تازہ تر ین

صوبوں کی مخالفت کرنے والوں کو عوام سنگسارکر دے محمد علی درانی 16 پرائیویٹ بینکس انویسٹمنٹ کمپنیوں اور انشورنس اداروں کو پینشن فنڈ چلانے کی ذمہ داری پیشنز بھی مافیا کے شکنجے میں پینشن فنڈ بھی سرمایہ داروں کے حوالے۔ میرے استعفے کی خبریں بے بنیاد ہیں تفصیلات کے لئے بادبان نیوز۔۔

پاکستان نے جنوبی کوریا کو ہاکی ٹیسٹ سیریز کے دوسرے میچ میں بھی شکست دے دی، پاکستان کو چار ٹیسٹ میچوں کی ہاکی سیریز میں 2-0 کی برتری حاصل ہوگئی ہے۔دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان نے جنوبی کوریا کو 1-3 سے ہرایا۔ قومی ٹیم کی جانب سے ابوبکر نے دو جبکہ عبدالرحمان نے ایک گول اسکور کیا۔اس سے قبل پہلے ٹیسٹ میچ میں بھی پاکستان نے جنوبی کوریا کو 1-3 سے شکست دی تھی۔ چار میچوں پر مشتمل سیریز میں پاکستان کو اب دو صفر کی فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔

د. لبنى فرح…قطر نے امریکا۔ایران براہِ راست مذاکرات کی خبروں کی تردید کردی، سفارتی رابطے بدستور بالواسطہ جاریدوحہ: قطر نے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ سفارتی پیش رفت سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کے باوجود واضح کیا ہے کہ اس وقت واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے انعقاد کا کوئی منصوبہ موجود نہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے بدستور ثالث ممالک کے ذریعے جاری ہیں۔قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے منگل کے روز صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ دوحہ تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مسلسل سفارتی رابطے میں ہے اور اس کا بنیادی مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا، اعتماد سازی کو فروغ دینا اور بحران کا پائیدار سفارتی حل تلاش کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات براہِ راست مذاکرات کے لیے سازگار نہیں، اس لیے امریکا اور ایران کے درمیان تمام رابطے فی الحال ثالثوں کے ذریعے ہی جاری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قطر مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم انہوں نے جاری رابطوں کی نوعیت یا ممکنہ آئندہ مذاکرات کے وقت کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔قطری مؤقف ایسے وقت سامنے آیا ہے

جب خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ قطر، عمان اور دیگر علاقائی ثالث دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھنے اور مستقبل میں مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔دوسری جانب ایرانی مؤقف نے مذاکراتی منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ خبر رساں ادارے رویٹرز کے مطابق ایک ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ تہران ایسا کوئی بھی مجوزہ معاہدہ قبول نہیں کرے گا جس میں آبنائے ہرمز پر ایران کے مکمل کنٹرول اور اس کے بنیادی مفادات کی ضمانت موجود نہ ہو۔آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی رسد کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اسی وجہ سے اس آبی راستے سے متعلق کسی بھی اختلاف کا براہِ راست اثر عالمی توانائی کی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور علاقائی سلامتی پر پڑ سکتا ہے۔سیاسی تجزیہ:قطر کا تازہ بیان اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ اگرچہ سفارتی دروازے بند نہیں ہوئے، لیکن امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد کا فقدان اب بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ دونوں ممالک فی الحال براہِ راست بات چیت کے بجائے بالواسطہ سفارتی ذرائع پر انحصار کر رہے ہیں،

جو اس امر کی علامت ہے کہ مذاکراتی ماحول ابھی مکمل طور پر سازگار نہیں۔ایرانی حکام کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت مؤقف بھی ظاہر کرتا ہے کہ تہران مستقبل کے کسی بھی معاہدے میں اپنی تزویراتی اور سلامتی سے متعلق ترجیحات پر کوئی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس صورتحال میں ثالث ممالک کی سفارتی کوششیں خطے میں کشیدگی کم رکھنے کے لیے نہایت اہم حیثیت اختیار کر گئی ہیں۔مبصرین کے مطابق آئندہ چند ہفتے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر سفارتی رابطے جاری رہے اور اعتماد سازی میں پیش رفت ہوئی تو مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، تاہم موجودہ حالات میں کسی فوری یا بڑی سفارتی پیش رفت کی توقع قبل از وقت ہوگی۔

پنشن فنڈ بھی سرمایہ داروں کے حوالے: سرکاری ملازمت بھی پرائیویٹ کی طرح ہو رھی ہے۔ مسلح افواج پر یہ لاگو نہیں ہو گی وفاقی حکومت نے نئے سرکاری ملازمین کے لیے متعارف کرائی گئی کنٹری بیوٹری پنشن اسکیم پر عمل درامد کے لئے 16 پرائیوٹ بینکوں، انویسٹمنٹ کمپنیوں اور انشورنس اداروں کو پنشن فنڈ چلانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔اس نئی اسکیم سے پبلک سیکٹر کے محنت کشوں کو حاصل مراعات کا تقریبا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ اور پنشن کا زیادہ بوجھ سرکاری ملازم پر ہی ڈال دیا گیا ہے۔ ملازم اپنی قابلِ پنشن تنخواہ کا 10 فیصد ہر ماہ پنشن فنڈ میں جمع کرائے گا۔ اور حکومت اس میں 12 فیصد حصہ ڈالے گی۔ اس طرح تنخواہ کا 22 فیصد حصہ ان نئی پرائیویٹ کمپنیوں کو دیا جائے گا۔ حیران کن طور پر محنت کش ریٹائرمنٹ سے پہلے پنشن فنڈ سے رقم نہیں نکال سکے گا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد پوری پنشن نہیں ملے گی بلکہ صرف 25 فیصد رقم ایک ساتھ نکالی جا سکے گی، جبکہ باقی 75 فیصد رقم کم از کم 20 سال تک قسطوں یا قواعد کے مطابق وصول کرنا ہوگی

۔یہ اسکیم صرف یکم جولائی 2024 کے بعد بھرتی ہونے والے نئے وفاقی سول ملازمین پر لاگو ہے، جبکہ مسلح افواج کے لیے اس پر عمل درآمد نہیں ہو گا۔ صرف سویلین کے لئے ہو گی۔ حکومت اور عالمی مالیاتی اداروں، خصوصاً ورلڈ بینک، نے یہ سکیم اس لئے متعارف کرائی کہ نئی اسکیم سے مستقبل میں پنشن کا مالی بوجھ کا ایک حصہ محنت کش پر منتقل کیا جا سکے۔ اس سکیم سے نئے ملازمین کو 2024 سے پہلے سرکاری ملازمین کو حاصل شدہ مراعات کے مقابلے میں بہت کم مراعات ملیں گی۔پنشن کا مالی خطرہ حکومت کے بجائے ملازم پر منتقل ہو جائے گا، کیونکہ پنشن کی رقم سرمایہ کاری کے منافع پر بھی منحصر ہوگی۔ریٹائرمنٹ کے بعد صرف 25 فیصد رقم ایک ساتھ نکالنے کی پابندی بعض ملازمین کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے، خصوصاً اگر انہیں علاج، رہائش یا دیگر ضروریات کے لیے بڑی رقم درکار ہو۔چنانچہ وہ دور ختم ہوا جب سرکاری ملازمت کی مراعات جو دہائیوں کی محنت سے حاصل کی گئی تھیں ملازمت حاصل کرنے کے لئے ایک attraction تھی۔ اب حکومت اپنی تمام ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹ کر پرائیویٹ شعبہ کو منافع کمانے کے خوب مواقع فراھم کر رہی ہے۔ طبقاتی جبر دوران ہر ہے اب سرکاری ملازمت بھی پرائیویٹ ملازمت کی طرح ہوتی جا رھی ہے۔

آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی چھٹی لے کر بیرون ملک روانہ ، سیٹ خالی دو سال سے زائد عرصہ تک اسلام آباد میں سیاہ سفید کے مالک موسٹ پاور فل آئی جی اچانک بیرون ملک روانہ ہو گئے ، کیا یہ تبدیلی آگے آنے والی کسی بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ ہے یا روٹین کا کام کچھ دِنوں میں صورت حال واضح ہو جائے گی نیا چارج کون لے گا اور ہدایات کس طرف سے اہیں گی یہ بھی ایک اہم مرحلہ ہے ، تعیناتی نون لیگ کی خواہش پر ہو گی یا نقوی صاحب کی ، طاقت کا جھکاؤ کس طرف ہو گا یہ چھٹی اور تعیناتی اسکا اشارہ دے دے گی اور یہی سے مستقبل میں بڑے پیمانے پر طاقت کے توازن کی سمت کا بھی تعین ہو جائے گا ذرائع کے مطابق آئی جی اسلام آباد ادارے کے اندر بیرونی مداخلت کے باعث ناراض تھے Islamabad Police

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اپنے استعفے سے متعلق زیرِ گردش خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے عہدے پر برقرار ہیں اور بطور صدر اپنی ذمہ داریاں بدستور انجام دیتے رہیں گے۔صدر پزشکیان نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ اختلافات کی خبروں کی بھی تردید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور مسلح افواج کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور مؤثر رابطہ موجود ہے۔ایرانی سرکاری ٹی وی کو اپنی حکومت کے دو سال مکمل ہونے کے موقع پر دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اگر وہ کبھی استعفیٰ دینے کا فیصلہ کریں گے تو اس کا اعلان خود کریں گے، تاہم اس وقت استعفے کا نہ کوئی ارادہ ہے اور نہ ہی ایسی خبروں میں کوئی صداقت ہے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved