
اسلام آباد پولیس کی تلاشی کارروائی پر سنگین سوالات، ڈاکٹر کا لاکھوں روپے مالیت کا موبائل مبینہ طور پر غائب، بعد ازاں تھانے سے برآمداسلام آباد میں پولیس کی جانب سے شہریوں کی تلاشی کے دوران مبینہ طور پر قیمتی سامان غائب ہونے کا ایک معاملہ سامنے آیا ہے، جس نے پولیس کے تلاشی نظام اور اہلکاروں کی جواب دہی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ایک ڈاکٹر کے مطابق دو روز قبل رات کے وقت جی نائن کے علاقے میں پولیس اہلکاروں نے ان کی گاڑی روک کر تلاشی لی۔ ڈاکٹر کا دعویٰ ہے کہ تلاشی کے دوران ان کا S25 موبائل فون، جس کی مالیت تقریباً پانچ سے چھ لاکھ روپے بتائی گئی، غائب ہوگیا۔ڈاکٹر کے مطابق انہوں نے موقع پر ہی اہلکاروں کو موبائل فون غائب ہونے سے آگاہ کیا، تاہم اہلکاروں نے مبینہ طور پر موبائل لینے یا غائب ہونے کی تردید کردی۔ بعد ازاں ڈاکٹر نے ٹیکنالوجی کی مدد سے موبائل کی لوکیشن چیک کی تو فون تھانہ کراچی کمپنی کی حدود میں موجود دکھائی دیا۔موبائل کی لوکیشن سامنے آنے کے بعد ڈاکٹر تھانے پہنچے اور مبینہ طور پر تلاش اور احتجاج کے نتیجے میں موبائل فون تھانے کی اوپری بیرک میں ایک لفافے سے برآمد ہوگیا، جس کے بعد موبائل ڈاکٹر کے حوالے کردیا گیا۔تاہم اصل سوال موبائل فون کی واپسی نہیں بلکہ اس کے تلاشی کے دوران غائب ہونے اور پھر پولیس کے زیر استعمال مقام سے برآمد ہونے کا ہے۔ اگر موبائل واقعی تلاشی کے دوران غائب ہوا اور بعد ازاں تھانے کی بیرک سے برآمد بھی ہوگیا تو یہ معاملہ محض موبائل واپس کرنے تک محدود کیوں رہا؟ کیا اس واقعے کی باقاعدہ انکوائری کی گئی؟ کیا کوئی مقدمہ یا روزنامچہ رپورٹ درج ہوئی؟ اور اگر کسی اہلکار پر شبہ تھا تو اس کے خلاف محکمانہ کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟

ذرائع اور تھانے کے بعض اہلکاروں کے مطابق مبینہ طور پر تلاشی لینے والے اہلکار ATS سے وابستہ تھے۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق اور ذمہ دار اہلکاروں کا تعین متعلقہ محکمہ کی باضابطہ انکوائری ہی سے ممکن ہوگا۔یہ معاملہ اس بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے کہ اگر ایک شہری کی قیمتی چیز پولیس کی تلاشی کے دوران غائب ہو اور بعد میں پولیس کے ہی ایک مقام سے برآمد ہوجائے تو ذمہ داری کا تعین کون کرے گا؟ شہریوں کی تلاشی لینے والے اہلکاروں کی نگرانی، تلاشی کے طریقہ کار اور برآمد ہونے والی اشیا کا ریکارڈ رکھنے کا نظام کیا ہے؟اہم بات یہ بھی ہے کہ موبائل فون واپس ملنے کے باوجود مبینہ واقعے کی شفاف تحقیقات کیوں نہ کی جائیں تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ موبائل تلاشی کے دوران کیسے غائب ہوا اور تھانے کی بیرک تک کیسے پہنچا۔اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ حکام، بالخصوص ڈی آئی جی آپریشنز سے مطالبہ ہے کہ واقعے کا غیرجانبدارانہ انکوائری عمل شروع کیا جائے، متعلقہ اہلکاروں کی شناخت کی جائے، دستیاب CCTV فوٹیج اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا جائے اور اگر کسی اہلکار کی غفلت یا بدعنوانی ثابت ہو تو قانون اور محکمانہ ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے۔کیونکہ معاملہ صرف ایک موبائل فون کا نہیں، بلکہ شہریوں کی پولیس پر اعتماد اور قانون کی یکساں عملداری کا ہے۔ ATS ہو یا اسلام آباد پولیس، قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔

*لکی مروت میں دہشت گردوں کی فائرنگ، 3 مقامی کرکٹرز شہید*لکی مروت (27 ستمبر 2026): دہشت گردوں کی رکشے پر فائرنگ کے نتیجے میں مقامی کرکٹ ٹیم کے تین کھلاڑی شہید جب کہ تین زخمی ہو گئے۔نجی ٹی وی کے مطابق دہشت گردی کا یہ واقعہ لکی مروت کے گاؤں عبدالخیل کے قریب پیش آیا، جہاں کرکٹ میچ کھیل کر رکشے میں واپس آنے والے مقامی ٹیم کے کھلاڑیوں پر دہشت گردوں نے فائرنگ کر دی۔فائرنگ کے نتیجے میں تین کھلاڑی موقع پر ہی دم توڑ گئے جب کہ تین زخمی ہوگئے جب کہ ملزمان فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
اسلام آباد بادبان ای پی ای نیوز ایجنسی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بڑے پیمانے پر تباہی کی ذمہ دار موجودہ وفاقی حکومت ھے اور چاروں صوبوں کی حکومتیں بھی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اگر حکومت تبدیل ھو جاے نئے تجربات نھی ھو نگے سب کچھ طے پا گئے










