وفاقی وزیر اطلاعات ستارہ امتیاز کے لیے نامزد۔۔اسلام آباد مے مساجد کی شھادتوں کے بعد حالات کشیدہ۔۔پولیس اور مذہبی جماعتوں کے درمیان بلی اور چوھے کا کھیل جاری۔۔انتظامیہ مکمل طور پر پریشان مزھبی جماعتوں نے 14 اگست کو بڑے اجتھجاج کا فیصلہ کر لیا۔۔جج کی بیوہ کو ڈرائیور، اردلی ملے گا، 2 ہزار یونٹ بجلی اور مفت پانی کی سہولت بھی حاصل ہے اور جج کی بیوہ کو ماہانہ 300 لیٹر پیٹرول بھی دیا جاتا ہے: وزارت قانون۔۔ ۔ھای کورت کے جج کی بیوہ کو ڈرائیور اردلی 300 لیٹر پٹرول 2 ھزار یونٹ بجلی مفت۔پاور ڈویژن میں اربوں روپے کے گھپلے۔۔14 کروڑ میٹرز پر 1300 روپے کا کرایہ کھربوں روپے کا ڈاکہ۔۔عوام کو 80 روپے کا یونٹ 2 سالوں میں کھربوں روپے کی کرپشن۔۔پاور ڈویژن مکمل طور پر مافیا کو کنٹرول کرنے میں ناکام۔۔نسل در نسل غداری* اسلام آباد۔۔۔وزیر توانائی اویس لغاری نے 300 یونٹ تک لائف لائن صارفین کی حد بڑھانے کی تجویز مسترد کر دی۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے پاکستانی طلبہ کے لیے بیرون ملک اسکالرشپ پروگرام کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت ملک کے ہونہار طلبہ کو دنیا کی معروف جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ اسکالرشپ میں ٹیوشن فیس، رہائش اور دیگر تعلیمی اخراجات شامل ہوں گے۔ ایچ ای سی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پاکستان میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بنانے میں مددگار

چیف جسٹس کی پنشن 2010 میں 5 لاکھ 60 ہزار اور 2024 میں 23 لاکھ 90 ہزار ہوگئی

جج کی بیوہ کو ڈرائیور، اردلی ملے گا، ماہانہ 2 ہزار یونٹ بجلی، 300 لیٹر پٹرول، مفت پانی، اور انکم ٹیکس سے استثنی

وزارت قانون و انصاف نے ریٹائرمنٹ کے بعد چیف جسٹس پاکستان کی پنشن اور مراعات اور جج کی بیوہ کو حاصل مراعات کی تفصیلات سینیٹ میں پیش کردیں۔سینیٹ میں وقفہ سوالات میں تحریری جواب میں سال 2010 سے 2024 تک پنشن میں کیے گئے اضافے کی تفصیلات بھی پیش کی گئیں۔وزارت قانون نے بتایاکہ 2010 میں چیف جسٹس کو 5 لاکھ 60 ہزار پنشن ملتی تھی، 2011 میں چیف جسٹس کی پنشن 6 لاکھ 44 ہزار تھی، 2012 میں پنشن 7 لاکھ 73 ہزار ہوئی اور پھر 2013 میں چیف جسٹس کی پنشن 8 لاکھ 50 ہزار ہو گئی۔وزارت قانون کے مطابق 2014 میں چیف جسٹس کی پنشن 9 لاکھ 35 ہزار ہوئی، 2015 میں چیف جسٹس کی پنشن 10 لاکھ 5 ہزارہو گئی، 2016 میں چیف جسٹس کی پنشن 11لاکھ 5 ہزار اور 2017 میں 12 لاکھ 17 ہزار تھی جبکہ 2018 میں چیف جسٹس کی پنشن 13 لاکھ 38 ہزار ہوئی اور 2021میں چیف جسٹس کی پنشن 14 لاکھ 52 ہزار ہو گئی۔وزارت قانون کا کہنا ہے کہ 2023 میں چیف جسٹس کی پنشن 16 لاکھ 57 ہزار ہوئی اور 2024 میں چیف جسٹس کی پنشن 23 لاکھ 90 ہزار ہو گئی۔جج کی بیوہ کو ملنے والی پنشن کی تفصیلات بھی سینیٹ میں پیش کردی گئیں۔

وزارت قانون نے جواب میں بتایاکہ جج کی بیوہ کو ڈرائیور، اردلی ملے گا، جج کی بیوہ کو 2 ہزار یونٹ بجلی اور مفت پانی کی سہولت بھی حاصل ہے اور جج کی بیوہ کو ماہانہ 300 لیٹر پیٹرول بھی دیا جاتا ہے جبکہ جج کی بیوہ سے انکم ٹیکس نہیں لیا جائے گا۔

اسلام آباد: 12 اگست 2025. *وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ سولر منصوبے کو ایک سال میں مکمل کرنے کی ہدایت، منصوبے کی خود نگرانی کرونگا. وزیرِ اعظم**گلگت بلتستان میں کم لاگت ماحول دوست بجلی کی بلاتعطل فراہمی کیلئے منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا. وزیرِاعظم**منصوبے کا سارا انفراسٹرکچر کلائیمیٹ ریزیلئینٹ بنایا جائے. وزیرِاعظم*

وزیراعظم نے اپنے حالیہ دورہء گلگت کے دوران یہ اعلان کیا تھا کہ گلگت بلتستان کے لئے 100 میگا واٹ کے پاور پلانٹس کی ایکنیک جلد منظوری دے گا. ایکنیک کی منظوری کے بعد وزیرِ اعظم کا منصوبے کی تعمیر پر جائزہ اجلاس. ایکنیک کی جانب سے حال ہی میں منظوری کے بعد منصوبے کی تعمیر پر کام کی رفتار کو مزید تیز کر دیا گیا. بریفنگ. منصوبے پر خرچ ہونے والی تمام لاگت وفاقی حکومت دے گی. وزیرِ اعظمگلگت سے اندھیروں کو دور کرنے کیلئے یہ منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے. وزیرِ اعظمگلگت بلتستان کے لوگوں کو 18 سے 20 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ سے نجات اور دو دراز علاقوں میں بجلی کی فراہمی کیلئے سولرآئیزیشن سب سے موزوں حل ہے. وزیرِ اعظممنصوبہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو کم لاگت اور ماحول دوست بجلی فراہم کرے گا. وزیرِ اعظمپاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے بچانے کیلئے زیادہ سے زیادہ قابل تجدید ذرائع کو انرجی مکس میں شامل کرنا ہوگا. وزیرِاعظمگلگت بلتستان میں ہائیڈل اور سولر ذرائع سے بجلی کی فراہمی کو اس طرح یقینی بنایا جائے جس سے لوگوں کو شدید موسم میں بجلی کے تعطل سے نجات ملے. وزیرِاعظم کی ہدایت.

منصوبے کی تعمیر میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے. وزیرِ اعظموزیرِ اعظم نے منصوبے کی تعمیر کیلئے قائم اسٹرینگ کمیٹی کی صدارت وزیرِ بجلی سردار اویس خان لغاری کو سونپ دی.وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ سولر منصوبے پر جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا. اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، احد خان چیمہ، سردار اویس خان لغاری، وزیر اعظم کے کوارڈینیٹر مشرف زیدی، قابل تجدید توانائی شعبے کے ماہر ڈاکٹر جروین ڈریسمَن (Dr. Gerwin Dreesmann)

اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی. اجلاس کو گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ سولر منصوبے پر پیش رفت اور لائحہ عمل سے آگاہ کیا گیا. اجلاس کو بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت گلگت میں 6، سکردو میں 8 اور دیامر میں 6 سولر پارکس بنائے جائیں گے.

اسی طرح گلگت میں 234، سکردو میں 179 اور دیامر میں 68 عمارتوں پر سولر کی تنصیب یقینی بنائی جائے گی. منصوبے میں بیٹریوں کی تنصیب سے بیک اپ کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ اسکی ریئل ٹائم مانیٹرنگ کا بھی نظام بنایا جا رہا ہے.

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ منصوبے میں بین الاقوامی معیار کو یقینی بنایا جائے گا. اجلاس کو منصوبے کی تعمیری لاگت اور معینہ مدت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی. وزیرِ اعظم کی منصوبے کو ایک سال میں مکمل کرنے کی ہدایت.

23 ھزار بیورو کریٹ کونسے پبلک اکاونٹس کمیٹی نے خواجہ اصف اور کھربوں ڈالر کے معاملے پر آئندہ اجلاس میں وزارت داخلہ، اسٹیٹ بینک ایف بی آر اور نیب حکام کو طلب کر لیا جہاں وہ کمیٹی کو بریفنگ دیں۔ 23 ھزار بیورو کریٹ شکنجے میں گرفتاریاں ای سی ایل پر نام جنرل نور ڈالیں گے سب سے زیادہ بیورکریٹ کا تعلق کے پی دوسرے نمبر پر پنجاب تیسرے پر سندھ چوتھے پر اے جے کے اور پانچویں نمبر پر بلوچستان۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

23 ھزار بیورو کریٹ کونسے پبلک اکاونٹس کمیٹی نے خواجہ اصف اور کھربوں ڈالر کے معاملے پر آئندہ اجلاس میں وزارت داخلہ، اسٹیٹ بینک ایف بی آر اور نیب حکام کو طلب کر لیا جہاں وہ کمیٹی کو بریفنگ دیں۔ 23 ھزار بیورو کریٹ شکنجے میں

گرفتاریاں ای سی ایل پر نام جنرل نور ڈالیں گے سب سے زیادہ بیورکریٹ کا تعلق کے پی دوسرے نمبر پر پنجاب تیسرے پر سندھ چوتھے پر اے جے کے اور پانچویں نمبر پر بلوچستان۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

نوشہرہ// ایمونیشن ڈیپو میں آگ بھڑک اٹھی //دھماکوں کی آواز -آگ لگنے کے باعث زوردار دھماکے ہوئےدھماکوں کی آوازیں دور دور تک سنائی دیں

نوشہرہ// ایمونیشن ڈیپو میں آگ بھڑک اٹھی //دھماکوں کی آواز -آگ لگنے کے باعث زوردار دھماکے ہوئےدھماکوں کی آوازیں دور دور تک سنائی دیں نوشہرہ:-ایکسپائر مارٹر گولے ضائع کرنے کا عمل جاری تھانوشہرہ:-دھماکوں سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیانوشہرہ:دھماکوں کی گونج کئی کلومیٹر تک محسوس کی گئینوشہرہ:حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئےنوشہرہ:-انتظامیہ کی جانب سے آرمز ڈیپو کے آس پاس کی آبادی کو خالی کرا لیا گیانوشہرہ:-متاثرہ علاقے کے افراد محفوظ مقام پر منتقل

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڈ اور انفارمیشن گروپ کے پرنسپل انفارمیشن آفیسر مبشر حسن کو بھارت کخلاف جنگ کے دوران میڈیا ھینڈلنگ اور بھارت کے خلاف ڈیجیٹل میڈیا پر موثر جواب دینے پر افواج پاکستان کی سفارش پر ستارہ امتیاز دینے کا فیصلہ

مودی سرکار کا اقتدار خطرے میں پریانکا راھول گرفتار۔۔کسی وقت بھی مودی کی حکومت ختم ہو سکتی ہے۔۔بھارتی صوبہ پنجاب کے وزیر اعلی نے بھی وزیر اعظم مودی سے استعفی طلب کر لیا*اسلام آباد ۔۔۔ بانی پی ٹی آئی کے گھروں کو نیلامی نہیں ہو رہی ،، افواہیں بے بیناد ہے،۔سرکاری چینل کا نمائندہ اسرائیل میں مقرر۔۔چین نے 11 جے ایف تھینڈر پاکستان کے حوالے کر دئیے۔۔ ۔50 لاکھ ارب روپے کی کرپشن پر ملک ریاض کی گرفتاری کے ریڈ وارنٹ جاری۔۔ملک ریاض اسکے72 سے زائد ساتھیوں کو گرفتار کرنے کا فیصلہ۔۔عرب امارات کی اھم شخصیت کو بتا دیا گیا حالات کشیدہ کرنے والہ ملک ریاض کی گرفتاری اسلام آباد ای پی ای نیوز ایجنسی رپورٹ کے مطابق 22 بیورو کریٹ کا نام ای سی ایل میں شامل۔۔، امریکا نے بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر دیا۔۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

نون لیگ کی جان، حکومت کا مان اور سابق وزیراعلی پنجاب محسن نقوی نے اسلام آباد کے چار ہوٹلوں میں شراب فروخت کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقویمییرٹ ہوٹلسریناموو اینڈ پکبیسٹ ویسٹرن

جنگ میں توپخانہ مرکزی اور فیصلہ کردار ادا کرتا ہے -جب جنگ میں توپخانے کا استعمال شروع ہو جائے تک تو اس کا مطلب ھے “گل ودگئی اے”- اور جب جنگ لڑاکا طیاروں تک پہنچ جائے تو سمجھ جائیں “گل ہتھوں نکل گئی اے “- جس طرح رافیل ہوا میں اڑا کر بھارت نے گل اپنے ہاتھ سے ایسی نکلالی کہ واپس آنے کی نہیں-اب مجبوراً بھارت نے اپنے ایئر چیف کو انفارمیشین کے میدان میں” انّے واہ” اتار دیا ھے-بھارت فضا میں اور زمین پر ھزیمت اٹھانے کے بعد اب “ورچئل میدان” میںں قسمت آزما رھا ہے- بھارت کے قابو نہ امریکی مارکیٹ کا ریٹ آ رھا ہے، نہ ہی راہول گاندھی اور نہ ہی تباہ ہونے والی رافیل سمیت جنگی جہازوں کی شکست فاش کی ہزیمت- پی ایم اے میں پاسنگ آؤٹ سے ایک ھفتہ پہلے یونٹ کی allocation بہت دلچسپ مرحلہ ہوتا ہے- کیونکہ باقی نوکری اس یونٹ میں گزارنی ہوتی ہے تومستقبل کی نوید سننے کے لئے ہال میں سب کیڈٹ براجمان ہوتے ہیں- یونٹیں الاٹ کرنے والا افیسر ایم ایس برانچ، جی ایچ کیو سے جاتا ہے-

افسر جی سی نمبر پکارتا ہے ، کیڈٹ کھڑا ہو جاتا ہے، افسر ،یونٹ اور یونٹ کی جگہ بتاتا ھے اور کیڈٹ نڈھال سا ہو کر یا خوشی کے آنسو لئے کرسی پر گر سا جاتا ہے-مجھے الاسد بٹالین ( ۳۰ آزاد کشمیر رجمنٹ) الاٹ ھوئی اور ساتھ ہی افسر نے بولا BDA- انفنٹری یونٹ ملنے پر بے حد خوشی ہوئی، لیکن BDA نے کنفیوژ کر دیا- میں خوشی اور حیرانی کی ملی جلی کیفیت کے ساتھ بیٹھ گیا اور دائیں بائیں دیکھا کہ شاید ان کو معلوم ھو لیکن ساتھ بیٹھے دونوں پلاٹون میٹ توپخانے کی الاٹمنٹ سے گھائل ھو چکے تھے اور کچھ بھی بولنے کی پوزیشن میں نہیں تھے- یونٹیں ملتی جا رھی تھیں ، خوشی اور غم ساتھ ساتھ پھلجڑیاں بکھیر رھے تھے- لیکن میرے دماغ میں بی ڈی اے گھوم رھا تھا-یونٹوں کی الاٹمنٹ شادی کے کھانے کی طرح ہے- مٹھے اور لونے چاولوں کی دیگ کے ساتھ پالک پنیر بھی ہوتی ہے- آرمڈ کور کو مٹھے چول کہنے میں کوئی حرج نہیں- کیونکہ سب سے زیادہ آرمڈ کور والوں کے چہرے ہی چمک رھے ہوتے ہیں- انجنئرز اور انفنٹری والے بھی خوش ہوتے ہیں ، لگتا ہے مٹھے اور لونے چولوں کی دونوں دیگیں کھا کے نکلے ہیں- ٹیکنیکل اور سروسز مٹھے، لونے چولوں کی دیگ اور ربڑی سمجھ لیں؛ خوش باش – کچھ کو پالک پنیر بھی کھانی پڑتی ھے-جب یونٹ الاٹمنٹ کی عظیم تقریب اختتام پزیر ھوئی تو ہم نے BDA کی کھوج شروع کر دی- ہمیں تلاش کرنا تھا کہ یہ پر اسراریت کیوں؟

کہیں ہماری قابلیت کی وجہ سے تو ہماری تعینیاتی کی جگہ کو خفیہ نہیں رکھا جا رہا کہ مبادا دشمن کو علم ہوجائے کہ ہمیں کس سٹریٹجک صورتحال میں استعمال کیا جائے گا-تھوڑا فخر سا محسوس ہوا اور حیرانی بھی کہ ہم میں کون سی ایسی قابلیت ھے کہ ہمیں بھی نہیں بتایا جا رھا کہ ہمیں کہاں بھیجا جا رھا ہے- ہماری طرح کے کچھ اور بھی سٹریٹجک اثاثے بوکھلائے ہوئے BDA کو ڈھونڈتے پھر رھے تھے-کوئی دو تین گھنٹے کی تگ و دو کے بعد یہ تو اندازہ ہو گیا تھا کہ BDA کوئی خیر کی خبر نہیں- ہمیں شاید دشمن کے دو بدو جنگ کے لئے چنا گیا تھا-یا اللہ یونٹ کا اسٹیشن کیوں نہہں بتایا کا رھا؟ یہ BDA کا کیا ماجرا ہے-بالاخر، ایک سرا ہاتھ آیا-گھومتے پھرتے ، ایک پلاٹون کمانڈر نے کوڈ توڑا کہ یہ Border Defence Area کو کہتے – آدھے کوڈ سے ہیجان اور بڑھ گیا-

بارڈر ڈیفینس ایریا میں کہاں؟ لیکن یہ کلئر ہو گیا کہ ویزا سیدھا لائن آف کنٹرول کا ہے آگے کس ایئر پورٹ پر لینڈ کرنا ھے وہ پتا چل ہی جائے گا- خدا خدا کر کے دو تین دن کی تگ و دو کے بعد عقدہ کھلا کہ ہم نے چھمب جوڑیاں سیکٹر میں جانا ہے-جیسے love میرج اور arranged میرج میں شادی کے کچھ ماہ بعد فرق ختم ھو جاتا ہے اسی طرح کیڈٹ کو کونسی arm یا یونٹ ملی ھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا- جن میں دم ہوتا ہے وہ اوپر نکل جاتے ہیں -توپخانے کا ذکر آیا تو بتاتا چلوں ہمارے کورس میں چار میجر جنرل اور ان میں سے پھر دو تھری سٹار توپخانے کے ہیں-پی ایم اے میں پاسنگ آؤٹ کے لئے دو پچیں تیار کرتے ہیں- ایک فاسٹ، جسے ڈرل سکئیر کہتے ہیں اور دوسری خراب موسم کے لئے بٹالین میس کے اندر- ہم بٹالین میس میں پاس آؤٹ ہوئےپاس آؤٹ ھو کر گھر پہنچ گئے- آگے بی ڈی اے تک کیسے پہنچے وہ پھر کبھی سہی –

سپاہی کو بچانا ہے ! ۔۔۔۔۔۔۔عبدالغفور چودھری کی سوانح ،، سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک ،، ۔۔۔۔۔۔۔مبصر !! جبار مرزا ۔۔۔۔۔۔عبدالغفور چودھری کا تعلق اولیائے اللہ کی سرزمین قصور سے ہے مولانا محمد شفیع نے اپنی کتاب ، اولیائے قصور، میں تین سو سے زائد ولیوں کا احوال لکھا ہے ، وہ ولائت اور روحانی کشف جناب عبدالغفور چودھری کی شخصیت میں بدرجہ اتم موجود ہے ،سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک بڑے خاصے کا مرقع ہے ، عزم و ہمت کی داستاں ہے ، زندگی کے آخری سانس تک جینے کی تحریک ہے ، اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے بعض تبصرہ نگاروں نے لکھا کہ ، ایک معمولی پاکستانی کیسے کامیاب ہوا ، ان احباب کے لئے عرض ہے کہ پاکستانی ہونا ہی اعزاز ہے ، اور پھر سپاہی ہونا اس سے بھی بڑا اعزاز ہے ، ڈپٹی کمشںنر بن جانا اسی سپاہیانہ زندگی کا ارتقائی عمل ہے ، ہر ذمہ دار شخص بنیادی طور سے سپاہی ہے ، یعنی بہادر ہے ،عسکری ہے ، لشکری بھی اور جنگجو بھی ، جنگجو محض وہ نہیں ہوتا جو اچھی تلوار چلا لے ، جہالت کے خلاف نکلنا بھی جنگ ہے ،خلقت خدا کی نگہبانی بھی جہاد ہے ،،، سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک ،، میں عبدالغفور چودھری کئی محاذوں پر سینہ سپر دکھائی دیتے ہیں ،

وہ کہیں شہید یا غازی کے ارادے سے گھر سے نکلتے ہیں اور سپاہی کے مورچے میں اتر جاتے ہیں ، اور کبھی ٹوبہ ٹیک سنگھ ، میں ڈومیسائل برانچ کو ہفتے عشرے کے دلدر کو ،کم کر کے رشوت خوری کے ،، کھلے کٹے ،، کو ،، ون ونڈو اپریشن ،، کے رسے سے، باندھ دیتے ہیں ، سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک ، ایک سچے کھرے مجاہد کی داستان حیات ہے ، جو زندگی کے کئی محاذوں پر کھڑا دکھائی دیتا ہے ، عبدالغفور چودھری نے قائد اعظم رح کا فرمان ،، کام کام اور صرف کام ،، پر عمل کر کے دکھا دیا ہے ، وہ اگر ایک طرف پیشہ وارانہ ذمہ داریوں سے نبرد آزما رہے تو دوسری طرف علم کے چراغ کی لو کو بڑھانے میں لگے رہے ، انہوں نے زندگی کو برتا ہے ، وقت کی اہمیت کو پہچانا ، زندگی دیکھ کے بھی چلے اور اسے چل کے بھی دیکھا ہے ، جناب عبدالغفور چودھری نے جس جس پہلو پر جس جس چیز کی ضرورت محسوس کی اس اس چیز کو پورا کیا ، وہ شاہراہ زندگی پر بڑھتے بھی رہے اور پڑھتے بھی رہے ، وہ اگر ایک بہترین ضلعی منتظم ہوئے تو ایک اچھے ماہر تعلیم بھی کہلائے ، انہوں نے پڑھا بھی اور پڑھایا بھی ، اسلامیات ، سیاسیات ، اور انگریزی ، ادب میں ماسٹر کرنے کے ساتھ ساتھ ایل ایل بی ، کی ڈگری بھیحاصل کی

، عبدالغفور چودھری کی عظمت کو سلام ، کہ انہوں نے ،، سی ایس ایس ،، اور ،، پی سی ایس ،، کی چوٹی پر کمند ڈالی اور اگر ایک آدھ بار وہ کوشش خطا بھی چلی گئی تو حوصلہ نہ چھوڑا ، دوبارہ کمند کھینچی اور وہ بلندی سر کر لی ، سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک اعداد و شمار کے اعتبار سے ایک قابل بھروسہ تاریخ ہے ، اس میں 1971 ء کے حوالے سے پاکستان کے لڑاکا فوجی ، قیدی بچے ، بڑے ، بوڑھے اور خواتین قیدیوں کی تعداد کو ٹھیک ٹھیک لکھا گیا ہے ، البتہ جناب عبدالغفور چودھری نے ،،

عظیم ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب سے ہمارا تعلق بھی ہے ،، کے عنوان سے اپنے ہم جماعت سائنسدان محمد رمضان کا ذکر کرتے ہوئے ، وہ پاکستان کے الگ الگ دو اداروں ، پاکستان اٹامک انرجی کمشن اور کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری کو یکجا کر گئے ، ،، سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک ،، بہت عمیق نظر سے پڑھے جانے والی ،، خود نوشت ،، ہے اس میں ایک ایک لمحے اور کسی بھی محفل میں موجود ہر شخص کا کہا گیا ایک ایک جملہ محفوظ کیا گیا ہے ، یہ بہت ہی حساس مرقع ہے ، اسے ہم جذبوں کا انسائکلوپیڈیا بھی کہہ سکتے ہیں ، جناب عبدالغفور چودھری نے ایک ایک سانس اور منظر قلم بند کیا ہے ، وہ جب فوج میں سپاہی بھرتی ہو کے تین دن کی چھٹی پر گھر آتے ہیں تو ، جس جس سواری سے آئے ، جہاں سے گزرے ، جس بوٹے تلے کھڑے ہوئے، جس کسی نے انہیں راستے میں دیکھا سارا احوال لکھا لیکن جب وہ گھر پہنچے تو گھر کے سارے افراد سوئے پڑے تھے، ہمارا خیال تھا اب چودھری صاحب یہاں خراٹے ڈالیں گے ، لیکن نہیں انہوں نے وہاں دیہاتی رہتل کی بات کر تے ہوئے لکھا کہ دیہاتوں میں عشاء کے بعد سو جاتے ہیں اور صبح صادق میں جاگ جاتے ہیں ، یہ عین فطرت ہے ! ،، سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک ،، عبدالغفور چودھری کوئی پہلا سپاہی نہیں ہے جو ڈپٹی کمشنر ہوئے ، بلکہ افواج پاکستان کا دوسرے نمبر بننے والا کمانڈر انچیف جنرل موسی خان بھی فوج میں سپاہی بھرتی ہوئے تھے ، 1991ء کے ابتدائی دنوں کی بات ہے ان دنوں ہماری ایک کتاب ،، ضیاء دور فضل حق کی نظر میں ،، کا بہت چرچا تھا اس میں ہم نے سانحہ بہاولپور ، عارف الحسینی ،قتل ، 1965 ء کی جنگ ستمبر کےاحوال رقم کئے تھے ، وہ کتاب جنرل فضل حق نے ، جنرل موسی کو بھی بھیجی تھی ، ایک دن اچانک ائیر پورٹ پر ہمارا جنرل موسی سے سامنا ہو گیا ، ہم نے اپنا تعارف کرایا تو انہیں ہماری کتاب جو انہوں نے تازہ تازہ پڑھی تھی ، وہ یاد آگئی بڑی اپنائیت گرم جوشی اور درویشی انداز میں ملے ، ایسے میں ہم نے موقع غنیمت جان کر جنرل موسی سے کہا کہ جناب ، آپ فوج میں سپاہی بھرتی ہوئے اور فور سٹار جرنیل تک پہنچے ، پھر متحدہ پاکستان میں مغربی پاکستان کے گورنر رہے اور آجکل آپ بلوچستان کے گورنر ہیں ، پلٹ کے دیکھیں تو اس سارے سفر کا کون سا لمحہ زیادہ اچھا لگتا ہے ؟؟

اس پر جنرل موسی نے کہا کہ ،، مجھے 1926 ء کا وہ دن نہیں بھولتا جب میں فوج میں سپاہی بھرتی ہوا تھا ، پھر انہوں نے ہماری کتاب ضیاء دور ، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ، پتہ ہے میں نے 1965 ء کی جنگ کے آثار پیدا کرنے کی ذوالفقار علی بھٹو کی کوشش کی مخالفت کیوں کی تھی ، میں بطور کمانڈر اپنے سپاہی کو بچا رہا تھا ،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جبار مرزا 10 اگست 2025

چائنہ نے پاکستان کو ابتدائی طور پر گیارہ جے 35 ففتھ جنریشن طیارے ڈلیور کر دیے۔ پاکستان ففتھ جنریشن طیارے رکھنے والا دنیا کا پانچواں ملک بن گیا۔ ستمبر اکتوبر میں PL-17 میزائلز بھی پاکستان کو مل جائیں گے۔ ان میزائلز کی رینج چار سو کلومیٹر تک ہے۔ چائنہ یہ میزائلز اپنے لیے طیار کرتا ہے اور جن دوست ممالک کو دیتا ہے اس کی رینج لمٹ ہوتی ہے لیکن پاکستان کو وہی فل رینج میزائلز دے رہا ہے جو خود اپنے لیے بنا رہا ہے۔

ففتھ جنریشن طیارے جے 35 پر ماؤنٹ PL-17 میزائلز سے پاک فضائیہ کے پاس دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی سے مزین قوت ہو گی۔ پاکستان اس وقت عالمی منظرنامے کا اہم ڈپلومیٹک کھلاڑی بنا ہوا ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ امریکا بھی خوش ہے۔ چین بھی دوست۔ ایران بھی واپس ٹریک پر آ رہا ہے۔ افغانستان سے معاملات درست سمت میں بڑھ رہے ہیں۔ روس سے بھی سفارتی تعلقات بہترین چل رہے ہیں۔ اور بھری دنیا میں بھارت کو کارنر کیا جا رہا ہے۔ تو یہ ہے اگست کا تحفہ۔ پاکستان پائندہ باد۔ ❤️صفدر حسین بھٹیکوارڈئنیٹر سوشل میڈیا ٹیم پاکستان مسلم لیگ ن چنیوٹ

قومی اسمبلی کا ھنگامہ خیز اجلاس تحریک انصاف مکمل طور اوٹ اسد قیصر اور چئیرمین بریسٹر میر جعفر کے روپ میں۔مساجد مولانا فضل الرھمان کی رضا مندی سے شھید کی انتظامیہ اور مولانا فضل الرحمن کی ویڈیو جاری صرف بادبان ٹی وی پر۔۔9 مئی مقدمات : یاسمین راشد کو 10 سال جبکہ عالیہ حمزہ اور صنم جاوید کو 5،5 سال قید کی سزا۔۔۔۔۔نسل در نسل غداری اسلام آباد۔۔۔وزیر توانائی اویس لغاری نے 300 یونٹ تک لائف لائن صارفین کی حد بڑھانے کی تجویز مسترد کر دی۔۔ غزہ فلسطینی عوام کی ملکیت ہے اسرائیل قبضے سے باز رہے، چین۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

گلگت میں لینڈ سلائیڈنگ ، 8 رضاکار ملبے تلے دب کر جاں بحق۔۔کھیل فائنل راونڈ میں داخل مافیا پہلے غلط خوراک کھلاتا ہے۔ جب بیمار ہوجائیں تو پھر ساری زندگی دوائیاں بیچتا ہے۔۔۔ ۔۔ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چودھری، میاں محمود الرشید، عمر سرفراز چیمہ کو مزید 2 کیسز میں دس دس سال قید کی سزا ہوگئی ہے۔ 9 مئی کے مزید 2 کیسز کا فیصلہ آگیا ہے۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

آج سے 50 یا 60 سال پہلے یہ ٹرنک دوکانوں پر لگانے کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ پیپسی کوک یہ دکانداروں کو فری میں دیتے تھے۔ اس میں برف ڈالی جاتی تھی

آج سے 50 یا 60 سال پہلے یہ ٹرنک دوکانوں پر لگانے کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ پیپسی کوک یہ دکانداروں کو فری میں دیتے تھے۔ اس میں برف ڈالی جاتی تھی۔ اور کوک پیپسی ایک عیاشی تھی اور status کا نشان تھا۔ مہمان آتے تھے تو ہم بھاگ کر ٹھنڈی پیپسی لاتے تھے۔پاکستان میں شوگر کی بنیاد بھی 50 سال پہلے ہی رکھی گئی ہے۔ 50 سال پہلے پورے پاکستان میں شوگر کے 10 ہزار مریض بھی نہیں تھے۔ آج ساڑھے 3 کروڑ ہیں۔ اپنی آنے والی نسلوں کو بچا لو۔ مافیا پہلے غلط خوراک کھلاتا ہے۔ جب بیمار ہوجائیں تو پھر ساری زندگی دوائیاں بیچتا ہے۔

گیم فائنل راونڈ میں داخل ہوچکی ہے، ایک طرف مساجد والا معاملہ اور دوسری جانب عمران خان کی جانب سے اچانک شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹرز سے 3 دن کے اندر اندر ابتدائی طور پر مکمل طبی معائنہ کرانے اور اُسکے بعد ماہانہ بنیادوں پر معائنہ اور ضروری ٹیسٹ کرانے کا حکم دینے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کروانا یقینا کسی بڑے حادثے کا شاخسانہ ہوسکتا ہے۔ عمران خان کی جانب سے وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور نے درخواست دائر کردی ہے۔