All posts by admin

اڈیالہ جیل والے صاحب کے دور میں پاکستان تنہائی کا شکار تھا، اب وہ معاملہ ختم ہو چکا، خارجہ پالیسی کے خلاف باتیں کرنے والے ماضی کا قصہ بن چکے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ کی پریس کانفرنس

اڈیالہ جیل والے صاحب کے دور میں پاکستان تنہائی کا شکار تھا، اب وہ معاملہ ختم ہو چکا، خارجہ پالیسی کے خلاف باتیں کرنے والے ماضی کا قصہ بن چکے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ کی پریس کانفرنس اسلام آباد۔23اپریل :وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ اڈیالہ جیل والے صاحب کے دور میں پاکستان تنہائی کا شکار تھا، اب وہ معاملہ ختم ہو چکا ہے، خارجہ پالیسی کے خلاف باتیں کرنے والے ماضی کا قصہ بن چکے ہیں، انہوں نے اپنی ذات کی خاطر ملک کو ہمیشہ نقصان پہنچانے کی کوشش کی، عوام نے نفرت اور تقسیم کا بیانیہ مسترد کر دیا ہے۔ منگل کو وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ لاپتہ افراد کے حوالے سے وزیر قانون نے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے، دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والوں کے لواحقین کے اس بارے شدید تحفظات ہیں، ان لوگوں نے ملک کی خاطر جانیں قربان کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2011 میں سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد کے بارے میں انکوائری کمیشن تشکیل دیا تھا جس کے تحت 10023 کیسز میں سے 7900 کیس حل ہو چکے ہیں، صرف 23 فیصد کیس زیر التوا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس حوالے سے بہت کام کیا ہے، ہماری نیت اس مسئلے کو حل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر قانون نے ماضی کی حکومت میں بھی اس پر کام کیا، دوبارہ بھی اس پر کام ہو رہا ہے۔ ضمنی انتخابات کے نتائج کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں دھاندلی کا ڈھنڈورا پیٹا گیا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مسلم لیگ (ن) نے ضمنی انتخابات میں کلین سویپ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام نے تحریک انصاف کے جھوٹ، تشدد، دفاعی اداروں کے خلاف بیانیہ کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے ووٹرز سمیت دیگر نے بھی مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخابات کی شفافیت پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا، ضمنی الیکشن نے 8 فروری کے انتخابات کے حوالے سے بھی شکوک و شبہات کو ختم کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمد نواز شریف سے لوگوں کی والہانہ محبت ہے، عوام نے شہباز شریف کی معاشی اصلاحات اور پنجاب میں خدمت کی سیاست کو ووٹ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نفرت، منافقت اور جھوٹ پر مبنی بیانیہ مسترد ہو چکا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بشریٰ بی بی کی صحت کے حوالے سے تحریک انصاف مضحکہ خیز پروپیگنڈا کر رہی ہے، بشریٰ بی بی کے تمام طبی ٹیسٹ درست آئے، وہ صحت مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بشریٰ بی بی کی صحت کے حوالے سے کوئی تحفظات ہیں تو کھل کر بتائے جائیں، جب بشریٰ بی بی کے ٹیسٹ کئے جاتے ہیں تو وہ صحت مند ظاہر ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی جھوٹ پر مبنی مہم چلا رہی ہے کہ بشریٰ بی بی کی زندگی کو خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیرا نویا سے باہر نکلیں، یہ کبھی دفاعی اداروں اور کبھی سپہ سالار کے خلاف بات کرتے ہیں، انہوں نے قسم کھا رکھی ہے کہ ملکی دفاعی اداروں کے خلاف ہی بات کرنی ہے، ان کا جھوٹ بے نقاب ہوتا جا رہا ہے، ان کا پیرا نویا پوری قوم کے سامنے آ رہا ہے، یہ متضاد بیانات دے کر پاکستان کی خارجہ پالیسی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خارجہ پالیسی پر کوئی کمپرومائز نہیں ہوگا، کسی کو پاکستان کے دوست ممالک یا پاکستان کے سپہ سالار کے خلاف بات نہیں کرنی دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک ترقی کی طرف بڑھ رہا ہے جبکہ جیل میں بیٹھے شخص کو نظر آ رہا ہے کہ وہ تنہا ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس شخص نے خارجہ پالیسی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی، ہم نے پاکستان کے عالمی سطح پر تعلقات اور ساکھ کو بحال کیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حال ہی میں سعودی عرب کے اعلیٰ سطحی وفد نے پاکستان دورہ کیا اور اربوں ڈالر سرمایہ کاری کی بات کی، ایران کے صدر نے کل 10 ارب ڈالر کے تجارتی حجم کے حوالے سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سٹریٹجک حیثیت کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اڈیالہ جیل والے صاحب کے دور میں پاکستان تنہائی کا شکار ہو گیا تھا، اب وہ معاملہ ختم ہو چکا ہے، دوست ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات بڑھ رہے ہیں اور تجارت اور سرمایہ کاری کی بات ہو رہی ہے، ملک ترقی کی طرف گامزن ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سٹاک مارکیٹ ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ چکی ہے، ملک میں سازگار ماحول کی موجودگی کی صورت میں ہی یہ ممکن ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں شہباز شریف کی قیادت اور وژن کے تحت ایک حکومت موجود ہے جو سنجیدگی سے معاشی اصلاحات کرنا چاہتی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ روز سٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس 74 فیصد اوپر گیا۔ انہوں نے کہا کہ کرنٹ اکائونٹ سرپلس پہلی مرتبہ 9 سالوں میں 619 ملین ڈالر پر پہنچا، آئی ٹی برآمدات 306 ملین ڈالر پر پہنچ چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فارن ڈائریکٹ انوسٹمنٹ 20 مہینوں کے اندر 285 ملین ڈالر تک پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام چیزیں اس لئے اوپر جا رہی ہیں کہ ملک ترقی کی طرف گامزن ہے اور ملک میں سرمایہ کاری آ رہی ہے، عالمی ادارے بھی یہ بات کر رہے ہیں کہ پاکستان معاشی مسائل پر قابو پا لے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے نوجوانوں کو ترقی دیں گے، ملک کی آئی ٹی انڈسٹری سمیت زراعت کے شعبہ کو فروغ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سازشی، جھوٹ اور منافقت پر مبنی بیانیہ مسترد ہو چکا ہے، خارجہ پالیسی کے خلاف باتیں کرنے والے ماضی کا قصہ بن چکے ہیں، پی ٹی آئی نے سائفر کا ڈرامہ رچایا، دوست ممالک کے سربراہان کے دیئے گئے تحفوں کو بیچ ڈالا۔ مشاہد اللہ خان مرحوم نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ زمیں بیچ ڈالی، زمن بیچ ڈالا، ایک قیدی نے میرا وطن بیچ ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنی ذات کی خاطر ملک کو ہمیشہ نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سب سے پہلے ہے، سیاسی جماعتیں بعد میں ہیں، ترقی پاکستان کا مقدر ہے، مہنگائی اور بے روزگاری میں کمی ہوگی، سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان ملک کی ترقی کے لئے ہر قدم اٹھائے گی، آنے والے دنوں میں بیرون ملک سے مزید وفود پاکستان آ رہے ہیں۔ وزیراعظم کا سعودی عرب کا دورہ بھی آ رہا ہے، پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے روشن امکانات موجود ہیں، اس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے دن رات ایک کریں گے اور پاکستان کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کریں گے۔ صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کابینہ کمیٹی لاپتہ افراد کے حوالے سے معاملہ کے حل کے لئے اپنی تجاویز پیش کرے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ای سی ایل کے قواعد و ضوابط موجود ہیں کہ کن وجوہات کی بناء پر نام ای سی ایل میں ڈالا یا نکالا جاتا ہے۔ داخلہ ڈویژن اگر کسی کی سفارشات بھیجتا ہے تو اس پر قانون کے مطابق عمل ہوتا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بجلی کے بلوں میں کمی آئی ہے، عیدالفطر کے موقع پر حکومت نے 3.82 روپے کی کمی کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اخراجات میں کمی اور نجکاری پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ پی آئی اے کی نجکاری سے 800 ارب روپے کا خسارہ ختم ہوگا جس کا بوجھ عوام اور حکومت برداشت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکس اصلاحات اور ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن کی طرف جا رہی ہے۔ تمام اشاریئے مثبت ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ حالات میں مزید بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کا پاکستان پر اعتماد بحال ہو رہا ہے کہ پاکستان میں ایک ایسی حکومت موجود ہے جو مسائل کو حل کرنا جانتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا، اب اس ملک کو ترقی یافتہ بنائیں گے اور ایک ایسی معیشت بنائیں گے جس پر دنیا ناز کرے، یہ ہمارا مشن ہے اسے

لاپتہ افراد کا مسئلہ راتوں رات حل نہیں سکتے وزیر قانون

وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا، بحث، جلد بازی، عدالتی احکامات سے لاپتا افراد کا مسئلہ راتوں رات حل نہیں ہو سکتا، اس پر اب بھی بہت کام کی ضرورت ہے، تمام شراکت داروں کی مشاورت سے اس اہم مسئلہ کو حل کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاپتا افراد کا مسئلہ بڑے عرصہ سے سیاسی، قانون اور عسکری حلقوں میں ایک حساس مسئلہ سمجھا جاتا ہے اور اس پر بات چیت و تنقید کی جاتی ہے، اس پر آوازبھی اٹھائی جاری ہے، ملک کے آئین اور قانونی نظام میں بھی بنیادی حقوق کے حوالہ سے جو تحفظ حاصل ہے، بلا شبہ حکومت کو اپنی ذمہ داریوں کا پورا احساس ہے لیکن لاپتا افراد کا معاملہ اتنا آسان نہیں، لاپتا افراد کے حوالے سے سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے، اس کی بہت ساری جہتیں ہیں، اس مسئلے کے قانونی حل کے ساتھ ساتھ تمام شراکت داروں کو بٹھا کر ایک سیاسی حل بھی نکالنا ہوگا۔وفاقی وزیر قانون کا کہنا ہے کہ پاکستان کا آئین و قانون شہریوں کو جو سہولیات دیتا ہے ان سے کوئی روگردانی نہیں اور ہونی بھی نہیں چاہیئے کیونکہ یہ ان کا حق ہے، لاپتا افراد کے حوالے سے حکومت نے ماضی میں کام کیا اور ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی، لاپتا افراد کے 8 ہزار کے قریب کیسز حل ہو چکے ہیں، لاپتا افراد کا مسئلہ حل کرنے میں حکومت کی سنجیدگی میں کوئی کمی نہیں آئی، جب ہم اس ایشو کی بات کرتے ہیں تو یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیئے کہ بدقسمتی سے گزشتہ چار دہائیوں سے پاکستان نے جنگ سے متاثرہ خطے میں فرنٹ سے کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری جغرافیائی صورتحال ایسی ہے اور ہمارے ہمسایہ ممالک کے ساتھ گزشتہ چار پانچ دہائیوں میں جو معاملات ہوئے جس کی وجہ سے پاکستان کے اندرونی چیلنجز بہت بڑھ گئے، دہشتگردی کے حوالہ سے افواج پاکستان نے اور پاکستان کے عوام نے قربانیاں دی ہیں، خطے میں پاکستان نے ناقابل یقین حد تک اس کی قیمت ادا کی ہے، یہ مسئلہ بھی دہشت گردی کے ساتھ جڑا ہوا ہے، کئی مرتبہ یہ بات کی جاتی ہے کہ شاید حکومتیں سنجیدہ نہیں ہیں یا سیاسی سنجیدگی نہیں ہے، اس لیے یہ مسئلہ حل نہیں ہو رہا۔سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ سب کو یاد ہوگا مسنگ پرسنز پر پہلا قدم پاکستان پیپلز پارٹی دور حکومت میں 2011ء میں اٹھایا گیا، پھر ازخود نوٹس کے اختیار کے تحت سپریم کورٹ نے اس پر نوٹس لیا اور کمیشن بنایا گیا جس کے بعد کمیشن نے اپنا کام شروع کیا، اس وقت سے لے کر آج تک تقریباً 10ہزار 200 سے زائد مسنگ پرسنز کے کیسز کمیشن میں گئے جن میں سے 8 ہزار کے قریب کیسز حل طلب تھے اور حل ہوئے تاہم اب بھی زیر التوا کیسز کی شرح اندازاً 23 فیصد کے قریب ہے، اس میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت نے اپنے گزشتہ دور حکومت میں 2022ء میں پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت بنی تو وزیراعظم نے کابینہ میں یہ فیصلہ کیا کہ ایک کمیٹی بنائی جائے جس میں حکومت میں شریک تمام اتحادی جماعتوں کو نمائندگی دی گئی اور میں اس شریک تمام اتحادی کمیٹی کا کنوینر تھا، ہم نے کوئٹہ جا کر کام کیا، سارے شراکت داروں سے ملے، بعض چیزیں ابھی حل طلب تھیں کہ اسمبلی کی مدت پوری ہوگئی، نگران حکومت کے دور میں بھی میں نے رپورٹ منگوائی، تاہم نگران حکومت کا دائرہ اختیار کسی حد تک محدود ہوتا ہے کیونکہ وہ قانون سازی نہیں کر سکتے تھے، دیگر بہت سی ایسی چیزیں بھی تھیں جو نگران نہیں کر سکتے تھے جس کی وجہ سے کچھ تعطل آیا۔وفاقی وزیر قانون نے بتایا کہ وزیراعظم محمد شہبازشریف کی ہدایت پر اب دوبارہ اس پر کام شرو ع کیا جا رہا ہے اور وزیراعظم کمیٹی تشکیل دے رہے ہیں جس میں پارلیمانی نمائندگی ہوگی، یہ کام دوبارہ شروع کیا جارہا ہے، مسنگ پرسنز کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے حکومت کی سنجیدگی میں کوئی کمی نہیں آئی لیکن جلد بازی یا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کی جانے والی باتوں یا عدالتی احکامات سے راتوں رات حل نہیں ہوسکتا، اس کے لیے ابھی بھی بہت زیادہ کام کی ضرورت ہے، دونوں اطراف سے کچھ نہ کچھ ایشوز ہیں، حکومتی اداروں کی مداخلت یکسر مسترد نہیں کا جا سکتی لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا آج تک کوئی ٹھوس شہادت آئی اور جہاں تک میں رپورٹ میں دیکھتا رہا تو اداروں کی مداخلت کا امکان نفی میں تھا لیکن اس بارے میں ایک تاثر ضرور ہے۔اعظم نذیر تارڑ کہتے ہیں کہ رپورٹس کے 100 فیصد درست ہونے میں بھی ملی جلی صورتحال ہوتی ہے، لاپتا فرد حقیقت میں لاپتا ہوتا ہے لیکن بعض کیسز میں ایسے شواہد بھی ملے ہیں کہ وہ افراد جن کو بطور مسنگ پرسن رجسٹرڈ کیا گیا، کمیشن ان کو بطور لاپتا افراد ڈکلیئر بھی کر چکا تھا اور کوئی ایسی ایف آئی آر بھی درج ہو چکی تھی کہ فلاں ادارے کے لوگ اسے اٹھا لے گئے ہیں لیکن کمیٹی کے اجلاس میں یہ انکشاف سامنے آیا کہ مسنگ پرسنز میں شامل دو افراد میں سے ایک لانڈھی جیل میں منشیات کے کیس میں اپنی سزا پوری کررہا تھا اور دوسرا سندھ کی کسی جیل میں قید تھا، اسی طرح پنجاب سے بھی ایسی رپورٹس وصول ہوئیں کہ سی ٹی ڈی نے ان کو پراسکیوٹ کرنا تھا اور ان کے سرگودھا میں ٹرائلز ہو رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ ماضی قریب میں گوادر میں جو حملہ کیا گیا جب حملہ آوروں کی شناخت کی گئی تو ان میں بھی لاپتا افراد موجود تھے جو باقاعدہ ڈکلیئرڈ مسنگ پرسن تھے، ان کے ورثا نے یہ درخواست دی کہ ان کی لاش ہمارے حوالے کی جائے تاکہ تدفین کی جا سکے، اس لیے یہ معاملہ اتنا آسان نہیں اس کی بہت سی جہتیں ہیں، اس کے قانونی حل کے ساتھ ساتھ تمام شراکت داروں کو بٹھا کر ایک سیاسی حل بھی نکالنا ہوگا کیوں کہ یہ مسئلہ بہت پیچیدہ ہے، دو تین دن سے یہ گفتگو چل رہی تھی اس لیے میں نے ضروری سمجھا اس پرمیڈیا سے بات کی جائے۔

مریم نواز شریف وزیر اعلی پنجاب کا آپریشن کلین اپ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

مریم نواز شریف وزیر اعلی پنجاب کا آپریشن کلین اپ تفصیلات بادبان ٹی وی پرڈی جی پی آر پنجاب روبینہ افضل تبدیل روبینہ افضل کو محکمہ ڈی جی پی آر رپورٹ کا حکمسیکرٹری اطلاعات وثقافت احمد عزیز تارڈ کو ڈی جی پی آر کا اضافی چارج سیکرٹری اطلاعات پنجاب دانیال عزیز گیلانی تبدیل دانیال عزیز گیلانی کو ایس اینڈ جی اے ڈی رپورٹ کرنے کا حکم ممبر پی اینڈ ڈی احمد عزیز تارڈ تبدیل احمد عزیز تارڈ سیکرٹری اطلاعات وثقافت پنجاب تعینات

مسنگ پرسن کا معاملہ دیرینہ ہے، وفاقی وزیر قانونحکومت کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہے، اعظم نذیر تارڑگزشتہ چار دہائیوں میں پاکستان نے مشکلات کا سامنا کیا، وزیر قانونپاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بے پناہ قربانیاں دیں، وفاقی وزیر قانون لاپتہ افراد کے حوالے سے حکومت نے کام کیا ہے

مسنگ پرسن کا معاملہ دیرینہ ہے، وفاقی وزیر قانونحکومت کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہے، اعظم نذیر تارڑگزشتہ چار دہائیوں میں پاکستان نے مشکلات کا سامنا کیا، وزیر قانونپاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بے پناہ قربانیاں دیں، وفاقی وزیر قانونلاپتہ افراد کے حوالے سے حکومت نے کام کیا ہے، وفاقی وزیر قانونحکومت نے لاپتہ افراد کے حوالے سے ایک کمیٹی بنائی، وفاقی وزیر قانونوزیراعظم کی ہدایت پر لاپتہ افراد کے حوالے سے کام کیا جا رہا ہے، وفاقی وزیر قانونلاپتہ افراد کے حوالے سے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے، وفاقی وزیر قانونکسی بھی مسئلے کا حل راتوں رات نہیں نکل سکتا، وفاقی وزیر قانونمسنگ پرسن کا معاملہ اتنا زیادہ آسان نہیں، وزیر قانونقانونی حل کے ساتھ ساتھ اس کا سیاسی حل نکالنے کی بھی ضرورت ہے، وفاقی وزیر قانونیہ پیچیدہ معاملہ ہے، اس کی بہت سی جہتیں ہیں، وزیر قانونلاپتہ افراد کے حوالے سے سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، وزیر قانوندہشت گردی کے واقعات میں لاپتہ افراد ملوث پائے گئے، وزیر قانون

پولیس والے پر گاڑی چڑھانے والی خود سر اور بد اخلاق خاتون کی گاڑی اینکر اور صحافی عامر متین کے نام پر رجسٹرڈ ھے!

پولیس سے بدتمیزی اور تشدد میں ملوث یہ خاتون اس خاتون فرح ہے جو اینکر عامر متین کی وائف اور مشہور وکیل رضا کاظم کی بھانجی ہے – ڈان اخبار کی قُدسیہ اخلاق اوراینکر نسیم زہرا کی کزن ہیں یہ لوگ روزانہ دوسروں پر انگلیاں اٹھاتے ہیں

پاکستان اور ایران کا دوطرفہ تعاون مزید وسیع کرنے کے عزم کا اظہار اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری اور ایرانی صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی کی ایوانِ صدر میں ملاقات صدر مملکت آصف علی زرداری نے ایرانی صدر سید ابراہیم رئیسی کا ایوانِ صدر آمد پر استقبال کیا

22-04-2024 *** پاکستان اور ایران کا دوطرفہ تعاون مزید وسیع کرنے کے عزم کا اظہار اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری اور ایرانی صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی کی ایوانِ صدر میں ملاقات صدر مملکت آصف علی زرداری نے ایرانی صدر سید ابراہیم رئیسی کا ایوانِ صدر آمد پر استقبال کیا پاکستان اور ایران کا مشترکہ مفاد کے مختلف شعبوں میں باہمی طور پر مفید تعاون مزید بنانے کے عزم کا اعادہ دونوں ممالک کا دوطرفہ تجارتی حجم 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے لیے دو طرفہ تجارتی میکانزم فعال کرنے کی ضرورت پر زور دونوں ممالک نے خطے کو درپیش چیلنجز پر قابو پانے کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا دونوں رہنماؤں کا اہم علاقائی اور عالمی سطح پر ہونے والی پیش رفت بالخصوص مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال صدر آصف علی زرداری کا غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہارصدر مملکت کی غزہ کے عوام کے خلاف اسرائیل کی فوجی جارحیت کی شدید مذمتپاکستان فلسطینی کاز کی مستقل اور واضح حمایت جاری رکھے گا ، صدر مملکت دونوں صدور کا غزہ کے عوام پر اسرائیلی جبر کے خاتمے، انسانی امداد میں اضافے کے لیے بین الاقوامی کوششیں تیز کرنے کی ضرورت پر زور پاکستان اور ایران کے درمیان مشترکہ مذہب، ثقافت اور تاریخ پر مبنی قریبی برادرانہ تعلقات ہیں، صدر مملکت پاکستان – ایران تعلقات کو دونوں برادر ممالک کے باہمی مفاد میں مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، صدر مملکت صدر مملکت نے عام انتخابات کے بعد پاکستان کا دورہ کرنے والے پہلے سربراہ مملکت ہونے پر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی کا شکریہ ادا کیا صدر مملکت نے اصولی موقف اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام اور ان کے حق خودارادیت کی مسلسل حمایت پر ایران کو سراہا ایرانی صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی کا باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعلقات مزید وسیع اور مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دونوں برادر ممالک کے مفاد میں اقتصادی، تجارتی اور ثقافتی تعلقات مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے ، ایرانی صدردونوں ممالک میں دوطرفہ تجارت 10 ارب ڈالر کی سطح تک بڑھانے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے، ایرانی صدر ایران کے صدر نے غزہ میں جاری انسانی بحران کے دوران فلسطینی بھائیوں کے لیے پاکستان کی مسلسل حمایت کو سراہابعد ازاں ، صدر مملکت آصف علی زرداری نے ایرانی صدر کے اعزاز میں عشائیہ کا بھی اہتمام کیا ***

کوی ٹیکس ایمنیسٹی نھی اے گی وزیر خزانہ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نےکہا ہےکہ اب کوئی ایمنسٹی اسکیم نہیں آئے گی، لوگوں کو ٹیکس دینا پڑےگا۔دبئی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نےکہا کہ معاشی اقدامات کا تعلق کسی حکومت سے نہیں، ملک سے ہے، جون تک زرمبادلہ کے ذخائر 9 سے 10 ارب ڈالر تک رہیں گے، جولائی تک پی آئی اے پرائیوٹائز ہوجائےگی، اسلام آباد ائیرپورٹ کی نجکاری کے لیے ترکیہ اور یورپ سے بات جاری ہے، لاہور اور کراچی ائیرپورٹ کو بھی پرائیوٹائز کیا جائےگا۔محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پاکستان کو فی الحال بین الاقوامی فنڈنگ کی کمی نہیں، کرنٹ اکاؤئنٹ خسارےکو کم کرنےکی کوشش میں ہیں،کرنٹ اکاوئنٹ خسارہ کم کرنے میں کامیابی ملی ہے، “ڈیجیٹل پاکستان“ کے لیے ورلڈ بینک 10سال تک سپورٹ کرنے کو تیار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اب کوئی ایمنسٹی اسکیم نہیں آئے گی، لوگوں کو ٹیکس دینا پڑے گا، ہم بین الاقوامی ادائیگیاں کامیابی سے کر رہے ہیں، پاکستان پر عالمی اداروں کا اعتماد بحال ہوچکا ہے، اماراتی بینکس سے قلیل مدت کے لیے ٹریڈ فنائنس ملنےکی امید ہے۔

آباد: صدر آصف علی زرداری اور ایرانی صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی کی ایوانِ صدر میں ملاقات

پاکستان اور ایران کا دوطرفہ تعاون مزید وسیع کرنے کے عزم کا اظہار اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری اور ایرانی صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی کی ایوانِ صدر میں ملاقات صدر مملکت آصف علی زرداری نے ایرانی صدر سید ابراہیم رئیسی کا ایوانِ صدر آمد پر استقبال کیا پاکستان اور ایران کا مشترکہ مفاد کے مختلف شعبوں میں باہمی طور پر مفید تعاون مزید بنانے کے عزم کا اعادہ دونوں ممالک کا دوطرفہ تجارتی حجم 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے لیے دو طرفہ تجارتی میکانزم فعال کرنے کی ضرورت پر زور دونوں ممالک نے خطے کو درپیش چیلنجز پر قابو پانے کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا دونوں رہنماؤں کا اہم علاقائی اور عالمی سطح پر ہونے والی پیش رفت بالخصوص مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال صدر آصف علی زرداری کا غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہارصدر مملکت کی غزہ کے عوام کے خلاف اسرائیل کی فوجی جارحیت کی شدید مذمتپاکستان فلسطینی کاز کی مستقل اور واضح حمایت جاری رکھے گا ، صدر مملکت دونوں صدور کا غزہ کے عوام پر اسرائیلی جبر کے خاتمے، انسانی امداد میں اضافے کے لیے بین الاقوامی کوششیں تیز کرنے کی ضرورت پر زور پاکستان اور ایران کے درمیان مشترکہ مذہب، ثقافت اور تاریخ پر مبنی قریبی برادرانہ تعلقات ہیں، صدر مملکت پاکستان – ایران تعلقات کو دونوں برادر ممالک کے باہمی مفاد میں مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، صدر مملکت صدر مملکت نے عام انتخابات کے بعد پاکستان کا دورہ کرنے والے پہلے سربراہ مملکت ہونے پر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی کا شکریہ ادا کیا صدر مملکت نے اصولی موقف اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام اور ان کے حق خودارادیت کی مسلسل حمایت پر ایران کو سراہا ایرانی صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی کا باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعلقات مزید وسیع اور مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دونوں برادر ممالک کے مفاد میں اقتصادی، تجارتی اور ثقافتی تعلقات مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے ، صدر مملکت دونوں ممالک میں دوطرفہ تجارت 10 ارب ڈالر کی سطح تک بڑھانے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے، صدر مملکت ایران کے صدر نے غزہ میں جاری انسانی بحران کے دوران فلسطینی بھائیوں کے لیے پاکستان کی مسلسل حمایت کو سراہابعد ازاں ، صدر مملکت آصف علی زرداری نے ایرانی صدر کے اعزاز میں عشائیہ کا بھی اہتمام کیا ***

قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کی ایرانی صدر سے ملاقات ارکان پارلیمنٹ اسپیشل سیکرٹری قومی اسمبلی چوہدری وسیم بھی موجود تفصیلات بادبان ٹی وی پر

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ڈائریکٹوریٹ *اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی اراکین قومی اسمبلی پر مشتمل وفد کے ہمراہ ایران کے صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی سے ملاقات* ملاقات میں پارلیمانی روابط سمیت باہمی دلچسپی کے امور پرتبادلہ خیالایرانی صدر کا وفد کے ہمراہ پاکستان کا دورہِ خوش آئند ہے۔ اسپیکر سردار ایاز صادق پارلیمنٹ اور عوام کی طرف سے ایرانی صدر کو پاکستان میں خوش آمدید کہتا ہوں۔ اسپیکر ایرانی صدر کے دورے سے خطے اور دونوں ممالک کے تعلقات پر دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔ اسپیکر قومی اسمبلی ایران پاکستان سے اپنے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔ صدر ابراہیم رئیسی دونوں ہمسایہ ممالک میں تاریخی برادرانہ تعلقات پائے جاتے ہیں۔ ایرانی صدر دونوں ممالک کے درمیان قریبی روابط سے خطے میں ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ ایرانی صدرپارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتیں ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ اسپیکر پاک-ایران پارلیمانی فرینڈشپ گروپ دونوں ممالک کے پارلیمان میں تعاون کو مزید فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ سردار ایاز صادق خطے میں امن اور ترقی کے لیے باہمی مسائل کو خوش اسلوبی سے حل کرنا ہو گا۔ اسپیکرتجارت، توانائی اور دیگر شعبوں میں باہمی تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ اسپیکر قومی اسمبلی پاک ایران سرحد کے دونوں طرف تجارتی مراکز کا قیام خوش آئند ہے۔ اسپیکر پاک-ایران سرحد پر تجارتی مراکز کے قیام سے سرحد کی دونوں جانب بسنے والے شہریوں کی زندگیوں میں خوشحالی آئے گی۔ اسپیکر عوامی اور پارلیمانی سطح پر روابط دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، اسپیکر قومی پاکستان کے دورے سے دلی خوشی ہوئی۔ ایرانی صدرپاکستان کی طرف سے ایرانی وفد کے پرتپاک استقبال پر شکر گزار ہوں، ایرانی صدرپاکستانی وفد حکومتی اور اپوزیشن کے اراکین پر مشتمل تھا۔ہمارے تعلقات صرف سفارتی حد تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک اخوت، محبت اور ہمسائیگی کے اٹوٹ رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں، ایرانی صدر ایرانی وفد میں ایرانی کابینہ کے اراکین بھی ملاقات میں صدر کے ہمراہ موجود تھے۔

ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ نے استعفیٰ دے دیا۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ نے استعفیٰ دے دیا۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ میجر جنرل اہرون ہلیوا مستعفی ہو گئے ہیں۔غیر ملکی خبر ایجنسی نے بتایا ہے کہ اہرون ہلیوا نے 7 اکتوبر کو حماس کے حملے روکنے میں ناکامی کی ذمے داری قبول کی تھی۔غیر ملکی خبر ایجنسی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اہرون ہلیوا حماس کے 7 اکتوبر کے حملے کے بعدمستعفی ہونے والی اعلیٰ ترین شخصیت ہیں۔