All posts by admin

فیض حمید فیلڈ مارشل سے رحم کی درخواست کر سکتے ہیں۔ بدعنوانی پاکستان کا سب سے بڑا قومی مسئلہ برقرار ملک میں 97 فیصد کرپٹ مافیا 10 ھزار ارب روپے کی سالانہ کرپشن۔۔36 سال پرانی ھندو کریمیشن گراؤنڈ کی زمین کی الاٹمنٹ۔۔فراڈ کھربوں روپے کی کرپشن۔۔نام نہاد اسلام بمقابلہ نام نہاد اسلام۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

“36 سال پرانی ہندو کریمیشن گراؤنڈ کی زمین کی الاٹمنٹ کالعدم، FCCA نے دوبارہ سماعت کا حکم دے دیا”رانا تصدق حسیناسلام آباد – ایک تاریخی فیصلے میں، وفاقی آئینی عدالت برائے اپیلز (FCCA) نے لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے جس میں 1989 میں ایویکیوئی ٹرسٹ پراپرٹی (ETP) کی زمین کو پنجاب ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو منتقل کرنے کے معاملے کو سرکاری تنازعہ قرار دیا گیا تھا۔اب یہ کیس لاہور ہائی کورٹ کو مکمل اور جامع سماعت کے لیے واپس بھیج دیا گیا ہے، جبکہ قانونی ماہرین نے تمام ETP اور دشمن پراپرٹی کی ملکیتوں کے لیے آزاد تیسرے فریق کے آڈٹ کی اپیل کی ہے۔متنازعہ زمین تاریخی طور پر ہندو کریمیشن گراؤنڈ کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سوال اٹھایا کہ اس طرح کی تاریخی اور مذہبی اہمیت کی زمین کو کس اختیار کے تحت صوبائی محکمے کو منتقل کیا گیا اور پنجاب کے وزیراعلیٰ نے اس کی منظوری کس بنیاد پر دی۔جسٹس رضوی نے نوٹ کیا کہ 1989 سے ممکنہ طور پر اس زمین پر تعمیرات ہو چکی ہیں، جو قانونی اور اخلاقی سوالات پیدا کرتی ہیں۔عدالت نے ایویکیوئی ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ (ETPB) کے مینڈیٹ کو بھی دہرایا، جو 1960 میں قائم ہوا اور لاہور میں ہیڈکوارٹر رکھتا ہے۔ بورڈ کا کام 1947–48 میں بھارت ہجرت کرنے والے سکھوں اور ہندووں کی چھوڑی گئی جائیدادوں کی نگرانی، انتظام اور تحفظ کرنا ہے، خاص طور پر “ٹرسٹ پول” میں شامل خیراتی، مذہبی اور تعلیمی اثاثے۔اہم انتظامی مشاہدے میں عدالت نے نوٹ کیا کہ حال ہی تک دشمن پراپرٹی سیل وزارت مواصلات کے تحت تھا۔ متعدد اہم جائیدادیں، جن میں مرحوم مولانا کوثر نیازی اور کیپٹن (ریٹائرڈ) خرم آغا، سیکرٹری داخلہ کے رہائشی مکان اور prime اثاثے جیسے کہ بھبرہ بازار، راولپنڈی میں لال حویلی شامل ہیں، اس ادارے کے ماتحت ہیں، جو ان جائیدادوں کی اسٹریٹجک، تاریخی اور مالی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔جسٹس رضوی نے یہ بھی سوال کیا کہ ETPB نے وفاقی حکومت کے نام پر اپیل کیوں دائر کی بجائے خود کارروائی کیوں نہ کی، اور زور دیا کہ یہ وفاقی–صوبائی تنازعہ نہیں ہے اور سابقہ کارروائیاں قانونی طور پر ناقص تھیں۔پنجاب کے اضافی ایڈووکیٹ جنرل نے صوبائی حکام سے ہدایات حاصل کرنے کے لیے وقت کی درخواست کی۔FCCA نے پچھلے LHC فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مکمل دوبارہ سماعت کا حکم دیا، جس کی تجویز پر ETPB اور پنجاب حکومت کے نمائندے دونوں نے اتفاق کیا۔ماہرین اور سول سوسائٹی کے مبصرین اب زور دے رہے ہیں کہ ایویکیوئی ٹرسٹ اور دشمن پراپرٹی کی ملکیتوں کے شفاف انتظام کے لیے تیسرے فریق کا آزاد آڈٹ فوری طور پر ضروری ہے تاکہ عوامی اثاثوں کا تحفظ ممکن ہو اور تاریخی و مذہبی اہمیت کی جائیدادوں کے مزید غلط استعمال کو روکا جا سکے۔FCCA کی مداخلت کے ساتھ، 36 سال پرانی الاٹمنٹ شدید نگرانی میں آ گئی ہے، اور پاکستان میں ایویکیوئی اور دشمن پراپرٹی کے انتظام کی جامع دوبارہ جانچ کے لیے راہ ہموار ہو گئی ہے۔

فوج بدل گئی ہے ۔ اظہر سیدہم اپنے شعور اور سوچ کے مطابق مالکوں کے حمایتی بنے ہیں۔ہماری سوچی سمجھی رائے ہے فوج بدل گئی ہے ۔مالکوں کے فیصلہ سازی کے انفراسٹرکچر میں تبدیلی آ چکی ہے۔فیصلے اب ذاتی مفادات پر نہیں بلکہ اجتماعی سوچ کے ساتھ ہو رہے ہیں۔اسی سوچ کے ساتھ ہم اب مالکوں کی حمایت کرتے ہیں۔ہم لفافہ لینے والوں میں سے نہیں لفافہ دینے والوں میں سے ہیں ۔جو کچھ بھی لکھتے ہیں اپنے ضمیر اور سوچ کے مطابق بغیر کسی ڈر اور خوف کے لکھتے ہیں۔سابق ڈی جی آئی جنرل فیض حمید کو ملنے والی سزا کا مطلب ہے موجودہ ڈی جی آئی اگر ذاتی مفاد کے تحت فیصلے کرے گا تو مستقبل میں اسے بھی جنرل فیض کی طرح کورٹ مارشل کا سامنا کرنا ہو گا۔جنرل باجوہ کے دور میں جو کچھ کیا گیا فوج کے چین آف کمانڈ کے تقدس کا تحفظ کیا گیا اور تمام فیصلوں پر چین آف کمانڈ کے تقدس نے عمل کیا۔ایسے نہیں ہوتا کسی سابق ڈی جی آئی کے خلاف کوئی نیا آرمی چیف کورٹ مارشل کی کاروائی شروع کرا دے۔ ایسا اس لئے ممکن نہیں ہوتا فوج کا چین آف کمانڈ کا نظام اسکی اجازت نہیں دیتا ۔یقینی طور پر جنرل باجوہ کے دور میں طاقت کے انفراسٹرکچر میں غداری کا عنصر شامل تھا۔یقینی طور پر جنرل باجوہ کے طاقت کے انفراسٹرکچر میں ایسے فیصلے ہوئےخود فوج ان کا ہدف بنی۔فوج کے انفراسٹرکچر نے سقوط ڈھاکہ کے زمہ داروں کو سزا نہیں دی کہ مشرقی پاکستان میں شکست ناگزیر تھی

۔دنیا کی کوئی بھی فوج ہوتی شکست کھا جاتی۔فوج نے 1965 کی جنگ کا سبب بننے والے آپریشن جبڑالڑ کے زمہ داروں پر گرفت نہیں کی ۔فوج نے سیاچن پر بھارت کے قبضہ اور کارگل کے زمہ داروں کو کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا کہ فوج کا اپنا اندرونی نظام خودکار ہے ۔فوج نے آج جنرل فیض کو کٹہرے میں کھڑا کر کے سزا سنائی ہے اس کا واضح مطلب ہے جنرل باجوہ اور سپریم کورٹ کے جج بھی پکڑ میں آئیں گے ۔موجودہ انفراسٹرکچر ایک بدل چکی فوج کا انفراسٹرکچر ہے ۔موجودہ انفراسٹرکچر نے ایک بھاری پتھر اٹھا لیا ہے ۔

اسے اب چوم کر واپس رکھنا ممکن نہیں ۔ ماضی میں جنرلوں کے کورٹ مارشل ہوتے رہے ہیں لیکن یہ پہلا کورٹ مارشل ہے جو سیاسی انجینئرنگ کے ان نتایج کی وجہ سے ہوا جو جنرل باجوہ کے فوجی انفراسٹرکچر نے کیا ۔اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ موجودہ فوجی قیادت کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرے گی جو زاتی مفاد پر ہو کہ کورٹ مارشل کی بنیاد پڑ چکی ہے ۔ایک نظیر قائم ہو گئی ہے ۔اب تحریک لبیک بنے گی اور نہ سیاست پر کنٹرول کیلئے ایجنسی استمال ہو گی ۔اس وقت انفراسٹرکچر جو کچھ بھی کر رہا ہے اسے فوجی اصطلاح میں پسپائی سے پہلے اثاثے تباہ کرنا کہتے ہیں دشمن کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔اثاثے اپنے ہاتھوں سے ختم کئے جا رہے ہیں۔صرف خارجیوں کو نہیں مارا جا رہا ایک اہم اثاثے تحریک لبیک کا مکو بھی ٹھپا گیا ہے ۔اربوں روپیہ کے ریاستی فنڈز استمال کر کے مشہور کی گئی تحریک انصاف نہیں ختم کی جا رہی ففتھ جنریشن وار پلاٹون کی کوکھ سے لیڈر بنائی گی سوغات کی کہانی بھی ختم کی جا رہی ہے ۔اداروں میں آپریشن کلین اپ کیا جا رہا ہے ۔ڈکیتوں منشیات فروشوں کو بھی فل فرائی اور ہاف فرائی کیا جا رہا ہے ۔بھارت کے ساتھ مؤدبانہ طرز عمل ختم کر کے ایک حقیقی ایٹمی طاقت ایسا رویہ اختیار کر لیا گیا ہے ۔ہمیں لگتا ہے یہ انفراسٹرکچر موجودہ سوچ کے ساتھ تین چار سال اور گزار گیا ریاست کی سمت درست ہو جائے گی ۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اشک آباد میں امن اور اعتماد کے عالمی سال کے موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان سے دو طرفہ ملاقات کی۔ اس خوشگوار ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس سال کے شروع میں دونوں ممالک کو بیرونی جارحیت کے سامنا کرنے کے وقت ایک دوسرے کو فراہم کی جانے والی مضبوط حمایت کو سراہا۔اس سال کے شروع میں پاک-ایران مشترکہ اقتصادی کمیشن کے 22ویں اجلاس کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم نے دو طرفہ تجارت کے حجم کو بڑھانے، سرحدی منڈیوں کو فعال کرنے، سرحدی سلامتی کو مضبوط بنانے اور اسلام آباد-بلوچستان ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کے ذریعے دو طرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے دونوں فریقین کے مل کر کام جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ افغان سرزمین سے اٹھنے والی دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے سنگین سیکورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے افغانستان حکومت بامعنی کارروائی کرے۔دونوں رہنماؤں نے غزہ میں جاری امن کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ صدر پیزشکیان نے کہا کہ ایران پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔ یہ ملاقات پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی اور برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتی ہے جو ان کی مشترکہ تاریخ، ثقافت اور عقیدے سے جڑے ہوئے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے باقاعدہ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اور مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔وزیراعظم نے ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خمینی کے لیے تہہ دل سے تہنیتی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

‏لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے پاس آپشن موجود ہے کہ وہ چیف آف آرمی سٹاف سے معافی اور رحم کی اپیل کر سکتے ہیں، وہ اعلیٰ عدالتوں میں بھی جا سکتے ہیں سب ٹرائل اوپن ہو گا مگر سوال یہ ہے کہ کیا وہ یہ اپیل کریں گے یا اپنے ساتھی عمران خان کی طرح اپنے جرم، گناہ اور غلطی پر اڑے رہیں بالکل ابلیس کی مانند ۔۔‏مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان کی پروفیشنل لائف میں مسلسل جنرل عاصم منیر سے چپقلش رہی اور وہ اس حد تک تھی کہ انہوں نے ان کی ممکنہ سپہ سالاری رکوانے کے لئے عمران خان سے ( نومبر 2022 والا) لانگ مارچ بھی کروایا۔ ان کے خلاف بغاوت کے لئے عمران خان سے مل کر 9 مئی بھی برپا کیا یعنی مخالفت کی انتہا۔ یہ مخالفت پورے کیرئیر پر محیط ہے، عمرانی فتنے کے دور میں فیض حمید اسے عروج پر لے گئے۔‏سوال یہ بھی ہے کہ فیض حمید نے اس سزا سے معافی مانگ بھی لی، رحم لے بھی لیا تو کیا وہ اس اگلی کارروائی اور سزا سے بچ پائیں گے جس کی طرف آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کا آخری پیراگراف چیخ چیخ کا اعلان کر رہا

افغانستان : بے روزگاری سے تنگ نوجوان افغانستان ایران بارڈر پر بارڈر کراسنگ کے لئے انتظار میں بیٹھے ہیں، ان نوجوانوں میں پاکستان کے مختلف شہروں سے بھی نوجوان سرحد پار کرکے افغانستان ایران سے ترکی جانے کی کوششیں کرتے ہیں۔ افغانستان میں اس وقت مہنگائی اور بے روزگاری تاریخ کی سب سے بلند سطحوں کو چھو رہی ہے

فیض حمید کی سزا افواج پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے وزیر اعلی کے پی۔کابل میں حالات کشیدہ صورتحال نازک ناروے کے سفیر کی وزارت خارجہ طلبی پاکستان کے اندرونی معاملات۔۔پاکستان کی عسکری تاریخ کی دوسری بڑی سزا ۔۔۔۔جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو خصوصی عدالت سے سزائے موت کے بعد لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے 14 سال قید با مشقت کی سزا سنا دی ہے ۔۔پاکستان کی عسکری تاریخ کی دوسری بڑی سزا ۔۔۔۔ ۔۔فیض حمید کے بعد 4 اھم ترین سویلین شخصیات کو بھی اختیارات کے ناجائز استعمال پر سزا سنائی جا سکتی ہے۔عادل راجہ صابر شاکر عمران ریاض اور شھزاد اکبر شکنجے میں۔۔برطانوی حکومت سے مامعلات طے حوالگی 31 دسمبر سے پھلے۔پاکستان کے مطالبات مان لئے گئے چاروں کے خلاف شکنجہ سخت۔۔عادل راجہ صابر شاکر عمران ریاض اور شھزاد اکبر کو پاکستان میں لانے کے لیے برطانوی حکومت سے مامعلات طے حوالگی 31 دسمبر سے پھلے۔۔وزیر اعطم کا ایک سال میں 34 واں غیر ملکی دورہ غیر ملکی دورں کا عالمی ریکارڈ۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

افغانستان : بے روزگاری سے تنگ نوجوان افغانستان ایران بارڈر پر بارڈر کراسنگ کے لئے انتظار میں بیٹھے ہیں، ان نوجوانوں میں پاکستان کے مختلف شہروں سے بھی نوجوان سرحد پار کرکے افغانستان ایران سے ترکی جانے کی کوششیں کرتے ہیں۔ افغانستان میں اس وقت مہنگائی اور بے روزگاری تاریخ کی سب سے بلند سطحوں کو چھو رہی ہے

اسلام آباد:پاکستان بھر کے چیمبر آف سمال ٹریڈرز نے ٹرانسپورٹرز کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے حکومتِ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ متنازع آرڈیننس فوری طور پر واپس لیا جائے۔ نمائندگان کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ بند ہونے کے باعث ملک بھر میں تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں اور کاروباری طبقے کو اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔چیمبر آف سمال ٹریڈرز نے کہا کہ ٹرانسپورٹ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اور جب تک یہ نظام بحال نہیں ہوتا، مارکیٹیں، صنعتیں اور سپلائی لائنیں چل نہیں

وزیراعظم کی ترکمانستان کے صدر سے ملاقات*وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی اشک آباد میں ترکمانستان کے صدر سردار بردی محمدوف سے دوطرفہ ملاقات ہوئی. ملاقات کے دوران، وزیراعظم نے ترکمانستان کی مستقل غیرجانبداری کی 30 ویں سالگرہ اور اقوام متحدہ کی جانب سے 2025 کو امن اور اعتماد کا بین الاقوامی سال قرار دینے پر ترکمان صدر کو مبارکباد دی۔پاکستان اور ترکمانستان کے درمیان تاریخی اور برادرانہ تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات بالخصوص تجارتی اور اقتصادی روابط کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا.وزیر اعظم نے اس رواں برس کے آغاذ پر ایران اسرائیل جنگ کے دوران پاکستانی شہریوں کو ایران سے بحفاظت نکالنے کے لیے فراہم کی جانے والے تعاون پر ترکمان قیادت اور حکومت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔وزیراعظم نے ترکمانستان کے ساتھ زمینی اور سمندری راستوں کے ذریعے روابط بڑھانے کی پاکستان کی خواہش کا اعادہ کیا اور کہا کہ کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں کا جغرافیہ مثالی ہے جسے ترکمانستان جنوبی ایشیاء اور اس سے باہر اپنی رسائی کو بڑھانے کے لیے استعمال بروئے کار لاسکتا ہے. ترکمانستان کی جانب سے پاکستانی وفد کی شاندار مہمان نوازی پر ترکمان صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے، وزیراعظم نے ترکمانستان کے عوام کے قومی رہنما، عزت مآب گربنگولی بردی محمدوف کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا. وزیرِ اعظم ترکمانستان کی عوام کے قومی رہنما اور صدر سردار بردی محمدوف کو آئندہ برس پاکستان کے سرکاری دورے کرنے کی دعوت کا اعادہ کیا.ترکمانستان کے صدر نے وزیر اعظم کے دورے اور امن و اعتماد کے بین الاقوامی فورم میں شرکت پر شکریہ ادا کیا اور یقین کہا کہ ترکمانستان پاکستان کے ساتھ باہمی دلچسپی کے متعدد شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو بڑھانے کا خواہاں ہے۔وزیر اعظم اشک آباد میں 12 دسمبر 2025 تک امن اور اعتماد کے عالمی سال (2025)، غیر جانبداری کے بین الاقوامی دن اور ترکمانستان کی مستقل غیرجانبداری کی 30 ویں سالگرہ کے موقع پر منائے جانے والے بین الاقوامی فورم میں شرکت کے لیے ترکمانستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر ہیں. وزیرِ اعظم کے ہمراہ نائب وزیرِ وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری، وزیر اطلاعات عطاء تارڑ اور کابینہ کے دیگر ارکان اور اعلیٰ سرکاری افسران بھی ملاقات میں شریک تھے.

کابل پر کنٹرول کے صرف تین دن بعد طالبان کے دوحہ میں پولیٹیکل آفس کے ذمہ دار “سہیل شاہین” نے اسرائیل کے سرکاری ٹی وی چینل “KAN” کو انٹرویو دیا تھا، جس میں اُس نے کہا تھا کہ طالبان کے اسرائیل سے تعلقات ناممکنات میں سے نہیں ہیں۔ بعد میں جب ہر طرف سے لعن طعن شروع ہوئی تو کہا کہ مجھے یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ “KAN” اسرائیلی چینل ہے۔ (حالانکہ یہ بات بالکل جھوٹ تھی، طالبان کا کا دوحہ آفس مکمل سکروٹنی کے بعد ہی کسی صحافی کو انٹرویو دیتا تھا) طالبان حکومت کے آنے کے بعد 13 جنوری 2022 کو پہلی بار اسرائیل نے افیشلی افغان مہاجرین کے لیے کئی لاکھ ڈالر کی امداد مہیا کی تھی۔ الجزیرہ سے انٹرویو میں طالبان پولیٹکل آفس کے ترجمان “نعیم وردک” سے پوچھا گیا کہ کیا اپ اسرائیل کے ساتھ بھی مسئلے حل کرنے کے لیے پیش رفت کریں گے؟تو اُس کا جواب میں کہنا تھا کہ “ہمارا اسرائیل کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟” مجھے اسی بات کیوں پوچھتے ہو جس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔ (اُس نے اسرائیل کو ناجائز ریاست نہیں کہا، نہ ہی یہ کہا کہ فلسطین پر قبضہ ختم ہونے تک اسرائیل کے حوالے سے کوئی پیش رفت ناممکن ہے، جو اکثر مسلمان ممالک کا آفیشل موقف ہے)دوسری طرف یہی طالبان ہیں جو ہندوتوا مودی حکومت سے قریبی یارانہ رکھتے ہیں۔ حلانکہ یہ موجودہ حکومت برصغیر (پوتر بھارت ماتا) کو مسلمانوں کے وجود سے پاک کرنے کا اعلانیہ منصوبہ رکھتی ہے۔ دہلی میں ملاں متقی نے کشمیر پر بھارت کے قبضے کو جائز قرار دیا۔حیرت انگیز امر یہ ہے کہ ہمارے “جہادی دوستوں” کو اس سب میں کوئی قباحت دیکھائی نہیں دیتی ہے۔

🚨 ‏‏ناروے کے سفیر کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت پر دفتر خارجہ کا سخت اقدام، ڈیمارش جاری کردیا• ایک آزاد، خودمختار ، اور قانون پر عملدرآمد کرنے والی Hard State کیا ہوتی ہے، پاکستان نے واضح کر دیا• سخت اور واشگاف الفاظ میں ناروے کے سفیر کو پاکستان کے اندونی معاملات میں مداخلت پر وزارت خارجہ نے سخت ترین الفاظ میں ڈیمارش جاری کر دیا‏ 11 دسمبر 2025 کو ناروے کے سفیر کی جانب سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایمان مزاری کیس کی سماعت میں شرکت نہ صرف سفارتی حد سے تجاوز تھا بلکہ پاکستان کے اندرونی عدالتی معاملات میں براہِ راست مداخلت بھی تھی۔ ‏

افواج پاکستان کے متعلق جو خبر بادبان ٹی اور دنیا کے نامور صحافی سھیل رانا جو چیف ایگزیکٹو بادبان ٹی وی روزنامہ پوسٹ انٹرنیشنل اور بادبان میگزین کے چیف ایڈیٹر ھے انکے علاوہ دنیا کا صحافی تو کیا حاضر سروس تھری سٹار جنرل بھی نہیں دے سکتا

ریاستِ طیبہ اور ریاستِ پاکستان کا آپس میں ایک گہرا تعلق ہے۔ دفاعی معائدہ تاریخی ہے ، فیلڈ مارشل۔۔۔افواج پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کیا جائے وزیر اعظم۔ اڈیالہ جیل کے باھر دما دم مست قلندر۔۔غیر یقینی صورتحال خوف کے ساے اور مھنگای کا طوفان۔۔پاکستان میں زندگی سسکیاں لینے لگی عوام 2 وقت کی روٹی سے مجبور۔نوجوان نوکری سے اور بوڑھے دوائی سے محروم اشرافیہ لوٹ مار میں مصروف۔۔ ۔۔حکمران اقتدار کے ایوانوں میں نشے سے مدھوش نوسر باز کامیاب بادبان ٹی وی رپورٹ۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

***چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا قومی علماء مشائخ کانفرنس سے خطاب*ریاستِ طیبہ اور ریاستِ پاکستان کا آپس میں ایک گہرا تعلق ہے۔ دفاعی معائدہ تاریخی ہے ، فیلڈ مارشلاللہ تعالیٰ نے تمام مسلم ممالک میں سے محافظینِ حرمین کا شرف پاکستان کو عطا کیا، فیلڈ مارشل

جس قوم نے علم اور قلم کو چھوڑا تو انتشار اور فساد الارض نے وہاں جگہ لی، فیلڈ مارشلعزت اور طاقت تقسیم سے نہیں ، محنت اور علم سے حاصل ہوتی ہے، فیلڈ مارشلدہشتگردی پاکستان کا نہیں ہندوستان کا وطیرہ ہے، ہم دشمن کو چھپ کے نہیں للکار کر مارتے ہیں، فیلڈ مارشلاسلامی ریاست میں ریاست کے علاوہ کوئی جہاد کا حکم نہیں دے سکتا، فیلڈ مارشلمعرکہ حق میں اللّٰہ کی نصرت سے کامیابی ملی، فیلڈ مارشلعلماء قوم کو متحد رکھیں اور قوم کی نظر میں وسعت پیدا کریں ، فیلڈ مارشل*پاکستان ہمیشہ زندہ باد*

ریاستِ طیبہ اور ریاستِ پاکستان کا آپس میں ایک گہرا تعلق ہے۔ دفاعی معائدہ تاریخی ہے ، فیلڈ مارشل تفصیلات بادبان ٹی وی پر

**چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا قومی علماء مشائخ کانفرنس سے خطاب*ریاستِ طیبہ اور ریاستِ پاکستان کا آپس میں ایک گہرا تعلق ہے۔ دفاعی معائدہ تاریخی ہے ، فیلڈ مارشل اللہ تعالیٰ نے تمام مسلم ممالک میں سے محافظینِ حرمین کا شرف پاکستان کو عطا کیا، فیلڈ مارشلجس قوم نے علم اور قلم کو چھوڑا تو انتشار اور فساد الارض نے وہاں جگہ لی، فیلڈ مارشلعزت اور طاقت تقسیم سے نہیں ، محنت اور علم سے حاصل ہوتی ہے، فیلڈ مارشل دہشتگردی پاکستان کا نہیں ہندوستان کا وطیرہ ہے، ہم دشمن کو چھپ کے نہیں للکار کر مارتے ہیں، فیلڈ مارشلاسلامی ریاست میں ریاست کے علاوہ کوئی جہاد کا حکم نہیں دے سکتا، فیلڈ مارشلمعرکہ حق میں اللّٰہ کی نصرت سے کامیابی ملی، فیلڈ مارشلعلماء قوم کو متحد رکھیں اور قوم کی نظر میں وسعت پیدا کریں ، فیلڈ مارشل*پاکستان ہمیشہ زندہ باد*

ایوانِ صدر میں خصوصی اعزازی تقریب، انڈونیشیا کے صدر کو نشانِ پاکستان عطا کیا گیا اس تقریب کی حیران کن بات یہ تھی کہ صدر نے وزیراعظم کو بھی ساتھ کھڑے ہونے کوکہا تو وزیر اعظم نے انکار کر دیا وزیراعظم کے چہرے سے لگ رہا تھا کہ وہ غصے میں ہیں