انگلینڈ میں دنیا کی پہلی لا فرم کا آغاز ہوا ہے جہاں کوئی وکلاء نہیں ہوں گے صرف آرٹیفیشل انٹیلیجنس کام کرے گی اور فیس صرف 2 پونڈ!مفتی قوی لال مسجد کے امام مولانا عبدالعزیز کے ہتھے چڑھ گیا مفتی قوی جہاں ملے اسے کوڑے مارے جائیں، مولانا عبدالعزیز کا حکم. حکومت نے سول سرونٹ ایکٹ میں ترمیم منظور کروالی. پاکستان کی معاشی محاذ پر ایک اور بڑی کامیابی. تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

*حکومت نے سول سرونٹ ایکٹ میں ترمیم منظور کروالی**سول سرونٹ ایکٹ میں شق 15 کے بعد 15 اے کا اضافہ کر دیا گیا**گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے سول افسران اپنے تمام ملکی اور غیر ملکی اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہونگے، بل**سول سرونٹ افسران اپنی اہلیہ اور زیر کفالت بچوں کے ملکی، غیرملکی اثاثے اور قرض کی تفصیلات فراہم کرنے کے پابند ہونگے، بل**سول افسران کے اثاثوں کی تفصیلات پبلک ہونگی، بل*

1940ء میں ایک سکھ بوٹا سنگھ نے “انڈیا ٹی ہاؤس” کے نام سے یہ چائے خانہ شروع کیا بوٹا سنگھ نے 1940ء سے 1944ء تک اس چائے خانہ و ہوٹل کو چلایا مگر اس کا کام کچھ اچھے طریقے سے نہ جم سکا۔ بوٹا سنگھ کے چائے خانہ پر دو سکھ بھائی سرتیج سنگھ بھلا اور کیسر سنگھ بھلا جو گورنمنٹ کالج کے سٹوڈنٹ تھے اپنے دوستوں کے ہمراہ اکثر چائے پینے آتے تھے

1940ء میں ایک سکھ بوٹا سنگھ نے “انڈیا ٹی ہاؤس” کے نام سے یہ چائے خانہ شروع کیا بوٹا سنگھ نے 1940ء سے 1944ء تک اس چائے خانہ و ہوٹل کو چلایا مگر اس کا کام کچھ اچھے طریقے سے نہ جم سکا۔ بوٹا سنگھ کے چائے خانہ پر دو سکھ بھائی سرتیج سنگھ بھلا اور کیسر سنگھ بھلا جو گورنمنٹ کالج کے سٹوڈنٹ تھے اپنے دوستوں کے ہمراہ اکثر چائے پینے آتے تھے۔ 1940ء میں یہ دونوں بھائی گورنمنٹ کالج سے گریجوایشن کر چکے تھے اور کسی کاروبار کے متعلق سوچ رہے تھے کہ ایک روز اس چائے خانہ پر بیٹھے، اس کے مالک بوٹا سنگھ سے بات چل نکلی اور بوٹا سنگھ نے یہ چائے خانہ ان کے حوالے کر دیا۔پاک ٹی ہاؤس لاہور میں مال روڈ پر واقع ہے جو کہ انار کلی بازار اور نیلا گنبد کے قریب ھے۔ قیام پاکستان کے بعد حافظ رحیم بخش صاحب جالندھر سے ہجرت کر کے لاہور آۓ تو انہیں پاک ٹی ہاؤس 79 روپے ماہانہ کرایہ پر ملا۔ یہ چائے خانہ “انڈیا ٹی ہاؤس” کے نام سے ہی چلتا رہا بعد میں “انڈیا” کاٹ کر “پاک” کا لفظ لکھ دیا گیا۔دبلا پتلا بدن، دراز قد، آنکھوں میں ذہانت کی چمک، سادہ لباس، کم سخن، حافظ رحیم بخش کو دیکھ کر دِلی و لکھنؤ کے قدیم وضعدار بزرگوں کی یاد تاذہ ہو جاتی۔ حافظ صاحب کے دو بڑے بیٹوں علیم الدین اور سراج الدین نے پاک ٹی ہاؤس کی گدی کو سنبھالا۔لاھور کے گم گشتہ چاۓ خانوں میں سب سے مشہور چاۓ خانہ پاک ٹی ہاؤس تھا جو ایک ادبی، تہذیبی اور ثقافتی علامت تھا۔ پاک ٹی ہاؤس شاعروں، ادیبوں، نقاد کا مستقل اڈہ تھا جو ثقافتی، ادبی محافل کا انعقاد کرتی تھیں۔ پاک ٹی ہاؤس ادیبوں کا دوسرا گھر تھا اور کسی کو اس سے جدائی گوارا نہیں تھی وہ ٹی ہاؤس کے عروج کا زمانہ تھا۔ان دنوں لاھور میں دو بڑی ادبی تنظیمیں، حلقہ ارباب ذوق اور انجمن ترقی پسند مصنفین ہوتی تھیں۔ صبح سے لیکر رات تک ادبی محفلیں جمی رہتی تھیں۔ یہاں ملک بھر سے نوجوان ان شخصیات سے ملاقات کرنے کیلۓ آتے تھے۔ اتوار کو ٹی ہاؤس میں تِل دھرنے کو جگہ نہیں ہوتی تھی۔ جو کوئی آتا کرسی نہ بھی ہوتی تو کسی دوست کے ساتھ بیٹھ جاتا تھا۔ یہاں شعر و ادب پر بڑے شوق سے بحثیں ہوتی تھیں۔ٹی ہاؤس میں بیٹھنے والے ادیبوں اور شاعروں میں سے سواۓ چند ایک کے باقی کسی کا بھی کوئی مستقل ذریعہ معاش نہیں تھا۔ کسی ادبی پرچے میں کوئی غزل، نظم یا کوئی افسانہ لکھ دیا تو پندرہ بیس روپے مل جاتے تھے لیکن کبھی کسی کے لب پر تنگی معاش کا شکوہ نہیں تھا۔ ایسا کبھی نہیں تھا کہ کسی دوست کی جیب خالی ہے تو وہ ٹی ہاؤس کی چاۓ اور سگریٹوں سے محروم رہے۔ جس کے پاس پیسے ہوتے تھے وہ نکال کے میز پر رکھ دیتا تھا۔ جس کی جیب خالی ہوتی علیم الدین صاحب اس کے ساتھ بڑی فراخ دلی سے پیش آتے تھے۔ اس وقت کے ادیبوں میں سے شاید ہی کوئی ادیب ہو جس نے پاک ٹی ہاؤس کی چاۓ کا ذائقہ نہ چکھا ہو۔پاک ٹی ہاؤس کا بڑا دلکش ماحول ہوتا تھا۔ نائیلون والا چمکیلا فرش، چوکور سفید پتھر کی میزیں، دیوار پر لگی قائدآعظم کی تصویر، گیلری کو جاتی ہوئی سیڑھیاں، بازار کے رخ پر لگی شیشے دار لمبی کھڑکیاں جو گرمیوں کی شاموں کو کھول دی جاتی تھیں اور باہر لگے درخت بھی دکھائی دیتے تھے۔ دوپہر کو جب دھوپ پڑتی تو شیشوں سے گلابی روشنی اندر آتی تھی۔ٹی ہاؤس کے اندر کونے والے کاؤنٹر پر علیم الدین کا مسکراتا ہوا سانولا چہرا ابھرتا اور بل کاٹتے وقت پیچھے کہیں دھیمے سروں میں ریڈیو بج رہا ہوتا تھا۔ علیم الدین کی دھیمی اور شگفتہ مسکراھٹ تھی۔ اس کے چمکیلے ہموار دانت موتیوں کی طرح چمکتے تھے ٹی ہاؤس کی فضا میں کیپسٹن سگریٹ اور سگار کا بل کھاتا ہوا دھواں گردش کرتا تھا۔ ٹی ہاؤس کی سنہری چاۓ، قہوہ اور فروٹ کیک کی خوشبو بھی دل کو لبھاتی تھی۔ کبھی کبھی کاؤنڑ پر رکھا ہوا ٹیلیفون یک دم بج اٹھتا تھا۔ہجرت کر کے آنے والوں کو پاک ٹی ہاؤس نے اپنی گود میں پناہ دی۔ کسی نے کہا میں انبالے سے آیا ہوں میرا نام ناصر کاظمی ہے۔ کسی نے کہا میں گڑھ مکستر سے آیا ہوں میرا نام اشفاق احمد ہے۔ کسی نے کہا میرا نام ابن انشاء ہے اور میرا تعلق لاہور سے ہے۔وہ بڑے چمکیلے اور روشن دن تھے۔ ادیبوں کا سارا دن ٹی ہاؤس میں گزرتا تھا۔ ذیادہ تر ادیبوں کا تخلیقی کام اسی زمانے میں انجام پایا تھا۔ ناصر کاظمی نے بہترین غزلیں اسی زمانے میں لکھیں۔ اشفاق احمد نے گڈریا اسی زمانے میں لکھا۔ شعر و ادب کا یہ تعلق پاک ٹی ہاؤس ہی سے شروع ہوا تھا۔صبح آٹھ بجے پاک ٹی ہاؤس میں کم لوگ آتے تھے۔ ناصر کاظمی سگریٹ انگلیوں میں دباۓ، سگریٹ والا ہاتھ منہ کے ذرا قریب رکھے ٹی ہاؤس میں داخل ہوتا تھا اور اشفاق احمد سائیکل پر سوار پاک ٹی ہاؤس آتا تھا۔پاک ٹی ہاؤس میں داخل ہوں تو دائیں جانب شیشے کی دیوار کے ساتھ ایک صوفہ لگا ھوا تھا۔ سامنے ایک لمبی میز تھی۔ میز کی تینوں جانب کرسیاں رکھی ہوئی تھیں۔ ناصر کاظمی، انتظار حسین، سجاد باقر رضوی، پروفیسر سید سجاد رضوی، قیوم نظر، شہرت بخاری، انجم رومانی، امجد اسلام امجد، احمد مشتاق، مبارک احمد وغیرہ کی محفل شام کے وقت اسی میز پر لگتی تھی۔اے حمید، انور جلال شمزہ، عباس احمد عباسی، ھیرو حبیب، سلو، شجاع، ڈاکٹر ضیاء وغیرہ قائد آظم کی تصویر کے نیچے جو لمبی میز اور صوفہ بچھا تھا، وہاں اپنی محفل سجاتے تھے۔ ڈاکٹر عبادت بریلوی اور سید وقار عظیم بھی وقت نکال کر پاک ٹی ہاؤس آتے تھے۔ ھر مکتبہ فکر کے ادیب، شاعر، نقاد اور دانشور اپنی الگ محفل بھی سجاتے تھے۔سعادت حسن منٹو، اے حمید، فیض احمد فیض، ابن انشاء، احمد فراز، منیر نیازی، میرا جی، کرشن چندر، کمال رضوی، ناصر کاظمی، پروفیسر سید سجاد رضوی، استاد امانت علی خان، ڈاکٹر محمد باقر، انتظار حسین، اشفاق احمد، قیوم نظر، شہرت بخاری، انجم رومانی، امجد اسلام امجد، احمد مشتاق، مبارک احمد، انورجلال شمزہ، عباس احمد عباسی، ہیرو حبیب، سلو، شجاع، ڈاکٹر ضیاء، ڈاکٹر عبادت بریلوی، سید وقار عظیم وغیرہ پاک ٹی ہاؤس کی جان تھے۔ساحر لدھیانوی بھارت جا چکا تھا اور وہاں فلمی گیت لکھ کر اپنا نام امر کر رھا تھا۔ شاعر اور ادیب اپنے اپنے تخلیقی کاموں میں مگن تھے۔ ادب اپنے عروج پہ تھا اس زمانے کی لکھی ھوئی غزلیں، نظمیں، افسانے اور مضامین آج کے اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ اس زمانے کی بوئی ہوئی ذرخیز فصل کو ھم آج کاٹ رہے ہیں۔پاک ٹی ہاؤس کئی نشیب و فراز سے گزرا اور کئی مرتبہ بند ہو کر خبروں کا موضوع بنتا رہا۔عرصہ دراز تک اہل قلم کو اپنی آغوش میں پناہ دینے کے بعد 2000ء میں جب ٹی ہاؤس کے مالک نے اسے بند کرنے کا اعلان کیا تو ادبی حلقوں میں تشویس کی لہر دوڈ گئی اور اھلِ قلم نے باقاعدہ اس فیصلے کی مزاحمت کرنے کا اعلان کر دیا۔دراصل ٹی ہاؤس کے مالک نے یہ بیان دیا تھا کہ “میرا ٹی ہاؤس میں گزارہ نہیں ہوتا میں کوئی دوسرا کاروبار کرنا چاہتا ہوں” ادبی تنظیموں نے مشترکہ بیان دیا کہ ٹی ہاؤس کو ٹائروں کی دکان بننے کی بجاۓ ادیبوں کی بیٹھک کے طور پر جاری رکھا جاۓ کیونکہ اس چاۓ خانے میں کرشن چندر سے لیکر سعادت حسن منٹو تک ادبی محفلیں جماتے رھے۔ادیبوں اور شاعروں نے اس چاۓ خانے کی بندش کے خلاف مظاہرہ کیا اور یہ کیس عدالت میں بھی گیا اور بعض عالمی نشریاتی اداروں نے بھی احتجاج کیا۔ آخر کار 31 دسمبر 2000ء کو یہ دوبارہ کھل گیا اور اہل قلم یہاں دوبارہ بیٹھنے لگے لیکن 6 سال کے بعد مئ 2006ء میں یہ دوبارہ بند ہو گیا اس بار ادیبوں اور شاعروں کی طرف سے کوئی خاص احتجاج دیکھنے میں نہیں آیا۔اس طرح یہ تاریخی، ادبی اور ثقافتی ورثہ نصف صدی تک اہل قلم کی میزبانی کرنے کے بعد اپنے پیچھے علم و ادب کی دنیا کی کئ داستانیں چھوڑ گیا۔ اب اس کے بند شٹر اور اوپر لکھا ہوا بورڈ صرف ماضی کے ایک ادبی ورثہ کی یاد دلانے لگا۔نگینہ بیکری، چوپال، شیزان اور عرب ہوٹل کی طرح یہ بھی ماضی کا حصہ بن گیا۔پاک ٹی ہاؤس کی بحالی لاہور کے ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کا ایک مسلسل درینہ مطالبہ تھا۔ پاک ٹی ہاؤس کا افتتاح 14 اگست کو کیا جانا تھا لیکن نہ ہو سکا۔ سیاسی وجوہات کی بنا پر افتتاح کی نئی تاریخ 6 ستمبر رکھی گئی لیکن بے سود۔ 20 اکتوبر 25 اکتوبر اور 25 دسمبر 2012ء کو کیے گئے وعدے بھی وفا نہ ہو سکے۔ پاک ٹی ہاؤس کی جدائی ختم ہوئی اور وصل کا وقت آ گیا۔ میاں نواز شریف نے بالآخر 23 مارچ کو پاک ٹی ہاؤس میں چائے پی کر اور اس کا افتتاح کر کے ادیبوں اور شاعروں کے لیے اس کے دروازے ایک بار پھر کھول دئیے۔اے حمید ایک جگہ لکھتے ہیں کہ “میں اور اشفاق احمد دیر تک ٹی ہاوس میں بیٹھے گزرے زمانے کو، گزرے زمانے کے چہروں کو یاد کرتے رہے، کیسے کیسے لوگ تھے، کیسے کیسے چمکیلے چہرے تھے جو ادب کے آسمان پر ستارے بن کر چمکے اور پھر اپنے پیچھے روشنی کی لکیریں چھوڑ کر نظروں سے غائب ہو گئے۔ کبھی ٹی ہاوس کے کاؤنٹر پر رکھے گلدان میں نرگس اور گلاب کے پھول مہکا کرتے تھے۔ شیشوں میں سے ان پر سردیوں کی دھوپ پڑتی تو وہ بجلی کے بلب کی طرح روشن ہو جاتے۔ اب کاؤنٹر پر نہ گلدان ہے نہ گلدان کے پھول ہیں۔ صرف میں اور اشفاق احمد میز کے آمنے سامنے سر کو جھکاۓ بیٹھے پرانے دنوں کو یاد کر رہے ہیں۔ ایک دن آۓ گا کہ اس میز پر کوئی اور بیٹھا ہمیں یاد کر رہا ہو گا ” ـــــــــــــــــــحیف صد حیف اے حمید تو پاک ٹی ہاؤس میں محفل جمانے کی حسرت لیے اگلے جہان روانہ ہو گئے لیکن ہم لوگ انہیں ہمیشہ یاد رکھیں گے۔محمد سفیر سلہری

وزیر اعظم پاکستان کا آرمی چیف کے ہمراہ سی ایم ایچ راولپنڈی کا دورہ* وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، نشان امتیاز(ملٹری) کے ہمراہ کمبائنڈ ملٹری ہسپتال، راولپنڈی کا دورہ کیا وزیر اعظم نے معرکہ حق، آپریشن بنیان مرصوص میں زخمی جوانوں اور شہریوں کی خیریت دریافت کیوزیر اعظم پاکستان نے زخمی جوانوں کی معرکہ حق کے دوران بے مثال بہادری

*بریکنگ**معرکہ حق، یوم تشکر/ وزیر اعظم پاکستان کا آرمی چیف کے ہمراہ سی ایم ایچ راولپنڈی کا دورہ* وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، نشان امتیاز(ملٹری) کے ہمراہ کمبائنڈ ملٹری ہسپتال، راولپنڈی کا دورہ کیا

وزیر اعظم نے معرکہ حق، آپریشن بنیان مرصوص میں زخمی جوانوں اور شہریوں کی خیریت دریافت کیوزیر اعظم پاکستان نے زخمی جوانوں کی معرکہ حق کے دوران بے مثال بہادری، عزم اور فرض شناسی کو سراہاوزیر اعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ؛” جس طرح افواج پاکستان اور پوری قوم نے یہ جنگ لڑی،

اس کی مثال کئی نہیں ملتی “عوام کی ثابت قدمی ملک کی عسکری تاریخ کا ایک فیصلہ کن باب بن چکی ہے

وزیراعظم محمد شہباز شریف یوم تشکر کے حوالے سے وزیراعظم ہاؤس میں پرچم کشائی کی تقریب*وزیراعظم نے پرچم کشائی کیآج ، بھارت کی کھلی جارحیت اور اشتعال انگیزی کے خلاف پاکستان کی شاندار کامیابی اور فتح پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لانے کے لئے ملک بھر میں یوم تشکر منایا جا رہا ہے

اسلام آباد: 16 مئی 2025*وزیراعظم محمد شہباز شریف یوم تشکر کے حوالے سے وزیراعظم ہاؤس میں پرچم کشائی کی تقریب*وزیراعظم نے پرچم کشائی کیآج ، بھارت کی کھلی جارحیت اور اشتعال انگیزی کے خلاف پاکستان کی شاندار کامیابی اور فتح پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لانے کے لئے ملک بھر میں یوم تشکر منایا جا رہا ہے : وزیراعظم 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب بھارت نے بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں معصوم اور بے گناہ پاکستانی شہری شہید ہوئے، اور ہمیں ان بے گناہ شہریوں کی خاطر جوابی کارروائی کرنے پر مجبور کردیا : وزیراعظمپاکستان ایک پر امن ملک ہے لیکن ہم اپنے دفاع میں بھرپور جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں: وزیراعظم پاکستان کی بہادر اور پیشہ وارانہ مسلح افواج نے دشمن کو اسی کی زبان میں مؤثر اور بھرپور جواب دے کر عسکری تاریخ کا سنہرا باب رقم کیا ہے : وزیراعظم ___

معرکہ حق، یوم تشکر/ وزیر اعظم پاکستان کا آرمی چیف کے ہمراہ سکاڈرن لیڈر عثمان یوسف شہید کی گھر آمد* وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور آرمی چیف نے شہید کے اہلِخانہ سے ملاقات کی،

***معرکہ حق، یوم تشکر/ وزیر اعظم پاکستان کا آرمی چیف کے ہمراہ سکاڈرن لیڈر عثمان یوسف شہید کی گھر آمد* وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور آرمی چیف نے شہید کے اہلِخانہ سے ملاقات کی، *ذرائع*وزیر اعظم پاکستان اور آرمی چیف نے شہید کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کی،

* وزیر اعظم پاکستان نے معرکہ حق کے دوران اسکاڈرن لیڈر عثمان یوسف کے عزم اور فرض شناسی کو سراہا، *ذرائع*

پاکستان اپنے دفاع کے لئے ھر طریقہ اپناے گا سیکرٹری خارجہ امنہ بلوچ۔ بھارت اپنا بوجھ خود اٹھانے صدر ٹرمپ۔ای فون اپنی انویسٹمنٹ بھارت سے لئے جانے ورنہ سرمایہ کاری بھارت میں ڈوب جاے گی۔روالپندی ایک بار پھر سیل پی ایس میلہ پھر شورع۔ ۔سیکورٹی ھای الرٹ کھلاڑیوں کو رات 6 بجے کے بعد کسی ملنے کی اج۔بندوق کے ساے تلے کرکٹ۔بھارت کی درخوست مسترد ساوتھ افریقہ کرکٹ بورڈ نے اپنے کھلاڑوں کو آئی پی ایل کے باقی میچز کیلئے انڈیا جانے سے روک دیا۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

ایم بی ایس(MBS )اور ایم بی زیڈ(MBZ) میں زیادہ سے زیادہ پستی میں گرنے کا مقابلہ ہے۔پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے۔پاس ہی فلس طین میں امریکی اسلحہ، ڈالرز اور سیاسی، سفارتی سپورٹ سے فلس طینیوں کا امریکی جینوسائیڈ جاری ہے۔ عرب امارات نے بےغیرتی اور اسلام کو بدنام کرنے کرنے کی انتہا کردی۔عرب چاہیں عورتوں کی زلفیں کھول کر دکھائیں یا جہاز تحفہ میں دیں ساتھ پھر بھی امریکہ نے اسرائیل ہی کا دینا ہے اور ان کا حال فلسطین جیسا ہی ہونا ہے۔

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا معرکہ حق میں دفاع وطن کے دوران بھارتی طیاروں کو تباہ کرکے پاکستان کی فضائی برتری قائم کرنے والے پاک فضائیہ کے شاہینوں سے ملاقات کیلئے کامرہ ائیربیس کا دورہ

15 مئی، 2025. *وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا معرکہ حق میں دفاع وطن کے دوران بھارتی طیاروں کو تباہ کرکے پاکستان کی فضائی برتری قائم کرنے والے پاک فضائیہ کے شاہینوں سے ملاقات کیلئے کامرہ ائیربیس کا دورہ*

وزیرِ اعظم نے اکیسویں صدی کی سب سے طویل فضائی جھڑپوں میں سے ایک میں دشمن کی برتری کی خوش فہمی کو خاک میں ملانے والے پاک فضائیہ کے شاہینوں سے ملاقات کی.نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیرِ دفاع خواجہ آصف، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور اعلی سول و عسکری قیادت نے وزیرِ اعظم کے ہمراہ شرکت کی

پاکستان ٹیلی ویژن وزیرِ اعظم کی بھارتی فضائی جارحیت کو ناکامی سے دوچار کرنے والے پاک فضائیہ کے شاہینوں سے تاریخی گفتگو آج شام کو نشر کرے گا.