سینٹ مچھلی منڈی سپریم کورٹ اور ھای۔ کورٹ کے ججز واوڈا کے نشانے پر شیری رحمان مکمل طور پر ججز کی کردار کشی کرانے میں سھولت کار بن گئی

وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے عدلیہ کا معاملہ سینیٹ سیکریٹریٹ کو بھیجنے کی تجویز دے دی۔قائممقام چیئرمین سینیٹ سیدال خان اور پزائیڈنگ افسر شیری رحمٰن کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس منعقد ہوا، اس دوران ؒخطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس صاحب ایک قابل احترام ، متحمل مزاج جج ہیں، انہوں نے قانون کی بات کی، اس میں ان کی خدمات سب کے سامنے ہین، جو انہوں نے ماضی میں جھیلا وہ بھی ہمارے سامنے ہے ہمیں تاریخ نہیں بھولنی چاہیے، ایمل ولی نے صحیح کہا کہ جس کہانی کا آغاز 1947 میں ہوا وہ ابھی بھی جاری ہے، مجھے کوئی خوشی نہیں کہ سیاسی لوگ جیلوں میں رہیں، ہم 24 گھنٹے ایک سے دوسری عدالت میں جاتے تھے تو یہ سب باتیں چھوڑیں اور آگے کی سوچیں۔آئین کسی عدالت کو وزیر اعظم کی طلبی کا اختیار نہیں دیتا، وزیر قانوناعظم نذیر تارڑ نے کہنا تھا کہ سیاست میں خدمت بھی شامل ہے، ہمیں ایک دوسرے سے گفت و شنید ہونا چاہیے، کیا ہمیشہ سیاستدان ہی ہمیشہ سزائیں بھگتیں گے کہ کبھی کسی وزیر اعظم کو لٹکا دیں تو کسی کو گھر بھیج دیں۔انہوں نے بتایا کہ تنقید ہم پر بھی ہوتی ہے لیکن جو ادارے کام کر رہے ہیں وہ بھی دائرہ اختیار میں رہ کر کام کریں، کل مین نے پریس کانفرنس کی اور میں اپنی بات پر کھڑا ہوں، آئین پاکستان کسی عدالت کو یہ اختیار نہیں دیات کہ وہ غصے میں جو دل میں آئے وہ کہہ دے، وہ کہے کہ ابھی یہ کام ایسے نا ہوا تو وزیر اعظم یا کابینہ کو یہاں بٹھا دوں، یہ منتخب نمائندے ہیں، آئین کسی عدالت کو وزیر اعظم کی طلبی کا اختیار نہیں دیتا، یہ کیا طریقہ ہے عدالت کرنے کا، آپ فیسلوں کے ذریعے جو کرنا چاہتے ہیں کریں یہ شرط تو نہیں کہ سامنے ساری کابینہ یا وزیر اعظم کو سب کام چھروا کے وہاں پہ بٹھا دیں، یہ ادارے عوام کی طاقت کے ذریعے بنتے ہیں، پارلیمان سپریم ادارہ ہے، عوام نے اسمبلی منتخب کی اور ایوان بنایا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے حقوق کی حفاظت کرنی ہے، کسی شخص کے بارے میں کہنا کہ وہ فلاں کا ایجنٹ ہے تو وہ غلط ہے۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چوہدری نے کہا کہ مجھے عدالت سے معافی نہیں ملی لیکن جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن مل گئی۔ان کا کہنا تھا کہ میں یہاں تقریر نہیں آپ بیتی سنانا چاہتا ہوں کہ کیسے پاکستان میں سلیکٹو توہین عدالت کے کیسز لگتے ہیں، مساوات کا کوئی قانون نہیں اور کیسے خاص لوگوں کو اس کا نشانہ بنایا جاتا ہے، پانامہ کے دوران میں کیس دیکھنے جاتا تھا اور باہر آکر میڈیا کو بتاتا تھا ، اپنی رائے کا اظہار کرتے تھے، مجھے بھی توہین عدالت کا نشانہ بنایا یا کیونکہ میں اس وقت ایک نظریے پر کھڑا ہوا تھا، میرے خلاف نوٹس اس بات پر لیا گیا کہ میں نے جلسے میں کہا تھا کہ پی سی او کے ججز کو نکالو، اس نوٹس پر کوئی بھی میرا وکیل بننے کو تیار نہیں تھا کیونکہ وہ کہتے تھے کہ ہم عدالت کا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتے۔ان کا کہنا تھا کہ عاصمہ جہانگیر نے میرا کیس لیکن ان کا انتقال ہوگیا، پھر کامران مرتضی نے میرا کیس لیا، میرے جیسے کے لیے کوئی معافی نہیں تھی، پوری دنیا میں توہین عدالت کا قانون ختم ہوچکا لیکن آج بھی ہم انسیویں صدی کے ہتھکنڈے اس لیے استعمال کرستے ہین تاکہ کوئی بول نا سکے۔طلال چوہدری نے کہا کہ فیصل واڈا کے ساتھ میں بات نہیں کرتا کیونکہ میرا ان سے شدید اختلاف ہے لیکن میں سیاسی کارکن کے طور پر بزدل نہیں، پارلیمان مدر آف انسٹی ٹیوشن ہے لیکن ہمیشہ ہم نے تحمل سے کام لیا، ملک میں لگتا ہے کہ جیسے ادارے آمنے سامنے ہیں، درگزر کا اصول عدالت کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے، ایسے نوٹس سے عدالت کے وقار میں اضافہ نہیں ہوگا، میری گزارش ہے کہ اس صورتحال میں عدالت اپنے فیصلوں سے وقار بلند کرے، اگر سسلین مافیا، پراکسی جیسے الفاط کہیں تو اسے کون برداشت کرے گا؟ان کا کہنا تھا کہ جب نواز شریف کا کیس چل رہا تھا تو ثاقب نثار نے مجھے پیغام بھجوایا کہ نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف بیان دو گے تو پارلیمنٹ جاؤ گے ورنا جیل جاؤگے، ایک اور بات یہ ہوئی کہ میری رییو پٹیشن لگی تھی اسی دن جنرل باجوہ کے ایکسٹینشن کا کیس بھی لگا ہوا تھا تو میرے جیسے سیاسی کارکن کو معافی نہیں ملی مگر عدالت سے جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن مل گئی، کیا عدالت کا وقار توہین عدالت دینے سے بلند ہوگا، ہم لڑنا نہیں چاہتے، ہم نے آپ کی عزت پر ھرف نہیں آنے دیا لیکن اس کام کو روکیں ابھی، بس۔انہوں نے اپنی تقریر کا اختتام ان الفاظ کے ساتھ کیا کہ:میں چپ رہا تو مار دے گا مجھے میرا ضمیر،گواہی دی تو عدالت میں مارا جاؤں گاقبل ازیں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما سینیٹر فیصل سبزواری نے کہا ہے کہ آئین صرف ججز کی نہیں بلکہ عوامی نمائندوں کی عزت کے حوالے سے بھی بات کرتا ہے، ہماری انفرادی اور مشترکہ عزتیں اچھالنے کا حق کسی کو نہیں ہونا چاہیے، پاکستان میں سلیکٹو (selective) انصاف تو دیکھا ہے مگر توہین میں بھی ججز صاحبان سلیکٹو رہتے ہیں، اگر آپ کسی مخصوص جماعت کہ ہیں تو آپ کو کھلی چھوٹ ہے کہ کچھ بھی کہہ دیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم قانون ساز اداروں میں بیٹھے ہیں ہمارا کام ہے قانون سازی کرنا کہ توہین کے بھی قواعد و ضوابط طے ہوں، یہ نا ہو کہ آج میرا موڈ اچھا نہیں تو فلاں جو بات تھی وہ توہین عدالت ہے۔سینیٹر نے فیصل واڈا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کو جج صاحبان نے کہا کہ یہ پراکسی ہیں، حامد خان صاحب نے اپنی کتاب میں ججز کی پراکسی کا ذکر کیا تو لکھنے والے اس بات کی دلیل پیش کرتے ہیں، ہاں فیصل واڈا پراکسی ہیں اس ایوان کے عوام کے اور تب بھی ان کو پراکسی کہا جائے کسی منفی معنی میں تو اس ایوان کے نمائندوں کی عزتوں پر بھی حرف اٹھتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہاں تو توہین توہین کا کھیل کھیلا جا رہا ہے، لوگوں کے لاکھوں ووٹ سے منتخب ہونے والے ممبر اسمبلی اور سینیٹرز کے علاوہ سب کی عزت ہے، آئین صرف ججز کی عزت کے حوالے سے بات نہیں کرتا وہ عوامی نمائندوں کی عزت کے حوالے سے بھی بات کرتا ہے، ٹی وی پر صبح سے شام تک ریمارکس کا کھیل چلتا ہے، ہماری پگڑیاں اچھالی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک چیف جسٹس نے کہا کہ نسلا ٹاور کو گرا دو کہ وہاں امیر لوگ نہیں رہتے، تو یہ کونسا انصاف ہے اور میں اس پر بات کروں تو کہتے ہیں کہ توہین آمیز لہجہ ہو رہا ہے، میں لوگوں کے لیے بات نہ کروں ؟ آئین سازی اور آئین میں ترمیم کا اختیار پارلیمنٹ کے علاوہ کسی کے پاس نہیں، سابق چیف جسٹس نے آئین کو خود ہی دوبارہ لکھ دیا تھا آرٹیکل 62، 63 کے معاملے پر، آپ کے فیصلے سے آئین میں آپ کی مداخلت ہوئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کیا اس پارلیمان کے ارکان کو یہ آزادی ہے کہ جو سابق چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کوئی جج غیر شعوری طور پر نیک نیتی سے فیصلہ کردے اور بعد میں احساس ہوجائے کہ فیصلہ غلط ہے تو اسے درست کرے تو ہمیں تو یہ اختیار نہیں ہے، ان کے فیصلے سے پاکستانی تاریخ پر دھبہ لگا تھا۔انہوں نے کہا کہ کچھ دوستوں کے لیے 2018 اور 9 مئی سے پہلے پاکستان وجود میں ہی نہیں تھا، ہم تو ہنستے ہیں، سندھ اسمبلی میں ایک ممبر اسمبلی ہیں جن کو گرفتار کر کے ڈال دیا گیا تھا جیل میں لیکن ہمیں یہ آزادی نہیں تھی کہ ہمیں 50 کیسز میں ضمانتیں ملیں، ہمارا بھی دل کرتا ہے کہ ہمارے کیس کے فیصلے پشاور ہائی کورٹ میں ہوں۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ لاپتا افراد کو بازیاب ہونا چاہیے، ایم کیو ایم کے 113 لاپتا افراد کے حوالے سے کوئی عدالت نوٹس لینے کو تیار نہیں، اس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری شجاعت نے کہا تھا کہ ایم کیو ایم کے 30 کارکنان کو مار کر مارگلہ میں دفنا دیا، اب لے لیجئے نا نوٹس، ہمارا کام ہے نشاندہی کرنا ، پارلیمنٹ سپریم ہے تو ہم نشاندہی کریں گے ، آپ کی عزت ہماری عزت ہے لیکن آپ کی طرف سے پسند نا پسند کی بنیاد پر انصاف ہو گا تو لوگ آپ پر سوال اٹھائیں گے۔ججز کے کنڈکٹ پر بات نہیں ہو سکتی، ذیشان خانزادہسینیٹ میں عدلیہ پر تنقید پر تحریک انصاف نے ایوان میں احتجاج کردیا، سینیٹر ذیشان خانزادہ نے کہا کہ ججز کے کنڈکٹ پر بات نہیں ہو سکتی، اس پر شیری رحمن نے کہا کہ اگر رکن کا استحقاق مجروع ہو تا ہے تو بات ہو سکتی ہے۔قبل ازیں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ریلوے کا 68 فیصد بجٹ ملازمین کی تنخواہ اور پنشن میں لگ جاتا ہے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ریلوے کے باقی 20 فیصد بجٹ سے ریلوے کا آپریشن چلتا ہے، پنشن ریلوے کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، کرپشن پر کارروائی کی وجہ سے گزشتہ سال ریلوے آپریشنز سے کئی برسوں سے زیادہ آمدنی ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ ریلوے نے اپنی آمدن میں اضافہ کیا ہے، خواجہ سعد رفیق نے ریلوے میں بہت محنت کی، گزشتہ سالوں کی نصبت 2023- 2022 میں ریلوے آمدن میں 251 فیصد اضافہ کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پرویز مشرف کے دور میں رائل پام سمیت ریلوے کی قیمتی اراضی کی غلط ڈیل کی گئی، ہم کہتے ہیں کہ حکومتیں کاروبار نہ کریں، برٹش ریلویز نے اپنا 90 فیصد کاروبار پرائیویٹائز کیا ہوا ہے، ریلوے کے اخراجات میں کمی پر کام ہورہا ہے، ریلوے قومی ادارہ ہے، ٹرین غریب کی سواری ہے ہم سب نے اسے بہتر بنانا ہے۔ایک سوال کے جواب پر ان کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ کے تمام اراکین تنخواہ نہیں لے رہے، وزرا بجلی اور گیس کے بلز بھی اپنی جیب سے دیتے ہیں، وفاقی وزرا نے رضاکارانہ طور پر تنخواہیں چھوڑی ہیں ، وزرا کے پاس ایک سرکاری رہائش گاہ، 300 لیٹر پیٹرول ، ایک 1800 سی سی گاڑی، ایک ڈرائیور اور ایک سیکیورٹی گارڈ ہے، زیادہ تر وزرا اپنی ذاتی گاڑیاں استعمال کرتے ہیں۔قبل ازیں پیپلز پارٹی سینیٹر شہادت اعوان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اتنے لوگ 1965 کی جنگ میں نہیں مرے جتنے ٹرین حادثات میں جاں بحق ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ سنی اتحاد کونسل کے سینیٹر ہمایوں مہمند کا کہنا تھا کہ یہاں مینڈیٹ چوری ہوجاتا ہے آپ ریلوے میں چوری کی بات کررہے ہیں، ریلوے میں خسارے کا ذمہ دار کون ہے؟جن کے لیے عیش و آرام ہے وہ کیوں ایوان میں نہیں آتے؟ زرقا سہروردیبعد ازاں سنی اتحاد کونسل کی سینیٹر زرقا سہروردی نے کہا کہ ایوان میں وزرا نہیں آتے، ایوان کو بند کر دیں، ہم وزیر داخلہ اور وزارت داخلہ کے خلاف کچھ نہیں کہتے کہ کہیں ڈالا نہ آ جائے، جن کے لیے عیش و آرام ہے وہ کیوں ایوان میں نہیں آتے؟انہوں نے دریافت کیا کہ ریلوے کی نجکاری کرنی ہے، کیا این ایل سی کی نجکاری کی گئی؟ ریلوے کا سارا بزنس این ایل سی نے لے لیا ہے۔بعد ازاں کامسیٹ یونیورسٹی میں عبوری تعیناتیوں پر سینٹر زرقا سہروردی نے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کردیا۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک کی 60 جامعات کے وائس چانسلر نہیں ہیں کامسیٹ میں قوائد کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔اس پر وفاقی وزیر نے کہا کہ اعظم نذیر تارڑ کہ کامسیٹ ملک کی چند اچھی یونیورسٹیز میں سے ایک ہے، کامسیٹ کے سابق ریکٹر ڈاکٹر ساجد قمر ایک ماہ کی چھٹی پر کینیڈا گئے اور وہاں سے استعفی بھیج دیا، بعد ازاں سابق صدر عارف علوی نے ان کا استعفی منظور کیا۔انہوں نے بتایا کہ ریکٹر کے عہدے کے لیے 80 لوگ شارٹ لسٹ ہوئے اور ان کے انٹرویو کا مرحلہ گزشتہ ہفتے مکمل ہو گیا، 3 افراد کا پینل اب صدر کو بھیجا جائے گا جو کامسیٹ کے ریکٹر کی تعیناتی کر دیں گے، قائم مقام ریکٹر کامسیٹ نے رولز میں کوئی تبدیلی نہیں کی، ادارے کی سینیٹ کو رولز میں تبدیلی کا اختیار ہے، کوئی خلاف ورزی نہیں کی گئی، وائس چانسلرز کا نہ ہونا تشویشناک ہے، پنجاب میں یونیورسٹیز کے وی سی کی تعیناتی کے لیے سرچ کمیٹیاں قائم کر دی ہیں ، اشتہار دے دیے گئے ہیں۔وزیر داخلہ ٹی وی پر نظر آتے ہیں ایوان میں نہیں، محسن عزیزبعد ازاں سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ ہمارے وزیر داخلہ چلبل پانڈے کی طرح ہیں، وہ ٹی وی پر نظر آتے ہیں ایوان میں نہیں۔بعد ازاں پی آئی اے کی نجکاری اور فروخت کے حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس ایوان میں پیش کیا گیا، پیپلز پارٹی کی سینیٹر عینی مری نے کہا کہ پی آئی اے نے ماضی میں کئی ائیر لائنز کو کھڑا کیا، پی آئی اے میں ملازمین کی تعداد مسئلہ نہیں ہے، ملازمین کی تعداد دیگر ممالک کی ائیر لائنز سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں، پی آئی کو دانستہ طور پر تباہ کرنے کے لیے غلط انتظامی فیصلے کیے گیے۔انہوں نے دریافت کیا کہ اس وزیر پر آرٹیکل 6 کیوں نہیں لگا جنہوں نے کہہ دیا تھا کہ پی آئی اے کے پائلٹ جعلی ہیں، ہمیں نجکاری کی جلدی پڑی ہے، کوئی شفافیت نہیں ہے، حکومت پی آئی اے نجکاری کے بارے میں شفافیت کرے۔سینیٹ اجلاس کی صدارت کرنے والی سینیٹر شیری رحمٰن نے بتایا کہ پی آئی اے کے بزنس پلانز میں بتایا گیا تھا کہ ملازمین بوجھ نہیں تھے بلکہ فلیٹس اور روٹس کی کمی نقصان کا باعث بنا۔اس پر پیپلز پارٹی کے سینیٹر سینیٹر پونجو نے کہا ہم اپنے قومی اداروں کو بیچتے جا رہے ہیں، باقی تمام نجی ائیرلائنز تو بالکل ٹھیک چل رہی ہیں، ائیر عربیہ کہہ رہی کہ پی آئی اے ہمیں دی جائے، کیا ہم یہ پیغام دینا چاہ رہے ہیں کہ پاکستانی نااہل ہیں؟بعد ازاں پیپلز پارٹی کے سینیٹر کاظم علی شاہ نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کو فرخت نہ کریں بلکہ اسے پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ میں دے دیں، یہ تو چاہیں گے کہ پاکستان کو بیچ دیں۔استحکام پاکستان پارٹی کے رہنما و وفاقی وزیر نجکاری علیم خان نے بتایا کہ بات درست ہے کہ نچلے طبقے کے ملازمین کا قصور نہیں، زیادہ بھرتیاں جس نے کی قصور تو اس کا ہے، انتظامیہ درست کام نہیں کر رہی تھی تو کس کا کام تھا کہ انہیں تبدیل کرتی؟ مختلف اداروں میں پی آئی اے کا خسارہ بڑھتا گیا، پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب ہے، ہم نے دہائیاں لگائی ہیں پی آئی اے کو تباہ کرنے میں، پی آئی اے تباہی میں سب نے اپنا حصہ ادا کیا۔انہوں نے بتایا کہ حکومت کا کام بزنس کرنا نہیں ، سہولت دینا ہے، حکومت بزنس کرے تو یہی حال ہوتا ہے جو پی آئی اے کا ہے، آج ہمارے پاس جہاز نہ ہوں تو ملازمین زیادہ ہی لگتے ہیں، اس وقت صرف 18 جہاز چل رہے ہیں اور ان کے ساتھ دس ہزار ملازمین ہیں، یقین دلاتا ہوں جس دن نیلامی ہو گی یہ لائیو نشر ہو گی، نیلامی ساری قوم دیکھے گی، کسی کمپنی پر آپ کو لگتا ہے کہ قابل نہیں ہے تو آپ ہمیں کہیں، ابھی پری بڈنگ کا عمل چل رہا ہے ، اس کو شفاف رکھوں گا، ایک بھی چیز ایسی نہیں ہو گی جس پر شرمندہ ہوں۔بعد ازاں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ایمل ولی خان نے کہا کہ اس اجلاس کا کاغذات میں ایجنڈا تو کچھ اور ہے لیکن لگ یوں رہا ہے کہ اجلاس اس لیے بلایا گیا ہے کہ اس ایوان سے عدلیہ سے جوابی کلامی کریں، یہ معزز ایوان استعمال ہو رہا ہے، جو استعمال کر رہے ہیں ہر طرف ان کی بات تو نہیں ہوگی۔ایوان بالا میں رؤف حسن پر حملے کی رپورٹ بھی پیش کی گئی، رپورٹ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کی، انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ تہران گئے ہیں، وزیر داخلہ نے مجھے بریف کیا اور آئی جی کو ذمہ داری سونپی، رؤف حسن کے اپنے بیان کے مطابق ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور اسپیشل انویس ٹیگیشن ٹیم بنادی گئی ہے، رؤف حسن نے بتایا کہ انہیں اور ان سے ملتے جلتے لوگوں کا ایک پہلے بھی واقعہ ہوا لیکن معمولی سمجھ کر انہوں نے رپورٹ نہیں کیاان کا کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج فرانزک اور نادرا بھیج دی ہیں، حملہ آوروں کی شناخت کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، حکومت سنجیدگی سے اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے، سنجیدگی سے اس مقدمے کو لیا جا رہا ہے، ایف آئی آر میں اقدام قتل کی دفعات بھی لگائی گئی ہیں، عام طور پر ایسے مقدمات میں اقدام قتل کے دفعات شامل نہیں کیے جاتے، ہم اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر روف حسن پر حملہ کرنے والے خواجہ سرا ہی ہیں، کچھ چیزیں ایوان میں نہیں رکھ سکتا، حقائق سامنے رکھے تو لوگ بھاگ سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ اور کابینہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سمیت وزارت اطلاعات اندھیرے میں ائسکسو مکمل طور پر ناکام اربوں روپے کا نقصان

سپریم کورٹ اور شاہراہ دستور پر سرکاری دفاتر میں اندھیروں کا راج‘ بجلی غائب‘ ججز کے کنڈکٹ پر اظہار خیال کے لیے سینیٹ میں حکومتی ارکان کے لیے کھلی اجازت ہاؤس آف فیڈریشن سینیٹ آف پاکستان میں توہین عدالت کاقانون ختم کرنے کی تجویز اور اعلی عدلیہ کے ججز کے کنڈکٹ پر دوسرے روز بھی بہث جاری رہی‘ دوسری جانب عین اسی وقت شاہراہ دستور پر موجود ملک کی اعلی ترین آئینی عدالت سپریم کورٹ میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن ہوا‘ سپریم کورت کے علاوہ اعلی ترین سرکاری دفاتر کیبنٹ بلاک‘ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ‘ وفاقی وزارت اطلاعات ونشریات بجلی کے بریک ڈاؤن کی وجہ سے اندھیرے میں ڈوب گئے‘ اسلام آباد کو بجلی فراہم کرنے والا ادارہ آئیسکو مکمل طور پر ناکام ادارہ بن کر رہ گیا ہے‘ ججز کے کنڈکٹ پر سینیٹ میں بحث کے دوران ایوان کئی بار مچھلی منڈی بنا رہا‘ اپوزیشن ارکان نے ججز کے کنڈکٹ کے بارے میں حکومتی ارکان کی تقاریر کو ذاتی ایجنڈا قرار دے دیا‘ سینیٹر محسن لغاری نے کہا کہ ایوان میں ذاتی ایجنڈے پر بات نہیں ہوسکتی سینیٹ ججز کے کنڈخت پر اظہار خیال کے دوران مسند نشین سینیٹر شہر بانو شری رحمان حکومتی ارکان کے لیے شیری رحمان مکمل طور پر ججز کی کردار کشی سے متعلق اظہار خیال کے دوران سہولت کار بنی رہیں

انگلینڈ اور پاکستان کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان چار ٹی 20 انٹرنیشنل میچوں پر مشتمل سیریز کا پہلا میچ 22مئی کو ہیڈنگلے لیڈز میں کھیلا جائے گا ۔پاکستان کی ٹیم ان دونوں انگلینڈ میں موجود ہے

انگلینڈ اور پاکستان کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان چار ٹی 20 انٹرنیشنل میچوں پر مشتمل سیریز کا پہلا میچ 22مئی کو ہیڈنگلے لیڈز میں کھیلا جائے گا ۔پاکستان کی ٹیم ان دونوں انگلینڈ میں موجود ہے جہاں وہ میزبان برطانوی ٹیم کے خلاف چار ٹی ٹونٹی میچوں پر مشتمل سیریز کھیلے گی۔پاکستانی ٹیم مایہ ناز بیٹر بابر اعظم کی زیر قیادت میدان میں اترے گی ،سکواڈ میں شامل دیگر کھلاڑیوں میں فخر زمان،صائم ایوب،افتخار احمد،عرفان خان،آغا سلمان،عماد وسیم،شاداب خان،اعظم خان،محمد رضوان ،عثمان خان ،ابرار احمد،حارث رؤف،حسن علی،عباس آفریدی،محمد عامر،نسیم شاہ اورشاہین آفریدی شامل ہیں ۔ انگلینڈ ٹیم کو جوز بٹلرلیڈ کریں گے جبکہ دیگر کھلاڑیوں میں ہیری بروک،بین ڈکٹ،معین علی،ول جیکس،لیام لیونگسٹون،ثام کرن،جونی بیرسٹو،فلپ سالٹ،جوفرا آرچر،ٹام ہارٹلی،کرس جارڈن،عادل رشید،ریس ٹوپلی اورمارک ووڈشامل ہیں ۔انگلینڈ اور پاکستان کی ٹیموں کے درمیان چار میچوں کی سیریز کا دوسرا میچ 25 مئی کو برمنگھم ، تیسرا میچ 28 مئی کو کارڈف میں جبکہ چوتھا اور آخری ٹی ٹونٹی میچ 30 مئی کو لندن میں کھیلا جائے گا۔

سپریم کورٹ اور ھای کورٹ میں کالی بھیڑوں کو نکالنا ھو گا فیصل واوڈا محسن آختر کیانی اور ا طھر من اللہ پر شدید تنقید سینٹر نے 27 منٹ تک ججز پر شدید بمباری کی تفصیلات بادبان ٹی وی پر

توہین عدالت کے قانون کو منسوخ کرنے اور دہری شہریت رکھنے والے شخص کو سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا جج تعینات کرنے پر پابندی عائد کرنے کے لیے بل قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروادیا گیا۔ توہین عدالت قانون منسوخی اور دہری شہریت رکھنے والے شخص کو سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا جج تعینات کرنے پر پابندی عائد کرنے سے متعلق بل جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمٰن (جے یو آئی ف) کے رکن نور عالم خان نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں بل جمع کرایا ہے۔

ل کے متن کے مطابق توہین عدالت کے مرتکب کو سزا دینے عدالت کے اختیارات کو ریگولیٹ کرنے جاری کیا گیا تھا۔اس میں کہا گیا کہ توہین عدالت آرڈیننس آئین سے مطابقت نہیں رکھتا، آرڈیننس مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا، متبادل قانون سازی تک توہین عدالت کا قانون منسوخ کیا جائے۔دُہری شہریت والے شخص کی بطور جج تعیناتی پر پابندی کے بل میں آئین کے آرٹیکل 177، 193 اور 208 میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔بل میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ دہری شہریت رکھنے والے شخص کی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ می بطور جج تعیناتی پر پابندی عائد کی جائے۔اس میں کہا گیا ہے کہ دہری شہریت اور دوسرے ملک کی سٹیزن شپ رکھنے والاسپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کاجج نہیں ہوسکتا، اسی طرح دہری شہریت یا کسی ملک کی سٹیزن شپ والا کسی عدالت میں افسر یا ملازم تعینات نہیں ہوسکتا۔اس میں کہا گیا ہے کہ جن ججز کی دہری شہریت ہو وہ اپنے اصل ملک کے مفاد کو داؤ پر لگاتے ہیں ۔ آئین کے تحت ججز کی ریاست سے وفاداری کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔

“کھسرا فورس” اب کون بچ پائے گا؟ کھسروں نے ترجمان تحریک انصاف روف حسن کو زدکوب کیا کھسروں کی جانب سے مزید حملوں کا خطرہ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

ایوان بالا سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اور پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز نے رؤف حسن پر حملے کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ روف حسن پر حملہ کرکے انھیں زخمی کیا گیا ہے، یہ واقع سنجیدہ معاملہ ہے بات یہاں تک آگئی ہے کہ سب سے بڑی جماعت کے ترجمان پر حملہ کیا گیا ہے۔پی ٹی آئی کے ارکان نے ایوان میں کے شیم شیم کے نعرے، پی ٹی آئی سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم واک اوٹ کریں گے، رؤف حسن پر حملے کے خلاف پی ٹی آئی کے ارکان نے سینیٹ سے واک آوٹ کردیا۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ واقعے پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائےگی، رؤف حسن پر حملے کے معاملے پر وزیر داخلہ سے رابطہ کروں گا۔سینیٹر فیصل واڈا نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب آئین وقانون کی بالادستی پر ایک ہیں، رؤف حسن پر حملے کی مذمت کرتا ہوں۔

سیکٹر کمانڈر چاند پر ھے پیش ھو اج نہ پیش ھونے کی صورت میں جنرل ندیم انجم اور جنرل عبدالماجد طلب جسٹس محسن آختتر کیانی ان ایکشن مکمل تفصیلات کے لئے کلک کرے

سیکٹر کمانڈر کوئی چاند پر رہتا ہے، بہت بڑی طاقت ہے؟ کیا حیثیت ہے اُس کی؟ ایک گریڈ 18 کا بندہ ہے، آپ نے اسے کیا بنا دیا ہے،ان کے تابع مت ہوں،ملک چلنا ہے تو اُن کے بغیر بھی چل جائے گا،جسٹس محسن اختر کیانی کے ریمارکس۔۔۔اسلام آباد ہائیکورٹ، احمد فرہاد کی گمشدگی کا کیسفرہاد آئی ایس آئی کے پاس نہیں، وزارت دفاع جسٹس محسن اختر کیانی نے سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری داخلہ کو کل طلب کر لیا اس کے بعد وزیراعظم اور کابینہ کو بھی بلاوں گا فیصلہ کراوں گا ملک قانون چلائے گا یا ایجنسیاں، جسٹس محسن اختر کیانیمعاملہ اب آئی ایس آئی کے دائرہ اختیار سے آگے نکل چکا ہے،یہ ان کی ناکامی ہے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں کوئی کام نہیں کر سکتے، دوسری صورت میں ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی ایم آئی پیش ہوں،جسٹس محسن اختر کیانی کے ریمارکس

بجلی کا ایک یونٹ 85 روپے کا عوام زندہ دفن۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

بجلی کی نئی قیمت 85 روپے ہو جانے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق مہنگائی کی چکی میں بری طرح س جانے والی عوام پر مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت نے مہنگائی کا ایٹم بم گرانے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ وفاقی حکومت ملک کے بجلی صارفین پر ایسا بھاری بوجھ ڈالنے کی تیاریاں کر رہی ہے، جو ممکنہ طور پر عوام کیلئے ناقابل برداشت ہو سکتا ہے۔حکومت نے آئی ایم ایف کو بجلی صارفین کیلئے جولائی میں 3 اضافے کرنے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔ حکومت کے اس اقدام سے بجلی کی فی یونٹ قیمت جو پہلے ہی 60 سے 65 روپے ہے، وہ قیمت 80 سے 85 روپے ہو جائے گی۔ بجلی استعمال کرنے والے صارفین پر آئندہ مالی سال کے دوران 347 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالا جا سکتا ہے۔سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی جانب سے آئندہ مالی سال کے دوران بجلی صارفین پر 347 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالنے کی باقاعدہ سفارش بھی کر دی گئی ہے۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے بجلی مہنگی کرنے کے حوالے سے نیپرا میں ایک درخواست دائر کی ہے۔ درخواست میں آئندہ مالی سال کیلئے بجلی خریداری کا ریٹ متعین کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے اپنی درخواست میں تجویز دی ہے کہ بجلی کمپنیوں کو آئندہ مالی سال کے دوران فی یونٹ بجلی اوسطً 27 روپے 11 پیسے کی قیمت میں فروخت کی جائے، جبکہ بجلی کمپنیاں اس قیمت میں مزید ٹیکسز اور دیگر رقوم شامل کر کے صارفین کو بجلی فروخت کریں۔جبکہ یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ ایک جانب حکومت روپے کی قدر بہتر ہونے کا دعوٰی تو کر رہی ہے، وہیں دوسری جانب سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے نیپرا کو یہ تجویز دی ہے کہ بجلی کی خریداری کرتے وقت ڈالر کی قیمت 300 روپے رکھی جائے۔ جبکہ ایک انکشاف یہ بھی ہوا ہے کہ صارفین سے نجی بجلی گھروں کے کرایے کی مد میں بھی بھاری رقوم وصول کی جائیں گی۔ نیپرا کو تجویز دی گئی ہے کہ کپیسٹی چارجز کے نام پر بجلی صارفین سے 17 روپے 42 پیسے فی یونٹ تک وصول کیے جائیں۔

ٹی ٹوینٹی ولڈکپ امریکہ اور ویسٹ انڈیز میں دھشت گردی کا خطرہ

ٹی20 ورلڈکپ کے دوران امریکا اور ویسٹ انڈیز میں دہشت گردی کا خطرہ ہے اور شدت پسند تنظیم داعش نے ورلڈ کپ میچز میں حملوں کی دھمکی دی ہے۔ امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ 9جون کو نیو یارک میں پاک بھارت میچ میں دہشت گردی کا خطرہ ہے جبکہ داعش نے ویسٹ انڈین بورڈ کو بھی دھمکی بھیجی ہے۔امریکی اور ویسٹ انڈیز کے سیکیورٹی اداروں نے دھمکی موصول ہونے کے بعد ورلڈکپ کے لیے سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کردیے ہیں۔امریکی سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ٹی20 ورلڈکپ کا آغاز آئندہ ماہ دو جون سے امریکا اور ویسٹ انڈیز میں ہوگا۔