
مشاہد صاحب کا دفتر ، فریال گوہر اور ہم از۔۔۔۔فاروق فیصل خان یہ ان دنوں کی بات ہے جب سید مشاہد حسین وزیر اطلاعات ہوا کرتے تھے۔ان کے ساتھ سندھ کچے کے ڈاکووں، کراچی آپریشن کی رپورتنگ اور کئ سیاسی و غیرسیاسی مہمات سر کی تھیں سو انہوں نے پرائیویٹ سیکرٹری کی اجازت سے ہمیں استسنی دے رکھا تھا۔۔ دروازہ کھولو اور سیدھے کمرے میں۔۔۔۔ کسی خبر کی تصدیق کے لئے پارلیمنت ہاوس ان کے چیمبر میں داخل ہوا تو پہلی نظر سامنے بیٹھی فریال گوہر پر پڑی اور میں وہیں جم کر رہ گیا۔ یوں لگا جیسے کمرے میں روشنی کا ایک ہالہ روشن ہو۔ سفید شلوار قمیص میں ملبوس ، کانون میں چھوٹے چھوٹے جھمکے اور کلائیوں میں کنگھن ۔۔۔اس کے سراپے پر ملکوتی حسن اس طرح اتر ایا تھا جیسے چاندنی نے انسانی صورت اختیار کر لی ہو، آنکھیں جھپکنا اور دل دھڑکنا بھول گیا، زبان گنگ اور قدم فرش میں پیوست ہو کر رہ گئے۔

ہم جیسے خشک مزاج جن کا زمانہ طالبعلمی ساتھی بھائیوں کے ربط میں گذرا ہو کے لئے حسن کو اتنے قریب سے دیکھنا اور حسن بھی وہ جو چند لمحوں کے لیے آدمی کی تمام حسیات کو معطل کر دے ناقابل فراموش لمحہ تھا۔ اج تیس سال کا عرصہ بیت جانے کے بعد بھی ان سحر انگین لمھات کی منطر کشی ممکن نہیں۔الفاط دوڑ کر دور جا کھڑے ہوئے ہیں کہ بس آنکھیں بند کر کے تصور کرو۔ اس کے چہرے کی شگفتگی،لبوں کا تبسم، آنکھوں کی چمک، گفتگو کا وقار اور شخصیت میں ایک عجیب سی خوداعتمادی—سب مل کر ایسا تاثر پیدا کر رہے تھے کہ آدمی چاہے بھی تو اپنی نظریں اور خیالات کسی اور طرف منتقل نہ کر سکے۔ ممکن ہے میری کیفیت ان کے لیے کوئی غیر معمولی صورت حال نہ ہو۔

خوب صورت عورت کو زندگی بھر قدم قدم پر ایسے حضرات سے واسطہ پڑتا رہتا ہے جن کی نظریں تعارف سے پہلے ہی اپنا تعارف کرا دیتی ہیں۔ مگر میرے لیے یہ صورت حال قدرے مختلف تھی؛ میں حسن کا پرستار بننے کے بجائے محض ایک حیران تماشائی بن کر کھڑا تھا۔واللہ، کتنے لمحے اس محویت میں گزرے، کچھ اندازہ نہیں۔ اسی دوران میزبان سید مشاہد حسین نے گلا کھنکھارا اور انتہائی نستعلیق انگریزی میں مہمان کا تعارف کرایا۔

کہ یہ فریال گوہر ہیں ان دنوں اقوام متحدہ کے ساتھ منسلک ہیں اور اپنی کسی پیشہ ورانہ ذمہ داری کے سلسلے ملاقات کے لیے آئی ہیں۔مہمان نے بھی نہایت شائستہ انگریزی لہجے میں کچھ کہا۔ مگر اس وقت میری حالت ہی ایسی نہ تھی کہ مفہوم سمجھ سکتا۔۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے مشاہد صاحب نے شرارتآ خاموشی سے یہ طے کر دیا ہو کہ اگر یہاں بیٹھنا ہے تو گفتگو بھی اسی لب ولہجہ کی انگریزی میں کرنا ہوگی۔ اپنی کم مائیگی کا احساس ہوا اور منہ سے صرف یہ نکل سکا پھر اوں گا۔مہمان کے جانے کے بعد دوبارہ مشاہد صاحب کے کمرے میں گیا اور شکوہ کیا ،شاہ صاحب یہ آج آپ نے کیا کیا ؟

چند لمحے قدرت کے اس شاہکار کا دیدار کر لیتا تو آپ کا کیا جاتا؟” اور کمرہ ان کے روائتی فلک شگاف قہقے سے گونج اٹھاوہ ملاقات چند لمحوں کی تھی، مگر فریال گوہر کا سراپا، اس کی شخصیت کی وہ پہلی جھلک اور میری اپنی بے بسی آج بھی ایک دلچسپ یاد کی طرح ذہن میں محفوظ ہے۔ بعض چہرے دیکھے نہیں جاتے، یاد رکھے جاتے ہیں؛ اور بعض ملاقاتیں ہوئی نہیں، بس اچانک آدمی پر وارد ہو کر واردات ڈال جاتی ہیں۔نوٹ۔۔۔۔فریال گوہر ان دنوں خبروں میں ان ہیں۔۔۔ایسے ہی یہ تصویر نظر سے گذری تو سب یاد آ گیا










