اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی مکہ مکرمہ میں مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل شیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسی سے ملاقات ہوئی.اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پارلیمانی وفد کے ہمراہ مکہ مکرمہ میں مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل شیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسی سے ملاقات کی۔
ملاقات میں مسلم امہ کے اتحاد کے فروغ اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اسپیکر سردار ایاز صادق نے مسلم ممالک کے مابین اتحاد کو فروغ دینے، اسلامو فوبیا کا مقابلہ کرنے،
مسلم معاشروں میں بچیوں کی تعلیم کو عام کرنے اور عالمی سطح پر اسلام کے حقیقی تشخص کو اجاگر کرنے کے سلسلے میں مسلم ورلڈ لیگ کے کردار کو سراہا۔
مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل شیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسی نے امت مسلمہ میں اتحاد و یکجہتی کے فروغ کے لیے پاکستان کے کردار کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اسلامی دنیا کا ایک اہم ملک ہے اور اس نے ہمیشہ امہ کے اتحاد کے لیے قابلِ قدر خدمات سر انجام دیں ہیں۔
*اسلام آباد ہائیکورٹ کا این ایچ اے پر زبردست وار — غیر قانونی ڈیپوٹیشنز پر وزارت اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ایک ماہ کی مہلت**بادبان ٹی وی رپورٹ**اسلام آباد– اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک دھماکہ خیز سماعت کے دوران جسٹس بابر ستار نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) میں غیر قانونی ڈیپوٹیشنز پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے کی ساخت کو تباہ کرنے اور مستقل افسران کے ترقیاتی حقوق کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔**
چیئرمین شہریار سلطان، ممبر ایڈمنسٹریشن عمر سعید چوہدری، اور قائم مقام ڈائریکٹر پرسنل ثروت حبیب ملک عدالت میں پیش ہوئے لیکن ڈیپوٹیشنز کے ذریعے ادارے کے کلیدی عہدوں پر قبضہ کرنے کا کوئی قانونی جواز پیش نہ کر سکے۔**عدالت میں سامنے آئی ہوشربا خلاف ورزیاں: نان ٹیکنیکل افسران، حساس عہدوں پر تعینات**سید مظہر شاہ (FBR، BPS-19): ممبر فنانس تعینات، جب کہ انجینئرنگ پوسٹ پر تنخواہ لے رہے ہیں۔
**عمر سعید چوہدری: ٹیکنیکل عہدے پر براجمان، بغیر کسی متعلقہ اہلیت کے۔**منصور اعظم (PAAS، BPS-20): نان ایکزیسٹنگ عہدے “ممبر امپلیمنٹیشن” پر تعینات۔**ثروت حبیب ملک (FBR، BPS-18): دو عہدوں پر غیر قانونی طور پر فائز، جن میں GM Admin بھی شامل ہے۔**دیگر افسران جیسے مریم خان، مریم خالد، عائشہ کومل، شاہینہ خلیل ،حرا رضوان ،ڈاکٹر بینش ،عثمان چٹھہ، طارق محمود بھٹی ،اسامہ شہباز ، وغیرہ، سب کو سروس رولز کے برعکس تعینات کیا گیا۔*فاروق قیصرانی(BPS -19) جی ایم آڈٹ۔*ناصر (BPS-17) ڈائریکٹر پرسنل* *سب سے سنگین کیس:*میاں طارق لطیفریلوے افسر میاں طارق لطیف، جنہیں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ری پیٹری ایٹ کرنے کا حکم دیا، اب تک “ممبر اسپیشل انیشی ایٹو اینڈ انفورسمنٹ” کے فرضی عہدے پر قابض ہیں۔ پارلیمانی ہدایات کو نظرانداز کرتے ہوئے سات سے زائد سرکاری گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں۔ڈیپوٹیشن کی حد عبور کرنے والے افسرانعدالت نے ایسے افسران پر بھی سخت ناراضی کا اظہار کیا جو نو سال سے زائد ڈیپوٹیشن پر ہیں اور واپس جانے سے انکاری ہیں۔ سیاسی پشت پناہی کی مدد سے یہ افسران ادارے کے ڈھانچے کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔*عدالت کی حتمی مہلت:*
*ایک ماہ میں ریفارمز ورنہ کارروائی**جسٹس بابر ستار نے وزارت مواصلات، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، اور این ایچ اے کو 30 روز کی ڈیڈلائن دی:**تمام غیر قانونی ڈیپوٹیشنز ختم کی جائیں**تمام افسران فوراً واپس بھیجے جائیں*مکمل رپورٹ عدالت میں جمع کروائی جائےبصورت دیگر، اعلیٰ افسران کے خلاف سخت تادیبی اور قانونی کارروائی ہوگی۔پارلیمانی کمیٹی کی بازگشتاسی معاملے پر ایک روز قبل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات نے بھی شدید ردعمل دیا۔ چیئرمین شہریار سلطان کی طرف سے پیش کی گئی “ریشنیلائزیشن پلان” کی یقین دہانیوں کو کمیٹی نے ناکافی اور مبہم قرار دیا۔
*_وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا 52واں اجلاس_*مشترکہ مفادات کونسل کی پہلگام واقعے کے بعد بھارتی یکطرفہ غیر قانونی اور غیر ذمہ دارانہ اقدامات کی بھرپور مذمت مشترکہ مفادات کونسل کی قومی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے بھارتی غیر قانونی اقدامات اور بھارت کی جانب سے کسی بھی جارحیت کے تناظر میں پورے ملک و قوم کے لئے اتحاد اور یکجہتی کا پیغام پاکستان ایک پر امن اور زمہ دار ملک ہے لیکن ہم اپنا دفاع کرنا خوب جانتے ہیں : مشترکہ مفادات کونسل تمام صوبائی وزراء اعلیٰ کا بھارت کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف یک زبان ہو کر اتحاد و قومی یکجہتی کا اظہارمشترکہ مفادات کونسل کی سینیٹ میں بھارتی غیر قانونی و غیر ذمہ دارانہ اقدامات کے خلاف قرارداد کی بھر پور پزیرائیسندھ طاس معاہدے کی معطلی اور پاکستان کا پانی روکنے کی صورت میں پاکستان اپنے آبی مفادات کے تحفظ کا حق رکھتا ہے : مشترکہ مفادات کونسلوزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا 52واں اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔*مشترکہ مفادات کونسل نے نئی نہروں کے حوالے سے مندرجہ ذیل فیصلہ کیا ہے Decisions: 1. The Council of Common Interests endorses the policy of the federal government as given below:”Federal Governmet has decided that no new canals will be built without mutual understanding from CCI. It has been decided that the Federal Government will not move further until mutual understanding is evolved among the provinces.It is engaging all provincial governments to chart out a long-term consensus roadmap for development of agriculture policy & water management infrastructure across Pakistan. Water rights of all provinces are enshrined in the Water Apportionment Accord-1991 and Water Policy-2018; with the consensus of all stakeholders.To allay the concerns of all provinces and to ensure Pakistan’s food and ecological security, a committee is being formed with representation from the federation and all provinces.The committee will propose solutions to Pakistan ‘s long term agriculture needs and water use of all provinces in line with the two consensus documents.Water is one of the most precious commodities and the makers of the Constitution recognized this, mandating all water disputes to be resolved amicably through mutual understanding and concerns of any province shall be addressed through due diligence amongst all stakeholders.2. In view of the above, after deliberations, the Council decided that the provisional ECNEC approval dated 7 February 2024 for construction of new canals and the IRSA water availability certificate issued in its meeting dated 17 January 2024 be returned. Planning Division and IRSA are directed to ensure consultation with all stakeholders, in the interest of national cohesion and to address any and all concerns until mutual understanding is reached.*اجلاس کو سی سی آئی سیکیریٹیریٹ کی جانب سے مشترکہ مفادات کونسل کی مالی سال 2021-2022 ، مالی سال 2022-2023 اور مالی سال 2023-2024 کی رپورٹس پیش کی گئیں.*مشترکہ مفادات کونسل نے سی سی آئی سیکیریٹیریٹ ریکروٹمنٹ رولز کی منظوری دے دی.*اجلاس کو کابینہ ڈویژن کی جانب سے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کی سال 2020-2021, سال 2021-2022 ، سال 2022-2023 اور اسٹیٹ آف انڈسٹری کی سال 2021, 2022 اور 2023 کی رپورٹس پیش کی گئیں.اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف ، وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام ، چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی ۔___
وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ کا پاکستانی ٹی وی چینلز، صحافیوں و اینکر پرسنز کے یوٹیوب چینلز کو بھارت میں بند کرنے کے اقدام پر ملکی میڈیا اداروں اور صحافیوں و اینکر پرسنز سے ٹیلیفون پر رابطہوفاقی وزیر اطلاعات کا قومی بیانیہ کے موثر دفاع پر پاکستانی میڈیا اور صحافیوں کو خراج تحسینبھارت نے اپنی شرمندگی اور خفت مٹانے کے لئے پاکستانی چینلز پر پابندی عائد کی، عطاءاللہ تارڑبھارت کا بیانیہ عالمی سطح پر ناکام ہو چکا ہے، عطاءاللہ تارڑپاکستانی میڈیا نے موجودہ صورتحال میں پیشہ ورانہ مہارت، ذمہ داری اور حب الوطنی کا مظاہرہ کیا، عطاءاللہ تارڑپاکستانی میڈیا نے بھارتی پروپیگنڈے پر مدلل انداز میں پاکستان کا موقف دنیا کے سامنے رکھا جس پر وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں، عطاءاللہ تارڑحکومت قومی وقار کو بلند کرنے والے میڈیا اداروں اور صحافیوں کی مکمل حمایت جاری رکھے گی، عطاءاللہ تارڑحکومت پاکستان ہر اس آواز کی حوصلہ افزائی کرتی ہے جو ملک کے وقار، سالمیت اور قومی بیانیہ کے فروغ میں معاون ہو، عطاءاللہ تارڑبھارتی حکومت کا پاکستانی ٹی وی چینلز اور یوٹیوب پلیٹ فارمز پر قدغن لگانا صحافت کے عالمی اصولوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے، عطاءاللہ تارڑایسے اقدامات سے حقائق کو دبایا نہیں جا سکتا اور نہ ہی پاکستان کا موقف دنیا سے چھپایا جا سکتا ہے، عطاءاللہ تارڑحکومت متعلقہ بین الاقوامی فورمز پر بھی بھارتی قدغنوں کے خلاف آواز بلند کرے گی، عطاءاللہ تارڑپاکستانی میڈیا نے موجودہ صورتحال میں قومی مفادات کو ترجیح دی اور انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی مثال قائم کی، عطاءاللہ تارڑپاکستانی میڈیا نے حالات کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دیں، عطاءاللہ تارڑپاکستانی صحافیوں اور اینکر پرسنز کی خدمات کو سنہری الفاظ میں لکھا جائے گا، عطاءاللہ تارڑ
—وزیر اعظم۔۔۔کاکول خطابپاکستان پہلگام واقعہ کی غیرجانبدار اور قابل اعتماد تحقیقات میں شرکت کے لئے تیار ہے، پانی کے بہاؤ کو روکنے کی کسی بھی کوشش کا پوری طاقت کے ساتھ جواب دیا جائے گا،
وزیر اعظم محمد شہباز شریف کا کاکول پاسنگ آئوٹ پریڈ سے خطابکاکول۔26اپریل (بادبان ٹی وی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کی جانب سے ہر طرح کی دہشت گردی کی شدید مذمت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہونے کے ناطے پہلگام واقعہ کی ’’کسی بھی غیر جانبدارانہ، شفاف اور قابل اعتماد تحقیقات‘‘ میں شرکت کے لیے تیار ہے، پانی ہمارے عوام کے لیے لائف لائن ہے، پاکستان کے پانی کے بہاؤ کو روکنے کی کسی بھی کوشش کا پوری طاقت سے جواب دیا جائے گا۔
امن ہماری ترجیح ہے لیکن اسے ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم اپنے ملک کے وقار اور سلامتی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے
پاکستان ملٹری اکیڈمی کے کیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے ہفتہ کو خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مشرقی سرحد پر ہمارے پڑوسی نے پہلگام کے حالیہ سانحہ میں قابل بھروسہ تحقیقات یا قابل تصدیق شواہد کے بغیر بے بنیاد اور جھوٹے الزامات لگانے کا اپنا رویہ جاری رکھا ہے جو اس کی دائمی الزام تراشی کی ایک اور مثال ہے، جس کو روکنا ضروری ہے۔سندھ طاس معاہدہ کو معطل کرنے کے بھارت کے اعلان کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ پانی پاکستان کا ایک اہم قومی مفاد ہے اور ہمارے 240 ملین عوام کے لیے لائف لائن بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پانی کی دستیابی کو ہر قیمت اور حالات پر محفوظ رکھا جائے گا،
سندھ طاس معاہدہ کے تحت پاکستان کے پانی کے بہاؤ کو روکنے، کم کرنے اور اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کا پوری طاقت سے جواب دیا جائے گا اور اس حوالہ سے کسی کو بھی کسی قسم کے غلط تاثر اور الجھن میں نہیں رہنا چاہیے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری بہادر مسلح افواج کسی بھی مہم جوئی کے خلاف ملک کی سالمیت اور خودمختاری کے دفاع کے لیے پوری طرح سے اہل اور تیار ہیں جس کا واضح ثبوت فروری 2019 میں بھارتی دراندازی پر اس کے پرعزم ردعمل سے ہوتا ہے، اس لیے کسی کو بھی اس حوالہ سے کوئی غلطی نہیں کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ 240 ملین عوام کی پاکستانی قوم اپنی بہادر مسلح افواج کے ساتھ اور متحد ہے اور اپنی مادر وطن کے ایک ایک انچ کی حفاظت کے لیے پرعزم ہے۔
یہ پیغام سب کے لیے واضح ہونا چاہئے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ امن ہماری ترجیح ہے لیکن اسے ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم اپنے پیارے پاکستان کے وقار اور سلامتی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امن اور سلامتی کے لیے عالمی سطح پر ذمہ دارانہ اور تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے اپنا غیر متزلزل عزم جاری رکھے گا کیونکہ ہم نسل انسانی کے اتحاد پر یقین رکھتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے بجا طور پر کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں کے باوجود حل نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ جب تک کشمیری اپنی جدوجہد میں کامیاب نہیں ہو جاتے اس وقت تک پاکستان کشمیریوں کے حق خودارادیت کیلئے جاری جدوجہد اور عظیم قربانیوں کی حمایت جاری رکھنے کیلئے پرعزم ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان ہمارا ہمسایہ ملک ہے اور ہماری دلی خواہش ہے کہ مستقبل میں ان کے ساتھ پرامن رہیں لیکن بدقسمتی سے ہماری مخلصانہ کوششوں کے باوجود افغان سرزمین سے دہشت گردی کی کارروائیاں جاری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نائب وزیراعظم نے حال ہی میں کابل کا دورہ کیا ہے اور برادر اور ہمسایہ ملک افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات اور افہام و تفہیم کے لیے اپنی کوششوں کا اشتراک کیا ہے تاہم انہوں نے عبوری افغان حکومت کو ایک واضح پیغام بھی دیا کہ ہم کابل کے ساتھ پرامن ہمسایہ تعلقات کے خواہاں ہیں
لیکن اس وقت تک ایسا ممکن نہیں ہو سکتا جب تک کہ فتنہ الخوارج پاکستان میں بے گناہ لوگوں کو مارنے کے لیے افغان سرزمین استعمال کر رہا ہو۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت میں اپنی اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں اور سکھوں کے خلاف منظم طریقے سے باقاعدہ مہم چلانے کا سلسلہ گزشتہ برسوں میں زیادہ وسیع ہو گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بھارت کو اپنی مظلوم اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قوانین کے تحت پوری ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ دوسری طرف پاکستان نے ہمیشہ دہشت گردی کی ہر شکل میں مذمت کی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’’دہشت گردی کے خلاف دنیا کی فرنٹ لائن ریاست کے طور پر پاکستان نے 90 ہزار انسانی جانی نقصان اور 600 بلین ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان برداشت کیا ہے‘‘۔
انہوں نے کہا کہ اس درد کو ہم پاکستانیوں سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ پاکستان سے زیادہ کس ملک کو دہشت گردی سے اتنا بھاری نقصان ہوا ہے؟ وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا عزم مستحکم ہے اور ہم کسی بھی قسم کی دہشت گردی کو کسی بھی رنگ میں برداشت نہیں کریں گے اور ہم نے ہمیشہ اس کا ثبوت بھی دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی جمود کے دور کے بعد پاکستان معاشی بحالی کی جانب جرات مندانہ پیش قدمی کر رہا ہے اگرچہ یہ چیلنجز سے بھرا ایک طویل سفر ہے لیکن آپ کی دعاؤں اور اللہ تعالی کی مدد سے ہم پرعزم جذبے کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے مذاکرات کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے اقدامات اہم سنگ میل عبور کر رہے ہیں اور کان کنی، زراعت، لائیو سٹاک، آئی ٹی اور دفاعی پیداوار جیسے اہم شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ سفارتی محاذ پر بھی ہم نے عالمی سطح پر رسائی کے فروغ کے لیے نئے تعلقات استوار کرتے ہوئے پرانی اور آزمودہ دوستی کو پھر سے تقویت دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 26-2025 کی مدت کے لیے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کے طور پر پاکستان عالمی امن و سلامتی کے فروغ اور اقوام متحدہ کے چارٹر کو برقرار رکھنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ میں نے ہمیشہ مختلف مواقع اور پلیٹ فارمز پر فلسطین کے معصوم لوگوں کے لیے آواز بلند کی اور فلسطین کے آزاد اور خود مختار ریاست کے مطالبے کو اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں میں تسلیم کیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے کیڈٹس کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی بہادری، نظم و ضبط اور قوم کے لیے غیر متزلزل عزم کے لیے مشہور دنیا کی بہترین افواج میں شامل ہوئے ہیں۔انہوں نے برادر ممالک کے کیڈٹس کو کورسز کی تکمیل پر مبارکباد بھی پیش کی اور کہا کہ یہ ہماری صدیوں پرانی روایت ہے کہ ہم مہمانوں کا اپنے خاندان کے ایک حصہ کے طور پر ہمیشہ کھلے بازوؤں سے استقبال کرتے رہیں گے۔
انہوں نے اس اعتماد کا اظہار بھی کیا کہ ہم خود کو عظیم قائد کے وژن اور ان کے ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط کے سنہری اصولوں کے محافظوں میں تبدیل کریں گے۔ قبل ازیں وزیراعظم نے پریڈ کا معائنہ کیا اور بہترین کیڈٹس میں انعامات بھی تقسیم کئے۔ تقریب میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر، عسکری قیادت، سفارتی کور کے ارکان اور کیڈٹس کے والدین نے بھی شرکت کی۔