Monthly Archives: October 2024
پنجاب کے تمام سکولز کالجز بند وزیر اعلی ان ایکشن دفعہ 144 نافذ۔حالات کشیدہ صورتحال نازک
پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ۔ تفصیلات کے مطابق مریم نواز کی پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں ہر قسم کے احتجاج، جلسے جلوسوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق صوبے بھر میں 2 روز کیلئے دفعہ 144 نافذ رہے گی۔ فیصلے کے تحت صوبے میں کسی بھی مقام پر احتجاج، جلسے اور جلوسوں کی اجازت نہیں ہو گی۔پنجاب حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ جب ایک جانب لاہور کے نجی کالج میں طالبہ کے مبینہ ریپ کے واقعے پر طلبا احتجاج کر رہے ہیں تو دوسری جانب تحریک اںصاف نے بھی مجوزہ آئینی ترمیم کیخلاف ملک بھر میں احتجاج کی کال دے دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے دستور میں ترمیم کے حکومتی منصوبے کی بھرپور مزاحمت کا فیصلہ کرلیا ہے، جس کے تحت پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے آئین میں ترمیم اور بانی چیئرمین عمران خان کو بدترین سلوک کا نشانہ بنائے جانے کے خلاف جمعتہ المبارک کو ملک گیر سطح پر شدید احتجاج کا اعلان کیا ہے۔پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کے اعلامیہ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے آئینی ترمیم کے حکومتی منصوبے کے خلاف جمعتہ المبارک کو ملک گیر سطح پر شدید احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ سیاسی کمیٹی کی جانب سے اڈیالہ میں قید بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے روا رکھی جانے والی زیادتیوں کی شدید مذمت کی گئی۔ عمران خان کے بنیادی حقوق کی اور ان تک اہلِ خانہ، وکلاء اور تحریکی قائدین کی رسائی کی فوری بحالی کا بھی مطالبہ کیا گیا۔تمام ریجنل اور مقامی تنظیمات کو تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز پر نمازِ جمعہ کے بعد بھرپور مگر پُرامن احتجاج کی ہدایت کی گئی ہے۔ آئینی ترمیم کے ذریعے دستور کو مسخ کرنے کی حکومتی کوشش کو کسی طور پر قبول نہ کرنے پر مکمل اتفاق کیا گیا۔ آئین کی بالادستی پر یقین رکھنے والے تمام طبقات کو پرامن احتجاج میں شرکت کی اپیل کی گئی ہے۔ اجلاس میں پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں ترمیم کا راستہ روکنے کیلئے بھی ہر ممکن کوشش پر اتفاق کیا گیا۔اعلامیہ کے مطابق سیاسی کمیٹی کی جانب سے بانی چیئرمین عمران خان کی بہنوں علیمہ خانم اور عظمیٰ خانم کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ انتظار حسین پنجوتھہ ایڈووکیٹ، اعظم سواتی اور تحریک انصاف بلوچستان کے صدر سمیت تمام گرفتار قائدین، کارکنان اور اراکینِ پارلیمان کی فوری رہائی پر بھی زور دیا گیا ہے۔
ایران نے غیر قانونی طور داخل ھونے والے 290 افغان باشندے ھلاک کر دئے
ایرانی صوبے سیستان بلوچستان میں فائرنگ سے 200 سے زیادہ افغان شہری جاں بحق ہوگئے۔ افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ افغان شہری غیرقانونی طریقے سے ایران میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایران میں داخل ہونے والے افغان شہریوں کو ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا۔ایرانی انسانی حقوق کے گروپ کا کہنا ہے کہ ایران میں داخلے کی کوشش کرنے والے افغانوں کی تعداد 300 تھی۔ ایرانی بارڈر گارڈز نے پہاڑوں میں چھپ کر افغان شہریوں کو نشانہ بنایا۔انسانی حقوق گروپ نے یہ بھی بتایا کہ ایرانی بارڈر گارڈز کی فائرنگ سے صرف 50 افغانی بچ سکے۔واقعے کے ایک عینی شاہد افغان باشندے کا کہنا ہے کہ ہمیں ایران کے علاقے کلگان سراوان میں نشانہ بنایا گیا۔ ہمارے قافلے میں 300 افراد تھے جن میں سے 270 یا 280 مارے گئے۔ادھر ترجمان افغان حکومت ذبیح اللّٰہ مجاہد کا کہنا ہے کہ افغان حکومت واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
وفاقی کابینہ کا اھم اجلاس ملتوی ائینی ترمیم کھٹائی میں
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کا اجلاس ملتوی کردیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ اجلاس ملتوی کئے جانے سے وزرا کو آگاہ کردیا گیا ہے۔ اجلاس کے نئے شیڈول سے بعد میں آگاہ کیا جائے گا ۔قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب کیا تھا۔ اجلاس میں 26ویں آئینی ترمیم کے مسودے کی منظوری دیے جانے کا امکان تھا۔
سابق وزیراعظم نوازشریف کی رہائشگاہ پر اہم مشارتی اجلاس اجلاس میں سربراہ جےیوآئی مولانا فضل الرحمان، صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہبازشریف شریک ملاقات میں مولانا اسعد محمود، ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیرداخلہ محسن نقوی، وزیرقانون اعظم نذیر تاڑڑ وزیراعلی پنجاب، گورنر پنجاب شریک

سابق وزیراعظم نوازشریف کی رہائشگاہ پر اہم مشارتی اجلاس اجلاس میں سربراہ جےیوآئی مولانا فضل الرحمان، صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہبازشریف شریک ملاقات میں مولانا اسعد محمود، ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیرداخلہ محسن نقوی، وزیرقانون اعظم نذیر تاڑڑ وزیراعلی پنجاب، گورنر پنجاب شریک
سابق ڈائریکٹر جنرل ای ایس ای انتقال کر گئے . جنرل جاوید ناصر 1991 سے 1993 تک ای ایس ای کے سربراہ رہے
فوج میں بڑے اور اھم تبادلے
گل گئی مک منجی گئی ٹھک مولانا فضل الرھمان نے کیا کھا تفصیلات کے لئے بادبان نیوز کو کلک کریے
پاکستان پیپلزپارٹی اور جمعیت علمائے اسلام نے مجوزہ آئینی ترامیم کے مسودے پر اتفاق کرلیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر نواز شریف سے ملاقات کرکے مکمل اتفاق رائے کی کوشش کریں گے۔ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری اور جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بلاول ہاؤس میں پریس کانفرنس کی، اس موقع پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم مولانا فضل الرحمان کے شکرگزار ہیں، کامیاب آئین سازی میں ہمیشہ جے یو آئی اور پی پی پی کا کردار رہا ہے، مزید اتفاق رائے بنانے کی ضروررت ہے، کل نواز شریف سے مولانا صاحب مل رہے ہیں اور ہمیں بھی کھانے کی دعوت دی گئی ہے، پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میں بلاول ہاؤس میں ملاقاتی کے طور پر نہیں مہمان کے طور پر بھی آیا ہوں، ہم دو جماعتوں کا مسودہ پر اتفاق ہوگیا ہے اور کل نواز شریف سے ملاقات ہے اور پاکستان تحریک انصاف کی قیادت سے بھی ملاقات کروں گا اور کوشش کریں گے کہ آئینی ترمیم متفقہ طور پر منظور کروائی جائے، انہوں نے کہا کہ پہلے مسودے کو میں نے مسترد کیا تھا اور آج بھی مسترد کرتا ہوں، پی پی پی اور ہم نے ڈرافٹ بنایا ہے، مسلم لیگ (ن) سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں کہ جمہوریت کو طاقت ور بنانا ہے اور آئین کو بچانا ہے، پارلیمنٹ کو آئندہ کے لیے مضبوط کرنا ہے، اس موقع پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ مولانا صاحب کی خواہش ہے کہ پی ٹی آئی سمیت تمام پارلیمانی جماعتوں سے مشاورت کی جائے، اس سے بہتری آئے گی اور کمزوری نہیں آئے گی، ہمارا زور صرف اتنا ہے کہ عوام کے مسائل کا حل نکالا جائے اور یہ خوش خبری سب سے شیئر کرنا چاہ رہا تھا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مولانا صاحب نے میرے بڑوں کے ساتھ کام کیا ہے، کل نواز شریف سے مل رہے ہیں، مسلم لیگ(ن) سرگرم نہیں تھی اس پر اتفاق نہیں کرتا کیونکہ ان کا اپنا طریقہ ہے اور ہمارا اپنا طریقہ ہے، انہوں نے یہ کہا کہ میں وکلا، سول سوسائٹی سیاسی تنظیموں سے ان پٹ لے رہا ہوں، میں ان پٹ اور تجویز لینے کے لیے تیار ہوں، میں چاہوں گا کہ بلیک کوٹ کے دباؤ میں آکر جس طرح انیسویں ترمیم منظور کروائی وہ آئندہ نہ ہو، اٹھارویں ترمیم کو جب ہم متعارف کروا رہے تھے تو ایک مہم چلی تھی، اس وقت ریاست کو ماں کا کردار ادا کرنا تھا، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم نے اس پراسیس میں کچھ قربانیاں دیں، اس وقت سیاسی ماحول سے سیاسی راستہ نظر آ رہا ہے
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ( آئی سی سی ) نے ٹیسٹ پلیئرز کی رینکنگ جاری کردی۔آئی سی سی کی جانب سے جاری ٹیسٹ پلیئرز کی نئی رینکنگ میں انگلینڈ کے جوروٹ کی پہلی پوزیشن برقرار ہے
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ( آئی سی سی ) نے ٹیسٹ پلیئرز کی رینکنگ جاری کردی۔آئی سی سی کی جانب سے جاری ٹیسٹ پلیئرز کی نئی رینکنگ میں انگلینڈ کے جوروٹ کی پہلی پوزیشن برقرار ہے جب کہ نیوزی لینڈ کے کین ولیمسن دوسری اور بھارت کے یشسوی جیسوال 2 درجےبہتری کےبعد تیسری پوزیشن پر آگئے ہیں۔رینکنگ میں بھارتی ٹیم کے سابق کپتان ویرات کوہلی 6 درجہ ترقی کے بعد چھٹے نمبر پر پہنچ گئے جب کہ قومی ٹیم کے بیٹر محمد رضوان ایک درجہ بہتری کے بعد ساتویں نمبرپر اور بابراعظم ایک درجہ تنزلی کےبعد 12 ویں پوزیشن پر چلے گئے ہیں۔آئی سی سی ٹیسٹ پلیئرز رینکنگ جاری: بابر اور شاہین کی تنزلی، کوہلی کی ترقیٹیسٹ بولرز کی رینکنگ ٹیسٹ ٹیم کی نئی بولنگ رینکنگ میں بھارت کے جسپریت بمرا پہلے نمبر پر براجمان ہیں۔اس رینکنگ میں بھارت کے روی چندرن ایشون کی دوسری پوزیشن برقرار ہے جب کہ قومی ٹیم کے فاسٹ بولر شاہین آفریدی 4 درجہ تنزلی کے بعد 14 ویں نمبرپرچلےگئے ہیں۔آل راؤنڈرز کی رینکنگٹیسٹ آل راؤنڈرز میں بھارت کے رویندرا جڈیجا کی پہلی پوزیشن برقرار ہے، اسی طرح روی چندرن ایشون کی دوسری اور ایک درجہ بہتری کے بعد جوروٹ کی تیسری پوزیشن ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم ہیڈ آف گورنمنٹ کے 23 ویں اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا جس کے مطابق ارکان ممالک کے درمیان آٹھ دستاویزات پر دستخط کیے گئے، ارکان نے 2024-25 کی چیئر چین کو دینے کی حمایت کردی۔تفصیلات کے مطابق ایس سی او ارکان ممالک کے رہنماؤں نے ایس سی او کے بجٹ سے متعلق امور کی منظوری دی۔
: شنگھائی تعاون تنظیم ہیڈ آف گورنمنٹ کے 23 ویں اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا جس کے مطابق ارکان ممالک کے درمیان آٹھ دستاویزات پر دستخط کیے گئے، ارکان نے 2024-25 کی چیئر چین کو دینے کی حمایت کردی۔تفصیلات کے مطابق ایس سی او ارکان ممالک کے رہنماؤں نے ایس سی او کے بجٹ سے متعلق امور کی منظوری دی۔ سربراہ اجلاس کے موقع پر ایس سی او سیکرٹریٹ سے متعلق دستاویزات پر دستخط کیے گئے۔ رکن ملکوں کے انسداد دہشت گردی کی علاقائی ایگزیکٹو کمیٹی سے معتلق دستاویز پر دستخط کیے گئے اس طرح اراکین کے درمیان آٹھ دستاویزات پر دستخط کیے گئے۔ایس سی او کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کا 23واں سربراہی (وزراء اعظم) اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں بیلاروس کے وزیر اعظم گلووچنکو، بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر، ایران کے ایڈ ٹریڈ کے وزیر سید محمد اطباق، کرغزستان کے وزیر اعظم او اے بینتانوف، چین کی اسٹیٹ کونسل کے وزیر اعظم لی چیانگ، تاجکستان کے وزیر اعظم خیر رسول زادہ، وزیراعظم اُزبکستان این ایراپوف، ایس سی او سیکریٹری جنرل ژینگ منگ اور ڈائریکٹر ایگزیکٹو کمیٹی آف دی ایس سی او ریجنل آی ٹی ٹیررسٹ اسٹرکچر آر ایس میرزوف بھی شریک ہوئے۔اجلا س کی صدارت وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کی جب کہ منگولیا کے وزیراعظم سویوں ارڈین اور وزیر خارجہ ترکمانستان گیسٹ آف پریزائڈنگ پارٹی کے طور پر شریک ہوئے۔انفرنس کے شرکاء نے آستانہ میں ہوئے ہیڈز آف اسٹیٹ اجلاس کے فیصلوں کے عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا۔ ایس سی او کی رکن ریاستیں لوگوں کی آزادانہ جمہوری، سیاسی، معاشرتی اور معاشی حقوق کے استعمال کا احترام کرتی ہے۔ وفد کے سربراہان نے تنظیم کی 2024-25 کی چیئر چین کو ملنے کی حمایت کی۔اجلاس کے شرکاء نے ایک محفوظ، پرامن اور خوشحال سرزمین کے لیے تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ فورم کے شرکاء نے ممالک کے تنازعات کا بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل پر زور دیا، تنظیم نے یو این جنرل اسمبلی کی امن ہم آہنگی اور ترقی سے متلعق قرارد کی حمایت کی۔تنظیم نے ارکان ممالک کے درمیان سیاست، سیکیورٹی، تجارت، معیشت، سرمایہ کاری اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ اجلاس کے شرکاء نے ایک محفوظ، پرامن اور خوشحال سرزمین کے لیے تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا، سربراہان نے ایس سی او وزرا اجلاس کے نتائج کا جائزہ لیا۔رہنماؤں نے معاشی ترجیحات اور تجارتی تعاون کو فروغ سے متعلق اقدامات پر عمل درآمد کی ہدایات کی۔ رکن ممالک کے درمیان تجارت اور معاشی روابط کی بڑھانے پر زور دیا۔ سربراہان نے انفارمیشن سیکیورٹی کی فیلڈ میں تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ سربراہان نے ایس سی او کے سربراہان حکومت کے کامیاب اجلاس پر پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا۔ سربراہان نے کہا کہ سائنسی اور تکنیکی ایجادات اور ڈیجٹل معیشت کو مؤثر طریقے سے استعمال کیا جانا ضروری ہے۔ اجلاس میں ایس سی او کی معاشی اور تنظیمی سرگرمیوں کے فیصلے کیے گئے۔ سربراہان نے الیکٹرانک تجارت کے اسپیشل ورکنگ گروپ کے مسلسل اجلاس منعقد کرنے پر زور دیا۔ سربراہان نے قومی صعنتی پالیسی ، ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے تجربات کے تبادلے کی تجویز کا جائزہ لیا۔سربراہان نے پروڈکشن ٹیکنالوجی اور آئی ٹی سلوشن سے متعلق اقدامات پر عمل درآمد کے تجربات کی تجویز کا جائزہ لیا، سربراہان نے ملٹی لٹرل ٹریڈ اور معاشی تعاون سے متعلق رپورٹ کی منظوری دی۔ ایس سی او ہیڈز آف گورنمنٹ کا آئندہ اجلاس 2025 میں روس میں ہوگا۔شرکاء نے 2023ـ24 کے دوران کرغزستان کی سربراہی کو سراہتے ہوئے آستانہ میں ہوئے فیصلوں پر عمل درآمد پر زور دیا۔ شرکاء نے باہم طور پر عوام کے آزادانہ اور سیاسی، سوشل اور اکنامک ڈیولپمنٹ کے حقوق کی ترجمانی کی۔ شرکاء نے باہمی طور ممبر ریاستوں کی خود مختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کا احترام پر زور دیا۔فورم کے شرکاء نے ممالک کے تنازعات کا بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل پر زور دیا، تنظیم نے رکن ممالک کے درمیان سیاست ، سیکیورٹی، تجارت، معیشت ، سرمایہ کاری اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔تنظیم نے یو این جنرل اسمبلی کی امن ہم آہنگی اور ترقی سے متعلق قرارد کی حمایت کی۔









