Monthly Archives: July 2026
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کور کمانڈر کانفرس سے خطاب۔۔شھدا کی لازوال قربانیاں پاکستان کی سلامتی اتحاد اور استقامت کی بنیاد رھیں گی افغان رجیم کے زیر تسلط زمین پر بھارتی پراکسیوں کی روک تھام سے مشروط ھے۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلال جُرأت، چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کی زیر صدارت 276 ویں کور کمانڈرز کانفرنس*شہداء کی لازوال قربانیاں ہمیشہ پاکستان کی سلامتی، اتحاد اور استقامت کی بنیاد رہیں گی، فورم کا شہداء کے ایصالِ ثواب کیلئے فاتحہ کور کمانڈرز کانفرنس نے افغان طالبان رجیم کے زیر تسلط علاقوں سے پاکستان پر بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروپوں کے حملوں کی منصوبہ بندی اور مسلسل استعمال پر شدید تحفظات کا اظہار کیاخطے میں پائیدار امن و استحکام افغان طالبان کے زیر تسلط زمین پر بھارتی پراکسیوں کی روک تھام سے مشروط ہے، *فورم*یہ ذمہ داری افغان طالبان رجیم کی خودساختہ لیڈر شپ کی ہے کہ اُن کے زیر ِ تسلط زمین پاکستان میں دہشتگردی کے لئے استعمال نہ ہوں، *کور کمانڈرز کانفرنس*پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی عوام کے تحفظ اور دفاع کا مکمل حق رکھتا ہے، *کور کمانڈرز*پاکستان کی مسلح افواج آپریشن غضب للحق کے تحت افغان طالبان کے زیر قبضہ علاقوں سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں جاری رکھیں گی، *فورم* یہ لازم ہے کہ دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں میں بہترین گورننس کا نظام مہیا کیا جائے، *شرکاء کانفرنس* ایسا مضبوط انتظامی ڈھانچہ جو نہ صرف عوامی خدمت اور فلاح و بہبود پر مرکوز ہو بلکہ مذموم سیاسی پشت پناہی میں پنپنے والے دہشتگردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کو توڑے ، *کور کمانڈرز* معرکہ حق میں عبرتناک شکست کے بعد دُشمن چاہتا ہے کہ کسی طرح ہائبرڈ وارفیئر اور جھوٹے بیانیوں کی مدد سے بدامنی پھیلائی جائے ، *فورم* بیرونی مدد سے انتشار پھیلانے والی ہر ایسی کوشش کو بغیر کسی پس و پیش کے سختی سے کچلا جائے گا ،

*کور کمانڈرز* علاقائی استحکام کو فروغ دینے اور کشیدگی میں کمی پر پاکستان کے تعمیری کردار کو خراجِ تحسین ، *کور کمانڈرز* سندھ طاس معاہدہ سے متعلق بھارت کے بیانات کا نوٹس لیتے ہوئے شرکاء کانفرنس نے واضح کیاکہ قومی سلامتی کمیٹی کی 24 اپریل 2025 کی ہدایت اس بارے میں مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ افواج پاکستان حکومتی ہدایات اور پاکستانی عوام کی اُمنگوں کے مطابق پاکستان کے جائز پانی کے حصے کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے سے قطعا گریز نہیں کریں گی ، *کور کمانڈرز کانفرنس* کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، *کور کمانڈرز کانفرنس* خطے کے امن کا انحصار کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ان کا ناقابل تنسیخ حق خودارادیت فراہم کرنے پر ہے، *شرکاء کانفرنس*تمام کمانڈرز جنگ کے بدلتے ہوئے کردار کے مطابق ملٹی ڈومین ٹرانسفارمیشن پلان پر تیزی سے عمل کریں، *فیلڈ مارشل* پاکستان کی خودمختاری اور قومی مفادات کا ہر قیمت پر تحفظ یقینی بنایا جائے، *فیلڈ مارشل*

* Field Marshal Syed Asim Munir, NI (M), HJ, Chief of Army Staff & Chief of Defence Forces, presided over the 276th Corps Commanders’ Conference (CCC) at General Headquarters (GHQ), Rawalpindi.The Forum offered fateha for the Shuhada of the Armed Forces, Law Enforcement Agencies, and innocent civilians, reaffirming that their sacrifices remain the foundation of Pakistan’s security, unity and resilience. The Forum reviewed prevailing security environment, expressing satisfaction over the operational preparedness, professionalism, and combat readiness of the Pakistan Armed Forces.The Forum expressed serious concerns over the continued use of territory under control of Afghan Taliban regime by Indian sponsored terrorist groups including Fitna al Khawarij (FAK) and Fitna al Hindustan (FAH) to orchestrate attacks inside Pakistan. The forum affirmed that lasting peace and stability in the region is contingent upon preventing use of Afghan Taliban controlled territory by Indian terrorist proxies for which Afghan Taliban regime is directly responsible. Pakistan has unequivocal right to defend its people from terrorism and the Armed Forces shall continue Intelligence Based Operations against terrorism emanating from Afghan Taliban controlled territory under the ambit of Operation Ghazab-lil-Haq.In addition to the kinetic actions, Forum underscored immediate need for putting in place robust governance structures in restive areas which are directed towards public service and welfare as well as to break the nefarious terror-crime nexus thriving under vested political patronage. The Forum noted that post comprehensive defeat inflicted in Mark-e-Haq, there is increased reliance on an evolving pattern of externally supported hybrid warfare and disinformation campaigns to cause unrest. The Forum condemned all such forms of state supported financing, facilitation or sponsorship of proxies and underscored that any attempts to use hybrid means to destabilize Pakistan would continue to be countered with strategic clarity and firm resolve.Reviewing the evolving regional landscape, the Forum appreciated Pakistan’s constructive role in promoting dialogue, de-escalation and regional stability. It reaffirmed Pakistan’s commitment to peaceful conflict resolution, respect for international law and enhanced regional cooperation to address shared security challenges.

The Forum, taking note of Indian rhetoric surrounding the Indus Waters Treaty (IWT), reaffirmed the guidance given in National Security Committee (NSC) directive of 24 April 2025. The Forum expressed resolute commitment to undertake all measures necessary to ensure availability of Pakistan’s rightful share of water as per the directives of the Government and inspirations of the people of Pakistan. The Forum rejected and strongly condemned the ongoing human rights violations and unilateral demographic engineering in Indian Illegally Occupied Jammu and Kashmir (IIOJK), declaring that Kashmir remains the jugular vein of Pakistan. Reaffirming Pakistan’s unyielding diplomatic, political and moral support to Kashmir cause, the Forum emphasized that true regional stability hinges entirely on granting the Kashmiri people their inalienable right to self-determination in accordance with United Nations Security Council resolutions.In his concluding remarks, the COAS & CDF directed commanders to follow up expeditiously on the multi-domain transformation plan in line with evolving character of war. He also called upon the commanders to maintain highest standards of vigilance, operational readiness and professional excellence emphasizing integrated responses to conventional, sub-conventional and hybrid threats while safeguarding Pakistan’s sovereignty and national interests at all cost.
شاہ رخ جتوئی،رضا ڈار سارے ایک ہی تھیلی کے بٹے ہیں اور چٹے بھی۔۔ 40 اھم ترین بیورو کریٹس گرفتار نامعلوم جگہ پر منتقل۔۔دنیا میں قانون اندھا ھے پاکستان میں قانون دھندہ ھے۔۔اسحاق ڈار کی بر طرفی نواسہ گرفتار نیا وزیراعظم کون۔۔موجودہ حکومت کے لئے مشکلات کرپشن میں ڈوبی حکومت اھم شخصیات گرفتار۔۔۔۔شھباز شریف کی رخصتی وزیر اعظم ھاوس میں تعینات 2 سئینر ترین شخصیات کی گرفتاری۔۔کے پی ازاد کشمیر آور بلوچستان کی طرح پنجاب میں بھی عام شہری بغاوت پر اتر آئے مافیا حکومت کا گٹھ جوڑ۔آسٹریلیا نے ورلڈکپ جیت لیا۔۔مھنگای مھنگای ھاے مھنگای زندگی سسکیاں لینے لگی عوام زندہ دفن۔۔موٹر وے ایم 2 کیلئے ٹول ٹیکس 7فیصدبڑھادیاگیا۔۔20 کلو آٹے کا تھیلا 2900تک جا پہنچا۔۔ ۔۔اسلام آباد میں گروپ کیپٹن عاصم طارق شہید کا قاتل سعد عباسی گرفتار۔بابر اعظم کے بطور ٹیسٹ کپتان پرفارمنس ۔ کیا بابر اعظم کو دوبارہ کپتان ہونا چاہیے کہ نہیں؟ 20 ٹیسٹ میچز میں 10 میچز میں کامیابی اور بطور کپتان 50 کی اوریج سے 1727 رنز سب سے بڑا سکور بھی بطور کپتان 196 آسٹریلیا کے خلاف بنایا۔۔بابر اعطم کپتان مقرر۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

د. لبنى فرح کریملن کا دوٹوک پیغام، تہران کے لیے روسی حمایت مزید مضبوطماسکو: روس نے ایران کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو ایک بار پھر نمایاں کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ موجودہ علاقائی کشیدگی کے دوران تہران کو اس کی سیاسی اور تزویراتی حمایت حاصل رہے گی۔روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے روسی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دمتری میدویدیف کو سابق ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی سرکاری تدفین میں روسی وفد کی قیادت کے لیے اپنا خصوصی نمائندہ مقرر کیا۔ روس میں ایران کے سفیر کاظم جلالی کے مطابق میدویدیف نے صدر پوٹن کے خصوصی ایلچی کی حیثیت سے تقریب میں شرکت کی۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ سرکاری سوگ کی تقریبات میں تقریباً 100 ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی، جن میں سربراہانِ مملکت، پارلیمانی اسپیکرز، وزرائے خارجہ، اعلیٰ حکومتی شخصیات اور دیگر ممتاز عالمی رہنما شامل تھے۔اپنے دورے کے دوران دمتری میدویدیف نے روس اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک تعلقات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک دفاع، عسکری تعاون اور دیگر اہم شعبوں میں اشتراکِ عمل کو مزید وسعت دیں گے

۔انہوں نے آبنائے ہرمز کو ایران کا ایک انتہائی اہم جغرافیائی و تزویراتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی بحری تجارت میں اس کی کلیدی حیثیت ایران کو غیرمعمولی اہمیت فراہم کرتی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ بیان خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایران کے اسٹریٹجک اثر و رسوخ کی جانب واضح اشارہ ہے۔روسی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی جامع مفاہمت تک پہنچنا موجودہ حالات میں نہایت پیچیدہ اور دشوار ہوگا، جو خطے کی بدلتی ہوئی سلامتی کی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق یوکرین جنگ کے بعد روس اور مغربی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ماسکو کو ایران سمیت اپنے قریبی شراکت داروں کے ساتھ سیاسی، اقتصادی اور دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے کی طرف مائل کیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ روس۔ایران تعلقات میں یہ پیش رفت عالمی طاقتوں کے درمیان نئی جغرافیائی و سیاسی صف بندی کا اہم حصہ سمجھی جا رہی ہے۔

د. لبنى فرح نیویارک: یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران فائرنگ، 8 افراد زخمی؛ بروکلین برج کے قریب آتش بازی سے آگ بھی بھڑک اٹھینیویارک: امریکا کے یومِ آزادی (4 جولائی) کی تقریبات کے دوران پیش آنے والے دو الگ الگ واقعات نے جشن کا ماحول متاثر کر دیا۔ نیویارک کے معروف ساحلی علاقے کونی آئی لینڈ میں فائرنگ کے نتیجے میں 8 افراد زخمی ہو گئے، جبکہ بروکلین برج کے قریب آتش بازی کے دوران پلیٹ فارم پر آگ لگنے سے موقع پر بھگدڑ اور خوف و ہراس پھیل گیا۔امریکی میڈیا کے مطابق کونی آئی لینڈ میں فائرنگ سے زخمی ہونے والوں میں 4 بچے بھی شامل ہیں، جبکہ ایک زخمی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ پولیس نے زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا،

تاہم فائرنگ کی وجوہات اور حملہ آور یا حملہ آوروں کے بارے میں فوری طور پر کوئی معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔دوسری جانب امریکا کے 250 ویں یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران بروکلین برج کے قریب آتش بازی کے لیے نصب پلیٹ فارم پر اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس سے تقریب میں شریک افراد میں کچھ دیر کے لیے خوف و ہراس پھیل گیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق آگ لگنے کے بعد دھواں اور شعلے دور سے بھی دکھائی دیے، تاہم فائر بریگیڈ اور متعلقہ حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تقریباً ایک منٹ کے اندر آگ پر قابو پا لیا۔ حکام نے واضح کیا کہ آگ بروکلین برج پر نہیں بلکہ آتش بازی کے لیے قائم کیے گئے عارضی پلیٹ فارمز تک محدود رہی
۔سرکاری حکام کے مطابق اس واقعے میں کوئی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ 143 سالہ تاریخی بروکلین برج مکمل طور پر محفوظ ہے اور اس کے ڈھانچے کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔واضح رہے کہ امریکا میں عوامی تقریبات کے دوران فائرنگ کے واقعات ایک بار پھر سیکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک اسکول کی گریجویشن تقریب کے دوران اسٹیڈیم کے قریب فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور تین دیگر زخمی ہو گئے تھے، جس کے بعد تقریب میں شریک افراد جان بچانے کے لیے محفوظ مقامات کی جانب دوڑ پڑے تھے۔

د. لبنى فرح.ٹرمپ کا حیران کن اعتراف: خامنہ ای کے جنازے میں لاکھوں نہیں، کروڑوں ایرانیوں کی شرکت نے مجھے حیران کر دیاواشنگٹن: امریکی صدر Donald Trump نے پہلی بار سابق ایرانی سپریم لیڈر Ali Khamenei کے بارے میں عوامی سطح پر تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کے دوران ایران معاہدے کا خواہاں تھا۔امریکی یومِ آزادی کی تقریبات کے آغاز پر ماؤنٹ رشمور میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ “ہم نے ایران کو صرف ایک ہفتے کی مہلت دی تاکہ وہ اپنے رہنما کی آخری رسومات اور سوگ کی تقریبات مکمل کر سکے، کیونکہ ہم اچھے لوگ ہیں، بس اسی لیے۔”اپنی تقریر میں ٹرمپ نے مزید کہا کہ “دو عالمی جنگوں اور سرد جنگ نے امریکہ کے دشمنوں کو تاریخ کے صفحات میں دفن کر دیا۔ ہم نے وینزویلا کو ایک دن میں شکست دی، اور ایران کو بھی کچل دیا

۔”ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ انہوں نے وائٹ ہاؤس سے ویڈیو اسکرینوں پر علی خامنہ ای کی آخری رسومات دیکھی تھیں اور جنازے میں عوام کی غیرمعمولی شرکت پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “میں حیران رہ گیا کہ ایرانی خامنہ ای کے جنازے پر رو رہے تھے، مجھے تو لگا تھا کہ لوگ ان سے نفرت کرتے ہیں۔”انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کو جنازے کی تقریبات کے باعث سات دن کے لیے مؤخر کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔دوسری جانب، تہران میں علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے متعدد افراد کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق جنازے میں غیرمعمولی عوامی شرکت متوقع تھی، جبکہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر موجودہ سپریم لیڈر Mojtaba Khamenei تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔

سابق کرکٹر کامران اکمل کا کہنا ہے کہ یہ وہی بابر اعظم ہے جس کو کیا کچھ نہیں کہا گیا اور کپتانی سے زبردستی ہٹایا گیا تھا اس کے بعد دوبارہ کپتانی کو قبول کرنا یہ میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے سلمان آغا اگر کپتان سے انکاری کرتے تو بابر اعظم کو بھی انکار کردینا چاہئے تھا یہ کپتانی بابر کے گلے پڑھے گی مجھے آج بھی یاد ہے جب یونس خان کو ون ڈے ٹیم کی کپتانی سے ہٹایا گیا پھر دوہزار پندرہ ون ڈے ورلڈ کپ میں یونس کو مصباح الحق کی جگہ کپتان بنانے کی آفر ہوئی تو یونس خان تاریخی جملہ کہا تھا کہ آپ نے مجھے دوہزار نو میں کپتانی سے ہٹایا اور اب پھر کپتان بنارہے ہو اور آپ کو لگتا ہے میں یہ کپتانی قبول کرلوں گا میں ایسی کپتانی پر تھوکتا ہوں ویسے لوگ یونس خان کی اتنی عزت نہیں کرتے وہ بڑے پلیئرتو تھے ہی لیکن اس سے زیادہ اصول

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے نئے مالی سال کے لیے حکومتی پالیسی واضح کر دی، کابینہ اراکین اور انتظامی سیکرٹریز کو اہم ہدایات جاری! ⬅️ کرپشن پر زیرو ٹالرنس ہے، کسی بھی سطح پر کرپشن اور بدعنوانی برداشت نہیں ہوگی، کرپشن کے تمام راستے بند کیے جائیں،⬅️ کرپٹ اور نااہل افسران کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کریں، چاہے وہ کسی کے بھی چہیتے ہوں،⬅️ محکموں کی کارکردگی کا اصل معیار عوام کا اطمینان ہوگا، عوام مطمئن نہ ہوں تو اچھی سے اچھی پریزنٹیشن کا کوئی فائدہ نہیں،⬅️ تمام وزراء ہر ماہ کم از کم سات اضلاع کے دورے کریں، عوام میں جائیں اور مسائل کے فوری حل کو یقینی بنائیں، ⬅️ عوامی شکایات اور ان کے ازالے کا روزانہ جائزہ لوں گا، بروقت ازالہ نہ ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف بھرپور کارروائی ہوگی، ⬅️ وزراء ضلعی دوروں کا باقاعدہ شیڈول مرتب کریں، ہر محکمہ اپنا کمپلینٹ سیل قائم کرکے وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل سے منسلک کرے،⬅️ عمران خان کے وژن کے عکاس تمام سگنیچر منصوبوں پر فوری اور ترجیحی بنیادوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے،⬅️ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں حکومت کی ترجیحات واضح ہیں، تمام محکمے اپنے ترقیاتی منصوبوں پر تیز رفتار عملدرآمد یقینی بنائیں،⬅️ تمام محکمے رواں مالی سال میں ڈی ایف سی اسکیموں کی تکمیل یقینی بنائیں،

نئی ترقیاتی اسکیموں کے لیے واضح ٹائم لائنز مرتب کریں،⬅️ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ سے کسی معاملے پر رابطہ کیا جائے تو 24 گھنٹوں کے اندر نتیجہ چاہیے، ⬅️ تمام وزراء، مشیران اور محکموں کے انتظامی سیکرٹریز باہمی رابطہ مضبوط بنائیں اور تمام فیصلے مشاورت، میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر کریں،⬅️ تمام محکمے اپنی کمیونیکیشن اسٹریٹجی بنائیں اور عوام کو حکومتی اصلاحات اور منصوبوں سے مؤثر انداز میں آگاہ کریں،⬅️ تین ماہ بعد دوبارہ کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا، دی گئی ہدایات پر عملدرآمد کی بنیاد پر سزا و جزا کا فیصلہ ہوگا.#CMKP #sohailafridi #PublicServiceDelivery #GoodGovernance
اسلام آباد کی پولیس امن برقرار رکھنے میں ناکام۔۔شھباز شریف کی رخصتی وزیر اعظم ھاوس میں تعینات 2 سئینر ترین شخصیات کی گرفتاری۔ کے پی آزاد کشمیر آور بلوچستان کی طرح پنجاب میں بھی عام شہری بغاوت پر اتر آئے مافیا حکومت کا گٹھ جوڑ جاری۔۔۔دنیا میں قانون اندھا ھے پاکستان میں قانون دھندہ ھے۔۔ سہیل رانا لائیو تفصیلات بادبان یو ٹیوب پر

پاکستان کے گوادر میں خودکش حملے میں 6 سکیورٹی اہلکار شہید ، 15 زخمی بھارت عرب امارات اور افغانستان کا گٹھ جوڑ۔۔رپورٹ سھیل رانا۔موجودہ حکومت پٹرول بجلی اور گیس کے بلوں پر حکومت چلا رھی مافیا کی حکومت

Suicide Attack in Gwadar, Pakistan: Six Security Personnel Martyred, 15 Injured. Possible Nexus Involving India, the United Arab Emirates, and Afghanistan.

حکومت کی جانب سے ایک روپے پیٹرول اور ایک روپے ڈیزل کی قیمت کم کرنے مطلب کہ حکمرانوں کو اب پورا یقین ہوچکا ہے کہ اس قوم میں اتنا دم نہیں ہے کہ یہ اپنے حق کیلئے نکل سکے موجود وقت میں تیل کی قیمت عالمی مارکیٹ میں اتنا گر گیا ہے کہ حکومت اگر 150روپے لیٹر عوام کو دے تو حکومت کو پھر بھی فی لیٹر میں ٹھیک ٹھاک بچت ہوگی ایک روپے قیمت کم کرنا اس قوم کیساتھ مزاق نہیں تو اور کیا ہے مشکل وقت ہم سب نے کہا تھا یہ فیصلہ وقت کی ضرورت ہے لیکن اب تو حالات پہلے سے بھی بہتر ہوگئے ہے تیل عالمی منڈی میں سستا ہوگیا آپ کو بھی سستا ہی مل رہا ہے تو پھر کیوں عوام کو ریلیف نہیں دیا جارہا

📰Islamabad Administration Launches Major Crackdown on Illegal Security Cabins Outside Private Residences Islamabad: The Islamabad district administration has launched a large-scale enforcement campaign against illegally installed security cabins erected outside private residences, intensifying operations across several residential sectors of the federal capital.According to official details, extensive action was carried out on Friday in Sectors F-6, F-7, F-10, F-11 and G-11. During the operation, authorities removed 31 unauthorized security cabins that had been installed on public roads, footpaths and other state-owned land outside residential properties.Officials said the operation is being conducted on the special directives of the Deputy Commissioner Islamabad as part of an ongoing drive to eliminate illegal encroachments obstructing public spaces and pedestrian movement.The district administration emphasized that the campaign is not a one-time exercise.

Similar operations will continue on a daily basis across all sectors and localities of Islamabad to ensure the removal of unauthorized structures and restore unobstructed access to public roads and sidewalks.Authorities reiterated their commitment to enforcing municipal regulations, reclaiming public land and maintaining orderly urban infrastructure throughout the capital.
حکومت کی جانب سے ایک روپے پیٹرول اور ایک روپے ڈیزل کی قیمت کم کرنے مطلب کہ حکمرانوں کو اب پورا یقین ہوچکا ہے کہ اس قوم میں اتنا دم نہیں ہے کہ یہ اپنے حق کیلئے نکل سکے موجود وقت میں تیل کی قیمت عالمی مارکیٹ میں اتنا گر گیا ہے کہ حکومت اگر 150روپے لیٹر عوام کو دے تو حکومت کو پھر بھی فی لیٹر میں ٹھیک ٹھاک بچت ہوگی ایک روپے قیمت کم کرنا اس قوم کیساتھ مزاق نہیں تو اور کیا ہے مشکل وقت ہم سب نے کہا تھا یہ فیصلہ وقت کی ضرورت ہے لیکن اب تو حالات پہلے سے بھی بہتر ہوگئے ہے تیل عالمی منڈی میں سستا ہوگیا آپ کو بھی سستا ہی مل رہا ہے تو پھر کیوں عوام کو ریلیف نہیں دیا جارہا

—وزیراعظم۔۔ پریس کانفرنسپاکستان اور ترکیہ کا باہمی تجارت کا حجم پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار ، پاکستان اور ترکیہ نے ہمیشہ ہر مشکل میں ایک دوسرے کا بھر پور ساتھ دیا ، وزیر اعظم شہباز شریف کی ترک صدر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنساستنبول۔4جولائی :پاکستان اور ترکیہ نے باہمی تجارت کا حجم پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے دو طرفہ تجارت ، اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان اور ترکیہ کو یک جان دو قالب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکیہ نے ہمیشہ ہر مشکل میں ایک دوسرے کا بھر پور ساتھ دیا جبکہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے عالمی امن کےلئے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پوری دنیا نے اس سے سکھ کا سانس لیا، ترکیہ امن اور خوشحالی کے لئے کوششوں کی حمایت ہمیشہ جاری رکھے گا۔ ہفتہ کو یہاں وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس خطاب کیا۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ شاندار استقبال اور بھرپور میزبانی پرصدر رجب طیب اردوان کا شکریہ ادا کرتے ہیں

۔ انہوں نے استنبول کو خوبصورت شہر اور مشرق و مغرب کا حسین امتزاج قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے عوام ایک دوسرے سے گہری محبت اور وابستگی رکھتے ہیں ۔ دونوں کے درمیان قلبی تعلق ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ترکیہ کی جنگ آزادی میں برصغیر کے مسلمانوں نے بھرپور حمایت کی اور ماؤں بہنوں نے اپنے زیورات تک عطیہ کردیے ۔ یہ منفرد تعلق مشترکہ عقیدے، ثقافت، تاریخ، باہمی اخوت اور قربانیوں کی بنیاد پر استوار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کی ایک شاندار تاریخ ہے۔ دونوں ممالک نے ہمیشہ ہر مشکل میں ایک دوسرے کا بھر پور ساتھ دیا۔

جنگ ہو یا زلزلہ ، قدرتی آفات ہوں یا سیلاب، ترکیہ نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا۔ مظفر گڑھ اور سیلاب سے متاثرہ دوسرے علاقوں میں ترکیہ کی مدد تاریخ کا حصہ ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان خود اپنی اہلیہ کے ہمراہ سیلاب متاثرہ مظفر گڑھ آئے اور ترک صدر کی اہلیہ نے اپنے گلے کا ہار تک متاثرین کیلئے عطیہ کردیا

،ان کے اس عمل نے پاکستان کے عوام کے دل جیت لیے۔ وزیر اعظم نے قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں جدید ہسپتال اور سکولز قائم کرنے اور سماجی اور معاشی ترقی کے لئے ترکیہ کے تعاون کا بھی شکریہ ادا کیا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم فخر کرتے ہیں کہ پاکستان اور ترکیہ یک جان دو قالب ہیں۔ مولانا جلال الدین رومی اور علامہ اقبال کی فکر ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ وزیر اعظم نے صدر اردوان کی قیادت میں ترکیہ کی تمام شعبوں میں بے مثال ترقی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ترکیہ کے ساتھ اپنی دوستی پر فخر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بی ٹو بی فورم میں ترکیہ کی کاروباری شخصیات سے اہم نشست ہوئی۔ صدر اردوان کے ساتھ جامع اور تعمیری بات چیت ہوئی۔

ہم نے خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری میں اضافے پر گفتگو کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم دوطرفہ تجارتی حجم 5 ارب ڈالر کا ہدف حاصل کرنے کے لئے پر عزم ہیں۔ انہوں نے عالمی و علاقائی تنازعات پر دونوں ممالک کے مشترکہ مؤقف اور تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان قبرص کے مسئلے پر ترکیہ کے موقف کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر پر دوٹوک موقف رکھنے پر ترکیہ کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم نے دو طرفہ تعاون بڑھانے کیلئے بات چیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی کامیابی ترکیہ کی کامیابی اور ترکیہ کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان اور ترکیہ کی شراکت داری کو نئی جہت دینی ہے۔ قبل ازیں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور ان کے وفد کو خوش آمدید کہتے ہیں ۔

انہوں نے بلوچستان میں گزشتہ روز حادثے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جس میں کئی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ملاقات میں دو طرفہ تعلقات، علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے دونوں ممالک کے تعلقات کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد امن مفاہمتی یادداشت سے پوری دنیا نے سکھ کا سانس لیا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں کاوشوں پر وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور پاکستانی قوم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ترکیہ نے بھی اس کیلئے اپنا تعاون فراہم کیا۔ اور خطے میں امن اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے ترکیہ اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور امن اور خوشحالی کے لئے کوششوں کی ہمیشہ حمایت جاری رکھیں گے۔ انہوں نے امن ، ترقی اور خوشحالی کےلئے پاکستان کے اقدامات کو قابل ستائش قرار دیا۔ ترک صدر نے کہا کہ اسرائیلی انتظامیہ امن کو سبوتاژ کرنے کیلئے اشتعال انگیز کارروائیاں کر رہی ہے اور اپنی سیاسی بقا کیلئے کشیدگی کو ہوا دی جارہی ہے

۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے تجارت ، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون میں اضافے سے متعلق گفتگو کی۔خصوصی اقتصادی زونز کے حوالےسے متعلقہ وزارتیں قریبی روابط جاری رکھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ باہمی تجارت کا حجم پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ انہوں نے دفاعی تعاون، توانائی، آئی ٹی، ٹرانسپورٹیشن اور منرلز سمیت مختلف شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے میں ترکیہ کی دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔
نجی پیٹرولیم کمپبنیاں شکنجے میں۔۔شھباز حکومت کی جانب سے عوام کو لوٹنے کا نہ ختم ہونے ھونے والہ سلسلہ جاری۔۔ ۔ائل مافیا نے حکومت کو خرید لیا لوٹ مار کرپشن کا بازار گرم۔۔وزیر اعطم کے ساتھ اسحاق ڈار اور وزیر پٹرولیم حصہ دار کوی نھی سب لوٹنے میں مصروف۔۔ ۔۔کھربوں روپے پٹرول مھنگا کر کے عوام کو چوسا اور اب پٹرول سستا نہ کر کے عوام کو زندہ دفن کیا۔ شھباز حکومت کی تبدیلی اگلا وزیر اعظم کون اھم ترین بیورو کریٹس کی گرفتاریاں۔۔رضا ڈار کون ہے پنجہ شریفوں کی گردن تک پہنچ گیا ۔۔علیم خان محسن نقوی اور ایاز صادق میں مقابلہ جاری۔۔اسحاق ڈار کے قریبی رشتہ دار پر مقدمہ درج کے ساتھ حکومتی اھم بیورو کریٹس کی گرفتاریاں اور تبدیلی دال میں کچھ کالا۔۔ملک میں جنازوں کے لئے کفن نھئ اشرافیہ غیر ملکی جنازوں میں اربوں روپے کے چارٹر طیاروں میں غیر ملکی جنازوں میں شریک۔۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے انٹرنیشنل ٹی ٹونٹی لیگز کے لیے کن کن کھلاڑیوں کو این او سی دیا ہے مکمل تفصیلات۔۔سعودی عرب کی طرف سے دمشق میں ایک کیفے پر بم حملے کی۔کسی بھی طرح کی سیریز افغانستان کرکٹ ٹیم کے ساتھ اب نہیں کھیلی جائے گی پاکستان کرکٹ بورڈ نے میٹنگ میں بڑا فیصلہ۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*سی سی ڈی میں مبینہ کرپشن کا بڑا اسکینڈل بے نقاب، سابق ایس ایچ او سمیت متعدد اہلکار شکنجے میں، اینٹی کرپشن کی کارروائیاں تیز*سی سی ڈی پنجاب میں مبینہ کرپشن، منشیات فروشوں سے روابط اور جھوٹے مقدمات درج کرنے کے الزام میں تحقیقات کا دائرہ وسیع ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق جتوئی، لیہ اور ڈی جی خان سے تعلق رکھنے والے متعدد سی سی ڈی اہلکاروں کو لاہور میں حراست میں لے کر ان سے تفتیش کی جا رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اینٹی کرپشن لاہور نے تھانہ سٹی لیہ کے سابق ایس ایچ او عرفان باجوہ اور سابق تفتیشی افسر (آئی او) سب انسپکٹر نادیہ کو احتساب عدالت میں پیش کیا۔ عدالت نے سابق ایس ایچ او عرفان باجوہ کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا، جبکہ سب انسپکٹر نادیہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔

ذرائع کے مطابق مقدمے میں سی سی ڈی کے متعدد اہلکاروں، ایک سابق ایس ایچ او، بعض دیگر افراد اور ایک صحافی کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ تفتیشی حکام مبینہ طور پر منشیات فروشوں سے روابط، جھوٹے مقدمات کے اندراج اور اختیارات کے ناجائز استعمال سمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیے جانے کا امکان ہے اور مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔ تاہم مقدمے میں نامزد تمام افراد کے خلاف عائد الزامات تاحال ابتدائی نوعیت کے ہیں، جن کا فیصلہ عدالت میں شواہد اور قانونی کارروائی کے بعد ہوگا۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے نجی پیٹرولیم کمپنی کے خلاف اربوں روپے کی ڈیوٹی اور ٹیکس چوری کیس میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے 5 ارب 94 کروڑ روپے کی ریکوری کر لی ہے۔ایف آئی اے کے مطابق کارپوریٹ کرائم سرکل کی تحقیقات کے دوران نجی پیٹرولیم کمپنی سے 5 ارب 94 کروڑ روپے وصول کیے گئے، جبکہ تحقیقات میں کمپنی کی جانب سے مزید ٹیکس چوری کے معاملات بھی سامنے آئے ہیں۔ادارے کا کہنا ہے کہ وصول کی گئی رقم میں سابقہ واجب الادا ڈیوٹی اور ٹیکسز بھی شامل ہیں۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے نجی پیٹرولیم کمپنی کے خلاف اربوں روپے کی ڈیوٹی اور ٹیکس چوری کیس میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے 5 ارب 94 کروڑ روپے کی ریکوری کر لی ہے۔ایف آئی اے کے مطابق کارپوریٹ کرائم سرکل کی تحقیقات کے دوران نجی پیٹرولیم کمپنی سے 5 ارب 94 کروڑ روپے وصول کیے گئے، جبکہ تحقیقات میں کمپنی کی جانب سے مزید ٹیکس چوری کے معاملات بھی سامنے آئے ہیں۔ادارے کا کہنا ہے کہ وصول کی گئی رقم میں سابقہ واجب الادا ڈیوٹی اور ٹیکسز بھی شامل
رضا ڈار کون ہے ؟ پنجاب حکومت ظلم جبر میں سب سے آگے۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

رضا ڈار کون ہے ؟ کیا فارن عورتوں کے ساتھ زنا بلجبر ہوا؟ اب سی سی ڈی کہاں ہے؟ کیا واقعی ہی اسحاق ڈار کا نواسہ ہے ؟ پنجاب حکومت ظلم جبر میں سب سے آگے ؟لاہور میں دو غیرملکی خواتین کا اغواء برائے تاوان ، ریپ ، تشدد اور اہم ترین ملکی شخصیت کے نواسے کا ملوث ہونا۔پنجاب کے دل لاہور میں اک ایسا واقعہ ہوا ہے جس کی گونج انٹرنیشنل میڈیا میں سنائی دے رہی ہےذرا تصور کریں ایسا کون سورما ہے جس نے پنجاب کے دل لاہور میں سی سی ڈی کی دہشت کے باوجود دو غیرملکی خواتین کو نہ صرف اغوا کیا بلکہ تین دن تک ان کا ریپ کیا جاتا رہا ، تشدد کیا گیا اور رہائی کے بدلے ڈیڑھ ملین ڈالر تاوان مانگا گیا ۔ یہ تو سیدھا سیدھا بیل (سی سی ڈی) کو لال کپڑا دکھانے کے مترادف ہے29جون کو دو غیر ملکی خواتین اسٹیفنی اڈیانا ایرون اور آسٹر اسٹیفن بروچو جن کا تعلق ہالینڈ اور وینزویلا سے ہے ، ایک پاکستانی محمد رضا ڈار کی دعوت اور معاونت سے پاکستان آتی ہیں ، جہاں انہیں ڈیفنس ایک گھر میں لے جایا جاتا ہے اور اغوا کر لیا جاتا ہے ، ان کے ساتھ مبینہ طور پر چار لوگ ریپ کرتے ہیں اور ان سے رہائی کے بدلے ڈیڑھ ملین ڈالر تاوان طلب کرتے ہیں ۔ اسٹیفنی کے والد کا جب اپنی بیٹی سے رابطہ نہیں ہو پاتا تو 15 پر پنجاب پولیس کو کال کرتے اور گمشدگی رپورٹ کرتے ہیں جس پر پنجاب پولیس فوری حرکت میں آتی ہے اور صرف دو گھنٹے میں خواتین بازیاب کر لی جاتی ہیں ۔یہ ہے وہ اسٹوری جو چلائی جا رہی ہے ۔ کیا حقیقت میں ایسا ہی ہوا ؟؟؟نہیںان دونوں خواتین کو محمد رضا ڈار نے پاکستان بلوایا ، اپنے پاس رکھا۔۔یہ اپنی مرضی سے اس کے ساتھ رہیں ، پارٹیاں ہوتی رہیں ، جیسا ہائی سوسائٹیز میں اب فیشن بن چکا ہے ، پھر رقم کے لین دین پر ان بن ہو گئی اور خواتین اخلاقی بلیک میلنگ پر اتر آئیں ۔ رضا ڈار کے نانا پاکستان کی اک طاقتور ترین شخصیت اور صاحبِ اقتدار ہیں تو طاقت اور اقتدار کے نشے میں نوجوان رضا ڈار معاملے کی حساسیت کو نہ سمجھ سکے اور جوش جوابی میں ان خواتین پر تشدد کیا ۔ خواتین روتی پیٹتی تھانے پہنچیں ، جہاں ایس ایچ او فریاد اعوان نے محمد رضا ڈار کی حقیقت جاننے کے بعد مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا ، جیسا کہ پاکستان میں معمول ہے کہ جہاں کسی صاحبِ اقتدار یا حکمران کا معاملہ ہوتا ہے پولیس ہاتھ کھڑے کر دیتی ہے ۔ خاتون نے ہالینڈ اپنے والد کو صورتحال سے آگاہ کیا ، جنہوں نے ڈچ ایمبیسی کو اپنی بچی کے اغواء کے معاملے سے آگاہ کیا۔۔۔ڈچ ایمبیسی نے فوری اسلام آباد اور پنڈی میں رابطہ کیا اور معاملات نانا کے نواسے کے ہاتھ سے نکل گئیے ۔ ڈچ ایمبیسی کے دباؤ کے تحت ڈی آئی جی آپریشنز نے نہ صرف متعلقہ ایس ایچ کو غفلت اور غیر ذمہ داری پر معطل کر دیا بلکہ خاتون کی مدعیت میں محمد رضا ڈار اور تین دوسرے افراد کے خلاف سنگین نوعیت کی دفعات کے تحت مقدمہ 1560/26 تھانہ ڈیفنس سی درج ہو گیا۔جس کے بعد جج محمد سعید کی عدالت میں خواتین کے دفعہ 64 کے تحت بیانات ہو گئے ہیںیہ اغواء برائے تاوان یا ریپ کا معاملہ نہیں تھا ، اک لین دین کا معاملہ تھا جو محمد رضا ڈار کی انا اور ناسمجھی سے اک سنگین رخ اختیار کر گیا اور پاکستان کا اک انتہائی برا تاثر دنیا میں گیا کہ پاکستان غیر ملکیوں یا خواتین کے لئیے اک محفوظ ملک نہیں ہے ۔ ۔ کیس آگے کیا رخ اختیار کرتا ہے ، دیکھ
عالمی بینک نے پاکستان میں مالیاتی وفاقیت مضبوط بنانے پر نئی رپورٹ جاری۔۔۔ زیر سمندر انٹرنیٹ کیبل میں خرابی کے باعث پاکستان بھر میں انٹرنیٹ کی سروس متاثر، PTCL۔۔سنگ سنگ کھڑے یہ کس کے حکم پر ملاقات۔۔چیف جسٹس پہلے عدالتوں سے انصاف دیں سوالوں کا جواب کون دے گا؟۔ ۔۔تلہ گنگ: نواحی علاقہ ٹمن کے اینکر نالہ میں نہاتے ہوئے 3 کمسن بچے ڈوب کر جاں بحق’پاکستان جنوبی ایشیا میں امن اور سلامتی کے امور پر امریکی شمولیت کا خیرمقدم کرے گا۔‘انڈیا کے ساتھ ’ٹریک ٹو سفارتکاری‘ اور شہباز، مودی کے نام خط پر اسلام آباد نے کیا کہا؟۔۔’لاہور سمیت پنجاب بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا عالمی ریکارڈ۔۔ ۔۔کرکٹ اور پاکستان میں کھیلوں کا جنازہ زرا دھوم سے۔۔جیل اصلاحات کانفرنس۔۔جیلوں میں صحت اور پانی کی سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے چیف جسٹس۔ فرش پر گرنے والے گڑ کے ٹکڑے اٹھا کر مریم نواز نے اپنی شوگر کو نارمل کرنے۔۔ ۔جیلوں میں سہولیات کانفرنس میں وزیر اعلی کے پی کا سحر انگیز خطاب چیف جسٹس سپریم کورٹ کی برملا داد۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*پاکستانی زیتون کے تیل نے لندن انٹرنیشنل اولیو آئل کمپیٹیشن 2026 جیت لیا۔* پاکستانی پریمیم زیتون برانڈ محمد حسن ترین نے قائم کیا تھا جنہوں نے لورا لائی میں زیتون کو اگایا۔حسن ترین کا کہنا ہے کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہوگیا جو ایکسٹرا ورجن اولیو آئل تیار کرتے ہیں، یہ اعزاز ذاتی کامیابی نہیں پاکستان میں زیتون کی صنعت کیلئے سنگ میل ہے، مقابلے میں تقریباً 1300 زیتون کے برانڈز بنانے والے شریک تھے

ایف بی آرٹیکس نیٹ میں توسیع، شفافیت اور ٹیکس دہندگان کو سہولیات کی فراہمی ایف بی آر اصلاحات کی اولین ترجیحات ہیں، ایف بی آر میں کرپٹ عناصر کی کوئی جگہ نہیں، وزیراعظم شہباز شریف کی ایف بی آر کے سینئر افسران سے گفتگع اسلام آباد۔2جولائی ):وزیراعظم محمد شہباز شریف نےمالی سال 26-2025 کے لیے تاریخی ریونیو ہدف کے حصول کو سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس نیٹ میں توسیع، شفافیت اور ٹیکس دہندگان کو سہولیات کی فراہمی ایف بی آر اصلاحات کی اولین ترجیحات ہیں، گزشتہ اڑھائی سال سے جاری اصلاحات،ڈیجیٹائزیشن اور ٹیم ورک کی بدولت ایف بی آر ریکارڈ ٹیکس اکھٹا کرنے میں کامیاب ہوئی،مالی سال 2025-26 میں تقریباً 600 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی سے کاروباری برادری کو سہولت اور برآمدات کے فروغ میں مدد ملی،ریونیو اکٹھا کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیکس دہندگان، کاروباری و صنعتی برادری کو سہولیات کی فراہمی ترجیح ہونی چاہیئے،ایف بی آر میں کرپٹ عناصر کی کوئی جگہ نہیں۔

جمعرات کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے ان خیالات کا اظہار فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سینئر افسران سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے وزیراعظم سے یہاں ملاقات کی ۔وزیراعظم نے پچھلے مالی سال میں 12.957 کھرب روپے کے محصولات کا ہدف عبور کرنے پر ایف بی آر کے افسران کی ستائش کی۔وزیر اعظم نے کہا کہ مالی سال 26-2025 کے لیے تاریخی ریونیو ہدف حاصل کرنا ایک سنگ میل ہے،سب کو فرداً فرداً اور ایف بی آر کے تمام عملے کو اجتماعی طور پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ،مالی سال 26-2025 میں تقریباً 600 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی سے کاروباری برادری کو سہولت اور برآمدات کے فروغ میں مدد ملی ۔وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آر کی فیلڈ فارمیشنز اور افسران اسی جذبے سے کام کرتے ہوئے رواں مالی سال 15 کھرب روپے سے زائد محصولات کا ہدف حاصل کریں گی۔نمایاں کارکردگی پر وزیراعظم نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، اٹارنی جنرل منصور اعوان، چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال ، سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال، معاشی ٹیم کے دیگر اراکین اور ایف بی آر افسران کی کارکردگی کو سراہا۔وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سمگلنگ کی روک تھام اور افسران کو سکیورٹی فراہم کرنے پر خراج تحسین پیش کیا ۔وزیراعظم نے کہا کہ جن افسران نے ملک کے دور دراز علاقوں میں اپنی جانوں پر کھیل کر ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی کے نفاذ میں اپنا کردار ادا کیا، ان کے کوششیں لائق تحسین ہیں،ایف بی آر میں گزشتہ ڈھائی سال سے جاری اصلاحات، ڈیجیٹائزیشن پر توجہ اور ٹیم ورک کی بدولت ایف بی آر ریکارڈ ٹیکس اکھٹا کرنے میں کامیاب ہوئی۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آر کے امور پر مہینے میں دو بار جائزہ اجلاسوں کی صدرات میں نے خود کی کیونکہ ایف بی آر میں اصلاحات حکومت کا اولین ایجنڈا ہے،ہم نے ایف بی آر کی فیلڈ فارمیشنز میں اچھی شہرت کے حامل افسران کی تعیناتی یقینی بنائی۔وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آر میں کرپٹ عناصر کی کوئی جگہ نہیں،ریونیو اکٹھا کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیکس دہندگان، کاروباری و صنعتی برادری کو سہولیات کی فراہمی ترجیح ہونی چاہیئے،ایف بی
آر میں جاری اصلاحات کی رفتار مزید تیزی لائی جا رہی ہے ۔وزیراعظم نے کہا کہ ٹیکس نیٹ میں توسیع، شفافیت اور ٹیکس دہندگان کو سہولیات کی فراہمی ایف بی آر اصلاحات کی اولین ترجیحات ہیں، ایف بی آر کا نیا آپریٹنگ ماڈل ایک ڈیجیٹل اور کم سے کم انسانی مداخلت پر مبنی فیس لیس ٹیکس نظام پر مبنی ہو گا۔وزیراعظم نے پاکستان کسٹمز سروس اور ان لینڈ ریونیو سروس کے افسران کی ترقی اور سروس کو مزید بہتر بنانے کے لئے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی۔افسران کے وفد نے ایف بی آر پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے اور کارکردگی کو سراہنے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔

وفد کے شرکا نے وزیراعظم کو ملک کے مختلف علاقوں کی فیلڈ فارمیشنز کی کارکردگی سے آگاہ کیا۔وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ کراچی لارج ٹیکس پیئر یونٹ نے جون 2026ء کے دوران 528 ارب روپے کا ریونیو اکٹھا کیا، لاہور لارج ٹیکس پیئر یونٹ نے جون 2026ء کے دوران 261 ارب روپے اکٹھے کئے،گزشتہ ایک سال کے دوران ائیرپورٹ پر کسٹم ڈیوٹی کے حجم میں 21 فیصد اضافہ ہوا۔ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، اٹارنی جنرل منصور اعوان، چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔
میڈیا انفلوئنسرز کے ساتھ اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار کی بھارت کے موضوع پر اہم نشست*بھارت اپنے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے پورے خطے بالخصوص پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے پر لگا ہوا ہے بھارتی قیادت زمینی حقائق تسلیم کرنے سے گریزاں
میڈیا انفلوئنسرز کے ساتھ اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار کی بھارت کے موضوع پر اہم نشست*بھارت اپنے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے پورے خطے بالخصوص پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے پر لگا ہوا ہے بھارتی قیادت زمینی حقائق تسلیم کرنے سے گریزاں ہے ، سیکیورٹی ذرائع بھارت ایک ہندوتوا زدہ ناکام ریاست ہے تاہم اسے اپنے آپ کو بڑا دکھانےکی عادت ہو چکی ہے ، سیکیورٹی ذرائعبھارتی ریاست کی ناکامی کی وجوہات بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور مذہبی شدت پسندی ہے، سیکیورٹی ذرائعاکھنڈ بھارت کا غیر حقیقی خواب اس کے توسیع پسندانہ عزائم کی عکاسی کرتا ہے ، سیکیورٹی ذرائعہندوتوا نظریہ نے بھارت کے سیکولر چہرے کو مسخ کردیا ہے، سیکیورٹی ذرائعبھارت کی فوج بی جے پی کی متشدد اور مذہبی سیاست کی نذر ہو چکی ہے، سیکیورٹی ذرائع تقسیم شدہ معاشرہ کی موجودگی میں بھارت کے شائنگ انڈیا ہونے کا نعرہ محض ایک ڈھکوسلہ ہے، سیکیورٹی ذرائعبھارت کی ریاست درحقیقت ایک پولیس اسٹیٹ کا نام ہے جس میں آزادی رائے اور فرینڈم آف پریس ریاستی کنٹرول میں رکھا جاتا ہے، سیکیورٹی ذرائع دنیا کا اگلا سب سے بڑا قتلِ عام بھارت میں ہونے کا خدشہ ہے ،جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ، سیکیورٹی ذرائعاس قتل عام کی شدت غزہ اور فلسطین سے بھی بڑھ کر ہو گی ، سیکیورٹی ذرائعہندوستان میں پائی جانے والی تفریق اور اقلیتوں پر ہونے والے ظلم و ستم ہندوستان کی مزید تقسیم کا شاخسانہ بنیں گے، سیکیورٹی ذرائع ہندوتوا کے پیروکار یہ سمجھتے ہی نہیں ہیں کہ مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کو بھی جینے کا حق ہے ، سیکیورٹی ذرائع بھارت کے مسلمانوں کے لیے زندہ رہنے کی پہلی شرط ہندوتوا سوچ کے سامنے اپنی وفاداری کا ثبوت دینا ہے ، سیکیورٹی ذرائعمقبوضہ کشمیر کے عوام دنیا کی سب سے بڑی فوجی چھاؤنی میں محصور ہیں جہاں ہر 7 سے 8 فرد پر ایک فوجی اہلکار تعینات ہے، سیکیورٹی ذرائعبھارت آزادی کی تحریکوں کو چھپانےکیلئے پاکستان کا نام لے کر مختلف فالس فلیگ کا ڈھونگ رچاتا ہے جس کا مقصد دنیا کی توجہ بھی ہٹانا ہے ، سیکیورٹی ذرائع بھارتی جنونیت اور اجارہ داری ایک مضبوط، خوشحال اور معتدل پاکستان کو اپنے لیے خطرہ سمجھتی ہے، سیکیورٹی ذرائعپاکستان کے استحکام اور ترقی کو ہندوتوا کے پیروکار اپنی موت سمجھتے ہیں اسی وجہ سے بھارتی میڈیا اور سیاست دونوں پاکستان اور پاکستان کی افواج کے بارے میں بیانیہ بنانے میں الجھے رہتے ہیں ، سیکیورٹی ذرائعکالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی سرکردہ لیڈر شپ بھارتی ایجنڈے پر عمل پیراہے ، سیکیورٹی ذرائعریاست پاکستان اور اس کی عوام بھارت سے نہ کبھی مرعوب تھے اور نہ ہی کبھی ہونگے
بھارت پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے،گندم بحران پاکستان میں مافیا کے شکنجے میں۔۔10 ھزار ارب روپے کا 2 سالوں میں فراڈ کھربوں ڈالر کے گودام 2 کمپنیوں کے حوالے۔۔پاکستانی کسان سے گزشتہ سال 2 ھزار اور موجودہ 3 ھزار روپے فی من گندم چھین لی گئی۔۔ڈائریکٹر جنرل فوڈ پنجاب پاکستان میں گندم قحط کا ذمہ دار اور گینگ کے 2 افراد کونسے۔۔آسمانی بجلی گر نے کے واقعات میں 22بچیاں جاں بحق۔۔ملک بھر میں برسات کی پھلی بارش م 34 افراد جان بحق سینکڑوں زخمی پولیس غالب۔۔ ۔۔چین سعودی عرب کے ساتھ مل کر خطے میں کشیدگی میں کمی، پائیدار امن اور استحکام کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ چینی وزیرخارجہ۔۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

شوکت نواز میر کی گرفتاری۔نقصان کس کا؟کور ممبر شوکت نوازمیر کی گرفتاری سے زیادہ اس کی دھرنے میں موجودگی ریاست کے مفاد میں تھی۔دھرنے میں موجود ایک خاص گروپ جس کی ہم نشاندہی شروع دن سے کررہے ہیں،کہ انہیں ایکشن کمیٹی کا چارٹرڈ آف ڈیماند نہیں اس کی آڑ چاہیے،جہاں سے ہوکر وہ اپنی کئی دھائیوں کی محرومی کا بدلہ لے رہے ہیں کیونکہ لوگوں نے کبھی ان کے چکنے چپڑوں نعروں پر کان نہیں دھرا تھا،اب الحمدللہ اس کے خلاف ایکشن کمیٹی کے اندر سے یہ آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ انہوں نے ایکشن کمیٹی کے ایجنڈے کو ہی ایک اور غیر ضروری رخ دے دیاہے۔ اوپر سے نیم خواندہ انقلابی جن کے ہاتھ میں سوشل میڈیا کا ہتھیار آگیا

جیسے بندر کے ہاتھ میں ماچس” ایسے انقلابی جو ہر ایک کی پوسٹ پر آکر گالی دینا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ان سب کی موجودگی اور حماقتوں کے توڑ کے عمر نزیر کشمیری کو ایک بھاری بھر کم کور ممبر کا ساتھ ریاست کے مفاد میں تھا تاکہ ان کن کنکتروں کے ایجنڈے کے آگے بند باندھا جاسکے۔اس تحریک سے اس سسٹم کے ڈسے کشمیریوں میں امید کی کرن پیدا ہوئی تھی۔ان کے انتہا پسندانہ طریق کار کی کبھی ہم نے حمایت نہیں کی۔لیکن اس سے انکار نہیں کہ انہیں وہ عوامی حمایت ملی کہ شاید کئی دھائیوں نے اس خطے میں ایسی مقبول عوامی تحریک نہ دیکھی ہو۔تاہم اس عوامی حمایت اور مقبولیت کو انتخابی سیاست میں ڈھالنے کی بجائے غیر ضروری جلد بازی،ہٹ دھرمی کی وجہ سے اب بند گلی میں دھکیل دیاگیا ہے

۔اب ایکشن کمیٹی کا ایک ہی مطالبہ نظر آتا ہے کہ ہم سے مذاکرات کرو۔ریاست کا موڈ مذاکرات کا فی الحال نظر نہیں آرہا۔احتجاج اور دھرنے کی طوالت سے نقصان کس کا ہورہا ہے؟ جتنا یہ طویل ہوگا لوگوں کے اندر ردعمل ہوگا۔ایک سنہری موقع ان لوگوں نے گنوا دیا کہ ایکشن کمیٹی کو بطور جماعت رجسٹرڈ کرواتے اور پھر الیکشن میں جاتے۔ان کو خوف کس چیز کا تھا؟ غیر ضروری اور بچگانہ راستے کا انتخاب کرنے کی بجائے لوگوں سے رائے لیتے،ریفرنڈم کرواتے کہ الیکشن میں جایا جائے یا نہیں؟ لیکن یہاں تو ان کے پائوں ہی زمین پر نہیں لگتے تھے۔انتہا پسندی کی دنیا میں انتہا انتخابی عمل میں شرکت اور بار بار شرکت ہے۔شوکت نواز میر دھرنے میں ہوتا تو شاید حماقتیں کم ہوتیں۔آپ نے اپنے راستے خود محدود کئے۔سارے سیاستدانوں کو گالی دی،انہیں ڈنگر کہا

۔ان کو مذاکرات میں نہیں بیٹھنے دیا گیا تو اب پھر محمود اچکزئی،مشتاق احمد خان،علامہ ناصر عباس،شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر،سلمان راجہ جیسوں سے Safe passage مانگا جارہا ہے۔اب بھی وقت ہے مولانا فضل الرحمن اور حافظ نعیم الرحمن کی بات سنیں ان سے گارنٹی لیں اور پرامن گھروں کا جائیں۔لوگوں کا مزیدنقصان نہ کریں۔بچوں کے انٹر میڈیٹ کے پیپرز اس احتجاج کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔کاروبار تباہ ہو گئے ہیں،نظام سارا دھرم برم ہوچکا ہے۔ان حالات کا ایسے رہنا ریاست اور ایکشن کمیٹی کسی کے حق میں نہیں۔اب چارٹرڈ آف ڈیمانڈ کی بجائے این آر او مانگا جارہا ہے اور 38 نکات ایک طرف رہ گئے نئے 13 نکات آگئے۔جو خود آنکھوں دیکھتے پیدا کئے حالات کا شاخسانہ ہے۔

باپ بڑا نہ بھیا۔۔۔۔سب سے بڑا روپیہ وہ آیا اس نے دیکھا اور فتحیاب تھہرا۔۔۔۔۔۔جی ہاں آپ سمجھ رہے تھے کہ سب پیسے کا کمال تھا تو ٹھیک ہی سمجھ رہے تھے ۔۔۔۔پیسے کا بھی کمال تھا اور بھائیوں کا بھی۔۔۔۔سردار تنویر الیاس نے پیپلز پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو کئ اور لوگ بھی پیپلزپارٹی چھوڑنے کا اعلان کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ان سب کو معلوم ہے بھائیوں کا آزاد کشمیر میں فیصلہ پیپلزپارٹی کے حوالے سے غیر جانبدارانہ ہے۔۔۔۔۔اس لئے انہوں نے مطالبات ہی ایسے کئے جو پورے نہ ہو سکیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان میں مقیم جموں کشمیر کے محاجرین کی 12 نشستیں ہیں جن میں سے 6 جموں اور 6 ویلی کی ہیں ان 12 نشستوں کے ووٹرز کی کل تعداد درج ذیل ہے ۔ایل اے 34 ووٹرز کی کل تعداد 19008ایل اے 36 ووٹرز کی کل تعداد 87274ایل اے 36ووٹرز کی کل تعداد 99772ایل اے 37 ووٹرز کی کل تعداد 111230ایل اے 38ووٹرز کی کل تعداد 50225ایل اے 39 ووٹرز کی کل تعداد 37639ویلی کے 6 نشستوں کے ووٹرز کی کل تعداد ایل اے 40 ووٹرز کی کل تعداد 4895ایل اے 41 ووٹرز کی کل تعداد 6410ایل اے 42 ووٹرز کی کل تعداد 4167ایل اے 43 ووٹرز کی کل تعداد 3346ایل اے 44 ووٹرز کی کل تعداد 6925ایل اے 45 ووٹرز کی کل تعداد 7681پاکستان میں اتنی بڑی تعداد میں مقیم جموں کشمیر کے مہاجرین کی آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں نمائندگی کو ختم کرنا درست ہے ؟

اسلام آباد: پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر ڈپٹی اسسٹنٹ منسٹر برائے آپریشنز میجر جنرل مبارک بن عبدالرحمن الموینی اور ان کے ہمراہ آنے والے وفد کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا۔اس موقع پر باہمی تعلقات، دفاعی تعاون اور مشترکہ دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ عشائیے میں دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ روابط اور تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔

سیڑھی اور سانپ سیڑھیبظاہر ڈی پی او قصور آفتاب احمد پھلروان کا معاملہ خاصا پیچیدہ دکھائی دیتا ہے، مگر اس کا حل اتنا مشکل نہیں۔ میرا تجزیہ یہ ہے کہ آفتاب احمد پھلروان ایک دور اندیش، معاملہ فہم اور حالات کی نبض پہچاننے والے افسر ہیں۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ کون ان کیلئے سیڑھی ہے اور کون لڈو کے سانپ والی سیڑھی ثابت ہو سکتا ہے، اور کس “سمت” میں پیش رفت ان کے کیریئر کیلئے فائدہ مند ہوگی۔قصور میں جو سیاسی و انتظامی شطرنج بچھی، اس کے بعد اگر اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد اور وزیر اعلیٰ مریم نواز کے درمیان تعلقات دوبارہ بہترین ہیں، نئی پیش رفت سے دونوں ایک بار پھر ایک صفحے پر آ گئے ہیں، تو اس کے اثرات انتظامی فیصلوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

آفتاب پھلرواں بھی بخوبی جانتے ہیں کہ کس کا فون سننا ہے اور کس کا نہیں۔ وہ اس سے بھی واقف ہیں کہ کسے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانا ہے، اور کس کے سامنے چائے کی میز سجانا ہے۔ آفتاب احمد پھلروان یہ اسمجھنے میں دیر نہیں لگائیں گے کہ ان کے قصور مشن کا دی اینڈ ہو چکا ہے، اور کوئی اور ضلع ان کا منتظر ہے۔ اگر پنجاب کے دو بڑوں کے درمیان سیاسی ہم آہنگی برقرار رہتی ہے تو پھر یہ معاملہ، جو آج پیچیدہ دکھائی دیتا ہے، انتظامی سطح پر بہت کم وقت میں حل ہو سکتا ہے۔

ایرانی حکومت نے شہید رہبر کی تدفین سے پہلے ان کی ذاتی اثاثوں کی تفصیلات جاری کر دی ہیں ۔ جو یہ ہیں:ان کی ملکیت میں موجود تمام چیزیں صرف ایک چھوٹے پک اپ ٹرک تک محدود ہیں۔کوئی جائیداد نہیں، کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں، کوئی محلات نہیں، کوئی کمپنیاں نہیں، اور کوئی پوشیدہ فنڈز نہیں۔انہوں نے ایران میں ایک رہنما کے طور پر 47 سال گزارے، جن میں وزیر دفاع کے طور پر، صدر جمہوریہ کے طور پر اور ایران کے سپریم لیڈر کے طور پر تقریباً 40 سال شامل ہیں۔ ایران جو کہ تیل، گیس اور صنعتوں سے مالا مال ملک ہے، اور وہ ریاست جس نے دنیا کے شدید ترین دباؤ کا مقابلہ کیا اور علاقائی منصوبوں کا ڈٹ کر سامنا کیا۔وہ ایک ایسے مذہبی پیشوا تھے جن کی پیروی لاکھوں لوگ کرتے تھے، اور اربوں روپے کے مذہبی واجبات (خمس و زکوٰۃ) انہیں ادا کیے جاتے تھے۔اس کے باوجود وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کے پاس پرانے گھریلو فرنیچر کے سوا کچھ نہ تھا، جو کہ امریکی اور صیہونی میزائلوں کی زد میں آ کر تباہ ہو گیا

۔ان کے دنیاوی اثاثوں کی اصل تفصیلات درج ذیل ہیں:1. ایک پرانا چھوٹا پک اپ ٹرک (سوزوکی پک اپ)2. پرانا گھریلو فرنیچر (جو میزائلوں سے تباہ ہو گیا)۔3. رئیل اسٹیٹ یا جائیداد۔ صفر (کوئی نہیں)4. فعال بینک اکاؤنٹ۔ صفر (کوئی نہیں)5. محل یا ذاتی رہائش گاہ۔ صفر (کوئی نہیں)6. کارپوریٹ شیئرز یا نجی کمپنیاں۔ صفر (کوئی نہیں)7. پوشیدہ فنڈز یا بیرونی (آف شور) اکاؤنٹس۔ صفر (کوئی نہیں)عظمت کی تعریف یوں ہی کی جاتی ہے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح خاندانی سلطنتیں کھڑی کر کے نہیں؛ ذاتی دولت کا انبار لگا کر نہیں؛ اور بہت سے عرب رہنماؤں کی طرح بیرون ملک اربوں روپے اسمگل کر کے نہیں۔دہائیوں تک وہ اپنے موقف پر قائم رہے،

انہوں نے کھل کر فلسطین، لبنان، اور خطے سمیت دنیا بھر کے مظلوم عوام کی حمایت کی۔انہیں ایسے نادر مواقع اور پرکشش سودوں کی پیشکش کی گئی جو انہیں عرب دنیا کے کئی حکمرانوں سے زیادہ امیر بنا سکتے تھے، لیکن انہوں نے ان سب کو ٹھکرا دیا۔انہیں روئے زمین کی سب سے طاقتور سپر پاور کی طرف سے دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن انہوں نے کبھی اپنے اصولوں کو نہیں چھوڑا۔شدید دباؤ، پابندیوں اور قتل کی مسلسل دھمکیوں کے باوجود، وہ دہائیوں تک انہی موقف پر قائم رہے جو انہوں نے اپنائے ہوئے تھے۔









