تازہ تر ین

وزیر اعطم کا دورہ امریکہ مکمل طور پر ناکام۔ کام کا نہ کاج کا دشمن اناج کا۔۔وزراء کی آدھی درجن فوج کی کارکردگی صفر رھی۔۔20 سے زائد پتر کار بھی کسی سے پیچھے نہیں وزیر اعظم نے اقوام متحدہ میں کھڑے ھو کر پاکستان پر خودکش حملہ آور۔۔ سھیل آفریدی وزیر اعلی کم کالعدم تنظیم کے کمانڈر زیادہ لگتے ہیں۔۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ مردد کم اور کھسرا زیادہ تھتی۔۔حکومت کی رخصتی سیٹی بج گئی ایکسکسو۔۔ ۔۔اھم ترین شخصیات گرفتار نامعلوم جگہ پر منتقل۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع: قیصر احمد شیخقیصر احمد شیخ نے ورلڈ اکنامک فورم میں پاکستان کی ریگولیٹری اصلاحات اور سرمایہ کاری کے مواقع اجاگر کر دیےتحریر: ڈاکٹر انصا ب علیلاہور، پاکستاننیویارک: وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے پاکستان میں ریگولیٹری اصلاحات، سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرنے کے اقدامات اور پائیدار، ٹیکنالوجی پر مبنی اور برآمدات کے فروغ سے متعلق سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے مواقع کو اجاگر کیا ہے۔انہوں نے یہ بات نیویارک میں ورلڈ اکنامک فورم کے سَسٹین ایبل ڈویلپمنٹ امپیکٹ میٹنگز 2026 کے موقع پر منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔قیصر احمد شیخ نے گلوبل ریگولیٹری انوویشن پلیٹ فارم کے افتتاحی پینل، جس کا عنوان “غیریقینی صورتحال میں ریگولیشن: جدت کو عملی نفاذ میں تبدیل کرنا” تھا، سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایسا ریگولیٹری ماحول قائم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے جو عوامی مفاد کا تحفظ کرے، سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط بنائے اور جدت کو خیالات سے عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کے قابل بنائے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت سادہ، واضح اور قابلِ پیش گوئی قوانین و ضوابط تشکیل دینے پر توجہ دے رہی ہے، جبکہ ضروری حفاظتی اقدامات بھی برقرار رکھے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق مؤثر ریگولیشن ایسا ہونا چاہیے جو سرمایہ کاروں کو اعتماد کے ساتھ منصوبہ بندی کرنے کا موقع دے اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔قیصر احمد شیخ نے ریگولیٹری نظام کو جدید بنانے میں بورڈ آف انویسٹمنٹ کے اہم کردار کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ تقریباً 90 وفاقی و صوبائی محکموں کے تعاون سے تقریباً 30 شعبوں میں 500 سے زائد ریگولیٹری اصلاحات نافذ کی جا چکی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان ریگولیٹری ماڈرنائزیشن انیشی ایٹو (PRMI) کاروبار سے متعلق قوانین و ضوابط کا جائزہ لینے، انہیں آسان بنانے اور ڈیجیٹل کرنے کے لیے ایک منظم فریم ورک فراہم کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آسان کاروبار ایکٹ 2025 نے پاکستان ریگولیٹری رجسٹری اور پاکستان بزنس پورٹل جیسے طریقۂ کار کے ذریعے ریگولیٹری نظام کو جدید بنانے کے عمل کو مزید ادارہ جاتی شکل دی ہے۔وفاقی وزیر کے مطابق ان اقدامات کا مقصد غیر ضروری ریگولیٹری تقاضوں میں کمی، تعمیلی اخراجات کو کم کرنا، سرکاری اداروں کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانا اور کاروباری افراد و سرمایہ کاروں کے لیے سرکاری خدمات کو زیادہ قابلِ رسائی اور قابلِ پیش گوئی بنانا ہے۔ریگولیٹری اصلاحات کی ایک عملی مثال پیش کرتے ہوئے قیصر احمد شیخ نے بتایا کہ اسلام آباد میں بورڈ آف انویسٹمنٹ کے بزنس فسیلیٹیشن سینٹر (BFC) نے 22 وفاقی اداروں کو ایک ہی چھت تلے جمع کیا ہے، جہاں کاروباری افراد اور سرمایہ کار رجسٹریشن، لائسنس، سرٹیفکیٹس، اجازت ناموں، منظوریوں اور دیگر ریگولیٹری خدمات ایک مربوط پلیٹ فارم کے ذریعے حاصل کر سکتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اپنے ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران اس مرکز نے 5,386 کاروباری اداروں کو خدمات فراہم کیں، 4,555 منظوریوں اور این او سیز پر کارروائی کی، 5.08 ارب روپے کی سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کی اور 15,680 ملازمتوں میں معاونت کی، جبکہ سرمایہ کاروں کی جانب سے اطمینان کی شرح 10 میں سے 9.8 ریکارڈ کی گئی۔انہوں نے کہا:”پاکستان بکھرے ہوئے طریقۂ کار سے مربوط اور سرمایہ کاروں پر مرکوز خدمات کی فراہمی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ بزنس فسیلیٹیشن سینٹر اس بات کی عملی مثال ہے کہ ریگولیٹری اصلاحات کو عملی نفاذ میں کیسے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

“مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان انسانی جواب دہی، سکیورٹی، شفافیت اور عوامی اعتماد کو برقرار رکھتے ہوئے جدت کی حوصلہ افزائی کے لیے پُرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے لیے ایک موزوں اور متناسب ریگولیٹری طریقۂ کار اختیار کر رہا ہے، جس میں محدود پیمانے پر تجربات اور ریگولیٹری سینڈ باکسز بھی شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان جیسے اداروں کو سینڈ باکس میکانزم کا تجربہ حاصل ہے، جس کے ذریعے جدید کاروباری ماڈلز کو وسیع پیمانے پر نافذ کرنے سے پہلے ایک محدود اور کنٹرول شدہ ماحول میں آزمایا جا سکتا ہے۔قیصر احمد شیخ نے کہا کہ پاکستان کی نیشنل اے آئی پالیسی اور وسیع تر ریگولیٹری اصلاحات ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت کی ترقی اور استعمال میں معاون ثابت ہوں گی، جبکہ سرمایہ کاری اور جدت کے لیے بھی مواقع پیدا کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا:”تیزی سے آگے بڑھنے کا مطلب کم ریگولیشن نہیں، بلکہ ایسی ریگولیشن تشکیل دینا ہے جو سیکھنے اور بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔”انہوں نے شواہد پر مبنی پالیسی سازی، اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت اور ریگولیٹری نظام کے وقتاً فوقتاً جائزے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔وفاقی وزیر نے پاکستان کے سرمایہ کاری فریم ورک کو بھی اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ملک مختلف پیداواری شعبوں میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے نمایاں مواقع فراہم کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ انویسٹمنٹ پالیسی 2023 کے تحت زیادہ تر شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کار قابلِ اطلاق شعبہ جاتی تقاضوں کے تابع 100 فیصد تک ملکیت رکھ سکتے ہیں، جبکہ متعلقہ زرمبادلہ کے طریقۂ کار کے تحت منافع اور سرمایہ واپس منتقل کرنے کی سہولت بھی دستیاب ہے۔انہوں نے پاکستان میں موجود 44 نوٹیفائیڈ اسپیشل اکنامک زونز (SEZs) کو صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور روزگار پیدا کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا

۔قیصر احمد شیخ کے مطابق اسپیشل اکنامک زونز میں کام کرنے والے اہل کاروباری اداروں کو متعلقہ قانونی شقوں کے تحت انکم ٹیکس میں چھوٹ حاصل ہو سکتی ہے، جبکہ زونز میں تنصیب کے لیے درآمد کی جانے والی اہل مشینری اور آلات کو متعلقہ فریم ورک کے تحت کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکسز میں ایک مرتبہ کی چھوٹ حاصل ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کی سہولیات اور ریگولیٹری اصلاحات کے ساتھ یہ مراعات پیداواری سرمایہ کاری، پاکستان کے صنعتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور برآمدات پر مبنی ترقی کے فروغ کے لیے معاون ثابت ہوں گی۔انہوں نے پاکستان کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی سرمایہ کاری سرگرمیوں، بالخصوص پاکستان-چین بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس 2025 کا بھی ذکر کیا۔ان کے مطابق اس کانفرنس میں 623 چینی کمپنیوں اور تقریباً 300 پاکستانی کمپنیوں نے شرکت کی، جبکہ 3,500 سے زائد کاروباری ملاقاتیں ہوئیں۔ اس کے نتیجے میں 25 مشترکہ منصوبے (Joint Ventures) اور 142 مفاہمتی یادداشتیں (MOUs) سامنے آئیں، جن کی اعلان کردہ کاروباری مالیت تقریباً 9.5 ارب امریکی ڈالر تھی۔انہوں نے کہا کہ یہ تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ منظم کاروباری روابط اور بی ٹو بی سرگرمیوں کے ذریعے سرمایہ کاری میں دلچسپی کو ٹھوس شراکت داریوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔پاکستان-چین تجربے کو بنیاد بناتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اب دیگر ممالک اور بین الاقوامی مارکیٹوں کے ساتھ بھی اسی نوعیت کے سرمایہ کاری اور بی ٹو بی روابط فروغ دینے کا خواہاں ہے، تاکہ مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی شراکت داری، برآمدات اور طویل مدتی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان بالخصوص درج ذیل شعبوں میں سرمایہ کاری کے خواہاں ہے:پائیدار اور برآمدات پر مبنی مینوفیکچرنگٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل سروسزقابلِ تجدید توانائی اور توانائی کی بچتزرعی کاروبار اور فوڈ پروسیسنگمعدنیاتانفراسٹرکچر اور لاجسٹکسصنعتی کلسٹرز اور اسپیشل اکنامک زونزجدت اور وینچر کیپیٹلپبلک پرائیویٹ پارٹنرشپسوفاقی وزیر نے پائیداری اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کی صلاحیت کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ قابلِ تجدید توانائی، موسمیاتی اثرات سے محفوظ انفراسٹرکچر، موسمیاتی حالات سے ہم آہنگ زراعت، پانی کے مؤثر نظام اور پائیدار مینوفیکچرنگ میں سرمایہ کاری معاشی استحکام، روزگار کے مواقع اور طویل مدتی ترقی میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

قیصر احمد شیخ نے عالمی کمپنیوں، ادارہ جاتی سرمایہ کاروں، خودمختار سرمایہ کاری فنڈز اور ترقیاتی شراکت داروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی شراکت داری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔انہوں نے کہا کہ ورلڈ اکنامک فورم کے اس اجلاس میں پاکستان کی شرکت اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان بین الاقوامی ریگولیٹری تجربات سے سیکھنے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر مؤثر طریقوں کو ملک کے معاشی، ادارہ جاتی اور ترقیاتی حالات کے مطابق اپنانے کے لیے بھی پُرعزم ہے۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے، ریگولیٹری اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو مضبوط بنانے، غیر ضروری ریگولیٹری تقاضوں میں کمی لانے اور پاکستان کو پائیدار، برآمدات پر مبنی اور ٹیکنالوجی سے چلنے والی سرمایہ کاری کے لیے ایک مسابقتی مقام بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved