اور طاقت کا سورج غروب ۔۔۔ قاضی فائز عیسی کا پاکستان کی عدلیہ پر دور ‘حکمرانی’ ختم، سابق ‘چیف جسٹس’ بن گئے۔۔۔ مگر اپنی دوہری شخصیت اور متنازع اور انتہائی جانبدارانہ فیصلوں کی وجہ سے پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے

‏نئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے سپریم کورٹ میں سنیارٹی کا مسئلہ حل کر دیا، سپریم کورٹ کی ویب سائٹ اپڈیٹ کر دی گئی، ویب سائٹ کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے بعد سینیئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ اور دوسرے سینیئر جج جسٹس منیب اختر ہیں

غلیظ داماد اور پاکستانی کرکٹ۔گندے اور غلیظ ترین کھلاڑیوں کا کوڑٹ مارشل۔تھرڈ کلاس گندہ غلیظ شاھد آفریدی اب شاھین آفریدی داماد۔گھٹیا انضمام اور اس کا گھٹیا بھانجا۔داماد شاداب نے یاسر شاہ کا کئریر تباہ کر دیا۔ٹیم ھارے یا جیتے کم از کم جاندار اور مقابلے کی تو لگتی ہیں۔وطن کی مٹی گواہ رہنا ۔ آنکھوں میں آگ، قمیض پر سرخ خون، یہ وہ بے لگام جذبہ ہے جو پچھلے کچھ سالوں سے غائب ہے، بھائی ایک سچا جنگجو اور چیمپئن ہے۔۔27ویں ائینی ترمیم کی گونج۔12 ججز کیا کرنے والے ہیں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس جاری رکھے گا فیصلہ۔کسی وقت بھی فل کورٹ کا اجلاس طلب کیا جا سکتا ہے سوموار سے الٹی گنتی شروع۔400 سے زائد آھم شخصیات ملک سے فرار ہونے کے لئے تیار۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز اور اج کا روزنامہ پوسٹ انٹرنیشنل اسلام آباد کراچی

چیف جسٹس کے فل کورٹ مین 7 ججز شریک نہ ھوے جسٹس منصور شاہ نے کیا کھا

سپریم کورٹ کے سینئرجج جسٹس منصور علی شاہ نے رجسٹرارسپریم کورٹ خط لکھ کر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس میں شرکت نہ کرنے کی وجوہات بتادیں، جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ریٹائرمنٹ کے حوالے سے فل کورٹ ریفرنس میں شرکت سے انکارکیا، جسٹس منصور علی شاہ نے رجسٹرار کو مراسلے کے ذریعے آگاہ کردیا۔جسٹس منصور علی شاہ نے مراسلے میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں ریٹائرڈ ہونے والے چیف جسٹس کو ان کی خدمات پر ان کے اعزاز میں ریفرنس دیا جاتا ہے۔ ماضی میں جب سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اختیارات کو غلط استعمال کیا تو ان کے ریفرنس میں بھی شرکت سے انکار کیا۔ آج بھی میں انہی وجوہات کی بنا پر ریفرنس میں شرکت سے انکار کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کے ریفرنس میں شرکت نہ کرنے کی وجوہات مزید پریشان کن ہیں، چیف جسٹس کا کردارعوام کے حقوق کا تحفظ ہوتا ہے اورسب کو انصاف فراہم کرنا ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدلیہ میں بیرونی مداخلت روکنے کے بجائے اس کے دروازے کھولے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مداخلت روکنے کیلئے جذبہ دکھایا اور نہ ہی اخلاقی جرات کا مظاہرہ کیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدلیہ کو کمزور کرنے اور اپنے قوانین بنانے کو مناسب گراو¿نڈ دیا۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کو خط لکھ کر ایک بار پھر خصوصی بینچ میں بیٹھنے سے انکار کیا تھا۔جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کو نیا خط 23 اکتوبر کو لکھاتھا۔ خط چیف جسٹس کو بطور سربراہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی لکھا گیا تھا۔ خط میں جسٹس منصور علی شاہ نے مخصوص بینچ میں بیٹھنے سے معذرت کرتے ہوئے کہا پہلے بھی لکھا تھا ترمیمی آرڈیننس پر فل کورٹ بیٹھنے تک خصوصی بینچز کا حصہ نہیں بنوں گا۔جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ ہم اقتدار میں رہتے ہوئے اکثر بھول جاتے ہیں کہ اس ملک کے لوگ ہمارے اعمال کو دیکھ رہے ہیں۔ تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی۔جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے خط میں سرتھامس مورے کا قول بھی نقل کیا تھا۔

نئے چیف جسٹس آفریدی کا بیان ہے کہ پرانے چیف جسٹس فائز عیسیٰ کے غیض و غضب سے ڈریں

نئے چیف جسٹس آفریدی کا بیان ہے کہ پرانے چیف جسٹس فائز عیسیٰ کے غیض و غضب سے ڈریں…دوسری طرف ‏جسٹس منصور علی شاہ نے قاضی فائز عیسیٰ کے ریٹائرمنٹ ریفرنس میں عدم شرکت پر کہا کہ????”قاضی فائز عیسیٰ اپنے ادارے کے خلاف سازشیں دیکھ کر شتر مرغ کی طرح سر ریت میں دبائے رہا، ایسے شخص کی اعزاز میں فل کورٹ میں شرکت کرنا یہ پیغام دے گا کہ اپنے ادارے سےغداری کرنے والے ، گھٹیا اور چھوٹے کام کرنے والے شخص کو انصاف کا تابعدار قرار دے دیا جائے۔ میں اپنے ضمیر کی آواز پر ایسے شخص کے اعزاز میں فل کورٹ میں شرکت نہیں کر سکتا”۔