
د. لبنى فرح..تفصیلی تجزیہ: باب المندب، ایران، سعودی اتحاد اور خطے کی بدلتی ہوئی بحری حکمتِ عملیایران نے بظاہر براہِ راست سعودی عرب کے مجوزہ بحری دفاعی اتحاد کو مسترد نہیں کیا، تاہم مختلف علاقائی اشاروں اور یمن میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کی سرگرمیوں کو بعض مبصرین اس اتحاد کے خلاف ایک بالواسطہ پیغام قرار دے رہے ہیں۔ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی، اس لیے اسے محتاط انداز میں دیکھا جانا چاہیے۔سعودی عرب کا مجوزہ بحری اتحادسعودی وزارتِ دفاع کے مطابق مجوزہ اتحاد کا مقصد:باب المندب، بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں بحری سلامتی کو مضبوط بنانا۔رکن ممالک کے درمیان دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون میں اضافہ کرنا۔تجارتی اور توانائی بردار بحری جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانا۔ریاض کو اتحاد کے مرکزی ہیڈکوارٹر کے طور پر قائم کرنا۔سرکاری معلومات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں 14 ممالک نے اس اقدام کی حمایت کی،

جن میں پاکستان، ترکی، مصر، سوڈان اور جبوتی شامل ہیں، جبکہ مستقبل میں مزید ممالک کی شمولیت متوقع ہے۔ایران کا ممکنہ ردعملتجزیہ کاروں کے مطابق ایران اس اتحاد کو خطے میں سعودی اثر و رسوخ بڑھانے اور اپنے اتحادیوں کے خلاف ایک تزویراتی اقدام کے طور پر دیکھ سکتا ہے۔ایران پہلے بھی یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اگر اس پر شدید اقتصادی یا عسکری دباؤ ڈالا گیا تو وہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری آمدورفت پر اثر انداز ہونے والے اقدامات پر غور کر سکتا ہے۔ تاہم اس بارے میں مختلف ادوار میں دیے گئے بیانات اور عملی اقدامات میں فرق رہا ہے۔یمن اور حوثیوں کا کرداراگر ایران اپنے موقف کو عملی شکل دینا چاہے تو سب سے مؤثر ذریعہ یمن میں موجود حوثی تحریک ہو سکتی ہے، جو پہلے بھی بحیرہ احمر میں تجارتی اور تیل بردار جہازوں پر حملوں یا انہیں نشانہ بنانے کی دھمکیوں سے عالمی تجارت کو متاثر کرتی رہی ہے۔ممکنہ منظرناموں میں شامل ہو سکتے ہیں:سعودی یا اس سے منسلک تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا۔تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ پیدا کرنا۔

ڈرون اور میزائل حملوں کے ذریعے بحری راستوں پر دباؤ بڑھانا۔بحری انشورنس اور مال برداری کی لاگت میں اضافہ۔امریکہ۔ایران مذاکرات کا اثرموجودہ غیر مستقیم مذاکرات کو خطے کی بحری سلامتی کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔اگر مذاکرات میں پیش رفت ہوتی ہے تو:آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے۔باب المندب میں بھی نسبتاً استحکام آنے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔عالمی توانائی کی ترسیل معمول پر آ سکتی ہے۔لیکن اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو:ایران یا اس کے علاقائی اتحادی دباؤ بڑھا سکتے ہیں۔بحیرہ احمر اور خلیج عمان میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور شپنگ اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔عالمی تجارت پر اثراتباب المندب دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتا ہے۔یورپ اور ایشیا کے درمیان تجارت کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔خلیجی ممالک کی تیل برآمدات کے لیے یہ ایک اہم گزرگاہ ہے۔کسی بھی قسم کی عسکری کشیدگی عالمی سپلائی چین کو متاثر کر سکتی ہے۔پاکستان کے لیے اہمیتپاکستان کی اس اتحاد کی حمایت کئی پہلو رکھتی ہے:سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط کرنا۔
بحیرہ احمر میں پاکستانی بحریہ کے کردار کو وسعت دینا۔بین الاقوامی بحری سلامتی میں فعال شمولیت۔توانائی کی عالمی ترسیل کے تحفظ میں کردار ادا کرنا۔مجموعی تجزیہسعودی عرب کا مجوزہ اتحاد صرف ایک دفاعی انتظام نہیں بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کی نئی تشکیل کی کوشش بھی سمجھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ایران اپنے اسٹریٹجک مفادات کے تحفظ کے لیے براہِ راست یا بالواسطہ ذرائع استعمال کر سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے مختلف دعوے اور امکانات موجود ہیں جن کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات آئندہ مہینوں میں اس بات کا تعین کریں گے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں کشیدگی کم ہوتی ہے یا خطہ ایک نئے بحری تصادم کی طرف بڑھتا ہے۔خلاصہسعودی عرب نے باب المندب، بحیرہ احمر اور خلیج عدن کی سلامتی کے لیے کثیرالملکی بحری اتحاد کی تجویز پیش کی ہے۔ابتدائی طور پر 14 ممالک نے اس کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔بعض مبصرین کے مطابق ایران اس اتحاد سے مطمئن نہیں، اگرچہ اس نے باضابطہ طور پر اسے مسترد نہیں کیا۔یمن میں حوثیوں کی سرگرمیاں مستقبل میں کشیدگی کا اہم عنصر بن سکتی ہیں۔امریکہ۔ایران مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی خطے کی بحری سلامتی اور عالمی توانائی کی ترسیل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔باب المندب اور آبنائے ہرمز دونوں عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی حساس بحری گزرگاہیں ہیں۔

پاکستانی خاتون باکسر کا تاریخی کارنامہفاطمہ زہرہ کامن ویلتھ گیمز میں تمغہ جیتنے والی پہلی پاکستانی خاتون باکسر بن گئیںکوارٹر فائنل میں نیوزی لینڈ کی حریف کے خلاف شاندار فتح
پاکستانی اشرافیہ کی ایک تلخ حقیقت انصاف یہاں ٹکے ٹکے پر بکتا ھے اور قانون طاقتوروں کے گھر کی لونڈی ھےایان علی دبئی جانے کے لیے اسلام آباد ائرپورٹ پر پہنچی جسکا نام اس وقت بے نظیر ائرپورٹ رکھا گیا تھا ،وہ وی آئی پی لاؤنج تک آئی اور اپنا لیگیج کاونٹر پر رکھا تو کسٹم حکام نے اسکا بیگ چیک کرنا چاہا ،ایان علی نے لاپروائی سے بیگ کھولا اور اعجاز چوہدری نامی کسٹم انسپکٹر نے بیگ میں پڑے دو کپڑے ہٹائے تو نیچے ڈالروں کی گڈیاں پڑی ہوئی تھیں

،انسپکٹر نے ایان علی سے استفسار کیا تو اس نے لاپروائی سے کہا کہ یہ میرے ہیں ،اس نے کہا میڈم مجھے یہ رقم زیادہ لگ رہی ہے، کم و بیش پانچ ہزار ڈالرز سے زیادہ کیش لے جانا غیر قانونی ہے ،پھر اس نے گڈیاں گنی تو وہ 5 لاکھ ڈالرز تھے ،کسٹم انسپکٹر نے اپنے سنئئر کو مطلع کیا اور ایان علی کو صوفے پر بٹھا دیا ،ایان علی کو کوئی پریشانی نہیں تھی ،اسکے لئے یہ روز کا معمول تھا لیکن اعجاز چوہدری کے لئے یہ معمولی بات نہیں تھی ،وہ جانتا تھا کہ ایان علی ہفتے میں دو مرتبہ دبئی جاتی ہے
اور اسکے سامان کی کوئی خاص چیکنگ نہیں ہوتی اور کسٹم کا عملہ ہی اسکو ہینگر تک لے کے جاتا ہے ،سنئیر حکام اگئے اور انہوں نے اعجاز چوہدری کو ایک طرف لے جاکر کچھ سمجھانے کی کوشش کی ،اعجاز چوہدری اکھڑ گیا اور اپنی قانونی پوزیشن بتانے لگا ،نیز اس نے اس دوران سی اے اے اور نارکوٹیکس کے افسران کو بھی مطلع کیا ،دوسری ایان علی بے زاری سے صوفے پر بیٹھ کر مسلسل فون پر بات کرتی رہی ،اسی دوران کسٹم ہی کے کسی فرد نے میڈیا کو خبر دی اور چند گھنٹوں میں پورے میڈیا میں خبر پھیل گئی کہ مشہور ماڈل ایان علی پانچ لاکھ ڈالر سمگل کرتے ہوئے پکڑی گئی اور پکڑنے والا کسٹم انسپکٹر اعجاز چوہدری ہے ،بات چونکہ اب پھیل گئی تھی لہذا کسٹم حکام کو بھی مجبور ہوکر سٹینڈ لینا پڑا

،انہوں نے ایان علی کہ سفری دستاویزات اور ڈیٹا کی انکوائری کی تو صرف ایک سال میں ایان علی 42مرتبہ دبئی کا سفر کر چکی تھی ،ایان علی نے دوران تفتیش اقرار کیا کہ وہ اپنے ذاتی اخراجات اور شاپنگ کے لیے ڈالر ہی لے کر جاتی تھی ،یہ 43 ویں مرتبہ پکڑی گئی تھی، جب اس سے پوچھا گیا کہ اتنے ڈالر اسکے پاس کہاں سے آئے اور وہ ڈالر ہی کیوں لے کے جاتی ہے تو اسکے پاس صرف ایک جواب تھا ،یہ میری اپنی کمائی ہے ،ایان علی کی گرفتاری کے فورا بعد پیپلز پارٹی کی لیگل ٹیم نے اسکا کیس لیا، سردار لطیف کھوسہ اسکا وکیل بنا، ملک کے چوٹی کے وکیلوں نے بیٹھک کی اور مختلف قانونی نقاط اور پوائنٹس اکھٹے کئے گئے ان وکیلوں میں اعتزاز احسن بھی شامل تھے انہوں نے ایان علی کے کیس کی پوری پیروی کی، ہر ہر قدم پر وہ لطیف کھوسہ کو گائیڈ کرتے رہے خالانکہ یہ سو فیصد اوپن اینڈ شٹ کیس تھا، میڈیا سیل اورسوشل میڈیا نے ایان علی کا نام زرداری سے جوڑا، ٹاک شوز ہونے لگے، پیپلز پارٹی کے لیڈروں سے سوال جواب ہونے لگے تو وہ ٹاک شوز میں بلکل باولے ہوجاتے تھے، شرمیلا فاروقی سے لے کر شہلا رضا تک اور مصطفی کھوکھر سے لے کر سعید غنی تک نے مریم صفدر اور مرحوم کلثوم نواز کے کپڑے تک اتار دئیے،بہر حال ایان علی کی گرفتاری سے اس ریاست اور اسکے اداروں کا اصل امتحان شروع ہوا ،وہ جیل گئی ،پھر جب پیشیوں پر آتی تھی تو پورے سرکاری پروٹوکول کے ساتھ میک اپ کرکے آتی تھی ،اسے جیل کے فائیو سٹار بیرک میں رکھا گیا ،کمرے میں دنیا کی ہر سہولت موجود تھی ،وہ منرل واٹر پیتی تھی اور ناشتے میں امریکن و چائنیز فوڈ کھاتی تھی ،اسے ورزش کی مشینیں مہیا کی گئیں ،اسکا فون اور لیپ ٹاپ کسٹم حکام کے پاس تھا لہذا اسے ایک اور فون دیا گیا ،اسکی خدمت کے لیے پورے جیل کا عملہ وقف تھا ،ایان علی کے پورے کیس اور قید میں سب سے زیادہ چاندی وکیلوں کی ہوئی ،دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ فائدہ جیل حکام اور پولیس والوں کو ہوا ،تیسرے نمبر پر میڈیا تھا جس نے زرداری اور ملک ریاض دونوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا ساتھ شریفوں سے بھی زرداری کی مخالفت میں فائدہ اٹھاتے رہے ،ایان علی ملکی تاریخ کی پہلی قیدی تھی جسے جیل میں فائیو سٹار ہوٹل کی سہولیات دی گئی ،ایسی سہولیات ذوالفقار علی بھٹو جیسے شخص اور نصرت بھٹو و بے نظیر بھٹو سمیت آصف زرداری اور نواز شریف تک کو نہیں دی گئی تھیں ،حتی کہ جتنی بھی بڑی بڑی سیاسی شخصیات جیل گئی ہیں انہیں یہ سہولیات نہیں ملیںدوران تفتیش جو کچھ ہوا اس سے ہر شخص باخبر ہے ،لیکن اس سب کے بیچ جو سب سے زیادہ متاثر ہوا وہ کسٹم انسپکٹر اعجاز چوہدری تھا ،اسکے افسران اسے ملامت کرتے ،اسکے کولیگز اسے نفرت بھری نظروں سے دیکھتے ،

دوران جرح ایان علی کے وکیل اسے گالیاں اور جھڑکیاں دیتے ،عدالت کے احاطے میں اسے دھمکیاں دیتے ،اسے نا معلوم نمبروں سے کالیں آتی ،اسے قتل کرنے کی دھمکیاں دی جاتی لیکن وہ اپنی جگہ کھڑا رہا ،اسے ہر قسم کا لالچ دیا گیا لیکن وہ کیس سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹا ،اسکی ترقی روک دی گئی اور بجائے اسکے کہ اسے انعام دیا جاتا ،اسے پابند کیا کہ جب تک کیس کا فیصلہ نہی ہوتا وہ کسٹم کاونٹر پر خدمات نہیں دے گا ۔اس نے تمام ثبوت اکھٹے کئے اور عدالت کو دے دئیے، جب فرد جرم لگنے کی تاریخ قریب آگئی اور اسے بطور عینی گواہ پیش ہونا تھا ،اسے اپنے گھر کے سامنے دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے قتل کردیا ،پولیس آئی اور اسکی لاش پوسٹ مارٹم کے لئے لے گئی ،چند دن میڈیا پر ہاہا کار رہی پھر تھانہ وارث خان پولیس نے اسکی قتل کو ڈکیتی کی واردات قرار دے کر فائل بند کردیا ،کسٹم حکام بھی بلکل خاموش ہوگئے ،اسکی بیوی سر پیٹ پیٹ کر تھانوں عدالتوں میں دھاڑیں مارتی رہی لیکن اسے ہر طرف سے دھتکار دیا گیا ،اسکے ساتھ اسکا کم سن بیٹا عدالتوں کے احاطے میں بدترین گرمی میں رلتا رہتا لیکن کسٹم حکام اور اعجاز چوہدری کے ساتھی اس سے نظریں چرا کر ایک طرف ہوجاتے ،اعجاز چوہدری مر گیا تھا

۔عدالت نے ایان علی کو منی لانڈرنگ کیس میں اور اعجاز چوہدری کے قتل کے ایف آئی آر میں نامزد ملزم کی حیثیت سے بری کردیا اور اسے پاسپورٹ واپس دے دیا ،آج ایان علی دبئی کے سب سے مہنگے ترین علاقے میں رہائش پذیر ہے رہا اعجاز چوہدری تو وہ قبر کے اندھیروں میں اتر گیا ،اسکی بیوی اور کم سن بیٹا تین مرلے کے مکان کی بوسیدہ دیواروں پر اسکا عکس ڈھونڈتے ہیں ،اسکے شیو کا سامان اور تولیہ اور وردی اسکی بیوی نے سنبھال کر رکھے ہیں لیکن اس نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنے بیٹے کو کسٹم میں بھرتی نہیں کرائے گی ،اسکے سنگی ساتھی اسکی خالی کرسی کو آج بھی دکھ سے دیکھتے ہیں لیکن وہاں کے کسٹم انسپکٹر اب اعجاز چوہدری والی غلطی نہیں دہرائیں گے ۔ایسا ہے میرے دیس کا قانون اور انصاف ان اشرافیہ کی رکھیل۔ انکے گھروں کی لونڈی۔سانحہ ماڈل ٹاؤن اورسانحہ ساہیوال کا واقعہ جن بچوں کے سامنے انکے والدین کو شہید کردیا

گیا اور ایک بچی کے ہاتھ میں گولی ماری گئدنیا دھوکہ ہے دولت فساد ہے اصلی زندگی تو موت کے بعد یے جو اعجاز چوہدری تو گزار رہا ہے باقیوں نے گزارنی ہے۔سردار لطیف کھوسہ اور اعتزاز احسن دونوں آج کل کسے انصاف دلا رہے ہیں ..؟روح کانپتی سن کر سہنے والوں نے کیسے سہا ہوگا یہ سب۔۔۔۔ گند اور غلاظت میں لپٹے حسین چہرے گناہوں کی دلدل میں گھرے ہوئے لوگ انکا ساتھ دینے والے دلال اور میر جعفر کھا گئے پاکستان کومیرے پاس ان آنسوؤں اور بدعا کے سوا کچھ نہیں یااللہ جو اس ظلم میں شامل تھا ان کو اس دنیاں میں ہی عبرت کا نشان بنا آمین ثم آمین یا رب العالمینپاکستانی اشرافیہ کی ایک تلخ حقیقت انصاف یہاں ٹکے ٹکے پر بکتا ھے اور قانون طاقتوروں کے گھر کی لونڈی ھے۔










