All posts by admin

مہنگائی سے پریشان عوام کیلئے ایک اور بری خبر آ گئی، یکم جولائی سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 7 سے 8 روپے فی لیٹر اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے

مہنگائی سے پریشان عوام کیلئے ایک اور بری خبر آ گئی، یکم جولائی سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 7 سے 8 روپے فی لیٹر اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے . ذرائع کے مطابق ملک میں مجوزہ بجٹ کے زیراثربھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا امکان ہے. گزشتہ 15 دنوں کے دوران عالمی منڈی میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بال ترتیب 4.4 اور 5.5 ڈالر فی بیرل بڑھی ہیں، حتمی حساب و کتاب اور موجودہ ٹیکس ریٹس کی بنیاد پر پیٹرول کی قیمت 7 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 8.5 روپے فی لیٹر اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اوگرا پیٹرولیم مصنوعات کی سمری حکومت کو بھیجے گی، قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ وزیراعظم وزارت خزانہ کی مشاورت سے کریں گے، حکومت ریونیو ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی۔وزیراعظم محمد شہباز شریف کا کہنا ہے کہ قابل طلباء کو حکومت کی طرف سے لیپ ٹاپس فراہم کئے جائیں گے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ینگ پارلیمنٹیرینز کے وفد کی پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی۔ وفد میں اراکین قومی اسمبلی راجہ اسامہ سرور، بیرسٹر عقیل ملک، بیرسٹر دانیال چوہدری ، احمد عتیق انور، نوشین افتخار، رانا ارادت شریف خان، محمد عثمان اویسی ،عمار احمد خان لغاری ، ڈاکٹر شائستہ خان، زینب بلوچ ، سعد وسیم ،شاہد عثمان شامل تھے۔ ملاقات میں متعلقہ حلقوں کے امور اور ملک کی مجموعی و سیاسی صورت حال پر بات چیت کی گئی۔ وزیراعظم نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عوام کی خدمت کا موقع فراہم کیا ہے، امید ہے آپ ملک کی ترقی و خوشحالی اور عوامی فلاح و بہبود کے لئے دن رات کام کریں گے۔ ہم نے نئے مالی سال کے بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف دینے کے لئے بھر پور اقدامات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قابل طلباء کو حکومت کی طرف سے لیپ ٹاپس فراہم کئے جائیں گے ۔ بجٹ میں آئی ٹی کے شعبے کے فروغ کے لئے تقریباً 100 ارب کے فنڈز رکھے گئے ہیں جو کہ تاریخی قدم ہے۔ اسکلز ڈیویلپمنٹ اور کھیلوں کے شعبے کے لئے بھی تاریخی فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔ حکومت نوجوانوں کو روزگار کے بھرپور مواقع فراہم کرنے اور ان کی اسکلز ڈویلپمنٹ کے لئے بہت سے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومتی اداروں میں اصلاحات اور ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری حکومت کی ترجیحات ہیں جن سے ملکی خزانے پر بوجھ کم کیا جا سکے گے۔ پاکستان فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔

آپریشن عزم استحکام شروع وفاقی کابینہ کی منظوری، تفصیلات بادبان ٹی وی پر

وفاقی کابینہ نے آپریشن عزم استحکام کی منظوری دے دی۔کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ کوئی نیا منظم، مسلح آپریشن نہیں ہوگا۔ پہلے سے جاری انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کو مزید تیز کیا جائے گا، آپریشن عزم استحکام سے متعلق غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں، نقل مکانی کی ضرورت والا آپریشن غلط فہمی ہے۔ نائن الیون کے بعد پاکستان میں حالات خراب ہونا شروع ہوئے۔ افغانستان سے تیزی کیساتھ پاکستان میں دہشت گردی داخل ہوئی تو متعدد آپریشنز کرنا پڑے۔ان میں اپریشن راہ نجات، راہ حق،اپریشن ضرب عضب، اپریشن رد الفساد شامل تھے۔ان میں سب سے بڑا اور موثر ضرب عضب آپریشن تھا۔2014 میں یہ آپریشن شروع کیا گیا اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بعد 2016 میں اس کی تکمیل ہو گئی۔اس وقت حالات یہ تھے کہ تحریک طالبان ٹی ٹی پی پاکستان کے ہر ادارے اورہر شعبے میں سرایت کر چکی تھی۔قبائلی علاقوں میں اس کا مکمل کنٹرول تھا اور اس نے اپنی نظامِ شریعت کا نفاذ کیا ہوا تھا۔قبائلی علاقے نو گو ایریاز بن چکے تھے۔حکومتی رٹ زیرو تھی۔دہشت گردوں نے اپنے اسلحہ کے کارخانے قائم کر رکھے تھے۔تربیتی کیمپ بھی بنائے ہوئے تھے۔ روزانہ کی بنیاد پر ملک میں دہشت گردی کے حملے معمول بن چکے تھے۔ پاکستان کا کوئی شہر دہشت گردی سے محفوظ نہیں تھا۔بسوں ٹرینوں ہوٹلوں گھروں پر خودکش حملے کرنے کے ساتھ ساتھ دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا جاتا تھا۔جی ایچ کیو آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر، کامرہ ایئر بیس ،پشاور سرگودھا سمگلی کوئٹہ ایئر بیسز کے ساتھ مہران نیول ایئر بیس پر بھی حملے کیے گئے۔ اورین طیارے تباہ کر کے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا۔ کراچی ایئرپورٹ پر خونریزی کی گئی۔سیکیورٹی اہلکاروں کے بے رحمی سے سر کاٹ کر سفاکیت اور بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے سروں کے ساتھ فٹبال کھیلے گئے۔ حکومت نے اس سب کے باوجود طالبان کے ساتھ معاملات بہتر کرنے کے لیے مذاکرات کی کوشش کی مگر ان کی غیر سنجیدگی کے باعث مذاکرات کا آپشن مسترد کر کے آپریشن ضرب عضب لانچ کیا گیا۔یہ ایک مشکل فیصلہ تھا جو بہرحال کرنا پڑا۔طالبان کا معاشرے میں ایک خوف تھا لیکن جب آپریشن کا متفقہ فیصلہ کیا گیا تو قوم کی طرف سے خوف کے بت توڑ دیے گئے۔حکومت نے ساری پارٹیوں کو آن بورڈ کیا تھا۔آپریشن میں قبائلی علاقوں میں دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ کر دیئے گئے۔ اسلحہ ساز فیکٹریوں اور تربیت گاہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ان علاقوں سے طالبان کا قبضہ ختم کر دیا گیا۔اکثر طالبان نے راہ فرار اختیار کی اور افغانستان چلے گئے جبکہ کچھ پاکستان کے علاقوں میں جہاں سینگ سمایا،چھپ گئے۔ ان کی طرف سے موقع بہ موقع دہشت گردی کی کارروائیاں ہوتی رہتی تھیں۔مگر ان میں پہلے جیسی شدت تھی اور نہ ہی تسلسل تھا۔ آپریشن ضرب عضب میں دہشت گردوں کی کمر ضرور ٹوٹ گئی مگر لاکھوں بے گھر ہونے والے لوگ آج بھی پہلے کی طرح آباد نہیں ہو سکے،انفراسٹرکچر کی بحالی بھی نہ ہوئی۔ امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کے باعث پاکستان بدترین دہشت گردی کا نشانہ بن گیا جس میں پاکستان کو ایک سو بیس ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ امریکہ نے اگر اس نقصان کی تلافی اور ادائیگی کی ہوتی تو انفراسٹرکچر کی تعمیر اور بے گھر ہونے والوں کی بحالی آسانی سے ہو جاتی۔2018ء کے انتخابات کے نتیجے میں تحریک انصاف کی حکومت معرض وجود میں آئی۔اس کے بعد مفرور طالبان کو پاکستان آنے کی اجازت دی گئی۔ ان کی طرف سے پاکستان میں حالات خراب کیے جانے لگے۔ افغانستان میں اشرف غنی حکومت کے بعد طالبان اقتدار میں آئے تو امید کی جا رہی تھی کہ پاکستان کے ساتھ تعاون کریں گے مگر وہاں ڈویلپمنٹ کے لیے بھارت کو لا بٹھایا گیا لہٰذا افغانستان کی سرزمین بدستور پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی رہی۔ ادھر ایران کو بھی بھارت پاکستان کے خلاف استعمال کرتا چلا آرہا تھا۔ اب ایران کی طرف سے چاہ بہار بندرگاہ کا کنٹرول 10 سال کے لیے بھارت کے حوالے کیا گیا ہے۔جس سے پاکستان میں دہشت گردی کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ پاکستان میں بلوچ علیحدگی پسند دہشت گردی میں ملوث ہیں۔مذہبی شدت پسند بھی خونریزی سے گریز نہیں کر رہے۔ ان کا سب کا پشت پناہ بھارت ہے جو پاکستان میں مداخلت کے لیے ایران اور افغانستان کی سرزمین استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں قائم کیے گئے سلیپنگ سیل بھی بروئے کار لاتا ہے۔ آج دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے قوم کے اتحاد کی ضرورت ہے۔اس حوالے سے حکومت آپریشن عزم استحکام لانچ کرنا چاہتی ہے۔ آج حالات 2014 ء کی طرح مخدوش نہیں ہیں کہ ضرب عضب کی طرز پر آپریشن کیا جائے۔اس کی وضاحت حکومت کی طرف سے کی جا چکی ہے۔وزیراعظم نے کابینہ کے اجلاس کے دوران اس پر بات کی ہے وزیر دفاع خواجہ آصف کی طرف سے بھی کہا گیا ہے کہ آپریشن عزم استحکام کی نوعیت آپریشن ضرب عضب یا رد الفساد جیسی نہیں ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی پارٹیوں کے تحفظات دور کیے جائیں گے۔ ضرب عضب سے مقامی باشندوں کو نقل مکانی کی صورت میں بڑی بھاری قیمت چکانا پڑی تھی جس کے ایک بار پھر وہ متحمل نہیں ہو سکتے تاہم عزم استحکام آپریشن وقت کی ضرورت ہے اس پر قومی اتفاق رائے ناگزیر ہے ورنہ دہشت گرد پھر کچھ علاقوں پر مسلط ہو سکتے ہیں۔کچھ پارٹیاں تحریک انصاف سمیت اس آپریشن کی مخالفت کر رہی ہیں۔حکومت ان کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کرے۔امید کی جانی چاہیے کہ یہ پارٹیاں پیپلز پارٹی کی طرح تحفظات کے باوجودِ آپریشن کی حمایت کریں گی۔اپریشن میں صرف دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں کو ٹارگٹ کیا جائے تو متعلقہ علاقوں کے شہریوں کو کوئی پریشانی لاحق نہیں ہو گی۔ صدر زرداری کے اس مشورے کو بھی پیش نظر رکھا جائے کہ ہتھیار ڈالنے والے بلوچ قوم پرستوں کو قومی دھارے میں لانے کی کوشش کی جائے۔ ملک میں سیاسی اور اقتصادی استحکام کے لئے دہشت گردی کا مکمل تدارک بہرحال ہماری ضرورت ہے۔

آپریشن عزم استحکام شروع وفاقی کابینہ کی منظوری۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

وفاقی کابینہ نے آپریشن عزم استحکام کی منظوری دے دی۔کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ کوئی نیا منظم، مسلح آپریشن نہیں ہوگا۔ پہلے سے جاری انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کو مزید تیز کیا جائے گا، آپریشن عزم استحکام سے متعلق غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں، نقل مکانی کی ضرورت والا آپریشن غلط فہمی ہے۔ نائن الیون کے بعد پاکستان میں حالات خراب ہونا شروع ہوئے۔ افغانستان سے تیزی کیساتھ پاکستان میں دہشت گردی داخل ہوئی تو متعدد آپریشنز کرنا پڑے۔ان میں اپریشن راہ نجات، راہ حق،اپریشن ضرب عضب، اپریشن رد الفساد شامل تھے۔ان میں سب سے بڑا اور موثر ضرب عضب آپریشن تھا۔2014 میں یہ آپریشن شروع کیا گیا اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بعد 2016 میں اس کی تکمیل ہو گئی۔اس وقت حالات یہ تھے کہ تحریک طالبان ٹی ٹی پی پاکستان کے ہر ادارے اورہر شعبے میں سرایت کر چکی تھی۔قبائلی علاقوں میں اس کا مکمل کنٹرول تھا اور اس نے اپنی نظامِ شریعت کا نفاذ کیا ہوا تھا۔قبائلی علاقے نو گو ایریاز بن چکے تھے۔حکومتی رٹ زیرو تھی۔دہشت گردوں نے اپنے اسلحہ کے کارخانے قائم کر رکھے تھے۔تربیتی کیمپ بھی بنائے ہوئے تھے۔ روزانہ کی بنیاد پر ملک میں دہشت گردی کے حملے معمول بن چکے تھے۔ پاکستان کا کوئی شہر دہشت گردی سے محفوظ نہیں تھا۔بسوں ٹرینوں ہوٹلوں گھروں پر خودکش حملے کرنے کے ساتھ ساتھ دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا جاتا تھا۔جی ایچ کیو آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر، کامرہ ایئر بیس ،پشاور سرگودھا سمگلی کوئٹہ ایئر بیسز کے ساتھ مہران نیول ایئر بیس پر بھی حملے کیے گئے۔ اورین طیارے تباہ کر کے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا۔ کراچی ایئرپورٹ پر خونریزی کی گئی۔سیکیورٹی اہلکاروں کے بے رحمی سے سر کاٹ کر سفاکیت اور بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے سروں کے ساتھ فٹبال کھیلے گئے۔ حکومت نے اس سب کے باوجود طالبان کے ساتھ معاملات بہتر کرنے کے لیے مذاکرات کی کوشش کی مگر ان کی غیر سنجیدگی کے باعث مذاکرات کا آپشن مسترد کر کے آپریشن ضرب عضب لانچ کیا گیا۔یہ ایک مشکل فیصلہ تھا جو بہرحال کرنا پڑا۔طالبان کا معاشرے میں ایک خوف تھا لیکن جب آپریشن کا متفقہ فیصلہ کیا گیا تو قوم کی طرف سے خوف کے بت توڑ دیے گئے۔حکومت نے ساری پارٹیوں کو آن بورڈ کیا تھا۔آپریشن میں قبائلی علاقوں میں دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ کر دیئے گئے۔ اسلحہ ساز فیکٹریوں اور تربیت گاہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ان علاقوں سے طالبان کا قبضہ ختم کر دیا گیا۔اکثر طالبان نے راہ فرار اختیار کی اور افغانستان چلے گئے جبکہ کچھ پاکستان کے علاقوں میں جہاں سینگ سمایا،چھپ گئے۔ ان کی طرف سے موقع بہ موقع دہشت گردی کی کارروائیاں ہوتی رہتی تھیں۔مگر ان میں پہلے جیسی شدت تھی اور نہ ہی تسلسل تھا۔ آپریشن ضرب عضب میں دہشت گردوں کی کمر ضرور ٹوٹ گئی مگر لاکھوں بے گھر ہونے والے لوگ آج بھی پہلے کی طرح آباد نہیں ہو سکے،انفراسٹرکچر کی بحالی بھی نہ ہوئی۔ امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کے باعث پاکستان بدترین دہشت گردی کا نشانہ بن گیا جس میں پاکستان کو ایک سو بیس ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ امریکہ نے اگر اس نقصان کی تلافی اور ادائیگی کی ہوتی تو انفراسٹرکچر کی تعمیر اور بے گھر ہونے والوں کی بحالی آسانی سے ہو جاتی۔2018ء کے انتخابات کے نتیجے میں تحریک انصاف کی حکومت معرض وجود میں آئی۔اس کے بعد مفرور طالبان کو پاکستان آنے کی اجازت دی گئی۔ ان کی طرف سے پاکستان میں حالات خراب کیے جانے لگے۔ افغانستان میں اشرف غنی حکومت کے بعد طالبان اقتدار میں آئے تو امید کی جا رہی تھی کہ پاکستان کے ساتھ تعاون کریں گے مگر وہاں ڈویلپمنٹ کے لیے بھارت کو لا بٹھایا گیا لہٰذا افغانستان کی سرزمین بدستور پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی رہی۔ ادھر ایران کو بھی بھارت پاکستان کے خلاف استعمال کرتا چلا آرہا تھا۔ اب ایران کی طرف سے چاہ بہار بندرگاہ کا کنٹرول 10 سال کے لیے بھارت کے حوالے کیا گیا ہے۔جس سے پاکستان میں دہشت گردی کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ پاکستان میں بلوچ علیحدگی پسند دہشت گردی میں ملوث ہیں۔مذہبی شدت پسند بھی خونریزی سے گریز نہیں کر رہے۔ ان کا سب کا پشت پناہ بھارت ہے جو پاکستان میں مداخلت کے لیے ایران اور افغانستان کی سرزمین استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں قائم کیے گئے سلیپنگ سیل بھی بروئے کار لاتا ہے۔ آج دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے قوم کے اتحاد کی ضرورت ہے۔اس حوالے سے حکومت آپریشن عزم استحکام لانچ کرنا چاہتی ہے۔ آج حالات 2014 ء کی طرح مخدوش نہیں ہیں کہ ضرب عضب کی طرز پر آپریشن کیا جائے۔اس کی وضاحت حکومت کی طرف سے کی جا چکی ہے۔وزیراعظم نے کابینہ کے اجلاس کے دوران اس پر بات کی ہے وزیر دفاع خواجہ آصف کی طرف سے بھی کہا گیا ہے کہ آپریشن عزم استحکام کی نوعیت آپریشن ضرب عضب یا رد الفساد جیسی نہیں ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی پارٹیوں کے تحفظات دور کیے جائیں گے۔ ضرب عضب سے مقامی باشندوں کو نقل مکانی کی صورت میں بڑی بھاری قیمت چکانا پڑی تھی جس کے ایک بار پھر وہ متحمل نہیں ہو سکتے تاہم عزم استحکام آپریشن وقت کی ضرورت ہے اس پر قومی اتفاق رائے ناگزیر ہے ورنہ دہشت گرد پھر کچھ علاقوں پر مسلط ہو سکتے ہیں۔کچھ پارٹیاں تحریک انصاف سمیت اس آپریشن کی مخالفت کر رہی ہیں۔حکومت ان کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کرے۔امید کی جانی چاہیے کہ یہ پارٹیاں پیپلز پارٹی کی طرح تحفظات کے باوجودِ آپریشن کی حمایت کریں گی۔اپریشن میں صرف دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں کو ٹارگٹ کیا جائے تو متعلقہ علاقوں کے شہریوں کو کوئی پریشانی لاحق نہیں ہو گی۔ صدر زرداری کے اس مشورے کو بھی پیش نظر رکھا جائے کہ ہتھیار ڈالنے والے بلوچ قوم پرستوں کو قومی دھارے میں لانے کی کوشش کی جائے۔ ملک میں سیاسی اور اقتصادی استحکام کے لئے دہشت گردی کا مکمل تدارک بہرحال ہماری ضرورت ہے۔

150 میڈیا ھاوسز کے 500 نمائیدے ایران کے الیکشن کی رپورٹنگ کرینگے رپورٹ سہیل رانا۔ تہران، ایران

ایران میں آج صبح آٹھ بجے انتخابی مہم کا وقت اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔ مقررہ وقت تک صدارتی امیدواروں نے اپنی انتخابی مہم جاری رکھی۔ ٹی وی پر مناظروں کے علاوہ انہوں نے عوام کو اپنے اپنے لائحہ عمل سے بھی آگاہ کیا اور عوامی جلسوں سے بھی خطاب کیا۔ کل جمعے کے دن صبح آٹھ بجے ملک بھر میں ووٹنگ کا عمل شروع ہوجائے گا جو دس گھنٹے تک جاری رہے گا البتہ وزیر داخلہ کی صوابدید کے مطابق اس میں توسیع بھی کی جاسکتی ہے۔ووٹنگ کے حوالے سے لوگوں میں بہت جوش و خروش پایا جاتا ہے۔

ایران کی وزارت اسلامی ثقافت و ہدایت کے غیر ملکی ابلاغیاتی اداروں سے متعلق شعبے کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا ہے کہ دنیا کے 150 میڈیا ہاؤسز کے 500 سے زائد رپورٹراٹھائیس جون کے صدارتی الیکشن کی کوریج کے لئے ایران پہنچ رہے ہیں۔ارنا نے ایران کی اسلامی ثقافت و ہدایت کی وزارت کے شعبہ رابطہ عامہ کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ علی رضا شیروی نے بتایا ہے کہ دنیا کے 31 ملکوں کے 150 میڈیا ہاؤسز کے 500 سے زائد نمائندے ایران کے چودھویں صدارتی الیکشن کی رپورٹنگ کریں گے۔وزارت اسلامی ثقافت و ہدایت کے بیرونی ابلاغیاتی اداروں کے شعبے کے ڈائریکٹر جنرل نے مزید بتایا ہے کہ بہت سے ملکوں نے صدارتی الیکشن کی کوریج کے لئے اپنے رپورٹروں کے لئے درخواستیں بھیجی ہیں اور اب تک آسٹریا، اسپین، آسٹریلیا، امریکا، برطانیہ، اٹلی، آذربائیجان، جرمنی، بحرین، پاکستان، ترکیہ، الجزائر، چین، ڈینمارک، روس، زمبابوے، جاپان، شام، سویڈن، عراق، عمان، فرانس، فلسطین، کرغیزستان، قطر، جنوبی کوریا، شمالی کوریا، کولمبیا، کویت لبنان اور یمن کے رپورٹروں کی آمد یقینی ہوچکی ہے۔یاد رہے کہ ایران کے چودھویں صدارتی الیکشن میں جمعہ اٹھائیس جون کو پولنگ ہوگی۔

افغان شہریوں سمیت غیر ملکیوں کو تمام رعایت ختم

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا ہے کہ پاکستان افغان شہریوں سمیت ان تمام غیر ملکیوں پر اپنے قوانین کا اطلاق کرے گاجو ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں سلامتی کونسل میںتنازعات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے دوران انسانیت کو ترجیح دینے سے متعلق ایک سیشن کے دوران اپنے بیان میں پاکستان کے مستقل نمائندے منیر اکرم نے ملک میں موجود افغان پناہ گزینوںپر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے شورش زدہ پڑوسی ملک کے شہریوں کو پناہ دی.منیر اکرم نے کہا کہ پاکستان کہہ چکا ہے کہ دنیا میں جہاں زیادہ تر پناہ گزینوں کی میزبانی ترقی پذیر ممالک نے کی ہے وہیں بوجھ بانٹنے کا اصول نمایاں طور پر غائب ہے پاکستان نے 40 سال سے زائد عرصے تک 50 لاکھ افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کی جن میں 14 لاکھ رجسٹرڈ اور 10 لاکھ غیر رجسٹرڈ اور ہزاروں لوگ بغیر دستاویزات کے ساتھ اب بھی ملک میں مقیم ہیں انہوں نے امید ظاہر کی کہ 14 لاکھ رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کو اس حقیقت کے پیش نظر کہ افغانستان میں تنازع ختم ہو چکا ہے اقوام متحدہ کے فنڈ سے چلنے والے منصوبے کے تحت جلد ان کے وطن واپس بھیج دیا جائے گا جیسا کہ برسوں پہلے وعدہ کیا گیا تھا.منیر اکرم نے واضح کیا کہ پاکستان ان تمام غیر ملکیوں کے بارے میں اپنے قوانین کا اطلاق کرے گا جو ملک میں غیر قانونی طور پر آباد ہیں پاکستانی حکومت نے گذشتہ برس اکتوبر میں ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو ان کے وطن واپسی کا حکم دیا تھا اور یکم نومبر 2023 سے ایسے افراد کی املاک ضبط کرنے کا بھی اعلان کیا گیا تھا حکومت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے پس منظر میں کیا گیا تھا اس وقت کی نگران حکومت کے زیرانتظام شروع کی گئی اس مہم کے تحت تاحال تقریباً پانچ لاکھ افغان پناہ گزینوں کو وطن واپس بھیجا جا چکا ہے جبکہ حکام کے مطابق اس سلسلے کی دوسری کڑی کا آغاز رواں برس اپریکل میں مشاورت کے بعد ہونا تھا.وفاقی وزارت داخلہ کے حکام نے رواں برس مارچ میں بتایا تھا کہ 15 اپریل کے بعد افغان باشندوں کے انخلا سے متعلق مشاورت کا باقاعدہ آغاز اور اس بارے میں پالیسی مرتب کیے جانے کے بعد اس عمل کا آغاز ہوگا ان کا کہنا تھا کہ تاہم ملک چھوڑنے کے لیے ان افراد کو 30 روز کا وقت دیا جائے گا وفاقی وزارت داخلہ کے عہدیدار نے بتایا تھا کہ افغان پناہ گزینوں کو بھیجنے سے متعلق تعداد کا تعین نہیں کیا گیا تاہم ان افراد کو بھیجنے کے کل تین مراحل ہیں تاہم اس پلان پر عمل درآمد ہونے سے متعلق ٹائم لائن کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا.انہوں نے بتایا کہ دوسرے مرحلہ میں افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والوں کو افغانستان واپس بھیجا جائے گاواپسی کی مہم کے تیسرے مرحلہ میں پروف آف ریزیڈنس (پی او آر) کارڈ رکھنے والوں کو ان کے وطن واپس بھیجا جائے گاتاہم اس پر عمل درآمد کرنے یا نہ کرنے سے متعلق وقت پر پتہ چلے گا. وزارت داخلہ کے عہدیدار نے یہ بھی بتایا کہ افغان پناہ گزینوں کو ملک بھر سے نکالا جائے گاصرف ایک صوبے سے باشندے نکالنے کی بات نہیں کی جا رہی ہے تاہم اس حوالے سے خصوصی طور پر صوبہ پنجاب کے ساتھ اشتراک کیا جائے گاحکومتی کریک ڈاﺅن شروع ہونے کے بعد سے اب تک تقریباچھ لاکھ افغان وطن واپس جا چکے ہیں جس کا مطلب ہے کہ کم از کم دس لاکھ افراد پاکستان میں چھپے ہوئے ہیں.

بجلی کےبلز گھروں کی خوشیاں چھیننے لگے۔ پاکستان میں رشوت لینے والے گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنے بچوں کے ساتھ ٹھنڈے علاقوں میں چلے جاتے ہیں جبکہ ٹیکس دینے والوں کے بچے ورکشاپوں کام سیکھتے ہیں۔پیپلز پارٹی اھم کمیٹیوں کے چئیرمین لے اڑی۔ پیپلز پارٹی اھم کمیٹیوں کے چئیرمین لے اڑی۔ خزانہ نوید قمر حنا ربانی کھر خارجہ جاکھرانی مواصلات پیٹل میری ٹائم راںا پارلیمانی امور۔ گیس کی قیمتیں دو سو فیصد بڑھنے کی خبریں جھوٹی نکلیں..صرف ایک سو نوے فیصد بڑھی۔ عمران خان اور 2 بڑے ریلیف اج ملینگے۔ تفصیلات ک لیے بادبان ٹی وی بادبان نیوز کو فالو کریں