All posts by admin

پاکستان ویمن کا ساؤتھ افریقہ کے خلاف ونڈے اور ٹی ٹونٹی سکواڈ کا اعلان۔۔شاہ رضا پھلوی خاندان ایک بار پھر ایران پر حکمرانی کی طرف گامزن۔۔بحرین میں پاکستانی صدر کی اھم ترین ملاقاتیں جاری۔۔سی ڈی اے چیرمین کی طلبی اور باز پرس۔امریکا نے پاکستان سمیت 75 ممالک کیلئے ویزے کا عمل روک دیا۔ امریکہ نے پاکستان سمیت 75 ممالک کے امیگریشن ویزہ پراسس کرنے پر عارضی پابندی لگا دی۔وینزویلا کا آرمی چیف کو موت کی سزا۔۔ایران میں مظاھروں میں 200 افراد ہلاک۔۔قومی اسمبلی ھاوس بزنس ایڈوازری کمیٹی کا اجلاس۔2 ھزار ارب روپے کی کرپشن ذمہ دار شکنجے میں۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

سید عاصم منیر چیف آف ڈیفنس فورسز کے سربراہ عاصم ملک *ورلڈ لبرٹی فنانشل کے وفد کی وزیراعظم سے ملاقات* *پاکستان کے ساتھ ڈیجیٹل ادائیگیوں کی جدت کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط* وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے اسلام آباد میں ورلڈ لبرٹی فنانشل، امریکہ کے وفد نے چیف ایگزیکٹو آفیسر زچری وٹکوف (Zachery Witkoff) کی قیادت میں ملاقات کی۔

نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی سٹاف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، معاون خصوصی سید طارق فاطمی اور چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے، وزیراعظم نے ڈیجیٹل پاکستان کے لیے اپنے وژن کا اظہار کیا جس کا مقصد شہریوں کے لیے روابط، آسان رسائی اور شفافیت کو فروغ دینا ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں میں اضافہ اور مالیاتی جدت پاکستان کی تیزی سے پھیلتی ڈیجیٹل معیشت کے اہم حصے ہیں۔ وزیراعظم نے پاکستان کی ڈیجیٹل مالیاتی مارکیٹس میں بڑھتی ہوئی بین الاقوامی دلچسپی کو سراہا اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان تیزی سے عالمی ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بن رہا ہے۔

مسٹر زچری وِٹکوف نے پاکستان کے ساتھ ایک محفوظ اور شفاف ڈیجیٹل ادائیگی کے بنیادی ڈھانچے کیلئے کام کرنے میں دلچسپی ظاہر کی، جس میں سرحد پار سیٹلمنٹ اور زرمبادلہ کے حصول و ادائیگی کے عمل میں جدتیں شامل ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے پالیسی فریم ورک کی تعریف کی جو عالمی ڈیجیٹل معیشت کے حوالے سے ملک کو ایک اہم ملک کے طور پر اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے نیکسٹ جنریشن ڈیجیٹل ادائیگیوں اور سرحد پار مالیاتی جدتوں کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ بعد ازاں وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف ڈیفینس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے حکومت پاکستان اور SC فنانشل ٹیکنالوجیز ایل ایل سی کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کا مشاہدہ کیا، جو کہ ورلڈ لبرٹی فنانشل سے منسلک ادارہ ہے، تاکہ سرحد پار لین دین کے لیے ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل ادائیگی کے آرکیٹیکچرز کے بارے میں مکالمے اور تکنیکی سمجھ بوجھ کے تبادلوں کو ممکن بنایا جا سکے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور سی ای او ورلڈ لبرٹی فنانشل زچری وٹکوف نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔

پہلوی خاندانپہلوی خاندان ایران کا آخری شاہی خاندان تھا، جس کی حکومت کا آغاز 1925 میں رضا شاہ پہلوی کی تخت نشینی سے ہوا اور 1979 کے اسلامی انقلاب کے ساتھ اس کا اختتام ہو گیا۔ اس خاندان کے تین اہم افراد ہیں، بانی رضا شاہ پہلوی، ان کے بیٹے محمد رضا شاہ پہلوی، اور پوتے رضا شاہ ثانی (تخت کے وارث، لیکن حکمران نہ بن سکے)۔ یہ تحریر بادشاہت کے بانی، رضا شاہ پہلوی اول کے بارے میں ہے۔ رضا شاہ پہلوی کا اصل نام “رضا خان” تھا۔ وہ 1878 میں ایران کے صوبہ مازندران کے علاقے الساشت میں ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ وہ “کاسک بریگیڈ” میں بھرتی ہوئے، جو ایران کی شاہی فوج کا ایک جدید اور مضبوط دستہ تھا۔ ان کی فطری قیادت کی صلاحیتوں اور جرات کی بنا پر وہ تیزی سے ترقی پاتے گئے اور بالآخر اس بریگیڈ کے کمانڈر کے عہدے تک پہنچ گئے۔حکومت پر قبضہ اور آئینی تخت نشینی (1925–1941)1921 میں، رضا خان نے، جو اس وقت فوج میں ایک کمانڈر تھے، اپنے فوجی دستوں کے ساتھ مل کر قاجار خاندان کی کمزور مرکزی حکومت کے خلاف بغاوت کی۔ وہ تہران میں داخل ہوئے اور کلیدی عہدوں پر قابض ہو گئے۔ وہ پہلے وزیر جنگ اور پھر وزیر اعظم بنے۔ چار سال کے اندر اندر انہوں نے ملک بھر میں پھیلی بغاوتوں اور قبائلی خودمختاری کو کچل کر اپنی طاقت کو مضبوط کر لیا۔آخرکار، 1925 میں، ایران کی مجلس (پارلیمنٹ) نے قاجار خاندان کے آخری بادشاہ، “احمد شاہ قاجار” ، کو معزول کرتے ہوئے رضا خان کو نئے شاہ کے طور پر منتخب کر لیا۔ انہوں نے رضا شاہ پہلوی کا خطاب اختیار کیا، جس سے پہلوی خاندان کی بنیاد رکھی گئی۔اپنے دورِ حکومت میں، رضا شاہ نے برطانیہ اور سوویت یونین کی مداخلت سے بچنے کی پوری کوشش کی۔ اگرچہ ان کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے غیر ملکی تکنیکی مہارت درکار تھی، لیکن انہوں نے برطانوی اور سوویت اداروں کو ٹھیکے دینے سے ہمیشہ اجتناب کیا۔ رضا شاہ نے تکنیکی مدد حاصل کرنے کے لیے جرمنی، فرانس، اٹلی اور یورپ کے دیگر ممالک کو ترجیح دی۔رضا شاہ کے 16 سالہ دورِ حکومت کو ایران کی “کایا پلٹ” کا دور سمجھا جاتا ہے۔ ان کا بنیادی مقصد ایران کو ایک طاقتور، مرکزی، جدید قومی ریاست بنانا تھا۔ ان کی اہم کارنامے اور پالیسیاں یہ تھیں:1. انہوں نے طاقتور قبائل اور علاقائی سرداروں کی خودمختاری ختم کر کے پورے ملک پر ایک مضبوط مرکزی حکومت کا کنٹرول قائم کیا۔2. انہوں نے ملک بھر میں سڑکوں کا جال بچھایا اور “غیر ملکی قرضوں کے بغیر” ٹرانس ایرانی ریلوے جیسا عظیم الشان منصوبہ مکمل کروایا، جو خلیج فارس کو بحیرہ قزوین سے ملاتا تھا۔3. بڑے پیمانے پر کارخانے قائم کیے گئے، جس سے صنعتی مزدور طبقہ وجود میں آیا۔4. تعلیمی اور قانونی اصلاحات کی گئیں، جس کے تحت تہران یونیورسٹی سمیت جدید تعلیمی نظام کی بنیاد رکھی گئی۔ سینکڑوں طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ بھیجا گیا۔ مذہبی عدالتوں کے دائرہ کار کو محدود کر کے ایک جدید قانونی نظام نافذ کیا گیا۔5. جدید طرز کے لباس (خاص طور پر مردوں کے لیے ہیٹ بجائے پگڑی/ٹوپی) کے حوصلہ افزائی کی گئی۔ 1936 میں “کشف حجاب” کے قانون کے ذریعے خواتین کے سر ڈھانپنے پر پابندی عائد کر دی گئی، جس سے مذہبی طبقے میں شدید ناراضی پھیلی۔6. 1935 میں عالمی برادری سے درخواست کی کہ ملک کو اس کے قدیمی نام “پرشیا” کے بجائے اس کے مقامی نام “ایران” سے پکارا جائے۔7. انہوں نے برطانیہ اور سوویت یونین کی مداخلت سے بچنے کی کوشش کی اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے جرمنی، فرانس اور اٹلی جیسے یورپی ممالک کی تکنیکی مدد حاصل کی۔1939 میں دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی۔ ایران کے لیے مسائل اس وقت پیدا ہوئے جب “جرمنی اور برطانیہ” دوسری جنگ عظیم میں ایک دوسرے کے دشمن بن کر آمنے سامنے آئے۔ رضا شاہ نے ایران کے غیر جانبدار ہونے کا اعلان کیا، لیکن برطانیہ اصرار کرتا رہا کہ ایران میں موجود جرمن انجینئرز اور تکنیکی ماہرین جاسوسی کر رہے ہیں، جن کا مقصد جنوب مغربی ایران میں برطانیہ کی تیل کی تنصیبات کو سبوتاژ کرنا ہے۔برطانیہ نے تمام جرمن شہریوں کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا، لیکن رضا شاہ نے اس سے انکار کر دیا، یہ کہتے ہوئے کہ اس سے تمام ترقیاتی منصوبوں پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔اس کے علاوہ برطانیہ ایران کی ریلوے کو سوویت یونین کو فوجی سازوسامان پہنچانے کے محفوظ راستے کے طور پر استعمال کرنا چاہتا تھا۔جرمن شہریوں کو ملک بدر کرنے سے انکار پر، 1941 میں برطانیہ اور سوویت یونین نے ایران پر مشترکہ حملہ کر دیا۔ جنگ کے دوران، برطانیہ اور سوویت یونین کے اتحادی امریکہ نے بھی ریلوے لائنز کی دیکھ بھال اور اسے چلانے میں مدد کے لیے فوجی اہلکار بھیجے۔برطانیہ اور سوویت یونین نے رضا شاہ کی حکومت کا خاتمہ کرتے ہوئے بادشاہت کے آئینی اختیارات محدود کر دیے۔ تاہم، اتحادیوں نے رضا شاہ کو مجبور کیا کہ وہ اپنے بیٹے محمد رضا پہلوی کے حق میں دستبردار ہو جائیں۔ لہذا 16 ستمبر 1941 کو انہوں نے تخت چھوڑ دیا۔جلاوطنی اور وفاتانگریز دور میں رضا شاہ کو پہلے ماریشس اور پھر جوہانسبرگ، جنوبی افریقہ جلاوطن کر دیا گیا۔

جہاں ان کا انتقال 26 جولائی 1944 کو ہو گیا۔ ان کی باقیات کو مصر لے جایا گیا اور کچھ عرصے بعد ایران واپس لایا گیا، جہاں انہیں تہران کے قریب “رے” کے علاقے میں دفن کیا گیا۔ 1979 کے انقلاب کے بعد انقلابیوں نے یہ مقبرہ مسمار کر دیا۔2018 میں تہران میں ایک مزار سے ایک حنوط شدہ لاش برآمد ہوئی، جس کے بارے میں سرکاری طور پر تصدیق کی گئی کہ یہ رضا شاہ پہلوی کی لاش ہے۔رضا شاہ پہلوی کو اکثر “جدید ایران کا معمار” کہا جاتا ہے، کیونکہ انہوں نے ایران کو ایک بکھری ہوئی، نیم قبائلی ریاست سے ایک متحدہ مرکزی ریاست میں تبدیل کر دیا۔ ان کی تعمیراتی، صنعتی اور تعلیمی اصلاحات نے جدید ایران کی بنیاد رکھی۔تاہم، انہیں ایک سخت گیر آمر کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے جمہوری اور سیاسی حقوق کو کچلا، میڈیا پر سخت سنسرشپ نافذ کی، اور مذہبی روایات پر زبردستی جدیدیت مسلط کی، جس کے اثرات دور رس تھے اور جنہوں نے بعد میں انقلاب کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔(ان کے بعد رضاشاہ پہلوی دوم کا دور شروع ہوتاہے، جس پر پھر بحث کریں گے) ۔

اسلام آباد کا سبز وجود خطرے میںسینیٹ کی سی ڈی اے چیئرمین کو طلبی، بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی، انتظامی بے ضابطگیاں اور عوامی غم و غصہ ایک نقطے پر آن پہنچےرانا تصدق حسیناسلام آباد: وفاقی دارالحکومت ایک سنگین ماحولیاتی اور انتظامی بحران کی لپیٹ میں آ چکا ہے، جہاں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ماحولیات نے اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو طلب کر لیا ہے۔قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمٰن نے چیئرمین سی ڈی اے کو 22 جنوری کو کمیٹی کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ اسلام آباد کی سبز شناخت کو ترقی کے نام پر قربان نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے اعلان کیا کہ درختوں اور سبز علاقوں کے مزید تحفظ کے لیے سخت ماحولیاتی قوانین اور ریگولیٹری رکاوٹوں پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ مزید تباہی روکی جا سکے۔سینیٹ کی یہ مداخلت اس وقت سامنے آئی ہے جب H-8، اسلام آباد ایکسپریس وے، شکرپڑیاں کی پہاڑیاں اور ایف-9 پارک جیسے علاقوں میں درختوں کی کٹائی پر عوامی غصہ عروج پر ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز اور تصاویر نے دارالحکومت کے ان علاقوں کو—جو ہمیشہ اسلام آباد کے ماحولیاتی پھیپھڑے سمجھے جاتے رہے—شدید نقصان کی تصویر بنا کر پیش کر دیا ہے۔قومی اسمبلی میں حکومتی دفاعاسی دوران قومی اسمبلی میں ہونے والی بحث میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے درختوں کی کٹائی کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے تنقید کو “غلط فہمی” قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور شہری ترقی کے لیے بعض اقدامات ناگزیر تھے اور عوامی صحت کے تحفظ کے لیے مخصوص درختوں کو ہٹانا ضروری تھا۔وزیر مملکت کے مطابق شہتوت (جنگلی شہتوت) کے درخت، جو موسمِ بہار میں زیادہ پولن خارج کرتے ہیں، الرجی اور سانس کی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں، اسی لیے انہیں کاٹا گیا۔سرکاری مؤقف اور اعداد و شمارسی ڈی اے اور وفاقی حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی سائنسی بنیادوں پر،

صحت کے تحفظ کے لیے تیار کردہ منصوبے کے تحت کی جا رہی ہے۔طلال چوہدری نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ اب تک اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (ICT) میں تقریباً 29,115 درخت کاٹے جا چکے ہیں۔حکام کے مطابق:کاٹے گئے درختوں سے زیادہ تعداد میں شجرکاری کی منصوبہ بندی کی گئی ہےمقامی اور کم پولن پیدا کرنے والی اقسام لگائی جائیں گیشہر کی سبز خوبصورتی کو بحال اور بہتر بنایا جائے گاماحولیاتی تنظیموں کے شدید تحفظاتماحولیاتی تنظیموں، بالخصوص ڈبلیو ڈبلیو ایف-پاکستان، نے سرکاری بیانیے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ امیجز، زمینی مشاہدات اور فیلڈ رپورٹس اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ درختوں کی کٹائی صرف شہتوت تک محدود نہیں بلکہ:سڑکوں کی چوڑائیشہری ترقیاتی منصوبےانفراسٹرکچر کی توسیعکے نام پر وسیع پیمانے پر سبزہ ختم کیا جا رہا ہے۔ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ بے قابو شجر کٹائی کے نتیجے میں:اربن ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ میں اضافہزیرِ زمین پانی کی ریچارج میں کمیفضائی آلودگی میں اضافہشہری حیاتیاتی تنوع کو ناقابلِ تلافی نقصانہو سکتا ہے۔ ناقدین کے مطابق ماحولیاتی اثرات کے جائزے (EIA) یا تو کمزور ہیں یا سرے سے موجود ہی نہیں۔سی ڈی اے کا مؤقفسی ڈی اے کا اصرار ہے کہ پوری کارروائی قانونی، دستاویزی اور مجاز احکامات کے تحت کی گئی ہے۔اتھارٹی کے مطابق:درخت سائنسی شناخت کے بعد ہی ہٹائے جاتے ہیںتمام قانونی منظوریوں اور ریکارڈ کی تکمیل کی جاتی ہےمتبادل شجرکاری کے پروگرام جاری ہیںماحولیاتی نگرانی کا عمل برقرار رکھا جائے گاسی ڈی اے حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ مہم اندھا دھند نہیں بلکہ اسلام آباد کے سبز رقبے کو بالآخر محفوظ اور وسیع کرنے کے لیے ہے

۔مسلم کالونی متاثرین کا محاذ آرائی کی جانب قدماس بحران نے ایک سیاسی اور قانونی رخ بھی اختیار کر لیا ہے۔مسلم کالونی کے متاثرین، بار ایسوسی ایشنز کی حمایت کے ساتھ، پہلے ہی اسلام آباد کی موجودہ انتظامیہ کو ہٹانے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔مشترکہ مطالبے میں فوری برطرفی کا مطالبہ کیا گیا ہے:چیئرمین سی ڈی اے / چیف کمشنر ICTانسپکٹر جنرل پولیس، اسلام آبادڈپٹی کمشنر ICTڈائریکٹر DMAمتاثرین اور وکلا برادری کا کہنا ہے کہ ان افسران کی موجودگی:احتساب کو متاثر کر رہی ہےانصاف کی راہ میں رکاوٹ ہےعوامی اعتماد کو بری طرح مجروح کر رہی ہےان کا الزام ہے کہ دارالحکومت میں طرزِ حکمرانی قانون کی بالادستی کے بجائے جبر پر مبنی انتظام میں بدل چکی ہے۔انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو قانونی کارروائی اور عوامی مزاحمت میں شدت آئے گی، جو اس معاملے کو قومی سطح پر انتظامی استثنیٰ بمقابلہ آئینی حکمرانی کا ٹیسٹ کیس بنا دے گی۔پارلیمانی دباؤ میں اضافہسینیٹ اور قومی اسمبلی—دونوں—اب ماحولیاتی اور انتظامی معاملات پر متحرک ہو چکی ہیں، جس کے نتیجے میں سی ڈی اے اور وفاقی حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ:شفاف ڈیٹا فراہم کیا جائےسائنسی بنیادوں پر جواز پیش کیا جائےشجرکاری کے نتائج قابلِ تصدیق انداز میں دکھائے جائیںجب اسلام آباد میں درخت تیزی سے ختم ہو رہے ہیں اور سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے، تو پالیسی سازوں کے سامنے ایک بنیادی سوال کھڑا ہے:کیا دارالحکومت کو صحت اور ترقی کے نام پر بچایا جا رہا ہے، یا اس کی سبز روح اور ادارہ جاتی ساکھ کو منظم انداز میں کھوکھلا کیا جا رہا ہے؟

*قومی اسمبلی کی ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس* اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی صدارت میں منعقد ہوااجلاس میں قومی اسمبلی کے23 ویں اجلاس کے ایجنڈے اور دورانیے پر تبادلۂ خیال کیا گیاقومی اسمبلی کے موجودہ اجلاس کو 23 جنوری 2026ء بروز جمعہ تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیااجلاس میں قانون سازی وقفہ سوالات اور عوامی اہمیت کے حامل مسائل کو ذیر بحث لایا جائے گا اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفی شاہ اور وفاقی وزیرِ قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے شرکت کیاجلاس میں وفاقی وزیر خالد حسین مگسی، اور اراکین قومی اسمبلی سید نوید قمر، اعجاز حسین جاکھرانی، سید حفیظ الدین، سید امین الحق محترمہ نزہت صادق، محترمہ سیدہ شہلا رضا، نور عالم خان اور شیخ آفتاب نے شرکت کی

*صوابی میں بی آئی ایس پی اور عالمی ادارۂ صحت کے تعاون سے نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سینٹر کا افتتاح* *چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد نے بطور مہمانِ خصوصی افتتاح کیا**صوبائی وزیر صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمان اور عالمی ادارۂ صحت کے نمائندے ڈاکٹر لو ڈاپانگ بھی تقریب میں موجود* ماں اور بچوں کی صحت و غذائیت کے فروغ کے لیے نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سینٹر کا قیامبی آئی ایس پی کا نشوونما پروگرام ماؤں اور بچوں کی بہتر صحت کے لیے مؤثر اقدامسینیٹر روبینہ خالدبچے کی پیدائش سے دو سال کی عمر تک ماں اور بچے کو غذائیت و صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں گیسینٹر روبینہ خالد بچوں کی امیونائزیشن اور فوڈ سپلیمنٹس کی سہولیات بھی دستیاب ہوں گیسینٹر روبینہ خالد صوبائی حکومت کے تعاون پر شکر گزار ہیں، بی آئی ایس پی تمام صوبوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہےسینیٹر روبینہ خالد جلد خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع میں بھی نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سینٹرز قائم کیے جائیں گےسینٹر روبینہ خالد پروگرام میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے مؤثر نظام موجود ہےسینیٹر روبینہ خالد

ایران میں پھانسی دینے کی اطلاعات۔ جرم ازرا یل کا جھنڈا لہرایا مبینہ طور پر ان میں سے ایک ڈاکٹر شیدہ رستمی ہیں وہ ملک کے ممتاز سرجنوں میں سے ایک تھی کرمانشاہ شہر میں انہیں پھانسی دے دی گئی۔ اطلاعات کے مطابق اس کی وجہ حکومت کے خلاف مظاہروں میں شرکت تھی جس کے دوران اس نے سکیورٹی فورسز کے سامنے اسرائیل اور امریکہ کے جھنڈے لہرائے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت مجوزہ سول سروسز اصلاحات اور وزارتوں میں کارکردگی کی جانچ کے نظام کی سفارشات پرجائزہ اجلاس* ملکی سول سروس کو بین الاقوامی معیار اور عالمی سطح کی کارکردگی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں۔ وزیراعظم *وفاقی سیکرٹریز کی کارکردگی جانچنے کے لیے جامع اور موثر نظام کی سفارشات مرتب کی جائیں

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت مجوزہ سول سروسز اصلاحات اور وزارتوں میں کارکردگی کی جانچ کے نظام کی سفارشات پرجائزہ اجلاس* *ملکی سول سروس کو بین الاقوامی معیار اور عالمی سطح کی کارکردگی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں۔ وزیراعظم* *وفاقی سیکرٹریز کی کارکردگی جانچنے کے لیے جامع اور موثر نظام کی سفارشات مرتب کی جائیں۔ وزیراعظم* *اچھی کارکردگی دکھانے والے افسران کی تحسین سول سروسز کی مجموعی بہتری کے لیے نہایت ضروری ہے۔ وزیراعظم* *متعلقہ کمیٹی ملکی سول سروس میں ارتقائی مگر موثر اور جامع اصلاحاتی سفارشات جلد از جلد مرتب کرے۔وزیراعظم کی ہدایت* *افسران کی کارکردگی کی جامع جانچ کی بنیاد پر ان کی ترقی، مالی فوائد اور دیگر سہولیات کے نظام کی سفارشات کو مرتب کیا جاۓ۔ وزیراعظم کی ہدایت**ملکی سول سروس میں اصلاحات کا مطمع نظر موثر عوامی خدمت اور سہولیات کی فراہمی کی بدولت عوام کی زندگی میں واضح بہتری کو یقینی بنانا ہے۔وزیراعظم* *ملکی معاشی آسودگی اور سماجی ہم آہنگی ترقی و خوشحالی کے لیے ہمہ جہت سول سروس اصلاحات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم**سول سروس کی مجوزہ اصلاحات میں سول انتظامیہ، تمام سروسز اور گروپس کے سٹیک ہولڈرز سے بامعنی مشاورت کی جائے۔ وزیراعظم کی ہدایت* *ملکی سول سروس کسی بھی ملک کی گورننس اور عوامی فلاح و بہبود کا بنیادی ڈھانچہ ہوتی ہے۔وزیراعظم* *افسران کی کارگردگی اور قابلیت کو دور حاضر کے عصری تقاضوں اور عالمی سطح کے معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیۓ خصوصی سفارشات مرتب کی جائے۔وزیراعظم**سول سروسز اصلاحات کے لیے قائم کردہ کمیٹی ایسی سفارشات تجویز کریں جو قابل عمل اور دیر پا اور موثر عوامی سہولت کا باعث بنے۔ وزیراعظم*اسلام آباد میں وزیراعظم کی زیر صدارت سول سروسز میں مجوزہ اصلاحات کی پیشرفت پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ وزیراعظم نے سول سروسز اصلاحات پر کام کرنے والی کمیٹی کو افسران کی کارکردگی کی جامع جانچ کی بنیاد پر ترقی، مالی فوائد، اور دیگر سہولیات کے نظام کی سفارشات مرتب کرنے کی خصوصی ہدایات دیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ سول سروسز اصلاحات، ملکی معاشی و معاشرتی، ترقی و خوشحالی کے لیے ناگزیر ہیں اور حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ حکومت کی اصلاحاتی اور عوام کی فلاح و بہبود پر مشتمل پالیسیز کا ثمر عوام تک پہنچانے کے لیے سول سروسز ایک بنیادی ڈھانچے کا کردار ادا کرتی ہے۔ سول سروسز اصلاحات پر قائم کردہ کمیٹی نے وزیراعظم کو اب تک کی مشاورت اور سفارشات پر اجلاس میں بریفنگ دی۔ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر برائے پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ احسن اقبال، وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک ،وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ, وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور متعلقہ سرکاری عہدے داران نے شرکت کی.

ورلڈ لبرٹی فنانشل کے وفد کی وزیراعظم سے ملاقات* *پاکستان کے ساتھ ڈیجیٹل ادائیگیوں کی جدت کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط* وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے آج اسلام آباد میں ورلڈ لبرٹی فنانشل، امریکہ کے وفد نے چیف ایگزیکٹو آفیسر زچری وٹکوف (Zachery Witkoff) کی قیادت میں ملاقات کی۔ نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی سٹاف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، معاون خصوصی سید طارق فاطمی اور چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے بھی اجلاس میں شرکت کی

2026۔ *ورلڈ لبرٹی فنانشل کے وفد کی وزیراعظم سے ملاقات* *پاکستان کے ساتھ ڈیجیٹل ادائیگیوں کی جدت کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط* وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے آج اسلام آباد میں ورلڈ لبرٹی فنانشل، امریکہ کے وفد نے چیف ایگزیکٹو آفیسر زچری وٹکوف (Zachery Witkoff) کی قیادت میں ملاقات کی۔

نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی سٹاف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، معاون خصوصی سید طارق فاطمی اور چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے، وزیراعظم نے ڈیجیٹل پاکستان کے لیے اپنے وژن کا اظہار کیا جس کا مقصد شہریوں کے لیے روابط، آسان رسائی اور شفافیت کو فروغ دینا ہے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں میں اضافہ اور مالیاتی جدت پاکستان کی تیزی سے پھیلتی ڈیجیٹل معیشت کے اہم حصے ہیں۔ وزیراعظم نے پاکستان کی ڈیجیٹل مالیاتی مارکیٹس میں بڑھتی ہوئی بین الاقوامی دلچسپی کو سراہا اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان تیزی سے عالمی ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بن رہا ہے۔ مسٹر زچری وِٹکوف نے پاکستان کے ساتھ ایک محفوظ اور شفاف ڈیجیٹل ادائیگی کے بنیادی ڈھانچے کیلئے کام کرنے میں دلچسپی ظاہر کی، جس میں سرحد پار سیٹلمنٹ اور زرمبادلہ کے حصول و ادائیگی کے عمل میں جدتیں شامل ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے پالیسی فریم ورک کی تعریف کی جو عالمی ڈیجیٹل معیشت کے حوالے سے ملک کو ایک اہم ملک کے طور پر اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے نیکسٹ جنریشن ڈیجیٹل ادائیگیوں اور سرحد پار مالیاتی جدتوں کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

بعد ازاں وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف ڈیفینس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے حکومت پاکستان اور SC فنانشل ٹیکنالوجیز ایل ایل سی کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کا مشاہدہ کیا، جو کہ ورلڈ لبرٹی فنانشل سے منسلک ادارہ ہے، تاکہ سرحد پار لین دین کے لیے ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل ادائیگی کے آرکیٹیکچرز کے بارے میں مکالمے اور تکنیکی سمجھ بوجھ کے تبادلوں کو ممکن بنایا جا سکے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور سی ای او ورلڈ لبرٹی فنانشل زچری وٹکوف نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔

‏پولیس نے آج پھر یقین دہانی کروائی ہے کہ آئندہ ملاقات پر عمران خان سے ہر صورت ملاقات کروا دی جائے گی:علیمہ خان۔۔ سندور میں پاکستان کے پاس ہمارے تمام جہازوں کی اسٹیلائٹ معلومات تھیں: بھارتی آرمی چیف کا ایک بار پھر اعتراف۔۔پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے درمیان ھلکی پھلکی جنگ۔لوڈشیڈنگ کا جن بوتل سے باھر۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

اسلام آباد: 13 جنوری 2026۔*وزیراعظم محمد شہباز شریف سے معروف سویڈش ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی ایرکسن (Ericsson) کے وفد کی ملاقات*وزیراعظم محمد شہباز شریف سے آج وزیراعظم ہاؤس میں ایرکسن کے وفد نے ملاقات کی۔ اس وفد کی قیادت کمپنی کے صدر اور مارکیٹ ایریا یورپ، مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے سربراہ مسٹر پیٹرک جوہانسن کر رہے تھے۔وزیراعظم نے وفد کا خیرمقدم کیا اور پاکستان میں ایرکسن کی چھے دہائیوں پر محیط سرمایہ کاری اور ملک کے ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر کی ترقی میں اس کے کردار کو سراہا۔ملاقات میں اقتصادی ترقی، پیداواری صلاحیت اور عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے اگلی نسل کے ڈیجیٹل رابطے کی اہمیت پر گفتگو ہوئی۔ وزیر اعظم نے 5G سمیت جدید نیٹ ورکس میں ایرکسن کے عالمی تجربات سے استفادہ حاصل کرنے میں پاکستان کی دلچسپی کو اجاگر کیا، اور قومی ضروریات کے مطابق محفوظ اور پائیدار آئی ٹی انفراسٹرکچر کی ترقی یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

ملاقات میں ڈیجیٹل مہارتوں کی ترقی، مالی شمولیت اور کیش لیس ادائیگی کے نظام کی توسیع کے ساتھ ساتھ قدرتی آفات کے لیے تیاری اور ادارہ جاتی تیاری کو مزید بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی گفتگو ہوئی۔وزیراعظم نے غیر ملکی سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں سٹریٹیجک شراکت داروں کی حمایت کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ایرکسن کے وفد نے 5G سپیکٹرم نیلامی سمیت ملک کے آئی ٹی انفراسٹرکچر کی مزید بہتری کے لیے حکومت پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر آئی ٹی محترمہ شزہ فاطمہ خواجہ، معاون خصوصی سید طارق فاطمی اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

سی سی ڈی کے خلاف کیس : آفتاب باجوہ نے اپنا کیس کمزور کر لیا ، اپنے ہی سابقہ بیان کی تردید ۔ نم آنکھوں کے ساتھ نئے انکشافات : بہاولپور کے ایک ہی خاندان کے تین بھائیوں اور دو دامادوں کی سی سی ڈی کے ساتھ مقابلے اور ہلا۔کت کے کیس میں ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے ۔۔۔ کئی روز بعد آفتاب باجوہ ایڈووکیٹ نئے بیان کے ساتھ میدان میں آگئے ہیں ، ایک یوٹیوب چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے آٖفتاب باجوہ نے انکشاف کیا کہ ان پانچوں نوجوانوں کو لاہور میں ہی پار کردیا گیا تھا ۔ دوسرے ضلعوں میں لے جا کر پار کرنے کی بات غلط ہے ۔ آفتاب باجوہ کے بقول انہیں ایک ذمہ دار افسر نے بتایا ہے کہ مقابلے میں پار کیے جانیوالے نوجوانوں کے اعضاء بھی نکالے گئے ، دل گردے اور آنکھیں نکال لی گئیں اور لا۔شوں کو شاپر میں لپٹ کر دفن کیا گیا ۔۔۔۔۔آفتاب باجوہ نے ایک اور انکشاف یہ کیا ہے کہ بہاولپور کے اختر گیینگ نے سی سی ڈی کو مجھے پار کرنے کے 50 کروڑ بھی دیے ہیں ۔

۔۔ مزید یہ کہ 5 نوجوانوں کے اعضاء کو کروڑوں روپے میں بیچا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔یاد رہے کہ لاہور ہائیکورٹ میں اس کیس کی پچھلی سماعت 7 جنوری کو ہوئی ہے جبکہ سی سی ڈی افسران کی درخواست پر عدالت نے اگلی تاریخ فروری میں مقرر کی ہے جس میں سی سی ڈی افسران نے یہ کہہ کر معلومات پیش کرنے کا کہا ہے کہ ابھی مختلف ادارے اس کیس کی تحقیقات کررہے ہیں اس لیے ان کی رپورٹس آنے تک اگلی تاریخ دی جائے ۔۔۔۔۔

ہاتھی گر رہا ہے ۔ اظہر سیدمقروض امریکہ کو جتنی ادائیگیاں ہر ماہ کرنا ہوتی ہیں کوئی معجزہ بھی اسے نہیں بچا سکتا۔ایران پر حملہ کرے ،حکومت تبدیل کروائے ۔وینویلا کے انرجی وسائل سے چین کو محروم کر دے ادائیگیوں کے توازن کی تلوار گرنا ہی ہے ۔وقت کو ٹالا نہیں جا سکتا ۔زوال ان پہنچا ہے ۔دنیا پہلے جیسی نہیں رہی ۔ہر روز بڑے بڑے واقعات ہو رہے ہیں ۔ چھت گرتی دیکھ کر امریکی ہاتھی کبھی کینیڈا کے خیمے میں گھسنے کا ارادہ کرتا ہے ۔ کبھی گرین لینڈ پر قبضے کے اعلانات کرتا ہے ۔ہر ریاست کے مفادات ہیں۔ڈنمارک مزاحمت کرے گا ۔یہ مزاحمت ہاتھی کو مزید کمزور کرے گی ۔کینیڈا کبھی اپنی وسیع و عریض سلطنت میں ہاتھی کو گھسنے کی اجازت نہیں دے گا ۔اس مزاحمت کی بھی ایک قیمت ہو گی جو ہاتھی کو مزید کمزور کرے گی ۔کینیڈا والے ہاتھی سے بچنے کیلئے چینیوں کی طرف جا رہے ہیں۔ڈنمارک والے یورپین یونین کے دروازوں پر دستک دے رہے ہیں ۔ہاتھی کو کہیں بھی گنے کے کھیت آسانی سے نہیں ملیں گے ۔ہر جگہ مزاحمت ہو گی ۔چینی وینویلا کے بعد ایران سے انرجی سپلائی کی راہ میں رکاوٹیں اپنے طریقے سے روکیں گے ۔روسی اپنے طریقے سے مزاحمت کریں گے ۔ہاتھی کا اپنا گھر ٹوٹ رہا ہے یہ ساری دنیا کو پتہ ہے ۔دیوار پر لکھا ہوا ہے ڈالر کی حکومت کے دن گئے ۔دیوار پر لکھی تحریر سب نے پڑھ لی ہے ۔سارے سونا خرید رہے ہیں ۔ڈالر کے بعد واحد چیز سونا ریاستوں کو بچائے گی

۔برکس والے باہمی تجارت میں ڈالر سے نجات حاصل کر رہے ہیں۔ہاتھی پاگل ہو چکا ہے ۔اپنے بچاؤ کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے ۔اس نے نہیں بچنا اسے داتا دربار لے جاؤ پھر بھی نہیں بچنا ۔جنگ ہو کر رہے گی ۔بڑی جنگ جو ہاتھی کو گھٹنوں پر گرا دے گی ۔ہر کمال کو زوال ہے اور یہی تاریخ کی دیوار پر لکھا ہوا ہے ۔بڑی بڑی سلطنتیں ختم ہو گئیں ۔امریکی کیا بیچتے ہیں۔امریکی معیشت جن ستونوں پر کھڑی تھی اسے دیمک لگ گئی ہے ۔ہر مہینے اربوں ڈالر کی ادائیگیاں کرنا ہوتی ہیں۔کب تک جی ڈی پی بڑھا کر قرضوں کی حد میں اضافہ کریں گے ۔کب تک نادہندگی سے بچیں گے ۔درامدی ٹیرف میں اضافہ سے جو اضافی ڈالر ملیں گے وہ قرضوں کی ادائیگی میں خرچ ہو جائیں گے ۔کب تک ٹیرف بڑھائیں گے اور کتنا بڑھائیں گے ۔عالمی اداروں میں 95 فیصدفنڈنگ روک دی ہے ۔کتنے پیسے بچائیں گے ۔صحت کے بجٹ میں چھ سو ارب ڈالر کی کمی کر دی ہے اور کتنی کریں گے ۔ہزاروں ملازمین فارغ کر دئے ہیں کتنے پیسے بچیں گے ؟ادائیگیاں بہت بڑی ہیں ۔قرضوں کا بوجھ بہت بڑا ہے ۔دنیا کا سب سے بڑا مقروض ملک کتنی دیر تک دنیا کو دھمکا کر اپنی حیثیت برقرار رکھے گا ۔چند ماہ یا دو تین سال ! یہ اونٹ بہت جلد اپنی کروٹ بیٹھے گا۔

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفیٰ شاہ نے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں سینیٹ کے چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی۔ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال اور قانون سازی سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں پارلیمنٹ کے مشترکہ کردار اور پارلیمانی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا

ٹاپ 10 پوزیشن ہولڈرز کو چھوڑ کر 11 نمبر والے کو جو لسٹ میں بھی نہی تھا اس کو بھرتی کیا گیا۔یونیورسٹیوں میں اسی طرح کی بادشاہی چل رہی ہے، اور یہاں تو حد ہی ہو گئی ہے۔ ظلم کی انتہا دیکھیں کہ ان لوگوں نے دوبارہ ریویو اپیلز کے لیے ای میلز کیں، مگر انہیں بلاک کر دیا گیا۔اس پیرے کا مکمل اسپیشل آڈٹ ود فرانزک کر کے رپورٹ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے پیش کی جائے( پبلک اکاونٹس کمیٹی)

اسلام آباد: 13 جنوری 2025پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے حکومت کی نجکاری پالیسیوں اور پی ٹی آئی کی سیاسی حرکات پر شدید تنقید کی ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی نے سیاسی روایات کے مطابق پی ٹی آئی کے ایک رہنما کو ان کے گھر بلا کر عزت دی۔ اس کے باوجود پی ٹی آئی رہنما کی جانب سے گالیوں کا سلسلہ جاری رہا، تاہم پیپلز پارٹی نے ان کے کسی پروگرام کو منسوخ نہیں کیا۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ جناح گراؤنڈ بھرنے کی صلاحیت پی ٹی آئی کے پاس نہیں ہے۔چوہدری منظور احمد نے سینیٹر پلوشہ خان کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت کو نجکاری کی غیر معمولی جلدی ہے۔ نجکاری کے ذریعے خسارے کو نیشنلائز اور منافع کو پرائیویٹائز کیا جا رہا ہے۔ حکومت پی آئی اے کو فروخت کر کے بڑے دعوے کر رہی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ 135 ارب روپے مالیت کی پی آئی اے کو بیچ کر صرف 10 ارب روپے حاصل کیے گئے، جو سراسر فراڈ ہے۔انہوں نے کہا کہ انگلینڈ سے پی آئی اے کو 40 فیصد ریونیو حاصل ہوتا ہے۔ نواز شریف کے دور میں دنیا بھر کی ایئرلائنز کو کھلی اجازت دے کر پی آئی اے کو نقصان پہنچایا گیا، جبکہ پی ٹی آئی کے دور میں پائلٹس کے لائسنس کے مسائل نے پی آئی اے کو مزید نقصان پہنچایا۔ 73 ملین ڈالر کا منافع بخش روٹ قطر کو بیچا گیا۔ اسلام آباد بلیو ایریا میں پی آئی اے کی کمرشل پراپرٹی کی قیمت 205 ملین لگائی گئی، جبکہ دنیا بھر میں پی آئی اے کی عمارتیں انتہائی کم قیمت پر فروخت کی گئیں۔چوہدری منظور احمد نے مزید کہا کہ پاور سیکٹر کا سات ہزار ارب روپے کا قرض حکومت اپنے حصے میں لینے جا رہی ہے۔ پیپلز پارٹی اس نجکاری کو عوام کے سامنے بے نقاب کرے گی اور قومی اسمبلی و سینیٹ کی کمیٹیوں میں اس معاملے کو اٹھائے گی۔سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ حکومت نے کل ایک آرڈیننس صدر مملکت کے دستخط کے بغیر جاری کیا، جس میں صدر آصف علی زرداری کو بھی دھوکا دیا گیا۔ یہ پہلی بار ہے کہ جعلی آرڈیننس جاری ہوا، جبکہ سابقہ ادوار میں ہمیں جعلی ڈگریاں، جعلی ادویات اور جعلی مینڈیٹ کے بارے میں معلومات ملتی رہیں۔انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ ہوش کے ناخن لیں، پاکستان ایسی سنگین غلطیاں افورڈ نہیں کر سکتا۔ جو عناصر اس میں ملوث ہیں، انہیں اپنی صفوں سے خارج کیا جائے اور جعلی آرڈیننس کی فیکٹری فوری طور پر بند کی جائے۔

وفاقی وزیر اطلاعات سابق سینیٹر اور سینئر سیاستدان محمد علی درانی نے کہا ہے کہ اگر انہیں عمران خان سے جیل میں ملاقات کرنے کی اجازت دی جائے تو وہ سیاسی مفاہمت کے لئے راہ ہموار کرسکتے ہیں

ای پی ای نیوز ایجنسی رپورٹ

اسلام آباد:13 جنوری سابق وفاقی وزیراطلاعات اور سینئر سیاستدان محمد علی درانی نے کہا ہے کہ اگر انہیں عمران خان سے جیل میں ملاقات کرنے کی اجازت دی جائے تو وہ سیاسی مفاہمت کے لئے راہ ہموار کرسکتے ہیں۔ جیل میں شہبازشریف سے ملاقات کرکے مسائل کے حل کی راہ ہموار کی تھی، اب اڈیالہ جیل میں عمران خان سے مل کر اُن سے بھی معاملات کے حل کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔ ایک انٹرویو میں سینئر سیاستداننے کہاکہ پی ٹی آئی کی پارلیمنٹ اور عوام میں موجودہ قیادت کو کچھ پتہ نہیں کہ وہ کیا کررہے ہیں جس کا پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے پی ٹی آئی کی پوری قوت کو حکومت خود اسٹیبلشمنٹ کے خلاف استعمال کررہی ہے۔ پراپگنڈہ بھی خود کرارہے ہیں۔ جیل والا اس لئے مطمئن ہے کہ اس کی مقبولیت بڑھ رہی ہے اور حکومت خوش ہے کہ اُس کا اقتدار چل رہا ہے۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی اپوزیشن لیڈر بن گئے تو وہ کہیں گے کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرائو۔ پھر ملاقات کے بعد وہ کہیں گے دوبارہ ملاقات کرائوکہ میں نے فلاں بات کی بھی اجازت لینی ہے اور یہ سلسلہ یوں ہی لاحاصل چلتا رہے گا۔ محمد علی درانی نے کہاکہ گائے چوری سے لے کر بم تک کے تمام مقدمات میں ملوث پی این اے کے لیڈروں سے ذوالفقار علی بھٹو نے جیل سے باہر نکال کر بات چیت کی تھی۔ محض بات چیت کرو سے معاملہ سیاسی عمل آگے نہیں بڑھے گا۔ سابق وزیراطلاعات نے کہاکہ پاکستان کی سیاست ٹھیک کرنے کے لئے اُن تمام لوگوں پر سیاست میں حصہ لینے پر پابندی لگائی جائے جن کی جائیدادیں بیرون ملک ہیں۔پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ ہائیبرڈ نظام سے اقتدار کا این آراو لینے والوں نے اقتدار میں لانے والوں کوہمیشہ اقتدار سے باہر کیا۔پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کو خوف ہے کہ اگر پی ٹی آئی سے مفاہمت ہوئی تو اُن کا اقتدار پگھل جائے گا۔

مجھے اجازت دی جائے تو عمران خان سے جیل میں مل کر بات چیت کی راہ ہموار کراسکتا ہوں۔ موجودہ حکمران جماعتیں اقتدار کے مزے تو لوٹ رہی ہیں، کامیابیاں اپنے کھاتے میں ڈال رہی ہےں اور ناکامیاں اسٹیبلشمنٹ کے سرتھونپ رہی ہیں۔ ایک انٹرویو میں سینئر سیاستدان نے کہاکہ ملک کی معیشت نہیں چل رہی، کاروباری برادری دہائیاں دے رہی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ادارے کے سربراہ کے سوا اُن کی کوئی بات سننے والا نہیں۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) گورننس کو بہتر نہیں کرسکتے۔ عوام حکمران سیاسی جماعتوں سے بیزار ہوچکے ہیں ۔ محمد علی درانی نے کہاکہ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) دونوں کی اقتدار کی ٹانگ ایک دوسرے سے بندھی ہوئی ہے۔ یہ فائدہ اکٹھے لیتے ہیں اور مل کر نقصان پہنچاتے ہیں۔ایک سوال پر انہوں نے انکشاف کیا کہ2018 میں اُن پر دبائو تھا کہ وہ متحدہ محاذ صوبہ بہاولپور کو پی ٹی آئی میں شامل کرائیں لیکن انہوں نے خود بھی اور متحدہ محاذ بہاولپور کو پی ٹی آئی میں شامل کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ملک میں ہائیبرڈ نظام کے حوالے سے سوال پر محمد علی درانی نے کہاکہ پہلی ہائیبرڈ حکومت ذوالفقار علی بھٹو نے یحیٰی خان کے ساتھ مل کر بنائی۔ پھر یحییٰ خان کو اقتدار سے نکال کر وہ خود حکمران بن گئے۔ دوسری ہائیبرڈ ضیائ الحق نے نوازشریف کے ساتھ مل کر بنائی۔ ضیائ الحق طیارہ حادثے کا شکار ہوگئے اور نوازشریف خود انقلابی بن اقتدار میں آگئے اور ضیائ الحق کی جماعت پر بھی قبضہ کرلیا۔ میثاق جمہوریت ہونے کے چار دن بعد بے نظیر بھٹو پرویز مشرف کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں۔ این آر او کرکے پرویز مشرف اقتدار سے نکل گئے اور یہ آج تک اقتدار میں ہیں۔ عوام نے ووٹ دیا نہیں پھر بھی فارم 47 کے این آر او آج بھی اقتدار میں بیٹھے ہیں۔ پاکستان میں ہائیبرڈ نظام کی یہ تاریخ بذات خود ایک گواہی ہے کہ ہائیبرڈ نظام بنانے والوں کے ساتھ کیا ہوا اور اُس سے فائدہ اٹھانے والوں نے فائدہ دینے والوں کے ساتھ کیا کیا۔ ایک اور سوال پر سابق وزیر اطلاعات نے کہاکہ 9 مئی کے مقدمات حکومت نے خود خراب کئے۔قومی ادارے سے زیادتی ہوئی لیکن ایسے مقدمات بنائے گئے جن کا فائدہ جرم کرنے والوں کو ہوا اور نقصان ادارے اور قوم کا ہوا۔ وزرا ٹی وی پر غدار بنارہے ہیں اور عدالتوں میں کچھ ثابت نہیں ہوتا، اس سے بڑی اور کیا سازش ہوسکتی ہے؟ جنہوں نے جرم کیا ہے اُنہیں سزا ملنی چاہیے لیکن حکمران جماعتوں کی پوری کوشش ہے کہ ایسا نہ ہو۔ اقتدار میں بیٹھے لوگ خود گڑ بڑ کررہے ہیں۔ سیاسی مفاہمت اور عمران خان سے جیل میں ملاقات کے حوالے سے سوال پر محمد علی درانی نے کہاکہ یہ درست ہے کہ جب عمران خان وزیراعظم تھے تو میں جیل میں جاکر شہبازشریف سے ملا تھا اور اُن سے چند گزارشات کی تھیں جس کے بعد سیاسی صورتحال بدل گئی تھی۔ اب اگر اجازت دی جاتی ہے تو میں جیل جاکر عمران خان سے ملنے کے لئے بھی تیار ہوں۔ اُن کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ وہ ضدی ہیں لیکن میں عمران خان کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔ میرا اُن کے ساتھ بہت قریبی تعلق رہا ہے اور سیاست کا پہلا سبق ہم نے ہی انہیں پڑھایا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر مجھے جیل جانے کی اجازت دی جائے تو میں سیاسی عمل آگے بڑھانے کی راہ ہموار کرسکتا ہوں۔ اس راستے میں رکاوٹ پی ٹی آئی کی باہر موجود لیڈرشپ اور حکمران جماعتوں کا اپنا رویہ ہے جو محض زبانی جمع خرچ کررہے ہیں۔ *********

مجھے اجازت دی جائے تو عمران خان سے جیل میں مل کر بات چیت کی راہ ہموار کراسکتا ہوں، محمد علی درانی شہبازشریف سے جیل میں ملا تھا، اب عمران خان سے ملنے کے لئے بھی تیار ہوں تاریخ گواہ ہے ہائیبرڈ نظام سے اقتدار میں آنے والوں نے اقتدار میں لانے والوں کوہمیشہ اقتدار سے نکالا ذوالفقار علی بھٹو نے یحییٰ خان کے ساتھ ہائیبرڈ نظام بنایا، بعد میں یحییٰ کو نکالا اور خود اقتدار میں آگئے جنرل ضیائ کے ساتھ مل کر نوازشریف نے ہائیبرڈ نظام بنایا، ضیائ الحق کا طیارہ پھٹ گیا اور نوازشریف آج بھی اقتدار میں ہیں پرویز مشرف سے این آر او کرنے کے بعد چوریاں جائز قرار پاگئیں، پرویز مشرف اقتدار سے باہر اور این آر او کرنے والی دونوں جماعتیں آج بھی اقتدار میں ہیں پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کو خوف ہے کہ اگر پی ٹی آئی سے مفاہمت ہوئی تو اُن کا اقتدار پگھل جائے گا اسٹیبلشمنٹ سے لڑ کر نہ ملک چل سکتا ہے نہ ہی سیاسی مسائل حل ہوسکتے ہیں، عمران خان کی سیاسی لڑائی حکمران جماعتوں سے ہونی چاہیے اسٹیبلشمنٹ سے نہیں موجودہ حکمران جماعتیں کامیابیاں اپنے کھاتے میں ڈال رہی ہےں ، ناکامیاں اسٹیبلشمنٹ کے سرتھونپ رہی ہیںملک کی معیشت نہیں چل رہی، کاروباری برادری دہائیاں دے رہی ہےسابق وفاقی وزیراطلاعات اور سینئر سیاستدان محمد علی درانی کی نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو

سیٹی بج گئی اباوٹر پرندے گھونسلے سے دوسرے گھسولے میں۔صومالیہ نے بڑی بندرگاہوں سمیت متحدہ عرب امارات کے ساتھ تمام معاہدوں کو منسوخ کر دیا صومالی لینڈ کے ساتھ تعلقات تنازع کی وجہ بنے۔ بندرگاہیں، سکیورٹی اور فوجی معاہدے متاثر ہوں گے۔صومالیہ نے بڑی بندرگاہوں سمیت متحدہ عرب امارات کے ساتھ تمام معاہدوں کو منسوخ کر دیا۔ ۔ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کا جن بوتل سے باھر 12 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ۔ای پی پیز کو 2200 ارب روپے عوام کے خون سے نچوڑنے والی حکومت کی مجرمانہ خاموشی۔100 روپے فی یونٹ فروخت کرنے والی حکومت روالپندی میں 12گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کرنے لگی پاور ڈویژن کا وفاقی وزیر روپوش۔فیلڈ مارشل سے انڈونیشیا کے وزیر دفاع کی ارمی ھاوس میں ملاقات۔آوارہ کتوں کو مارنے میں تیزی۔جنگ اور مذاکرات کے لیے تیار ہیں ایران۔۔قومی اسمبلی اجلاس 10 بل پیش۔نئے صوبوں کے لیے تحریک شروع کر رہے ہیں، عبدالعلیم خان۔۔ ۔ایران نے امریکی سیٹلائٹ ایران میں بلاک کر دیا۔۔*امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹرتھ سوشل اکاؤنٹ پر خود کو وینزویلا کا قائم مقام صدر قرار دیا۔۔بنگلہ دیش کی سخت شرائط کے تحت بین الاقوامی فورس میں شمولیت پر۔ پاکستان کھلاڑیوں کی بگ پش میں تذلیل کرکٹر ملک کا نام ڈوبنے میں پیش پیش۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

🚨 پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا — ٹی ٹوئنٹی سیریز 🏏🇵🇰🇦🇺پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز کا شیڈول جاری کر دیا گیا ہے، جو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل پاکستان کے لیے نہایت اہم اور دلچسپ ثابت ہو سکتی ہے 🔥📅 میچز کا شیڈول:1️⃣ پہلا ٹی ٹوئنٹی: 29 جنوری — لاہور2️⃣ دوسرا ٹی ٹوئنٹی: 31 جنوری — لاہور3️⃣ تیسرا ٹی ٹوئنٹی: 1 فروری —

صدرِ مملکت نے آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ (ترمیمی) آرڈیننس 2026 جاری کر دیا ہے۔ وزارتِ قانون و انصاف نے آرڈیننس کا گزٹ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیاذرائع کے مطابق جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ترمیمی آرڈیننس کے تحت اسلام آباد میٹروپولیٹن کارپوریشن کی جگہ تین ٹاؤن کارپوریشنز قائم کی جائیں گی۔ ہر ٹاؤن کارپوریشن کی حدود قومی اسمبلی کے حلقے کے مطابق ہوں گی، جبکہ یونین کونسلز کی تعداد حکومت بعد ازاں نوٹیفائی کرے گی۔آرڈیننس کے مطابق، میئر کو ٹاؤن کارپوریشن کا سربراہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ ڈپٹی میئرز کی تقرری اور تعریف کا نیا طریقہ متعارف کرایا گیا ہے۔ موجودہ میٹروپولیٹن کارپوریشن نئی ٹاؤن کارپوریشنز کے نوٹیفکیشن تک اپنے کام جاری رکھے گی۔الیکشن کمیشن آف پاکستان، یونین کونسلز کی حد بندی الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت کرے گا۔ یونین کونسل کے جنرل ممبران کا انتخاب خفیہ رائے شماری سے جبکہ چیئرمین اور وائس چیئرمین کا انتخاب شو آف ہینڈز کے ذریعے کیا جائے گا۔

آرڈیننس کے مطابق، ٹاؤن کارپوریشنز میں خواتین، مزدور، تاجر، نوجوان اور غیر مسلم کے لیے مخصوص نشستیں شامل ہوں گی۔لوکل گورنمنٹ کے غیر فعال ہونے کی صورت میں حکومت ایڈمنسٹریٹر مقرر کر سکے گی۔ترمیمی آرڈیننس کے تحت، لوکل گورنمنٹ کو ٹیکس، فیس اور چارجز عائد کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے، تاہم ان تجاویز کو حکومت کی منظوری کے بعد نافذ کیا جائے گا۔مزید یہ کہ حکومت کے احکامات لوکل گورنمنٹ اور ایڈمنسٹریٹر پر لازم ہوں گے۔نوٹیفکیشن کے مطابق، اسلام آباد لوکل گورنمنٹ (ترمیمی) آرڈیننس 2026 فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا مستقبل کی جنگوں سے متعلق تیاریوں اور جدت اپنانے پر زورفیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاک فوج تمام کثیر الجہتی چیلنجز کا مقابلہ پوری توجہ، پیشہ ورانہ مہارت اور عزم کے ساتھ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

*پاکستانی سیاسی ملا!* *”بھٹو کا ختنہ نہیں ہوا وہ غیر مسلم ہے“* جماعت اسلامی کے امیر *مولانا مودودی* نے الزام لگایا کہ *ذوالفقار علی بھٹو* کا ختنہ نہیں ہوا وہ غیر مسلم ہے! تو کیا جواب آيا جان کر آپ دنگ رہ جائینگے:رٹائرڈ برگیڈیئر *سید احمد ارشاد ترمذی* کی کتاب *حساس ادارے* سے:ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دور حکومت میں پاکستان میں اسلامی سربراہان کانفرنس طلب کی۔ جس میں تمام مسلم ملکوں کے سربراہوں نے شرکت کی۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کہا کہ تمام مسلم ملکوں کی کرنسی ایک ہوگی۔ کویت کا دینار ہو یا پاکستان کا روپیہ سب برابر ہونگے۔ امیر مسلم ملک غریب مسلم ملکوں کی مدد کریں گے۔ پاکستان میں عالمی اسلامی بینک کا قیام ہوگا۔ عرب ممالک اپنا پیسہ ورلڈ بینک سے واپس لیں گے۔ عالم اسلام کو ایٹمی قوت بنائیں گے۔ اس معاہدے پر تمام مسلم ملکوں کے سربراہوں نے دستخط کئے۔ عرب ملکوں نے جب اپنا پیسہ ورلڈ بینک سے واپس مانگا تو ورلڈ بینک کے پاس پیسہ واپس کرنے کے لئے کیش رقم نہیں تھی۔امریکہ میں خطرے کی گھنٹیاں بج گئی۔ آئی ایس آئی کے ریٹائرڈ برگیڈئیر *سید احمد ارشاد ترمذی* اپنی کتاب *حساس ادارے* میں لکھتے ہیں کہ امریکی وزیر خارجہ ہینری کسینجر وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے بات چیت کرنے پاکستان آئے۔ ذوالفقار علی بھٹو اپنے فیصلوں سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں تھے

. ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کو ایٹمی قوت بنانا چاہتے تھے. ہینری کسینجر نے جہاز میں سوار ہوتے ہوئے کہا کہ سامنے سے اگر ٹرین آرہی ہو تو عقلمند کو پٹڑی سے اتر جانا چاھئیے۔ وزیراعظم بھٹو نے جواب میں کہا کہ:”ہاتھی کے کان بہت بڑے ہوتے ہیں” ہینری کسینجر کو غصہ آیا اور کہا کہ “ہم تجھے مثال عبرت بنا دینگے” اس کے بعد امریکہ نے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت گرانے کے لئے اپنی تجوریوں کہ منہ کھول دئیے۔ پاکستان کی تمام مذہبی جماعتوں کو امریکہ نے خرید لیا جن میں جماعت اسلامی کے سربراہ مولانا ابولا اعلی’ مودودی، اہل تشیع کے سربراہ علامہ سید عارف حسینی، بریلوی مسلک کے سربراہ علامہ شاہ احمد نورانی، جمعیت اہل حدیث کے سربراہان سمیت مذہبی اور سیاسی رہنماؤں نے مل کر اتحاد بنایا.برگیڈئیر رٹائرڈ *سید احمد ارشاد ترمذی* اپنی کتاب *حساس ادارے* میں لکھتے ہیں کہ 30 لاکھ ڈالرز کا ایک چیک جو جماعت اسلامی کے سربراہ کے نام سے امریکہ سے آیا اس چیک کی ایک فوٹو کاپی چیف منسٹر سندھ غلام مصطفےٰ جتوئی کو ملی۔ چیف منسٹر جتوئی نے وہ فوٹو کاپی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو تک پنہچادی۔ ایک طرف دنیا بھر کے مسلمان وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں متحد تھے تو دوسری طرف پاکستان کے مولوی حضرات امریکی ڈالرز کی مدد سے فرقہ واریت کو بھول کر مسلمانوں کے اتحاد کے خلاف متحد ہو چکے تھے۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو پر کفر کے فتوے اور یہود و نصاری’ کا ایجنٹ ہونے کے الزامات لگائے۔ حقیقت میں مولوی حضرات خود یہود و نصاری’ کے ایجنٹ بن چکے تھے. *احمد ارشاد ترمذی* مزید لکھتے ہیں کہ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت گرانے کے لئے گھروں کی چھتوں پر اذان دی جاتی تھی۔ اذان دینے والوں کو فی اذان کے پیسے ملتے تھے۔ امریکی ڈالرز ٹھیلوں پر بکنے لگے۔ جماعت اسلامی کے سربراہ مولانا مودودی نے الزام لگایا کہ بھٹو کا ختنہ نہیں ہوا وہ غیر مسلم ہیں۔ اس کے بعد بھٹو کے سب بڑے سیاسی مخالف سائیں *جی ایم سید* نے پریس کانفرنس کی کہ “ہم ذوالفقار علی بھٹو کے مخالف ضرور ہیں مگر ان کے والد سر *شاہنواز بھٹو* سے میری دوستی تھی. ہم سندھی ختنہ کو “طہر سنت” کہتے ہیں اور اس کی تقریب بھی کرتے ہیں۔ جب بھٹو کا ختنہ ہوا تھا. دعوت نامے کا کارڈ مجھے بھی ملا تھا جو ابھی تک میرے پاس موجود ہے۔ مولانا مودودی جیسے دینی عالم کی زبان سے اس طرح کا الزام لگانا سمجھ سے باہر ہے۔” سائیں جی ایم سید نے وہ دعوت نامے کے کارڈ کو

اسٹینڈنگ کمیٹی کا سیکرٹری کمیونیکیشنز کے فوری تبادلے کا مطالبہوزیر عبدالعلیم خان کے مبینہ طور پر سڑکوں کے فنڈز کے غلط استعمال کی تحقیقات جاریرانا تصدق حسیناسلام آباد — اسٹینڈنگ کمیٹی برائے مواصلات نے سیکرٹری کمیونیکیشنز، علی شیر محسود، کے اضافی چارج کی فوری واپسی اور برطرفی کا مطالبہ کیا ہے، اور ان پر بار بار بدانتظامی، اختیارات کے ناجائز استعمال، اور ادارے کی جواب دہی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ایک باقاعدہ میمورنڈم چیئرمین سینیٹ کو جمع کروایا گیا ہے، جبکہ دفترِ وزیراعظم کو بھی اطلاع دی گئی ہے، جس میں فوری اصلاحی اقدامات کے ذریعے وزارت مواصلات میں دیانتداری بحال کرنے کا زور دیا گیا ہے۔سیکرٹری اور وفاقی وزیر کے خلاف الزاماتکمیٹی نے نہ صرف سیکرٹری کی سابقہ بدانتظامی کے نمونوں کو اجاگر کیا، جن میں وزیراعظم شہباز شریف پر کھلے عام نیشنل اکاؤنٹس بیورو (نیب) ریفرنس کے دوران الزامات لگانا شامل تھا، بلکہ وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کے ذریعے مبینہ طور پر عوامی فنڈز کے شدید غلط استعمال کے بھی الزامات اٹھائے۔وزیر کے خلاف اہم الزامات میں شامل ہیں:سڑکوں کے فنڈز کو نجی پروجیکٹس، خصوصاً پارک ویو لاہور اور اسلام آباد سوسائٹیوں کے لیے منتقل کرنا، جن میں دریا کناروں، رسائی سڑکوں اور عالیشان انفراسٹرکچر کی تعمیر شامل ہے۔بغیر کسی جواز کے فنڈز کو پنجاب ایریگیشن ڈپارٹمنٹ کی جانب موڑنا۔اسلام آباد مظفرآباد ڈوئل کیری وے کی بہتری کے اخراجات بڑھاتے ہوئے پارک ویو سوسائٹی میں مہنگے اسٹریٹ لائٹس لگانا اور سٹینڈرڈ ڈیزائنز کو مسترد کرنا۔نجی فارم ہاؤسز اور گیسٹ ہاؤسز کی تعمیر اور فرنشنگ، بشمول لاہور میں این ایچ اے دفاتر کے نزدیک عملے کے لیے رہائشی سہولیات۔وزارت اور این ایچ اے دفاتر کا مکمل تجدید، جس میں فرنیچر، فکسچر، بیت الخلاء، ڈے کیئر اور کیفے ٹیریا شامل ہیں، جس پر 67 کروڑ روپے خرچ ہوئے، اور عملے کے لیے مفت کھانے فراہم کیے گئے جو خود خرچ برداشت کرنے کی استطاعت رکھتے تھے۔عوامی انفراسٹرکچر کی معمول کی دیکھ بھال روکنا، جس کی وجہ مبینہ طور پر “بے معنی اور غیر تجربہ کار رویہ” بتایا گیا۔کمیٹی کی سخت رائے اور انتباہکمیٹی نے عبدالعلیم خان کے ان بیانات پر بھی سخت تحفظات کا اظہار کیا، جن میں انہوں نے کمیٹی کے اراکین کی دیانتداری پر سوال اٹھاتے ہوئے انہیں فراڈ اور بے ایمان قرار دیا۔سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا:”سب سے پہلے، سیکرٹری کمیونیکیشنز کے اضافی چارج کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔کمیٹی کی دیانتداری سے سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔وزیر کے خلاف تمام الزامات کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔”یہ میمورنڈم اور منسلک الزامات ادارے کی بدانتظامی، عوامی فنڈز کے غلط استعمال اور وزارتی مداخلت کے خلاف کمیٹی کے صفر برداشت رویے کو واضح کرتے ہیں، اور بیوروکریسی اور سیاسی قیادت کے لیے پیغام دیتے ہیں کہ جواب دہی کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔

پاکستان نے حالیہ احتجاج میں بھی ایرانی حکومت کی خاموش مدد کی ہے ۔انٹرنیٹ کی بندش کے بعد امریکیوں نے ایرانی شہریوں کیلئے سٹار لنک کی سہولت فراہم کی تھی لیکن پاکستان کی طرف سے فراہم کردہ ہنگامی ٹیکنیکل تحائف سے ایرانی حکام نے تین گھنٹے کے قلیل وقت میں سٹار لنک کے سگنل سو فیصد ناکارہ کر دئے ۔

🛑 *آج دن بھر کیا کچھ ہوا؟* 🛑*🛑 12 جنوری 2026 | بروز پیر | اہم خبروں کی جھلکیاں |*🚨(1) صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس کا اجرا، پیپلز پارٹی کا ایوان سے واک آؤٹ، پارلیمانی پارٹی اجلاس بلالیا🚨(2) ٹانک میں تھانہ گومل بازار کی بکتر بند گاڑی کے قریب ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ، 6 پولیس اہلکاروں سمیت 7 افراد شہیـد🚨(3) لکی مروت میں آئی ای ڈی بم کا دھماکہ، تھانہ صدر کے ایس ایچ او رازق خان سمیت 3 پولیس اہلکار زخمی🚨(4) اورکزئی: امن لشکر پر دہشت گردوں کا حملہ، 2 افراد جاں بحق، 3 دہشت گرد مارے گئے🚨(5) خیبرپختونخوا: پولیس اور سی ٹی ڈی کی کارروائیوں میں 8 دہشت گرد ہلاک ہوگئے🚨(6) بھارت کا ایک اور خلائی مشن ناکام، زمین کی نگرانی کیلئے بھیجا گیا سیٹلائٹ مشن راستہ بھٹک گیا🚨(7) اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات ایک بار پھر ملتوی، مقامی حکومت کے نظام میں بڑی تبدیلیاں؛ آرڈیننس جاری🚨(8) سہیل آفریدی نے آج افـغـاـ نستان کے ترجمان کے طور پر بات کی: عطا تارڑ🚨(9) بجلی صارفین کیلئے بڑی خوشخبری، حکومت کا بنیادی ٹیرف میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ🚨(10) امریکی صدر ٹرمپ نے خود کو وینزویلا کا قائم مقام صدر ڈکلیئر کردیا🚨(11) سہیل آفریدی کو دہشت گردوں سے اتنی ہمدردی ہے تو افـغـاـ نستان چلے جائیں: طلال چودھری🚨(12) اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی سوشل میڈیا پر کردار کشی مہم لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج🚨(13) ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی کی ہے: مولانا فضل الرحمان🚨(14) پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں، مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے: مولانا فضل الرحمان🚨(15) جب دیوار سے لگایا جاتا ہے تو پھر احتجاج کا آپشن ہی بچتا ہے، وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی🚨(16) سندھیوں کا دل بڑا ہے جو مہمانوں کو عزت دیتے ہیں لیکن سندھ کی حکومت نے مہمانوں کے ساتھ اچھا نہیں کیا، سہیل آفریدی🚨(17) جوڈیشل کمیشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دیدی🚨(18) ڈی آئی خان: تھانہ پہاڑ پور کی حدود میں فائرنگ سے پولیس اہلکار اور اس کا کزن جاں بحق🚨(19) راولپنڈی: آزاد کشمیر روڈ پر ٹریفک حادثہ، 4 افراد جاں بحق، 5 زخمی🚨(20) قائمہ کمیٹی کی سیکریٹری مواصلات کو برطرف کرنے کی سفارش، وزیراعظم کو خط لکھنے کا فیصلہ🚨(21) ایر_ان نے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا ہے مگر اس سے پہلے کارروائی بھی ہوسکتی ہے، ٹرمپ🚨(22) کراچی کے علاقے منگھوپیر میں مدرسے معلم کے سر پر ڈنڈا مارنے سے زخمی ہونے والا بچہ چل بسا🚨(23) ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد کیوبا نے امریکا کیساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت سے انکار کردیا🚨(24) پی ٹی آئی نے 8 فروری کو نئے فساد کا پروگرام تیار کیا ہے: عظمیٰ بخاری کا دعویٰ🚨(25) پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان پام آئل کی تجارت سے متعلق معاہدے🚨(26) سونے کی فی تولہ قیمت میں 7700 روپے کا اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 80 ہزار 962 روپے کا ہوگیا🚨(27) پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان تعلیمی معاہدہ طے، 500 بنگلادیشی طلبہ کو اسکالرشپ ملے گی🚨(28) 40 سے زائد مرتبہ فریضۂ حج ادا کرنیوالے سعودی عرب کے معمر ترین شخص 142 سال کی عمر میں چل بسے🚨(29) سپر اسپیڈ سے نکل کر اب کسی ونڈر بوائے کی تلاش شروع کردی گئی ہے، بیرسٹر گوہر کا حکومت پر وار🚨(30) بلوچستان میں سرکاری ملازمین کے احتجاج میں شدت آگئی، شاہراہیں بند اور متعدد گرفتار🚨(31) کراچی میں سائبیریا کی ہوائیں، سردی میں اضافہ، درجہ حرارت 6 ڈگری تک گر گیا🚨(32) کراچی: لیاقت آباد سے اغوا ہونے والی 5 سالہ بچی ساہیوال سے بازیاب🚨(33) کراچی میں 75 جوڑے ہندو مذہبی رسومات کے مطابق شادی کے بندھن میں بندھ گئے🚨(34) پنجاب میں آج بھی شدید دھند کے باعث کئی مقامات پر موٹرویز ٹریفک کیلئے بند🚨(35) فرعون، نمرود اور رضا شاہ کے ساتھ جو ہوا وہی ٹرمپ کے ساتھ ہوگا: آیت اللّٰہ خامنہ ای🚨(36) چیئرمین پی ٹی اے کی بحالی کی انٹرا کورٹ اپیل سماعت کیلئے مقرر🚨(37) عدالت نے درختوں کی کٹائی اور تراش خراش پر پابندی عائد لگا دی🚨(38) قومی اسمبلی کا اجلاس 23 جنوری تک جاری رکھنے کا فیصلہ🚨(39) بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا دن، فہرست جیل حکام کو جمع کرا دی گئی🚨(40) قومی اسمبلی اجلاس: حکومت کی جانب سے 10 بل پیش کئے جانے کا امکان🚨(41) اسحاق ڈار کو ازبکستان کے وزیر خارجہ کا فون، دوطرفہ تعلقات پر گفتگو🚨(42) ریڈیو پاکستان پر حملے میں پی ٹی آئی کے لوگ براہ راست ملوث نکلے: عظمیٰ بخاری🚨(43) جوڈیشل کمیشن اجلاس: اسلام آباد، بلوچستان ہائیکورٹس کیلئے ججوں کی مستقل تقرری کی منظوری🚨(44) ججوں کیخلاف سوشل میڈیا پر منفی پراپیگنڈا، این سی سی آئی کو درخواست جمع کرا دی گئی🚨(45) جعلی ای چالان، فیک ایس ایم ایس بارے سیف سٹیز اتھارٹی کا موقف سامنے آگیا🚨(46) دہشت گردوں کے بیانیے کا ڈٹ کر مقابلہ، پیغام امن ہر گھر تک پہنچایا جائے گا: عطا تارڑ🚨(47) بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے استعمال کے خلاف ہیں، امریکا کی ایر_ان کو دھمکیوں پر چین کا ردعمل🚨(48) آسٹریلیا نے بھارت سمیت چار ممالک کو اسٹوڈنٹ ویزا کے لیے ’ہائی رسک‘ کیٹیگری میں ڈال دیا🚨(49) لاہور کے پوش علاقے میں بابر اعظم کے عالیشان گھر کی تعمیر مکمل🚨(50) ہم جنگ اور مذاکرات دونوں کے لیے تیار ہیں: ایر_انی وزیر خارجہ عباس عراقچی🚨(51) عارف حبیب پی آئی اے کے بعد بلیو اکانومی میں سرمایہ کاری کیلیے متحرک🚨(52) لاہور ہائیکورٹ: آوارہ کتوں کو فائرنگ اور زہر دے کر مارنے کیخلاف پنجاب حکومت اور دیگر کو

‏مزار قائد پر بابائے قوم کے مزار پے سہیل افریدی کا نوٹ میرے لیے یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے کہ میں یہاں پاکستان کے بانی جناب محمد علی جناحؒ کے مزار پر حاضری دے سکا میری خواہش ہے کہ تمام پاکستانی اُن کی تقاریر کو سنیں اور پاکستان کے تمام ادارے اُن ہدایات کے مطابق عمل کریں جو انہوں نے دی تھیں پاکستان زندہ باد