہے اس پر بھی ٹیکس لگا جس پر انہوں نے جائز طور پر احتجاج کیا کہ کیا بس ہم ہی لوگ رہ گئے ہیں ٹیکس دینے کے لیے؟ تو ہم نے پہلی دفعہ رئیل اسٹیٹ بزنس پر ٹیکس لگایا اور اگلے سال ہم اس پر اور کام کریں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ غریب لوگ جو 100 یا 200 یونٹس بجلی استعمال کرتے ہیں ان کو ہم پروٹیکٹڈ سیگمنٹس کہتے ہیں ان کے بھی نرخ بڑھے تو ملک بھر میں احتجاج ہوا اور ان کا یقینا یہ غصہ جائز ہے مگر ہم نے اپنے شراکت دار ہیں اس پروگرام میں اس کے لیے پہلے ہم نے معاش کو استحکام دلانا ہے تو ہم نے شراکت دار کے ساتھ کچھ چیزیں طے کی تھیں چنانچہ ہم ان کروڑوں صارفین جن کی تعداد ڈھائی کروڑ ہیں تو گھریلو 94 فیصد صارفین اس سے فیض یاب ہون گے جو آج میں اعلان کرنے والا ہوں۔شہباز شریف نے بتایا کہ بات صاف کرنی چاہیے، ہم قوم سے غلط بات نہیں کرتے، یہ جو گھریلو صارفین ہیں ان میں 200 یونٹس تک ہم ان کو رعایت دے رہے ہیں 3 ماہ کے لیے جولائی اگست ستمبر، اکتوبر میں موسم بہتر ہوتا ہے تو بجلی کا استعمال کم ہوجاتا ہے اور اس 3 ماہ میں جو عام صارف ہے اس کے اوپر 50 ارب روپے کی رقم خرچ ہوگی اور اس میں کے الیکٹرک بھی شامل ہے، تو یہ ہم نے 50 ارب روپے اپنے ڈیولپمنٹ فنڈ سے نکالا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے عام آدمی کا بھی خیال رکھا اور آئی ایم ایف کو بھی آن بورڈ رکھا اور ان کو بتایا کہ ہم یہ کرنے جارہے ہیں، آج ہم نے 50 ارب روپے مختص کیے ہیں اور 94 فیصد گھریلو صارفین کو 4 روپے سے 7 روپے فی یونٹ کا فائدہ ہوگا، اس کے بعد موسم بدلے گا، اور گرمی کا زور ٹوٹے گا۔انہوں نے کہا کہ آئندہ ریلیف کے لیے ضروری ہے کہ کرپشن کو ختم کیا جائے، کراچی میں کسی نے بتایا کہ کراچی بندرگاہ پر امپورٹ ڈیوٹی پر 1200 ارب روہے کی چوری ہورہی ہے، یہ اس سے ہٹ کر ہے جو 2700 ارب کے کلیمز کب سے ٹربیونلز میں پڑے ہوئے،وزیراعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام ملک کی ضرورت ہے، وقت آگیا ہے کہ اشرافیہ ملک کیلئے قربانی دیں، ہم ڈاون سائزنگ اور سرکاری اخراجات میں کمی لائیں گے، کمی لانے کے ان اقدامات کی خود نگرانی کر رہا ہوں۔کشکول توڑنا ہے تو ہمیں دن رات محنت کرنا ہوگی۔

کوئٹہ ۔سریاب روڈ کا شمار کوئٹہ شہر میں داخل ھونے والے گیٹ وے میں ہوتا ہے مگر افسوس کہ 9 دنوں سے یہی سریاب روڈ برما ھوٹل کے مقام پر بند ھے مگر افسوس کہ کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی 9 دن گزرنے کے باوجود یہ مصروف ترین شاہراہ ٹریفک کے لیئے بند ھے

کوئٹہ ۔سریاب روڈ کا شمار کوئٹہ شہر میں داخل ھونے والے گیٹ وے میں ہوتا ہے مگر افسوس کہ 9 دنوں سے یہی سریاب روڈ برما ھوٹل کے مقام پر بند ھے مگر افسوس کہ کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی 9 دن گزرنے کے باوجود یہ مصروف ترین شاہراہ ٹریفک کے لیئے بند ھے جس کی وجہ سے کوئٹہ سمیت سریاب اور باہر سے آنے والے مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا ھے مین روڈ بند ھونے کی وجہ سے ٹریفک برما ھوٹل کی آس پاس کی گلیوں میں داخل ھوجاتی ھے گلیاں تنگ ھونے کی وجہ سے سارا دن ان گلیوں میں ٹریفک پھنسی رہتی ھے اور کئی مقامات پر تو لوگ أپس میں گھتم گھتا بھی ھوتے نظر آتے ہیں اور کئی چھوٹے بڑے حادثات بھی رونما ھوچکے ہیں اہلیان علاقہ کا کہنا تھاکہ ہم لوگ عزاب میں مبتلا ہو چکے ہیں سارا دن ہماری گلیوں میں شورشرابا رہتا ہے اور ہمارے بچے گھروں سے بھی نہی نکل سکتے اس لیئے ہم لوگ حکومت اور انتطامیہ سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ خدارا ہمیں اس عزاب سے نجات دلائی جائے اگر دیکھا جائے تو اپنے جائز مطالبات کے حق میں احتجاج کرنا اور احتجاجی کیمپ قائم کرنا ہر شہری کا حق ہے مگر عام عوام کو مشکلات میں ڈالنا مناسب نہیں ہے حکومت کو چاہئیے کہ احتجاج کرنے والوں سے مزاکرات کیئے جائیں اور ان پردہ دار خواتین کو سنا جائے جوکہ کئی دنوں سے احتجاجی کیمپ میں موجود ہیں اور سریاب روڈ کو عام لوگوں کے لیئے فوری طور پر کھلوایا جائے

قاسم سوری نے الیکشن دھاندلی سے جیتا اور 5 سال تک سپیکر نھی چلے گا۔جسٹس فائز عیسی اور تحریک انصاف کے درمیان فوجییں بارڈر پر

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے دیدہ دلیری سے اسمبلی توڑنے کاحکم دیا،قاسم سوری تومنتخب رکن بھی نہیں تھے، انہوں نے الیکشن چوری کیا۔یہ توانتہائی غیر مناسب بات ہے کہ پانچ سال پورے ہوجائیں توکہہ دیں کہ درخواست غیر مئوثر ہو گئی ہے اورمیں چلا گھر، ہم سبق سکھائیں گے۔کیا ہم انہیں سبق سکھائیں بلکہ ضرور سبق سکھایا جانا چاہیئے ہم وکیل سے معاونت مانگ رہے ہیں۔ اگر آئین کااحترام نہیں کریں گے تواس کے نتائج ہوں گے، یہ مجلس شوریٰ کی کاروائی نہیں تھی بلکہ ذاتی اقدام تھا،ایوان مکمل تھا۔ آئین کاضروراحترام کیا جانا چاہیئے، اس طرح توجس کی حکومت ہو گی وہ عدم اعتما د کی قراردادآنے پر اسمبلی توڑدے گا، پارلیمنٹ کی منشاء کو شکست دینے کے مترادف ہے۔ قاسم سوری زمین کے چہرے سے ہی غائب ہو گئے ہیں، بطور ڈپٹی اسپیکر اسمبلی توڑی، پھر کہتے ہیں رات کوعدالت لگی، اگر آئین خطرے میں ہو گاتوہم رات4بجے بھی عدالت لگائیں گے، ایسے بھاگتے ہیں سامنا کریں، پوراسوشل میڈیا برگیڈہے۔ جبکہ جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ جب کسی اورنے اسمبلی توڑنے سے انکار کیا توقاسم سوری آکر آرڈر پڑھااورچلا گیا۔شاید انہیں پتا چل گیا تھا، غیر قانونی مراعات اور جو تنخواہ ملی تھی وہ واپس لینے کاحکم جاری کردیا جائے۔ جبکہ عدالت نے وفاقی حکومت سے ایف آئی اے کے زریعہ سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری کے ٹھکانے اوربیرون ملک جانے کے حوالے سے امیگریشن کاریکارڈ طلب کرلیا۔جبکہ بلوچستان حکومت سے کلیکٹر کوئٹہ کے زریعہ قاسم سوری کی جائیداد کی تفصیلات طلب کرلیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میںمس جسٹس مسرت ہلالی،جسٹس نعیم اخترافغان اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل 4 رکنی لارجر بنچ نے سابق اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری کوڈی سیٹ کرنے کے حوالے سے الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل پرسماعت کی۔درخواست میں نوابزادہ میر لشکر ی رئیسانی اوردیگر کو فریق بنایا گیاہے۔قاسم سوری کی جانب سے سینئر وکیل نعیم بخاری جبکہ نوابزادہ میر لشکری رئیسانی کی جانب سے محمد ریاض احمد ایڈووکیٹ بطور کیس پیش ہوئے۔ جبکہ الیکشن کمیشن کے لیگل کنسلٹنٹ فلک شیر بھی دوران سماعت پیش ہوئے۔ سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل نعیم بخاری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کے لاپتہ مئوکل کے بارے میں کچھ معلوم ہوا کہ نہیں۔ اس پر نعیم بخاری کاکہنا تھا کہ وہ غائب ہے۔ چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ قاسم سوری سوشل میڈیا پر زندہ ہیں۔ اس پر نعیم بخاری کاکہنا تھا کہ میں سوشل میڈیا نہیں دیکھتا۔ چیف جسٹس کاکہناتھا کہ کیا کریں۔ چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ کیا قاسم سوری کی طلبی کااشتہار شائع ہوگیا تھا۔ چیف جسٹس کانعیم بخاری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہناتھا کہ ابھی ہم بحث نہیں سنیں گے ابھی آرڈر پر عمل ہوجائے۔ جسٹس مسرت ہلالی کا کہناتھاکہ یہ آپ کے نظام کی کمزوری تھی کہ وہ پوری مدت کام کرکے اورپیسے لے کر چلاگیا۔ اس پر نعیم بخاری کاکہنا تھا کہ کام کرتا رہا ایسے توپیسے نہیں لیے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اشتہاراُردو اخبار جنگ اورانگریزی اخبار ڈان میں چھپ گیا ہے۔جسٹس عقیل احمد کا نعیم بخاری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آپ کے مئوکل لاپتہ ہیں کیا ان کی بازیابی کے لئے کوئی درخواست دائر کی، لاپتہ ہونے کے بارے میں کیامئوقف ہے۔نعیم بخاری کاکہنا تھا کہ قاسم سوری میرا مئوکل ہے رشتہ دارتونہیں۔ جسٹس مسرت ہلالی نے سوال کیا کہ کیا وہ لاپتہ ہے؟نعیم بخاری کاکہنا تھا کہ یہ کریمینل کیس نہیں۔ جسٹس مسرت ہلالی کاکہنا تھا شاید انہیں پتا چل گیا تھا، غیر قانونی مراعات اور جو تنخواہ ملی تھی وہ واپس لینے کاحکم جاری کردیا جائے۔نعیم بخاری کاچیف جسٹس سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عطاء الحق قاسمی تقرری کیس میں سپریم کورٹ نے ریکوری کاحکم دیا تھا آپ نے اس حکم پر نظرثانی کرلی ہے۔ اس پر چیف جسٹس کاکہناتھا کہ عطاء الحق قاسمی کیس میں دوسروں سے پیسے منگوائے گئے تھے، سپریم کورٹ کی جانب سے غلط کہا گیا کہ بہت زیادہ رقم خرچ ہوئی، ان سے سابقہ ایم ڈی پی ٹی وی ایک لاکھ زیادہ تنخواہ لے رہے تھے، مہنگائی بھی ہوگئی ہے۔ چیف جسٹس نے نعیم بخاری کوہدایت کی کہ 23جنوری2024کا حکم پڑھ دیں۔چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ اب دیکھیں ایک عام رکن ہوتا ہے، قاسم سوری نے دیدہ دلیری سے اسمبلی توڑنے کاحکم دیا،قاسم سوری تومنتخب رکن بھی نہیں تھے، انہوں نے الیکشن چوری کیا، یہ کہنا کہ آگے دیکھیں، جوماضی سے سبق نہیں سیکھتے وہ ایسے ہی رہتے ہیں۔ چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ کیا ہم انہیں سبق سکھائیںبلکہ ضرور سبق سکھایا جانا چاہیئے ہم وکیل سے معاونت مانگ رہے ہیں۔ چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ قاسم سوری زمین کے چہرے سے ہی غائب ہو گئے ہیں، بطور ڈپٹی اسپیکر اسمبلی توڑی، پھر کہتے ہیں رات کوعدالت لگی، اگر آئین خطرے میں ہو گاتوہم رات4بجے بھی عدالت لگائیں گے، ایسے بھاگتے ہیں سامنا کریں، پوراسوشل میڈیا برگیڈہے۔جسٹس مسرت ہلالی کاکہناتھا کہ جب کسی اورنے اسمبلی توڑنے سے انکار کیا توقاسم سوری آکر آرڈر پڑھااورچلا گیا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر آئین کااحترام نہیں کریں گے تواس کے نتائج ہوں گے، یہ مجلس شوریٰ کی کاروائی نہیں تھی بلکہ ذاتی اقدام تھا،ایوان مکمل تھا۔چیف جسٹس کانعیم بخاری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پہلے دکھائیں کہ قاسم سوری کے پاس اسمبلی توڑنے کااختیار تھا اورجب تحریک عدم اعتماد داخل ہو گئی تھی تووہ اسمبلی توڑسکتے تھے، پہلے آئین دکھائیں۔ چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ جواب بہت سادہ ہے آئین کاآرٹیکل 95پڑھ لیں،دکھائیں کے ان کے پاس اسمبلی توڑنے کااختیار تھا جب عدم اعتماد کی تحریک داخل ہو گئی تھی، آئین کاضروراحترام کیا جانا چاہیئے، اس طرح توجس کی حکومت ہو گی وہ عدم اعتما د کی قراردادآنے پر اسمبلی توڑدے گا، پارلیمنٹ کی منشاء کو شکست دینے کے مترادف ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ قاسم سوری انصاف سے کیوں مفرورہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میں نے کہا انہیں سبق سکھانا چاہیئے وکیل ان کے دفاع میں آگئے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہرشہری کے لئے آئین پر چلنالازم ہے، ہم چونکہ آئین کے تحت حلف لیتے ہیں اس لئے ہماری ذمہ داری زیادہ ہے۔ چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ قاسم سوری بری کرنے کی استدعا کریں اور مدعا علیہ معاف کردیں اورکیس واپس لے لیں۔چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا قاسم سوری لندن میں ہیں۔ اس پر مدعا علیہ کے وکیل کاکہناتھا کہ قاسم سوری لندن میں ہیں اور پریس کانفرنسیں کررہے ہیں۔ نعیم بخاری نے چیف جسٹس کی بطور جج سپریم کورٹ پیدل چل کرسپریم کورٹ آنے کی تعریف کی۔ اس پر جسٹس مسرت ہلالی کاکہناتھا کہ میں بھی دومرتبہ پیدل چل کرپشاورہائی کورٹ گئی تھی۔ جسٹس عقیل احمد عباسی کاکہنا تھا کہ پاکستان بار کونسل ایکٹ کے تحت اگر مئوکل سامنے نہیں آتا تووکیل کی کیا ذمہ داری ہے۔چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ ہم چاہ رہے ہیں کہ کیا کریں؟ اس پر نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ مجھے سن لیں پھر جو فیصلہ کریں۔ اس پر چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ وہ صاحب پہلے آتوجائیں۔ نعیم بخای کاکہناتھا کہ جب پہلی اسمبلی ختم ہو گئی اورنئی اسمبلی آگئی توکیس غیر مئوثر ہو گیا۔ نعیم بخاری کاکہناتھا کہ عمران خان نے 9نشستوں پر اکٹھا الیکشن لڑ ااور 8پر جیتا یہ مقبولیت کی وجہ سے ہوا۔ اس پر چیف جسٹس نے نعیم بخاری کوہدایت کی کہ موجودہ کیس پر رہیںاوراِدھر اُدھر کی باتیں نہ کریں۔ چیف جسٹس کاکہناتھا کہ اگرایک آدمی غائب ہوجاتا ہے توکیا ضروری نہیں کہ ان کی حاضری یقینی بنانے کے لئے حکم جاری کیا جائے۔ چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ جنگ اورڈان میں اشتہار چھپا ہے، ہم نے حکم دیا آئیں۔ چیف جسٹس کاکہناتھاکہ وکیل کی ذمہ داری نہیں کہ انہیں پکڑ کرلائے ، یہ توانتہائی غیر مناسب بات ہے کہ پانچ سال پورے ہوجائیں توکہہ دیں کہ درخواست غیر مئوثر ہو گئی ہے اورمیں چلا گھر، ہم سبق سکھائیں گے۔نعیم بخاری کاکہنا تھا کہ عدالت مجھے کیس چھوڑنے کاحکم دے میں چھوڑ دیتا ہوں۔ اس پر چیف جسٹس کاکہناتھا کہ ہم اتنی خوبصورت شخصیت کوحکم نہیں دے سکتے۔اس پر نعیم بخاری کاکہنا تھا کہ میں میک اپ کرکے آجاتاہوں۔ اس پر چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ جوآپ کادل کرتا ہے کریں۔ چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ نعیم بخاری کی ایک بات اچھی ہے کہ وہ ہمیشہ مسکراتے رہتے ہیں۔ نعیم بخاری کاکہناتھاکہ عوامی مفاد کے سوال کافیصلہ سپریم کورٹ نے کرنا ہے۔چیف جسٹس کاکہناتھا کہ اٹارنی جنرل کے آفس سے کوئی ہے، ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کو بھی بلالیں۔ اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل ملک جاوید اقبال وینس روسٹرم پر آگئے۔ چیف جسٹس کاایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہناتھا کہ کیاآپ کو قاسم سوری کے بارے کچھ پتا ہے کدھر ہے۔چیف جسٹس کاکہناتھا کہ ایف آئی اے کو پتا ہوگا، کلیکٹر کوئٹہ کو نوٹس دے دیتے ہیں ،ان کی پراپرٹی کتنی ہے، ہوسکتا ہے وہ آجائیں۔ اس پر نعیم بخاری کاکہناتھاکہ پراپرٹی کے معاملے پر تومردہ بھی قبر سے نکل کرآجاتا ہے کہ یہ میری جائیداد ہے اس کو نہ چھیڑیں۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ آپ کورٹ سے کیوں بھاگ رہے ہیں، فیس بک پر پیغام دے دیں وہ پڑھ لے گا؟چیف جسٹس کاکہناتھا کہ ہم کوئی حتمی حکم جاری نہیں کریں گے۔اس پر نعیم بخاری کاکہناتھاکہ اس درخواست کوخارج کرکے ازخود نوٹس لیا جائے۔چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ مخالف وکیل کی درخواست کو کیسے اٹینڈ کریں۔ چیف جسٹس کہنا تھا کہ حکم کے باوجود درخواست گزار پیش نہیں ہوئے۔چیف جسٹس نے سماعت کا حکمنامہ لکھواتے ہوئے قراردیا کہ سپریم کورٹ کے گزشتہ سماعت کے حکم کی روشنی میں اُردو اخبار جنگ اور انگریزی اخبار ڈان میں قاسم سوری کی طلبی کے اشتہار چھاپے گئے تاہم قاسم سوری عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ وکیل نعیم بخاری کا بھی اپنے کلائنٹ سے رابطہ نہیں، وفاقی حکومت، بلوچستان حکومت اور ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہیں۔عدالتی حکم نامے میں کہا گیا کہ بلوچستان حکومت قاسم سوری کی ساری جائیداد کی تفصیل فراہم کرے ، وفاقی حکومت اور ایف آئی اے بتائے کہ قاسم سوری کیسے بیرون ملک گئے اورہ کہاں موجود ہیں۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ رپورٹ آئے گی توکیس سماعت کے لئے مقررہوجائے گا۔

ھم اور مائیں تفصیلات کے لئے بادبان ٹی وی کو کلک کرے

اماں کس کے گھر جائیں گی؟تینوں بیٹوں اور دونوں بیٹیوں کے چہرے پر ایک ہی سوال تھا۔اور وہ سب کے سب گزشتہ ایک گھنٹے سے ہسپتال کے برآمدے میں ٹہل ٹہل کر اس سوال کا جواب سوچ رہے تھے.میرا خیال ہےاظفر بھائی سب سے بڑے ہیں ۔ان کا فرض ہے کہ اماں کو اپنےگھر لے جائیں صائمہ نے بڑی دیر کے بعد اٹکتے ہوئے کہااظفر نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا جو مسلسل تسبیح کے دانے رول رہی تھی۔اور اماں کی سلامتی کی دعائیں مانگ رہی تھی۔میں اپنے فرض سے انکار نہیں کرتا لیکن تم سب جانتے ہو حرا ملازمت کرتی ہے اور اماں کیلئے اب فل ٹائم عورت کی ضرورت ہے میرا خیال ہےتم گھر رہتی ہو تم اماں کی دیکھ بھال اچھی طرح کر لو گی۔خرچہ کی فکر نہ کرنا وہ میں دوں گااظفر نے خرچے پر زور دے کر کہا میری تو بڑی خواہش ہے کہ اماں کی خدمت کروں مگر آپ تو جانتے ہیں کہ میرے سسرال والے کس طرح کے ہیںورنہ میں یہ سب برداشت نہیں کر سکتی کہ میرے بھائیوں کو کوئی برا کہے ۔پھر؟ کچھ لمحوں کیلئے پھر سکوت چھاگیا۔میرا خیال ہے ظفر بھائی کے پاس اماں زیادہ آرام سے رہ سکتی ہیں سائرہ نے ہکلاتے ہوئے کہا اوربھائی کی طرف دیکھا۔میرا بھی یہ ہی خیال ہے اظفر نے فوراََ چھوٹی بہن کی تائید کیظفر اور اسکی بیوی نے آنکھوں میں ایک دوسرے سے کچھ کہااصل میں اماں کا کبھی بھی ہمارے گھر دل نہیں لگا وہ تو ہمارے گھر دو دن سے زیادہ رہتی ہی نہیں ۔بیماری میں تو انسان تنہائی سے گھبراتا ہے ۔شاہانہ نے شوہر کے کچھ کہنے سے قبل ہی صفائی پیش کر دیپھر اب کیا ہوگا؟میری تو مجبوری ہے میری آمدنی بھی کم ہے پھر میرے گھر میں تو بالکل جگہ نہیں اظہر نے کہا۔پھراماں کس کے گھر جائیں گی ؟سب مجبور تھے اور سوچوں میں غرق تھے۔آپ سب وارڈ نمبر 2 کی مریضہ کے رشتہ دار ہیں ؟ان سب نے گھبرا کر سر اٹھایاجی جیآپ کو وارڈ میں ڈاکٹر بلا رہے ہیں.خدا خیر کرےوہ سب تیزی سے وارڈ میں داخل ہوئےآئی ایم سوری شی از expiredڈاکٹر نے اظفر کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ۔ سب کے چہروں پر ظاہری غم کے ساتھ ہی ایک کمینی سی مسرت کا عکس بھی تھا۔اور یہی سچائی ہے ہمارے معاشرے کی کہ دس بچوں کو پالنے والے تنہا والدین کو دس بچے تنہا نہیں پال سکتے ہیں ۔اور بہت سی مائیں بڑھاپے میں اپنی زندگی کے آخری لمحات سڑکوں پہ روزی کماتے اور بچوں کا پیٹ پالتے ھوے گزار دیتی ھے خدا ھمے اپنے والدین کی خدمت جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

ایک لڑکی نے اپنے دادا سے پوچھا، “پاپا، آپ مجھے کیا سکھا سکتے ہیں جو میری زندگی میں مفید ہو؟”دادا نے کہا، “ایک سبق سکھاتا ہوں، لیکن پہلے کچھ بڑا کرو جو سب کی توجہ حاصل کرے۔”لڑکی نے پوچھا، “کیا؟”دادا نے کہا، “محلے میں جا کر سب کو بتاؤ کہ میری شتر مرغ نے چھ سنہری انڈے دیے ہیں اور میں کروڑ پتی بننے والی ہوں

ایک لڑکی نے اپنے دادا سے پوچھا، “پاپا، آپ مجھے کیا سکھا سکتے ہیں جو میری زندگی میں مفید ہو؟”دادا نے کہا، “ایک سبق سکھاتا ہوں، لیکن پہلے کچھ بڑا کرو جو سب کی توجہ حاصل کرے۔”لڑکی نے پوچھا، “کیا؟”دادا نے کہا، “محلے میں جا کر سب کو بتاؤ کہ میری شتر مرغ نے چھ سنہری انڈے دیے ہیں اور میں کروڑ پتی بننے والی ہوں۔”لڑکی نے ایسا ہی کیا، لیکن کوئی مبارکباد دینے نہ آیا۔اگلی صبح دادا نے کہا، “اب جا کے بتاؤ کہ ایک چور آیا، شتر مرغ کو مار ڈالا اور سنہری انڈے چرا لیئے۔”لڑکی نے ایسا کیا اور فوراً بہت سے لوگ ان کے گھر آ گئے۔لڑکی نے پوچھا، “پاپا، کل کوئی نہیں آیا، آج اتنے لوگ کیوں آئے؟”دادا نے مسکرا کر کہا، “جب لوگ اچھی خبر سنتے ہیں، تو خاموش رہتے ہیں۔ لیکن بری خبر سنتے ہی فوراً آتے ہیں۔ لوگ تمہاری کامیابی سے زیادہ تمہاری ناکامی دیکھنا چاہتے ہیں۔””یاد رکھو، دوسروں کی رائے کی فکر نہ کرو۔ اپنے خوابوں کے پیچھے چلو اور کامیابی حاصل کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سات دنوں میں ریل کو سات حادثات پیش آئے ہیں مین سٹریم میڈیا پر کوئی خبر نہیں سات دنوں میں مھنگای 33 فیصد بڑھی سول بیورو کریٹ 6 سال کی چھٹی پر جانے لگے 4 لاکھ پاکستان کا مستقبل ملک چھوڑ گئے اصل حقیقت جسکی وجہ سے 24 کروڑ عوام سوشل میڈیا کو فالو کر رھے مزید تفصیلات بادبان نیوز پر

آئی بی اور سپیشل برانچ کی نااہلی 76 افسران کی تقرریاں لٹک گئیںفیڈرل پبلک سروس کمیشن نے 8 ماہ پہلے 76 افسران کو گریڈ 17 میں نامزدگی دیملک بھر کے 76 افسران نے سٹیٹکس آفیسرز کا امتحان پاس کیاہزاروں سکیورٹی کلیرنس کی درخواستیں زیر التوا ہیں۔۔ ذرائع وزارت داخلہ

آئی بی اور سپیشل برانچ کی نااہلی 76 افسران کی تقرریاں لٹک گئیںفیڈرل پبلک سروس کمیشن نے 8 ماہ پہلے 76 افسران کو گریڈ 17 میں نامزدگی دیملک بھر کے 76 افسران نے سٹیٹکس آفیسرز کا امتحان پاس کیاہزاروں سکیورٹی کلیرنس کی درخواستیں زیر التوا ہیں۔۔ ذرائع وزارت داخلہ

وفاقی حکومت نے محرم الحرام میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے ملک بھر میں فوج تعینات کرنے کی منظوری دیدی، صوبوں کی درخواست پر فوج کو بطور کوئیک رسپانس فورس تعینات کرنے کی منظوری دیدی گئی۔ وزارت داخلہ کی جانب سے باقاعدہ مراسلہ جاری مراسلہ جاری کردیا گیا

وفاقی حکومت نے محرم الحرام میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے ملک بھر میں فوج تعینات کرنے کی منظوری دیدی، صوبوں کی درخواست پر فوج کو بطور کوئیک رسپانس فورس تعینات کرنے کی منظوری دیدی گئی۔ وزارت داخلہ کی جانب سے باقاعدہ مراسلہ جاری مراسلہ جاری کردیا گیا۔مراسلے کے مطابق آرٹیکل 245 کے تحت ملک بھر میں فوج تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وزارت داخلہ نے چاروں صوبوں سمیت گلگت اور آزاد کشمیر حکومت کو مراسلہ جاری کردیا۔وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کتنی تعدادمیں اور کہاں کہاں فوج تعینات ہونی ہے، فیصلہ صوبے کریں گے، فوج کی واپسی سے متعلق فیصلہ باہمی مشاورت کی کیا جائے گا۔وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ متعلقہ فریقین کے باہمی مشورے سے فوجی دستے ضرورت کے مطابق تعینات ہوں گے۔اس سے قبل سندھ میں محرم الحرام کے دوران فوج اور ایف سی تعینات کرنے کی منظوری دی گئی ۔وفاقی وزارت داخلہ نے محکمہ داخلہ سندھ کی درخواست پر سندھ میں فوج رینجرز اور ایف سی کے دستے تعینات کرنے کا حکم دے دیا گیا۔فوج اور ایف سی سول انتظامیہ کے حکم پر فوری کسی بھی علاقے کا کنٹرول سنبھال سکتی ہیں، انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 سیکشن 4 اور 5 کے تحت ملک بھر کی طرح سندھ میں فوج تعینات ہوگی۔واضح رہے کہ محکمہ داخلہ پنجاب نے محرم الحرام کے دوران امن و امان یقینی بنانے کے سلسلے میں پولیس کی معاونت کیلئے فوج اور رینجرز کی خدمات طلب کی تھیں۔ترجمان محکمہ داخلہ کا کہنا تھا کہ فوج اور رینجرز کی 150 کمپنیوں کی خدمات طلب کی گئی ہیں۔فوج کی 69 اور رینجرز کی 81 کمپنیاں تعینات کرنے کیلئے مراسلہ جاری کیا گیاتھا۔ ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب نے کہا تھا کہ یکم سے 12 محرم کے دوران خدمات طلب کی گئیں تھیں۔قبل ازیں پنجاب اور سندھ میں محرم الحرام کے موقع پر ڈبل سواری پرپابندی عائد کر دی گئی تھی جبکہ دفعہ 144کا نفاذ بھی کر دیاگیا تھا اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا تھا

صدر مملکت آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی کا اجلاس 9 جولائی بروز منگل شام 5 بجے طلب کرلیا ۔صدر مملکت نے قومی اسمبلی اجلاس آئین کے آرٹیکل 54 (1) کے تحت طلب کیا ہے

صدر مملکت آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی کا اجلاس 9 جولائی بروز منگل شام 5 بجے طلب کرلیا ۔صدر مملکت نے قومی اسمبلی اجلاس آئین کے آرٹیکل 54 (1) کے تحت طلب کیا ہے ۔واضح رہے کہ 23 جون کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں فاٹا میں ’آپریشن عزم استحکام‘ کے خلاف اپوزیشن رہنماؤں نے احتجاج کیا تھا۔