All posts by admin

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے عوام دوست بجٹ 2024-25 کی منظوری پر وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی پذیرائی کی۔وزیرِ اعظم سے وزیرِ خزانہ کی قومی اسمبلی میں بجٹ کی منظوری کے بعد ملاقات ہوئی،

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے عوام دوست بجٹ 2024-25 کی منظوری پر وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی پذیرائی کی۔وزیرِ اعظم سے وزیرِ خزانہ کی قومی اسمبلی میں بجٹ کی منظوری کے بعد ملاقات ہوئی، شہباز شریف نے نے وزارت خزانہ، وزارت منصوبہ بندی، ایف بی آر اور تمام متعلقہ وزارتوں کے افسران کی بجٹ کی تیاری کیلئے کوششوں کو سراہا۔شہباز شریف نے کہا کہ بجٹ اجلاس میں حکومت، اتحادی ارکان اور حزب اختلاف سب نے بھرپور حصہ لیا، امید کرتے ہیں بجٹ 25-2024 پاکستان کیلئے ترقی و خوشحالی میں معاون ثابت ہوگا، پوری کوشش کی کہ موجود وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور صدرمسلم لیگ ن میاں نواز شریف مری پہنچ گئے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اورلیگی صدر میاں نواز شریف مری میں تین روز قیام کریں گے، مریم نواز اپنے والد کے ہمراہ اسلام آباد سے براستہ ایکسپریس وے کشمیر پوائنٹ پر واقع اپنی رہائشگاہ پہنچیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور صدرمسلم لیگ ن میاں نواز شریف مری پہنچ گئے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اورلیگی صدر میاں نواز شریف مری میں تین روز قیام کریں گے، مریم نواز اپنے والد کے ہمراہ اسلام آباد سے براستہ ایکسپریس وے کشمیر پوائنٹ پر واقع اپنی رہائشگاہ پہنچیں۔

ذرائع کا اس حوالے سے مزید کہنا ہے کہ میاں نواز شریف اور مریم نواز کی زیر صدارت مختلف اجلاس ہوں گے جن میں مری کی ترقی کے حوالے سے اہم فیصلے بھی متوقع ہیں۔

واضح رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز پنجاب اسمبلی اجلاس میں شرکت کے بعد اپنے والد میاں نواز شریف کے ہمراہ مری روانہ ہوئی تھیں۔

بھارتی نامور سابقہ ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا نے بیٹے اذہان مرزا ملک کے ہمراہ نئی فوٹوز شیئر کی ہیں

بھارتی نامور سابقہ ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا نے بیٹے اذہان مرزا ملک کے ہمراہ نئی فوٹوز شیئر کی ہیں۔ثانیہ مرزا نے حج کی ادائیگی کے بعد پہلی پوسٹ شیئر کی ہے جس میں وہ اپنے بیٹے کے ساتھ موجود ہیں، تصویریں دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ثانیہ مرزا حج سے واپسی کے بعد اپنے بیٹے کے ساتھ وقت گزار رہی ہیں۔ثانیہ مرزا نے اپنی اس پوسٹ کے کیپشن میں صرف ’ہاں‘ لفظ کا استعمال کیا ہے جبکہ اُن کے اندر کی ساری کہانی ٹی شرٹ پر لکھا ہوا جملہ بیان کر رہا ہے۔ثانیہ مرزا نے تصویروں میں سفید رنگ کی ٹی شرٹ، جینز اور نیلی کیپ پہنی ہوئی ہے۔ثانیہ مرزا کی ٹی شرٹ پر انگریزی زبان میں ایک جملہ لکھا ہے جس نے صارفین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔

قیام پاکستان کے وقت جنگلات کا رقبہ 9.8 فیصد تھا جو مسلسل کم ہو کر اس وقت 4.779 فیصد رہ گیا ہے۔ یہ رقبہ 2010ءمیں 5.310 فیصد تھا

قیام پاکستان کے وقت جنگلات کا رقبہ 9.8 فیصد تھا جو مسلسل کم ہو کر اس وقت 4.779 فیصد رہ گیا ہے۔ یہ رقبہ 2010ءمیں 5.310 فیصد تھا۔ 2015 ءمیں 5.101 فیصد اور 2020ءمیں 4.833رہ گیا۔جبکہ بین الاقوامی ماحولیاتی اداروں کی ہدایات کے مطاق کسی بھی ملک میں جنگلات 12 فیصد سے کم نہیں ہونے چاہئیں۔ جنگلات ماحولیاتی کثافت کو کم کرتے اور ایکوسسٹم کی حفاظت کرتے ہیں۔ سیلاب سے شہروں کو بچاتے ہیں کیونکہ دریا کے اطراف میں درختوں کی موجودگی کی وجہ سے سیلابی پانی کے کٹاﺅ سے زمین کی حفاظت ہوتی ہے۔ جنگلات زمین کا درجہ حرارت بڑھنے سے روکتے ہیں اورگلوبل وارمنگ کے مضر اثرات سے بچاتے ہیں۔ ہوا کو صاف کرکے آکسیجن کی مقدار بڑھاتے ہیں اوربارشیں برسانے میں بھی مدد دیتے ہیں۔امریکہ میں جنگلات 33 فیصد رقبہ پرہیں اور ہندوستان میں جنگلات کا رقبہ 21.71 فیصد ہے۔ جس کے مقابلے میں جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے۔ ہمارے ملک میں جنگلات صرف 4.779 فیصد رقبہ پر ہیں۔ دنیا میں بیشتر ممالک میں آبادی کے تناسب سے جنگلات کا رقبہ بڑھتا ہے۔ کیونکہ لوگوں میںزیادہ سے زیادہ درخت لگانے کا رُجحان ہے۔ جبکہ ہمارے ملک میں بدقسمتی سے آبادی میں اضافہ کے تناسب سے جنگلات کا رقبہ کم ہو رہا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ لوگ لکڑی کو جلانے اور عمارتوں میں استعمال کرنے کے لئے درختوں کو مسلسل کاٹ رہے ہیں۔ 1970ءکی دہائی میں مجھے آزاد کشمیر میں ایک پروجیکٹ کے سلسلے میں نیلم ویلی کا کئی بار دورہ کرنے کا موقع ملا۔ نیلم ویلی میں اگرچہ کافی جنگلات تھے لیکن دریائے نیلم کے اس پار مقبوضہ کشمیر میں اتنے زیادہ گھنے جنگلات تھے کہ ہندوستان کی کئی بٹالین آسانی سے چھپ سکتیں تھیں۔ آزاد کشمیر کے مقامی باشندوں نے بتایا کہ اکثر ہندوستان کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ہوتی رہتی ہیں۔ جس سے ہمارا نقصان زیادہ ہوتا ہے چونکہ مقبوضہ کشمیر کے مقابلے میں آزاد کشمیر میں جنگلات زیادہ گھنے نہیں ہیں۔اَب صورت حال بہت ہی تشویناک ہے کیونکہ ٹمبر مافیا نے غیر قانونی طورپر بے شمار درخت کاٹ دیئے ہیں اور دفاعی اعتبار سے آزاد کشمیر ، مقبوضہ کشمیر کے مقابلے میں غیر محفوظ ہوگیا ہے۔ اس بات کی اشہد ضرورت ہے کہ نہ صرف غیر قانونی طور پر درختوں کوکٹنے سے بچایا جائے۔ بلکہ مزید درخت لگائے جائیں اور حکومتی سطح پر جنگلات اُگانے کے پروگرام شروع کئے جائیں۔پاکستان میں چونکہ پانی کی کمی ہے اس لئے ایسے درخت لگائے جائیں جو کم سے کم پانی میں اُگ سکیں اوردوسری اہم بات یہ ہے کہ ایسے درخت لگائے جائیں جو تیزی سے بڑھتے ہوں اور کم سے کم وقت میں تن آور درخت بن سکیں۔جگہ بھی کم گھیرتے ہوں اور سیدھے اُگتے ہوں۔سرکاری اور غیر سرکاری اداروں اور تنظیموں کو چاہئے کہ برسات کے موسم میں شجرکاری کی مہم کے دوران لوگوں کو سوہانجنا (Moringa) درخت لگانے کی ترغیب دیں۔ جن میں یہ تمام خصوصیات ہیں۔ سوہانجنا ایک کرشماتی درخت ہے جو بے شمار فوائد کا حامل ہے۔ یہ ایسا درخت ہے جو کم سے کم پانی میں اُگ جاتا ہے اور ایک سال میں مکمل تن آوردرخت بن جاتا ہے۔اس درخت کے پتے ، بیج، چھال اور پھلیاں استعمال کی جا سکتی ہیں۔ غذائیت کے اعتبار سے کوئی درخت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔یہی وجہ ہے کہ عالمی خوراک پروگرام کے ادارے نے افریقہ کے قحط زدہ علاقوں میں اس درخت کو بکثرت لگانے کا مشورہ دیا اور اس پر عمل کرکے اِن ممالک نے کئی لاکھ افراد کو موت کے منہ سے نکال لیا۔ کیونکہ اس درخت کے پتے حیرت انگیز طورپر ہر طرح کی غذائیت سے بھرپور ہیں۔ مویشیوں کے چارے کے طورپر استعمال کئے جائیں تو ان کے دودھ دینے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔انسانوں کے لئے تو یہ درخت ایک قدرتی تحفہ ہے۔ سوہانجنا کے 100 گرام پتوں میں مندرجہ ذیل غذائیت ہوتی ہے۔ -1 پروٹین 9.4 گرام (دہی سے دوگنا)۔-2 پوٹاشیم 337 ملی گرام (کیلے سے تین گنا)۔-3 کیلشیم 185 گرام (دودھ سے چارگنا)۔-4 وٹامن اے 378 مائیکروگرام(گاجر سے چار گنا)۔-5 وٹامن سی 51 ملی گرام (کینو سے سات گنا)۔-6 آئرن 4 ملی گرام (پالک سے نو گنا)۔اس کے علاوہ فاسفورس 112 ملی گرام اور وٹامن بی ون ۔بی ٹو۔بی تھری۔ بی فائیو اور بی نائن بھی پایا جاتا ہے۔ اتنی بے پناہ غذائیت کی وجہ سے سوہانجنا غیر ممالک میں وسیع رقبہ پر اُگایا جاتا ہے اور اس کے پتوں کو سوکھا کر اس کا سفوف امریکہ اور جنوب مشرقی ایشیاءکے ممالک کیپسول میں بھر کر برآمد کرتے ہیں۔ہندوستان ہرسال اس کی برآمد سے اربوں ڈالر کماتا ہے۔ لیکن پاکستان میں اس درخت کی افادیت کے بارے میں عام لوگوں کو معلومات نہیں ہیں اس لئے اس کی کاشت وسیع پیمانے پر شروع نہیں ہو سکی۔ اگر اس درخت کو محکمہ جنگلات کی سرپرستی حاصل ہو تو ایک بہت وسیع رقبہ پر سوہانجنا کی کاشت کی جا سکتی ہے۔ جس سے جنگلات کے رقبہ میں اضافہ کے علاوہ عوام کی غذائی ضروریات پوری ہو سکیں گی اور مویشیوں کی تعداد بڑھنے سے گوشت اور ددھ کی قیمتوں میں بھی کمی واقع ہوگی۔

پاکستان کے قیام سے لے کر اج تک جنگلات پر 50 فیصد قبضہ کر لیا گیا۔ فیصل واوڈا کو معافی چینل کو شو کاز سپریم کورٹ۔ ثانیہ مرزا نے کم چک دیتا جے۔ مولانا کی جماعت اج سر جوڑے گی۔ لوڈشیڈنگ عوام کو زندہ دفن کر دیا گیا۔ عوام دوست بجٹ پاس ھوا ھے شہباز شریف۔ الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2024 کثرت رائے سے منظور ریٹائرڈ جج تعینات ھونگے۔۔ میرے والد سے رشوت مانگی میں اپنا ملک چھوڑ ایا میں آج جو ھو ٹرقی پذیر ممالک کا ٹیلنٹ نا انصافی کرپشن کی وجہ سے ملک چھوڑٹا ھے وہ کون تفصیلات کے لیے بادبان نیوز۔ ناقص انتظامات ڈی ایچ اے 2 اسلام آباد میں تباہی تفصیلات کے لیے کلک کریں

الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2024 کثرت رائے سے منظور ریٹائرڈ جج تعینات ھونگے تفصیلات بادبان نیوز پر

قومی اسمبلی نے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2024 کثرت رائے سے منظور کرلیا، بل کے تحت الیکشن ٹربیونلز میں ریٹائرڈ ججز کو تعینات کیا جاسکے گا۔الیکشن ٹربیونلز کے قیام کا اختیار آئین کے تحت الیکشن کمیشن کے پاس ہے۔الیکشن ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری کی تحریک وزیر قانون اعظم نذیرتارڑ نے پیش کی۔ سنی اتحاد کونسل نے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان میں نعرے لگائے۔اس موقع پر وفاقی وزیر قانون نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن ٹریبونلز ہائیکورٹ کے ریٹائرڈ ججز پر بھی مشتمل ہوسکتے ہیں، وفاقی حکومت نے الیکشن ایکٹ 2017 میں یہ ترمیم تجویز کی۔انہوں نے مزید کہا کہ حاضر سروس ججوں کے الیکشن ٹریبونلز فیصلوں میں تاخیر کرتے ہیں۔قومی اسمبلی نے وفاقی بجٹ 25-2024 کی کثرت رائے سے منظوری دے دی۔اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں قومی اسمبلی نے 18ہزار 887 ارب روپے کا وفاقی بجٹ منظور کر لیا۔پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی 60 روپے سے بڑھا کر 70 روپے، مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل پر لیوی 50 روپے فی لیٹر، ہائی اوکٹین پر 70 روپے فی لیٹر اور ایک میٹرک ٹن ایل پی جی پر 30 ہزار روپے لیوی عائد کرنے کی منظوری دی۔مقامی سطح پر سولر پینل بنانےکے پارٹس کی درآمد پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ ہوگی، پارٹس آف سولر انورٹر اور پارٹس آف لیتھیم بیٹریز پر بھی سیلز ٹیکس چھوٹ کی ترمیم منظور کرلی گئی۔سیلز ٹیکس آڈٹ کیلئے ایف بی آر افسران کے اختیارات میں مزید اضافے کی ترمیم منظور کرلی گئی، ایف بی آر کو سیلز ٹیکس آڈٹ کیلئے تمام ریکارڈ اور ڈیٹا حاصل کرنے کا اختیار ہوگا۔قومی اسمبلی میں بین الاقوامی فضائی سفر کےلیے ٹکٹوں پر ٹیکسوں کی شرح میں اضافے کی شق منظور کرلی گئی، یکم جولائی سے بین الاقوامی سفر کے لیے اکانومی اور اکانومی پلس ٹکٹ پر 12500 روپے ٹیکس دینا ہوگا۔یکم جولائی سے امریکا اور کینیڈا کیلئے بزنس کلاس اور کلب کلاس ٹکٹ پر ٹیکس میں 1 لاکھ روپے تک اضافے کی منظوری دی گئی ہے، یورپ کیلئے یکم جولائی سےبزنس کلاس اور کلب کلاس کے ٹکٹ پر 60 ہزار روپے اضافی ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔نیوزی لینڈ، آسٹریلیا کے یکم جولائی سے بزنس کلاس اور کلب کلاس کے ٹکٹ پر 60 ہزار اضافی ٹیکس عائد کیا گیا ہے، دبئی، سعودیہ سمیت مڈل ایسٹ اور افریقی ممالک کے بزنس اور کلب کلاس ٹکٹس میں30 ہزار روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے اٹارنی جنرل کی جانب سے رؤف حسن کی توہین آمیز پریس کانفرنس کے بیان پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ اپنے خلاف کہی ہوئی بات پر کچھ نہیں کرنا چاہتا، بچپن میں والدہ کہتی تھیں جو کہتا ہے وہی ہوتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت میں بتایا کہ توہین آمیز نیوز کانفرنس رؤف حسن نے بھی کی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ یہ رؤف حسن کون ہے؟ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ رؤف حسن کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے اور انہوں نے جناب چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے بارے میں ایسے توہین آمیز الفاظ کہے ہیں جو دُہرانا بھی نہیں چاہتے۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وہ اپنے بارے میں کچھ نہیں کرنا چاہتے کہ بچپن میں والدہ کہتی تھیں جو کہتا ہے وہی ہوتا ہے ۔وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے ملاقات کی ہے جس میں دوطرفہ تعلقات میں حالیہ پیش رفت کا جائزہ لیا گیا ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے دفتر میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کا استقبال کیا۔ملاقات میں دوطرفہ تعلقات میں حالیہ پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ جبکہ باہمی تعلقات کو آگے بڑھانے کے طریقوں پر بھی گفتگو کی گئی۔امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد کیخلاف قرارداد قومی اسمبلی میں منظور کرلی گئی۔دو دن قبل امریکی ایوان نمائندگان میں بھاری اکثریت سے منظور قرارداد میں پاکستان کے 8 فروری کے الیکشن کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔قومی اسمبلی میں امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد کے خلاف قرارداد منظورکرلی گئی، اپوزیشن ارکان نے شائستہ پرویز ملک کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کی مخالفت کی۔قومی اسمبلی نے امریکی کانگریس کی قرارداد کے خلاف قرارداد کثرت رائے سے منظور کی، سنی اتحاد کونسل کے ارکان کی جانب سے قرارداد کی مخالفت کی، سنی اتحاد کونسل کے ارکان نے ایوان میں شدید نعرے بازی کی۔اجلاس کے دوران سنی اتحاد کونسل کے ارکان نشستوں پر کھڑے ہوگئے، سائفر سائفر اور شیم شیم کے نعرے لگائے، سنی اتحاد کونسل کے ارکان نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر ایوان میں اچھال دیں۔قرارداد میں کہا گیا کہ انتخابات میں کروڑوں پاکستانیوں نے ووٹ دیے، پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت غیر مناسب ہے، امریکا اور عالمی برادری غزہ اور کشمیر میں مظالم کا نوٹس لے، حکومت پاکستان اور امریکا کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کرے۔قومی اسمبلی نے امریکی قرارداد پر اظہار افسوس کیا اور کہا کہ امریکی قرارداد مکمل طور پر حقائق پر مبنی نہیں۔قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے، پاکستان اپنےاندرونی معاملات میں مداخلت برداشت نہیں کرے گا، امریکی کانگریس کو غزہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر توجہ دینی چاہیے، امریکی کانگریس کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر توجہ دینی چاہیے، ایوان چاہتا ہے کہ پاک امریکا تعلقات باہمی احترام پر مبنی ہوں۔شائستہ پرویز ملک نے کہا کہ ایوان نمائندگان کی قرارداد نان بائنڈنگ ہونے کے باوجود اندرونی معاملات میں مداخلت ہے، اپوزیشن ارکان پاکستان کی خود مختاری پر حملے کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں، اپوزیشن ارکان کو شرم آنی چاہیے، پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہوئی ہے۔پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما رکن قومی اسمبلی شگفتہ جمانی نے کہا کہ امریکا کو وارننگ دے رہے ہیں کہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرے، امریکا نے پوری دنیا میں دہشگردی مچائی ہوئی ہے۔ ن لیگ کے بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ اپوزیشن والے غدار ہیں، امریکا میں لابنگ فرم کے ذریعے ملک کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

میرے والد سے رشوت مانگی میں اپنا ملک چھوڑ ایا میں آج جو ھو ترقی پذیر ممالک کا ٹیلنٹ نا انصافی کرپشن کی وجہ سے ملک چھوڑٹا ھے وہ کون تفصیلات بادبان نیوز پر

“جس ملک نے مجھے عزت نہ دی اس ملک کو کوئی اختیار نہیں کہ اب جب میں دنیا کا مہنگا ترین کھلاڑی بن چکا ہوں مجھے اپنا کہے۔کیلین ایمبابےافریقی ملک کیمرون نژاد فرانسیسی اور فٹ بال کے کھلاڑی کیلین ایمبابے کا کہنا تھا کہ میرے والد نے کیمرون کی فٹ بال ٹیم سے کانٹکٹ کیا تھا کہ وہ میرے بیٹے کو چانس دیں لیکن ان نے بھاری رشوت مانگی اور پھر ان نے فرانس سے رابطہ کیا اور مجھے فرانس میں موقع ملا۔ آج میں جو کچھ بھی ہوں فرانس کی وجہ سے ہوں۔ترقی پذیر ملکوں سے ٹیلنٹ باہر چلا جاتا ہے جس یر کافی بحث ہوتی ہے، لیکن ٹیلنٹ جاۓ گا وہاں پر ہی جہاں اس کی پذیرائی ہو گی۔ میرے خیال میں یہ لوگ درست کرتے ہیں جو وقت سے نکل جاتے ہیں ????

بلے کا نشان چھین کر تحریک انصاف کو خودکشی پر مجبور کیا گیا ریمارکس۔ عمران خان کو مشکلات کا سامنا یا ایک بار پھر ھای کورت اسلام آباد سے ریلیف۔ پشاور : گرینڈ قبائلی جرگہ۔ ولڈکپ سیمی فائنل میں برطانوی ٹیم کو شکست۔ ساوتھ افریقہ اور بھارتی ٹیم امنے سامنے ھو نگی۔ بھارت کے باولنگ لائن نے تباہی مچا دی سب کچھ تباہ وبرباد۔ قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل مکمل بڑی اور چھوٹی کمیٹیوں پر پیپلز پارٹی کا قبضہ۔ اس وقت حقیقی معنوں میں آپریشن ردالغربت , رد الرشوت , رد الچوری , ردالسفارش , ردالعیاشی اور رد الحرامخوری کی ضرورت ہے… تفصیلات بادبان نیوز پر

بلے کا نشان چھین کر تحریک انصاف کو خودکشی پر مجبور کیا گیا ، ریمارکس۔ تحریک انصاف نے دوسری جماعت میں جا کر خودکشی کی،چیف جسٹس

سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق درخواست سماعت میں عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا مگر سپریم کورٹ نے ایسانہیں کہاکہ تحریک انصاف کوانتخابات سےباہرکردیں اور نا ہی سپریم کورٹ کا تحریک انصاف کو انتخابات سے باہرکرنا مقصد تھا۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق درخواست پر سماعت کی جس سلسلے میں سنی اتحاد کونسل اور الیکشن کمیشن کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت وکیل الیکشن کمیشن سکندر بشیر نے کہا کہ حامد رضا نےکاغذات نامزدگی میں کہا ہے کہ میرا تعلق سنی اتحاد کونسل اور تحریک انصاف سے ہے مگر دستاویزات میں کہا کہ تحریک انصاف نظریاتی کے ساتھ منسلک ہوں، تحریک انصاف نظریاتی مختلف سیاسی جماعت ہے جس کا پی ٹی آئی سے تعلق نہیںسکندربشیر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حامدرضا کو ان ہی کی درخواست پر ٹاور کا نشان انتخابات لڑنے کے لیے دیاگیا اور انہوں نے بطور آزاد امیدوار انتخابات میں حصہ لیا، اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اردو والے دستاویزات میں حامد رضا نے نہیں لکھا میں بطورآزادامیدوار انتخابات میں اترنا چاہ رہا ہوں۔وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ایسا کیسے ہوسکتا کہ حامدرضا خود کو آزادامیدوار نہ کہیں، حامدرضا نے منسلک ہونے کا سرٹیفکیٹ تحریک انصاف کا دیا ہے مگر حلف لے کر کہا میں تو تحریک انصاف نظریاتی میں ہوں، حامد رضا کی سب سے آخری درخواست پر الیکشن کمیشن نے عملدر آمد کیا۔ جسٹس منیب اختر نے پوچھا کہ حامد رضا نے کس سیاسی جماعت سے خود کو منسلک کیا؟ جو ریکارڈ ہے ہمیں دکھائیں، جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کا کہ کیا کاغذات نامزدگی واپس لینےکے بعد کوئی امیدوار کہہ سکتاہے فلاں پارٹی چھوڑ کر دوسری پارٹی کا ٹکٹ لیناچاہتاہوں؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ کے مطابق الیکشن کمیشن نے حامدرضا کو ٹاور کا نشان دیا، ریٹرننگ افسران بھی تو الیکشن کمیشن کے ہی آفیشلز ہیں۔جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ریٹرننگ افسران کے پاس کاغذات نامزدگی کے ساتھ منسلک پارٹی سرٹیفکیٹ ہوتاہے؟ ہمارے سامنے کاغذات نامزدگی کا کیس ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک شخص اگر شادی کرنا چاہے لیکن لڑکی کی بھی رضامندی ضروری ہے نا، جس پارٹی سے انتخابات لڑنے ہیں اسی پارٹی سے منسلک ہونےکا سرٹیفکیٹ لگانا ضروری ہے نا؟ سرٹیفکیٹ پی ٹی آئی نظریاتی اور ڈیکلریشن منسوخ پی ٹی آئی کا کریں تو قانون کیاکہتا ہے؟ اس پر وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ امیدوارکی ڈیکلریشن اورپارٹی کےساتھ وابستگی ظاہر ہوناضروری ہے، اگر ڈیکلریشن اور سیاسی وابستگی میچ نہ ہو تو آزاد امیدوار ہوتا ہے اور یہی آر اوزکے لیے سب سےآسان راستہ تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نشان چھوڑیں، ہمیں امیدوارکی سیاسی وابستگی کے بارے میں بتائیں، کیا آپ کسی کو انتخابات سے باہرکرسکتےہیں؟ سرٹیفکیٹ میں تضاد نہیں، الیکشن کمیشن امیدوار کی حیثیت تبدیل کررہا ہے، جس پارٹی کا سرٹیفکیٹ لایا جارہا ہے اسی پارٹی کے امیدوار کو تصور کیوں نہیں کیا جارہا؟جسٹس یحییٰ آفریدی نے سوال کیا کہ کیا ایساہوا کہ امیدوارکہے میں ایک پارٹی کاہوں، سرٹیفکیٹ بھی دےلیکن الیکشن کمیشن نے اسے آزاد امیدوار ظاہر کردیا ہو؟ اس پر وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایسے امیدوار تھے لیکن انہوں نے کاغذات نامزدگی واپس لے لیے۔ جسٹس عائشہ ملک نے وکیل الیکشن کمیشن سے سوال کیا آپ نے امیدواروں کو آزاد کیوں کہا جب خودکو وہ سیاسی جماعت سے وابستہ کہہ رہے تھے؟ کنفیوژن شروع ہوگئی کہ پارٹی کا ٹکٹ نہیں ملا تو امیدوار کیا کرسکتا ہے، پوچھا تو الیکشن کمیشن سے جائےگا انہوں نے کیا کیا ؟ آزاد امیدوار تو الیکشن کمیشن نے بنایاتھا۔جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک امیدوار کی بات نہیں بلکہ تحریک انصاف کی بات ہورہی ہے جو قومی جماعت ہے، الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کوکہا آپ کو نشان نہیں ملےگا، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا مگر سپریم کورٹ نے ایسانہیں کہاکہ تحریک انصاف کوانتخابات سےباہرکردیں اور نا ہی سپریم کورٹ کا تحریک انصاف کو انتخابات سے باہرکرنا مقصد ہرگز نہیں تھا۔ چیف جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ یا تو بلے کا نشان کسی اور کو دے دیں کیونکہ الیکشن کمیشن نے محفوظ رکھاہوا ہے، آزاد امیدوار کو بھی بلے کا نشان مل سکتا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے سے تشریح کوئی غلط کرے تو ہمارے پاس علاج نہیں، ایک امیدوار کو تحریک انصاف کا امیدوار کیوں نہیں سمجھتے؟ بات سمجھ نہیں آرہی۔ جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ کیا کسی نگران حکومت کو نیوٹرل ہونا چاہیے؟ اتنا نیوٹرل جتنا الیکشن کمیشن ہے؟ کیا نگران حکومت اتنی ہی آزاد ہونی چاہیے جتنا الیکشن کمیشن ہے؟ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ صدرعارف علوی پی ٹی آئی کے ہوکرکیوں انتخابات کی تاریخ نہیں دے رہے تھے؟جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ نے بڑی آسانی سےکہہ دیا نشان نہیں ملا تو آزاد امیدوار ڈیکلیئرکردیں، اتنابڑا فیصلہ کیسےکرلیا؟ کیا الیکشن کمیشن نے اس معاملے پر بات کی یاریٹرننگ افسران کے رحم وکرم پرچھوڑ دیا؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہےکہ امیدوارکو آزاد ڈیکلیئرکردیں؟کس قانون کے تحت الیکشن کمیشن کسی کو آزاد امیدوار قرار دے سکتا ہے ؟ اس پر جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ امیدوارتو کہہ رہا ہے میں فلاں سیاسی جماعت سے منسلک ہوں، الیکشن کمیشن نے کہا کہ نہیں آپ آزادامیدوار ہیں، امیدوار نے تو نہیں کہا کہ میں آزادامیدوار ہوں، امیدوارتوکہہ رہاہے سیاسی جماعت سے منسلک ہوں۔جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کیا ایسا مانا جائے کہ تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر کیاگیا، الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کی؟ بینچ تو کہہ رہاہے الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کی۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ چھوڑ دیں 80 سے زائد امیدواروں کو، 6 امیدواروں نے سرٹیفکیٹ اور ڈیکلریشن ایک ہی پارٹی کا بھی دیا، 6 کو بھی الیکشن کمیشن نے آزادامیدوار قرار دےدیا۔بعد ازاں سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی مزید سماعت یکم جولائی تک ملتوی کردی۔

عمر ایوب نے سیکرٹری جنرل سے استعفی دے دیا. 150 میڈیا ھاوسز کے 500 نمائیدے ایران کے الیکشن کی رپورٹنگ کرینگے۔ 150 میڈیا ھاوسز کے 500 نمائیدے ایران کے الیکشن کی رپورٹنگ کرینگے۔ افغانستان کو عبرت ناک شکست ساوتھ افریقہ فائنل میں۔ادویات پر ٹیکس نافذ ای ایم ایف کامیاب۔ ھیڈ کوچ برھم غصہ پیچ پر۔ چور مچاے شور وھاب کا لیگل نوٹس۔ھم غلام نھی پاکستان اسحاق ڈار۔ عدالت ان ایکشن عدت کیس اپیل مسترد۔ سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کی سماعت میں الیکشن کمیشن سے ججز کے سوالات کی بوچھاڑ۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر