All posts by admin

اسلام آباد پولیس سٹیٹ اوکنکرییٹ کا شھر بن گیا۔ دنیا کی تاریخ کا عالمی ریکارڈ 15 روز سے سپریم کورٹ پارلیمنٹ سیل۔تمام وفاقی وزارتوں کو بھی تالے پاکستان میں مھنگای کا طوفان زندگی سسکیاں لینے لگی۔۔پاکستان کا دارالحکومت مکمل طور پر بند دارالحکومت میں سیکیورٹی کے نام پر خوف۔۔کھربوں روپے کا نقصان اپریل گزشتہ 23 روز سے حقیقت میں اپریل فول۔۔پولیس کی موجیں مریضوں کی ایمبولینس سے بھی 5 ھزار کی رشوت۔۔روالپندی کی پھلی جیت کرکٹ کا جنازہ۔۔پاکستان میں مھنگای ھاے مھنگای اٹا مھنگا خون سستا۔۔بجلی کا شارٹ فال ساڑھے چار ہزار ای پی پی کے پاورز پلانٹ بند 3 ھزار ارب روپے کے رقم جاری۔۔بجلی کے بل فی یونٹ 100 روپے سے زائد سب کچھ ختم۔۔چکی کا اٹا 200 روپے فی کلو انتظامیہ حکومت غالب کے اشعار سننے میں مصروف۔۔ ۔پاکستان میں جاسوسی اور دھشت گردی کا مقابلہ۔۔عمران خان نے کے پی کے علاوہ تمام اسمبلیوں سے استعفے دینے کا حکم دے دیا۔۔بابر اعطم کو پاکستان کرکٹ ٹیم کا کپتان مقرر کرنے کا فیصلہ۔۔فوجی فخر زمان نائب کپتان مقرر کر دئیے گئے۔۔علی رضا اور منھاس ٹیم میں شامل۔۔پاکستان کرکٹ ٹیم کا فیصلہ ھو گیا۔وزیراعظم شہبازشریف سے ایران کے سفیر کی ملاقات ۔۔ امن مذاکرات سے متعلق امور پر تبادلہ خیال ۔ مذاکرات میں پیدا شدہ ڈیڈلاک کے خاتمہ پر بھی گفتگو ۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کی مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی اقدامات کی مذمت، ترجمان دفتر خارجہمسجد اقصیٰ کا مکمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے، ترجمان دفتر خارجہمشترکہ اعلامیہ میں 1967ء کی سرحدوں پر آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت، ترجمان دفتر خارجہ

ایران کے مرکزی بینک نے آبنائے ہرمز سے ٹول ٹیکس کی آمدنی جمع ہونے کی تصدیق کر دی۔🔹 بینک مرکزی نے آبنائے ہرمز سے حاصل ہونے والی فیس کی آمدنی جمع ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے اس بارے میں میڈیا کی قیاس آرائیوں کو ختم کر دیا کہ یہ کس قسم کی کرنسی میں وصول کی گئی۔🔹 فارس کو بینک مرکزی سے حاصل معلومات کے مطابق، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے وصول کی گئی فیس کی آمدنی اس بینک میں جمع کرائی گئی ہے اور یہ نقد غیر ملکی کرنسی (فارَن کرنسی کیش) کی صورت میں تھی۔🔸 اس سے پہلے بعض میڈیا اداروں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز کی فیس کرپٹو کرنسی کی صورت میں وصول کر رہا ہے۔🔹 جہازوں پر عائد کی جانے والی فیس سامان کی قسم، مقدار اور خطرے کی سطح کے مطابق مختلف ہوتی ہے۔

اسلام آباد کئی دنوں سے وبا جیسے لاک ڈاؤن میں ہے، صرف امریکہ اور ایران کے مذاکرات کے انتظار میں، جو بار بار نہیں ہو رہے۔ شہر اس کی بھاری قیمت ادا کر رہا ہے۔* سڑکیں خالی، دکانیں بند، پبلک ٹرانسپورٹ بند، اور مزدوروں کو گھروں میں رہنے کا کہا گیا* ہفتہ کے روز حکومتی حکم پر ہزاروں ہاسٹل رہائشیوں کو نکال دیا گیا، اور بہت سے لوگ رہائش کے لیے پریشان ہیں*

دیہاڑی دار مزدور 6 دن سے زیادہ بغیر کام اور خوراک کے گزار رہے ہیں* ہرمز بند ہونے کی وجہ سے ایندھن کی کمی، جس سے 7 گھنٹے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے* 1,200 امیدواروں کے سرکاری امتحانات 230 میل دور لاہور منتقل کر دیے گئے* ٹیکسی ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ ان کی آمدنی میں 50٪ کمی آ گئی ہےیہ حالات ہیں پاکستان کے ، یہ وہ لوگ ہیں، جب نائن الیون ہوا تھا تو انہوں نے پاکستان میں ڈبل سواری پر پابندی لگا دی۔ یہ ایسے اعلیٰ و ارفع دماغ ہیں

محمد علی کو کمشنر گوجرنوالہ ڈویژن تعینات کردیا گیا، نوٹیفکیشن نوید حیدر شیرازی کو سیکرٹری محکمہ کوآپریٹیو تعینات کردیا گیا، نوٹیفکیشن فضل الرحمان کو سیکرٹری محکمہ یوتھ افیئرز اینڈ کھیل تعینات کردیا گیا، نوٹیفکیشن

ایران سے تعلق رکھنے والا ایک کارگو جہاز جو چاول لے کر جا رہا تھا، امریکی بحریہ کی جانب سے اسے ضبط کرنے کی کوشش کے باوجود سپاہ کی بحریہ کے جہازوں کی اسکورت میں بحفاظت بحیرۂ عمان سے گزر کر ایران پہنچ گیا۔

ایران کے مرکزی بینک نے آبنائے ہرمز سے ٹول ٹیکس کی آمدنی جمع ہونے کی تصدیق کر دی۔🔹 بینک مرکزی نے آبنائے ہرمز سے حاصل ہونے والی فیس کی آمدنی جمع ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے اس بارے میں میڈیا کی قیاس آرائیوں کو ختم کر دیا کہ یہ کس قسم کی کرنسی میں وصول کی گئی۔🔹 فارس کو بینک مرکزی سے حاصل معلومات کے مطابق، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے وصول کی گئی فیس کی آمدنی اس بینک میں جمع کرائی گئی ہے اور یہ نقد غیر ملکی کرنسی (فارَن کرنسی کیش) کی صورت میں تھی۔🔸 اس سے پہلے بعض میڈیا اداروں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز کی فیس کرپٹو کرنسی کی صورت میں وصول کر رہا ہے۔🔹 جہازوں پر عائد کی جانے والی فیس سامان کی قسم، مقدار اور خطرے کی سطح کے مطابق مختلف ہوتی ہے۔

پاکستان کو ترکی سے اسپیشل گلوبل طیارہ مل گیا ہے جو 500 کلومیٹر سے دشمن کے ریڈار کو جام کر سکتا ہےگلوبل 600 چائنہ ،ترکی ،روس کوریا کے بعد اب پاکستان کے پاس بھی آ گیا ھے انڈیا کی پریشانیوں میں اضافہ ھو گیا ھے .بھارتی صحافی

پاکستان کے نامور سرمایہ کار سدا بہار قومی اسمبلی کے رکن وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ برطانیہ میں کامن ویلتھ کانفرنس کے بعد پاکستانی سرمایہ کاروں سے خطاب کرتے ہوئے۔گندم مارکیٹ آؤٹ آف کنٹرول سٹاکیا متحرک کھربوں روپے کی کرپشن کرنے والہ سومرو رفو چکر حجاج کرام رل رھے ھے *اسرائیل نے غزہ میں میغازی کیمپ کے قریب ایک سول ڈیفنس گاڑی کو نشانہ بنایا۔ حملے کے نتیجے میں تین سول ڈیفنس کارکن جاں بحق ہوگئے*

*حج پر جانے والے متوجہ ہوں* اطلاع دی جاتی ہے کہ مہندی لگانے کی وجہ سے مدینہ منورہ ائیرپورٹ پر 4 افراد کو واپس بھیج دیا گیا ، کیونکہ مہندی کی وجہ سے ان کے فنگر پرنٹس سکین نہیں ہو سکے ؛ لہٰذا تمام عازمین حج اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ سفر سے پہلے ہاتھوں پر مہندی نہ لگائیں تاکہ امیگریشن کے عمل میں کوئی رکاوٹ نہ پیش آئے

*جرمنی: شاہ ایران کے بیٹے رضا پہلوی پر ٹماٹر کی چٹنی پھینک دی گئی ، حملہ آور گرفتار*برلن: جرمنی میں سابق ایرانی شاہ کے بیٹے رضا پہلوی پر ایک پریس کانفرنس کے بعد ٹماٹر کی چٹنی پھینک دی گئی۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو حراست میں لے لیا ہے جس کا تعلق ایران سے بتایا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایران میں موجودہ نظام کی تبدیلی کے حامی اور سابق شاہ ایران کے صاحبزادے رضا پہلوی برلن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے بعد باہر نکل رہے تھے کہ اچانک ایک شخص نے ان پر ٹماٹر کی چٹنی (کیچپ) پھینک دی۔ اس غیر متوقع حملے کے نتیجے میں وہاں موجود سیکیورٹی اہلکاروں میں کھلبلی مچ گئی، تاہم رضا پہلوی اس واقعے میں محفوظ رہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کسی بھی کشتی پر حملہ کرنے کا حکمچھوٹی کشتیاں ہوں یا بڑی، اب کسی قسم کی ہچکچاہٹ برداشت نہیں کی جائے گی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

میجر جنرل نصیر اللہ بابر ایک عھد ساز شخصیت ماضی کے دریچوں میں۔پاکستان میں جاسوسی کے الزام میں 3 شخصیات گرفتار نواز۔ *تب تک ایران اپنا وفد پاکستان نہیں بھیجے گا جب تک امریکہ آبنائے ہرمز پر ناکہ بندی ختم نہیں کرتا، ایران کا واضح پیغام۔۔ ایران اور امریکہ سے دردمندانہ اپیل ہے کہ پاکستان میں بدترین لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے لیے ہی معاہدہ امن کرلیں۔امریکہ کی تھڑد کلاس قیادت کے انتظار میں 9دن سے پارلیمنٹ سپریم کورٹ سمیت اسلام آباد مکمل طور پر سیل۔۔ افواج پاکستان میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کون سے افسران گرفتار تبدیل۔بجلی کی لوڈشیڈنگ عروج پر اسلام آباد راولپنڈی میں 14 گھنٹے تک بجلی بند۔ایران اور امریکہ! مذاکرات ہونگے یا نہیں؟ 45 منٹ کی خفیہ کال؟ کے بعد سب کچھ ختم۔۔وہ آئی پی پیز جو سالہاسال بجلی کا ایک یونٹ پیدا کئے بغیر حکومت سے اربوں روپے وصول کرتے رہے ،،اب بجلی فراہم کیوں نہیں کر رہے ؟ حکومت چپ کیوں ہے؟۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

نصیر اللہ خان بابر: ایک جامع تحقیقی مطالعہتحریر: ڈاکٹر مکمل شاہ یوسفزئیپاکستان کی عسکری، سیاسی اور ریاستی تاریخ میں چند ایسے نام ہیں جو ایک ساتھ فوجی جرأت، سیاسی اثر و رسوخ اور متنازع پالیسیوں کی علامت بن گئے۔ ان میں ایک نمایاں نام میجر جنرل (ر) نصیر اللہ خان بابر کا ہے، جنہوں نے فوج، سرحدی انتظام، انٹیلیجنس، اور سیاست—چاروں میدانوں میں گہرے اثرات چھوڑے۔۔🪖 فوجی پس منظر اور عسکری خدماتنصیر اللہ بابر 1928 میں خیبر پختونخوا کے علاقے پِرپائی (نوشہرہ) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم پشاور اور برطانوی دور کے فوجی اداروں سے حاصل کی، بعد ازاں پاکستان ملٹری اکیڈمی سے تربیت لے کر 1948 میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی۔وہ آرٹلری کور اور بعد میں مختلف عسکری کمانڈز میں خدمات انجام دیتے رہے۔ 1965 اور 1971 کی پاک بھارت جنگوں میں ان کا کردار نمایاں رہا، اور انہیں ستارۂ جرات جیسے فوجی اعزازات بھی ملے۔بعد ازاں وہ انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور (FC) بھی رہے، جو قبائلی علاقوں میں امن و امان کے حوالے سے ایک اہم عسکری عہدہ تھا۔🧭 “کمیونیکیشن” اور سکیورٹی اسٹرٹیجک کردارنصیر اللہ بابر کا اصل اثر صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں تھا بلکہ ان کا کردار اسٹریٹجک سکیورٹی کمیونیکیشن اور خفیہ پالیسی سازی میں بھی نمایاں سمجھا جاتا ہے

۔قبائلی علاقوں میں ریاستی رابطہ کاریافغانستان سے متعلق پالیسی اور اثر و رسوخانٹیلیجنس اور داخلی سکیورٹی آپریشنز میں کردارفرنٹیئر کور کے ذریعے “گراؤنڈ نیٹ ورک” کا قیامان کا اندازِ کار “hard power + political communication” کا امتزاج سمجھا جاتا ہے، جس نے انہیں بعد میں سیاسی حلقوں میں بھی مضبوط بنایا۔🏛️ سیاسی سفر اور پیپلز پارٹی میں شمولیت1974 کے بعد انہوں نے فوج سے ریٹائرمنٹ لے کر سیاست میں قدم رکھا اور پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) میں شامل ہو گئے۔ان کے اہم سیاسی کردار:📌 1. خیبر پختونخوا کے گورنر (1975–1977)انہوں نے صوبے میں وفاقی حکومت کی نمائندگی کی۔📌 2. بے نظیر بھٹو کے قریبی مشیر1988–1990 کے دوران وہ داخلی امور کے خصوصی مشیر رہے۔📌 3. وزیر داخلہ (1993–1996)یہ ان کی سب سے اہم سیاسی ذمہ داری تھی، جس میں:کراچی میں امن و امان کے لیے سخت آپریشنزپولیس اصلاحاتداخلی سلامتی کی حکمت عملیان کے فیصلے آج بھی بحث کا موضوع ہیں⚔️ بڑے فیصلے اور متنازع اقداماتنصیر اللہ بابر کے چند اہم اور متنازع اقدامات:کراچی میں آپریشنز اور سیاسی گروہوں کے خلاف کارروائیاںریاستی سکیورٹی اسٹرٹیجی میں سخت لائنکراچی آپریشن (1992–1996): پس منظر، حقائق اور نصیر اللہ بابر کا کردارکراچی آپریشن پاکستان کی سیاسی و سکیورٹی تاریخ کا ایک انتہائی اہم، متنازع اور فیصلہ کن باب ہے۔ یہ آپریشن 1990 کی دہائی میں اس وقت شروع ہوا جب کراچی میں سیاسی، لسانی اور جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان شدید کشیدگی اور خونریزی بڑھ گئی۔اس پورے عمل میں اس وقت کے وفاقی وزیر داخلہ نصیر اللہ خان بابر کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے

۔1990 کی دہائی کے آغاز میں کراچی:پاکستان کا سب سے بڑا معاشی مرکزلاکھوں آبادی پر مشتمل کثیر النسلی شہرسیاسی جماعتوں اور مسلح گروہوں کا مرکزبھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور ہڑتالوں کا شکاراہم کشیدگی MQM (متحدہ قومی موومنٹ)، پولیس، اور بعض ریاستی اداروں کے درمیان تھی۔1992 میں اس وقت کی حکومت نے کراچی میں “کلین اپ آپریشن” شروع کیا۔ اس کے بنیادی مقاصد تھے:سیاسی اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا خاتمہاسلحہ کی غیر قانونی موجودگی روکناشہر میں ریاستی رٹ بحال کرناٹارگٹ کلنگ اور ہڑتالوں کا خاتمہاس آپریشن کی نگرانی مختلف ادوار میں فوج، رینجرز اور پولیس نے کی، لیکن سیاسی سطح پر اس کی پالیسی سازی میں نصیر اللہ بابر کا کردار اہم تھا۔۔🧭 نصیر اللہ بابر کا کردارنصیر اللہ بابر (وزیر داخلہ 1993–1996) نے کراچی کی صورتحال کو “ریاستی بقا کا مسئلہ” قرار دیا۔ان کی پالیسی کے اہم نکات:سخت سکیورٹی آپریشن کی حمایتانٹیلیجنس بیسڈ کارروائیوں کا فروغرینجرز کے اختیارات میں اضافہپولیس اصلاحات اور سیاسی مداخلت کم کرنے کی کوششجرائم پیشہ عناصر اور سیاسی گروہوں میں فرق کرنے کی پالیسیان کے نزدیک کراچی میں “ریاستی کنٹرول کی بحالی” اولین ترجیح تھی۔افغانستان اور قبائلی علاقوں میں اثر و رسوخ کی پالیسیانٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کی توسیعان کے حامی انہیں “اسٹیبلٹی لانے والا سخت منتظم” کہتے ہیں،

جبکہ ناقد انہیں “سخت گیر پالیسی ساز” قرار دیتے ہیں۔🌍 افغانستان اور علاقائی کردارکچھ تاریخی رپورٹس کے مطابق وہ 1970s میں افغانستان کے حوالے سے خفیہ اور اسٹریٹجک آپریشنز سے بھی منسلک رہے، جو خطے کی جیوپولیٹکس میں پاکستان کی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے تھے۔👨‍👩‍👧 خاندان، اولاد اور ذاتی زندگیتعلق: پشتون قبیلہ بابرآبائی علاقہ: نوشہرہ، پِرپائیخاندان: نجی زندگی نسبتاً کم میڈیا میں رہیایک بیٹی (Maria Babar) کا ذکر بعض ذرائع میں ملتا ہےان کی نجی زندگی زیادہ تر سیاست اور عسکری ذمہ داریوں کے سائے میں رہی۔🎓 تعلیمابتدائی تعلیم: پشاورBurn Hall SchoolRoyal Indian Military College (Dehradun)پاکستان ملٹری اکیڈمی (PMA)⚰️ وفاتنصیر اللہ بابر 10 جنوری 2011 کو پشاور میں طویل علالت کے بعد وفات پا گئے۔ان کی تدفین آبائی علاقے پِرپائی میں کی گئی۔

🧾 مجموعی تجزیہنصیر اللہ بابر کو ایک “فوجی اسٹریٹیجسٹ + سیاسی سخت گیر منتظم” کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان کی زندگی تین بڑے دائروں میں سمٹی ہوئی ہے:فوجی جرأت اور جنگی خدماتداخلی سکیورٹی اور ریاستی سخت پالیسیاںپیپلز پارٹی کی حکومت میں طاقتور سیاسی کردار📌 نتیجہنصیر اللہ بابر پاکستان کی ان شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے ریاستی ڈھانچے کے اندر رہ کر طاقت، سیاست اور سکیورٹی تینوں کو ایک ساتھ متاثر کیا۔ ان کا کردار آج بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بحث، تعریف اور تنقید تینوں زاویوں سے زندہ ہے۔

پاکستان سے کئی گنا امیر صوبے Ontario کا وزیر اعلی اِس جیسے کئی جہاز خرید سکتا ھے لیکن اُس کی قوم نے اُسے ایک پر بھی معاف نہیں کیا اور ایک ہم ہیں کہ حکمرانوں کی عیاشیوں، اُن کے شاہانہ طرز زندگی اور قومی خزانے پر اِن کے ٹھاٹ باٹ کو کتنے آرام سے ہضم کر لیتے ہیں۔۔دنیا بدل رھی ھے۔۔۔ کسں کی پیروی‏ کرنی چاھیئے ،شعور میں آ گئی ھے۔۔کیا آپ نے 2018 کے انتخابات کے بعد کسی کو اس طرح کی اصلاحات ان سب سے پہلے کرتے نہیں دیکھا۔۔۔۔۔؟کون ھے اصل ھیرو ۔۔۔۔سمجھ تو گئے ھوں گے ۔۔۔دنیا کے دو ملکوں میں کس نے کس کی پیروی کی، اور پھر ان کو کیا عوامی ردعمل ملا۔۔۔دو واقعات۔۔۔۔ پہلا حالیہ واقعہ ۔۔۔۔کروشیا کی منتخب صدر نے ملک کی صدر کا حلف اٹھانے کے بعد اپنا jet جہاز اور وزراء کے استعمال میں 39 لگثری گاڑیاں فروخت کرکے وزراء کو حکم جاری کیا کہ اپنے علاقوں میں جاکر عوام کے مسائل معلوم کرو اور اپنے گھروں میں دفاتر بنا لو حالانکہ یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ کیمرج یونیورسٹی کی فارغ التحصیل خاتون جو شکل و صورت سے بھی جاذب نظر ھے Tiktok کا ڈرامہ بھی رچا سکتی تھی اسکے گھر سے دفتر کا فیصلہ 1.2 کلومیٹر ھے جو پیدل طے کرتی ھے گھر سے اپنے دفتر اپنا کھانا ساتھ لے کر آتی ھے اس نے غیر ملکی قرضہ لینے سے انکار کردیا اپنی تنخواہ ملک کے عام مزدور کے برابر کردی۔۔

(امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی خصوصی رپورٹ)۔۔۔۔۔۔ دوسرا حالیہ واقعہ۔۔۔‏کینڈا کے صوبے Ontario کے وزیر اعلیٰ ڈَگ فورڈ نے مریم نواز کی طرح اپنے لئے ایک لگژری جہاز 28.9 ملین ڈالرز میں خریدا ، جیسے ہی خبر آئی تو کہرام مچ گیا۔ اپوزیشن، میڈیا اور عوام نے وزیر اعلیٰ کے بخیئے اُدھیڑ دیئے، قوم نے کہا کہ ہمارے مسائل کچھ اور ہیں لیکن تم اپنے پُر تعیش سفر کیلئے جہاز کیسے خرید سکتے ہو، کسی نے کہا کہ جیسے ہم اکانومی کلاس میں سفر کرتے ہیں تم بھی ویسے ہی کرو، کسی نے کہا کہ ہمیں تم جیسا عیاش وزیر اعلی نہیں چاہیے، کسی نے کہا کہ تم عوام کے ٹیکسوں کے پیسے پر ایک rockstar کی طرح نہیں رہ سکتے، اپوزیشن نے اس جہاز کو gravy plane کا نام دے دیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ وزیر اعلی نے ڈھٹائی، ضد اور بے شرمی دکھانے کے بجائے فوری طور پر جہاز کو بیچنے کا حکم دے دیا ہے

۔۔۔یاد رکھیں کہ Ontario میں فی کَس آمدن 49,000 ڈالرز ہے جبکہ پاکستان میں فی کَس آمدن صرف 1,650 ڈالرکینیڈا کے صرف ایک صوبے Ontario کا GDP تقریباً 909 ارب ڈالرز ہے جبکہ پورے پاکستان کا 400 ارب ڈالرز سے بھی کم۔۔ بتانے کا مقصد یہ ھے کہ پاکستان سے کئی گنا امیر صوبے Ontario کا وزیر اعلی اِس جیسے کئی جہاز خرید سکتا ھے لیکن اُس کی قوم نے اُسے ایک پر بھی معاف نہیں کیا اور ایک ہم ہیں کہ حکمرانوں کی عیاشیوں، اُن کے شاہانہ طرز زندگی اور قومی خزانے پر اِن کے ٹھاٹ باٹ کو کتنے آرام سے ہضم کر لیتے ہیں۔۔۔۔۔بشکریہ۔ صفدر حسین شاہ

*بڑا اسکینڈل بےنقاب**پاکستان کی مشہور بسکٹ بنانے والی کمپنی کے خلاف 6 ارب ٹیکس چوری کا مقدمہ درج، بینک افسران ملوث پائے گئے*

*بلوچستان شاہراہِ ایم 40 پر دہشتگردوں کی ناکہ بندی کی کوشش سکیورٹی فورسز نے ناکام بنادی، فائرنگ کے تبادلے میں 7 دہشتگرد جہنم واصل، 3 جوان جام شہادت نوش کرگئے، آپریشن جاری*

*تب تک ایران اپنا وفد پاکستان نہیں بھیجے گا جب تک امریکہ آبنائے ہرمز پر ناکہ بندی ختم نہیں کرتا، ایران کا واضح پیغام* *بلوچستان شاہراہِ ایم 40 پر دہشتگردوں کی ناکہ بندی کی کوشش سکیورٹی فورسز نے ناکام بنادی، فائرنگ کے تبادلے میں 7 دہشتگرد جہنم واصل، 3 جوان جام شہادت نوش کرگئے، آپریشن جاری*

وعجائیداد کی ڈیجیٹل رجسٹریشن کا بل منظورپنجاب اسمبلی نے “دی رجسٹریشن ترمیمی بل 2026” منظور کر لیا، جائیداد کی رجسٹریشن کا نظام مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کا فیصلہلاہور : پنجاب اسمبلی نے “دی رجسٹریشن ترمیمی بل 2026” منظور کر لیا ہے جس کے تحت اب جائیداد کی تمام رجسٹریشن کاغذی (مینوئل) طریقے کے بجائے الیکٹرانک ریکارڈ سسٹم کے ذریعے کی جائے گی۔نئے قانون کے مطابق پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (PLRA) ایک جدید ڈیجیٹل نظام قائم کرے گی جہاں ہر دستاویز کا اندراج برقی طریقے سے ہوگا اور روایتی رجسٹروں کا استعمال ختم کر دیا جائے گا۔قانون کے تحت اب ہر رجسٹری کے لیے بائیومیٹرک تصدیق لازمی قرار دی گئی ہے، جس میں فنگر پرنٹ یا چہرے کی شناخت شامل ہوگی اور یہ نظام نادرا کے ڈیٹا بیس سے منسلک ہوگا۔

اس ترمیم کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اب رجسٹرار کو قانونی اختیار دیا گیا ہے کہ اگر کوئی رجسٹری غلط بیانی، دھوکہ دہی یا اثر و رسوخ کے ذریعے کروائی گئی ہو تو وہ اسے خود منسوخ کر سکے گا۔حکام کے مطابق یہ قانون پورے پنجاب میں فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ نئے نظام کے تحت ہر رجسٹری پر الیکٹرانک دستخط ہوں گے جن کی قانونی حیثیت عدالتوں میں بھی تسلیم کی جائے گی۔ماہرین کے مطابق اس اقدام سے پٹواری کلچر، جعلی رجسٹریوں اور زمینوں کے تنازعات میں نمایاں کمی آنے کی توقع ہے اور جائیداد کے معاملات زیادہ شفاف اور محفوظ ہو جائیں گے۔

بجلی کی لوڈشیڈنگ عروج پر اسلام آباد راولپنڈی میں 14 گھنٹے تک بجلی بند۔۔حکومت اپنے وعدے کی پاسداری کرے اور گندم کی قیمتیں اوپن مارکیٹ کو مقرر کرنے دیں تاکہ کسانوں کو اپنے خون پسینے کی اصل کمائی مل سکے۔۔پی ایس ایل کے بعد پاکستان ٹیم میں بڑی تبدیلیوں کا فیصلہ ۔۔ ۔۔بابر اعظم اور فخر زمان کے نام پاکستان کی ٹوئینٹی ٹیم کی کپتانی کے لیے دے دیے گئے ہیں ۔ ایران نے ایک کے بدلے دو بحری جہازوں کو قبضے میں لے لیا ۔پنجاب بھر میں اب طلبہ کو میڑک یا انٹرمیڈیٹ پاس کرنے کے لیے 4 کی بجائے 6 مواقع دیئے جائیں گے، پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈز کا فیصلہ۔۔۔امریکہ کی تھڑد کلاس قیادت کے انتظار میں 9دن سے پارلیمنٹ سپریم کورٹ سمیت اسلام آباد مکمل طور پر سیل۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

ایمنسٹی انٹرنیشنل رپورٹ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بڑے انکشافات۔۔امریکی بحری فوج نے ایک اور بحری جہاز کو روک لیا ہے جس پر ایرانی حکومت کو مدد فراہم کرنے کا الزام ہے۔ کل تیسرے دن کیلئے بھی وفاقی سیکریٹریٹ بند ہو گا ورک فرام ہوم ہو گا. کابینہ سیکرٹریٹ نے نوٹیفکیشن جاری کردیا..اسلام آباد اج چوتھے روز بھی سیل سپریم کورٹ پارلیمنٹ ھای کورت وزیر اعظم ھاوس مکمل طور سیل۔۔ ایرانی وفد نہ پھنچا امریکی نائب صدر کا دورہ منسوخ۔۔ امریکا نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کردی گئی۔ حکومت عوام کو ریلیف دینے میں ناکام۔۔پاکستان میں مھنگای زندگی سسکیاں لینے لگی۔۔ 22 گریڈ 18 افسران کو ترقی خوش قسمت کوب۔۔ چوھے اور بلی کا کھیل جاری۔۔ ۔۔خوفناک جنگ کے دہانے پر پہنچ چکے خطرناک صورتحال نازک حالات۔۔حکومت نے عوام پر مزید مہنگائی کا بم گرانے کی تیاری کر کی آئی ایم ایف کے 11 شرائط مان لیں ملک میں مزید مہنگائی کی لہر آنے والی ہے۔۔ملک بھر میں مھنگای اور لوڈ شیڈنگ جاری۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*مخالفین کی کسی بھی جارحانہ کارروائی کا فیصلہ کن جواب دینے کیلئے تیار ہیں: سربراہ خاتم الانبیا ہیڈ کوارٹر*تہران: ایرانی فوج کی مشترکہ کمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر کے سربراہ جنرل عبداللّہی نے کہا ہےکہ ایران مخالفین کی کسی بھی جارحانہ کارروائی کا فوری اور فیصلہ کن جواب دینے کے لیے تیارہے۔ایک بیان میں جنرل عبداللّہی نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول مضبوط ہے،

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو زمینی صورتحال کے بارے میں غلط بیانیہ بنانے کی اجازت نہیں دینگے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران مخالفین کی کسی بھی جارحانہ کارروائی کا فوری اور فیصلہ کن جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ادھر ایرانی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی نے کہا کہ امریکا کی جانب سے دوبارہ حملوں کا امکان نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، ایرانی جہاز کے خلاف اقدام کا یقینی طور پر جواب دیا جائے گا۔

اسلام آباد میں ہزار ایکٹر پر مارگلہ پہاڑی کے دامن میں نیا پارک تعمیر کیا جائے گا‎‎‎ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں اجلاس میں بڑا فیصلہ ‎اجلاس میں ‎وفاقی دارالحکومت میں جاری اور مسقبل کے ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیااسلام آباد کو ایک مثالی شہر بنانا ہے، جہاں بین الاقوامی معیار کی سہولتیں اور تفریح کے مواقع عوام کو فراہم کئے جائیں گے، محسن نقویبین الاقوامی معیار کی فرمز کے ساتھ جوائنٹ ونچر کے تحت فائیو سٹار ہوٹل بنائے جائیں گے۔ اجلاس میں فیصلہای او بی آئی کے اشتراک سے تیار ہونے والے فائیو سٹار ہوٹل پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیاوفاقی وزیرداخلہ نے سرمایہ کاروں کے لئے زیرو ٹیکس نئی ہوٹل پالیسی مرتب کرنے کے آحکامات دئیےاسلام آباد کے تمام رقبے اور پراپرٹی کا سروے آف پاکستان سے مکمل سروے کرایا جائے گا، اجلاس میں فیصلہوزیر داخلہ کی آئندہ تمام آکشنز کیلئے مارکیٹنگ ٹیم تعینات کرنے کی ہدایتاس اقدام سے زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاروں کی بولی میں شرکت ممکن ہو سکے گی

کیپیٹل ‎‎‎ایمرجنسی سروسز کا کنٹرول روم سیف سٹی میں قائم کیا جائے گا، اجلاس میں فیصلہ‎چئیرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد سہیل اشرف نے ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دیسی ڈی کے تمام ڈیٹا اور ٹرانسفر کے نظام کو ڈیجیٹلائزڈ کیا جا رہا ہے، بریفنگ‎‎سی ڈی اے میں ون ونڈو آپریشن کے تحت ڈیجیٹل ڈیش بورڈ متعارف کرایا جائے گا، بریفنگ‎‎‎سی ڈی اے میں غیر ضروری پوسٹیوں کو ختم کیا جائے گا، بریفنگ‎‎چیئرمین اسلام آباد سہیل اشرف، ممبران سی ڈی اے، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور دیگر اعلیٰ افسران بھی اس موقع پر موجود تھے#InteriorMinister #mohsinnaqvi #governmentofPakistan #CDA #CapitalDevelopmentAuthority Mohsin Naqvi Chief Commissioner Islamabad Capital Development Authority – CDA, Islamabad ‎

“جب اختیار من مانی میں بدل جائے اور ادارے خاموش ہو جائیں تو عوامی اعتماد سب سے پہلے قربان ہوتا ہے۔”رانا تصدق حسیناسلام آباد: نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے اندرونی ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات نے ایک تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کی ہے، جہاں مبینہ طور پر مداخلت، انتظامی تجاوزات اور وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان کی جانب سے نامناسب زبان کے استعمال کا رجحان سامنے آ رہا ہے۔یہ پیش رفت گورننس، شفافیت اور ادارہ جاتی خودمختاری سے متعلق بنیادی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔متعدد سینئر افسران، جنہوں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کی، کے مطابق وزیر موصوف کا سرکاری اجلاسوں کے دوران رویہ ایک غیر یقینی اور دباؤ پر مبنی ماحول پیدا کر رہا ہے۔ان کے بقول عبدالعلیم خان کا اندازِ گفتگو کئی مواقع پر پیشہ ورانہ حدود سے تجاوز کر چکا ہے،

جہاں سخت اور توہین آمیز الفاظ کا استعمال سینئر افسران کے ساتھ کیا گیا، جو کہ ایک منظم سرکاری ادارے کے لیے ناقابل قبول قرار دیا جا رہا ہے۔صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب ایک حالیہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیر نے 8 ارب روپے کی ادائیگی پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور مبینہ طور پر انتہائی نامناسب انداز میں اس کی منظوری دینے والے سے متعلق سوال اٹھایا.تاہم، اس معاملے سے واقف افسران نے وضاحت کی کہ یہ ادائیگی مکمل طور پر مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اور این ایچ اے کے سی ای او کیپٹن (ریٹائرڈ) اسداللہ خان، جو اس معاملے میں مجاز اتھارٹی ہیں، کی منظوری کے بعد کی گئی تھی۔سینئر حکام کا کہنا ہے کہ نہ تو وفاقی وزیر اور نہ ہی قائم مقام سیکرٹری مواصلات کو این ایچ اے کے روزمرہ انتظامی، آپریشنل یا مینٹیننس سے متعلق مالی معاملات میں کوئی براہِ راست قانونی اختیار حاصل ہے۔ان کے مطابق اس نوعیت کی مداخلت نہ صرف قواعد کی خلاف ورزی ہے بلکہ ادارے کی خودمختاری اور کارکردگی کو بھی متاثر کرتی ہے۔مزید برآں، مستند ذرائع نے انکشاف کیا ہے

کہ قومی شاہراہوں اور موٹر ویز پر دیکھ بھال کے بیشتر کام مالی وسائل کی کمی کے باعث معطل ہو چکے ہیں، جبکہ دوسری جانب بھاری عوامی فنڈز کو مخصوص منصوبوں کی طرف منتقل کیے جانے کے الزامات سامنے آئے ہیں.ان منصوبوں میں ایک محدود سڑک کا حصہ بھی شامل ہے جو پارک ویو سٹی کے سامنے واقع ہے، جو کہ ایک نجی ہاؤسنگ اسکیم ہے اور مبینہ طور پر وزیر کے کاروباری مفادات سے منسلک بتائی جاتی ہے.اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ مفادات کے ٹکراؤ اور عوامی وسائل کے غلط استعمال سے متعلق سنگین سوالات کو جنم دیتے ہیں۔مزید الزامات کے مطابق اسلام آباد مری ایکسپریس وے پر بھی اربوں روپے خرچ کیے گئے ہیں، جہاں مبینہ طور پر مسابقتی خریداری کے عمل اور مناسب آڈٹ نگرانی کو نظر انداز کیا گیا،

جو مالی نظم و ضبط اور شفافیت کو متاثر کر سکتا ہے۔ادارہ جاتی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ان خدشات کی توثیق کرتی ہے جو بین الاقوامی مالیاتی اداروں، خصوصاً انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف)، کی جانب سے ریاستی اداروں میں گورننس کی کمزوریوں کے حوالے سے بارہا ظاہر کیے جاتے رہے ہیں۔این ایچ اے کی موجودہ صورتحال کو ایک ایسی مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں انتظامی دباؤ اور کمزور ادارہ جاتی مزاحمت احتساب اور آپریشنل شفافیت کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔اس کے علاوہ ادارہ جاتی ڈھانچے میں بھی کئی تضادات کی نشاندہی کی جا رہی ہے،

جن میں چیف ایگزیکٹو کی تقرری اور 57 ڈیپوٹیشن افسران کی تعیناتی شامل ہے، جسے بعض اندرونی ذرائع اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز کے اصولوں کے منافی قرار دے رہے ہیں۔مزید یہ کہ نیشنل ہائی وے کونسل کی تشکیل بھی تنقید کی زد میں ہے، جہاں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ متعدد ارکان کو وزیر کی سفارش پر تعینات کیا گیا، جن کے پاس روڈ سیکٹر کا متعلقہ تجربہ موجود نہیں، جس کے باعث کونسل ایک مؤثر نگران ادارے کے بجائے محض ایک رسمی فورم بن کر رہ گئی ہے۔اس حوالے سے وزارت مواصلات اور این ایچ اے انتظامیہ سے بارہا مؤقف لینے کی کوشش کی گئی، تاہم اس رپورٹ کی اشاعت تک کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا۔صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر مختلف حلقوں کی جانب سے فوری اعلیٰ سطحی تحقیقات، آزادانہ آڈٹ اور قانونی و ادارہ جاتی اصولوں کی سختی سے پاسداری کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، تاکہ ملک کے ایک اہم ترین عوامی ادارے کی ساکھ اور کارکردگی کو محفوظ بنایا جا سکے۔

*ایران-امریکا مذاکرات: ایران کے جواب نہ دینے پر امریکی نائب صدر کا دورہ پاکستان مؤخر، امریکی میڈیا کا دعویٰ*ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان مؤخر ہوگیا۔امریکی میڈیا کے مطابق ایران کی جانب سے جواب نہ دینے پر امریکی نائب صدر کا دورہ پاکستان مؤخر ہوا۔معاملے سے باخبر امریکی حکام نے امریکی میڈیا کو بتایا ہے کہ جے ڈی وینس کا دورہ کسی بھی وقت دوبارہ طے ہو سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران میں دو ہفتے کی جنگ بندی بدھ کو ختم ہونے والی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ ایران یا امریکا اگلا قدم کیا اٹھائیں گے۔امریکی میڈیا کے مطابق مذاکرات کسی بھی وقت دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ طویل المدتی معاہدے کے بغیر جنگ بندی میں توسیع نہیں چاہتے۔دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ امریکا سے مذاکرات میں شرکت کیلئے وفد اسلام آباد بھیجنے پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

یہ ابتدائی طور پر ہے لیکن اس پہ مطمئن ہوکر بیٹھ نہ جائیں کیونکہ جب اگلا مرحلہ شروع ہو گا تو یہ گلی محلوں تک پہنچ جائیں گے حکومت عوام کو سہولیات دینے میں یکسر ناکام رہی ہے مہنگائی اور بربادی عوام کے لیے عذاب بن چکے ہیں اس کے باوجود بھی حکومت رک نہیں رہی ہے اب چالان پہ چالان مقصد پیسہ اکٹھا کرکے اپنی عیاشیوں کے لیے گئے قرضوں کا سود بھرنا ہے اوپر سے صفائی ٹیکس لگ گیا ہے کل کو واسا ٹیکس لگے پھر بیوٹی فیکیشن ٹیکس لگے لگتے لگتے سانس لینے پہ بھی ٹیکس لگے گا حکومت نے غریب کے لیے جینا حرام کر دیا ہے اور امیروں کے لیے کاروبار کرنا وزیر داخلہ صاحب کہتے ہیں تین سال میں 100 ارب ڈالر باہر چلے جب ملک حالات ہی سازگار نہیں ہوں گے تو ہر کوئی ملک چھوڑ کر جانے کی کوشش کرے ملک میں کاروبار چل نہیں رہے اوپر سے پنجاب پر کوئی بہت ہی خاص عذاب نازل کرکے اس کو پولیس اسٹیٹ اور جیل بنا دیا گیا ہے جیل میں رہنا تو دور کی جیل کا نام سننا بھی کسی کو پسند نہیں ہے جو اس ملک کے ساتھ خاص طور پر پنجاب کے ساتھ ہو رہا ہے اتنے برے حالات صرف فلسطین کے ہیں یا پنجاب کے لیکن عوام خاص طور پر نعرے مارنے اب بھی مطمئن ہیں

ہر بار جب پاکستان امریکہ کی مدد کے لیے قدم بڑھاتا ہے، معاملات خراب ہو جاتے ہیں۔ چین کے لیے دروازے کھولنے، سوویت یونین کے خلاف افغان جنگ کی حمایت کرنے اور نائن الیون کے بعد جنگ تک۔اب پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کر رہا ہے۔ تو اس بار امریکہ سے پاکستان کے لیے کس چیز کا انتظار کیا جا

راولپنڈی میں دھشت گردی کا خطرہ بوائز خواتین ھاسٹلز خالی کرانے کا فیصلہ۔۔امریکا ایران کا مقابلہ نہیں کر سکا اب چین سے نہ الجے الیگزینڈر لوکاشینکو۔۔ایران کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، کسی بھی لمحے نئی پیش رفت ہو سکتی ہے: نیتن یاہو۔۔امریکہ کو اس مشکل سے پاکستان ہی بچا سکتا جنرل یش مور۔۔ایرانی بحریہ کاخلیج میں لنگر انداز جہازوں کو حرکت نہ کرنے کا حکم۔۔ایران خطے میں تیل کی پیداوار کو مستقل طور پر روک سکتا ہے،پاسداران انقلاب۔۔ایرانی بحریہ کاخلیج میں لنگر انداز جہازوں کو حرکت نہ کرنے کا حکم۔۔اسلام آباد ریڈ زون سیل سینٹ قومی اسمبلی سپریم کورٹ بند۔۔کابینہ سیکرٹری نوٹیفکیشن کے مطابق تمام وفاقی وزارتوں کے ملازمین اور وفاقی وزراء کو دفتر آنے سے روک دیا گیا۔۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات اسلام آباد میں ہونے کی تصدیق کر دی۔۔۔اسرائیل کو عالمی عدالت نے غیر قانونی ریاست قرار دے دیا۔۔ ۔پاکستانیوں حکومت نے نھی اپنے آپ کو خود بچاو۔۔۔۔یو اے ای میں امر یکی اڈے بند کرنے کا مطالبہ۔۔ منی لانڈرنگ وفاقی وزراء اور بیورو کریٹ شکنجے میں۔۔سٹیو وٹکوف اور جارڈ کشنر مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اسلام آباد میں۔۔محمد علی رندھاوا کی والدہ کا جنازہ اھوں اور سسکیوں میں سپرد خاک۔۔ایک اور ڈی ایس پی نوکری سے برخاست۔۔احسن اقبال دنیا کو جھوٹا ترین شخص عامر متین نے احس اقبال کے پول کھول دئیے۔۔پاکستانی معیشت جنگی بحران سے نمٹنے کی بہتر صلاحیت رکھتی ہے: گورنر سٹیٹ بینک۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

1۔ سٹیو وٹکوف اور جارڈ کشنر مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں: ٹرمپ2۔ میں شاید بعد میں کسی اور تاریخ کو پاکستان جاؤں۔ دیکھنا پڑے گا کہ کل کیا ہوتا ہے: امریکی صدر

انا للہ و انا الیہ راجعونڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹ محمد علی رندھاوا کی والدہ محترمہ کی نمازِ جنازہ ایچ ایٹ، H-8 قبرستان اسلام آباد میں ادا کر دی گئی۔ نمازِ جنازہ میں وفاقی وزراء، آئی جی اسلام آباد، انتظامیہ، پولیس افسران سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔نمازِ جنازہ کے موقع پر مرحومہ کے لیے دعائے مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ اس موقع پر شرکاء نے محمد علی رندھاوا سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے مرحومہ کے لیے ایصالِ ثواب بھی کیا۔اللّٰہ پاک اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے

ایران خطے میں تیل کی پیداوار کو مستقل طور پر روک سکتا ہے،پاسداران انقلابایرانی بحریہ کاخلیج میں لنگر انداز جہازوں کو حرکت نہ کرنے کا حکم

‏عامر متین نے ن لیگ کے ارسطو اور نوازشریف کے پول کھول دیے!عامر متین:احسن اقبال آپ کی ساری زندگی جھوٹ پر مبنی ہے۔ میں نے وقت لیا آپ کو جواب دینے میں۔ کچھ لحاظ کے تقاضے تھے۔ مگر اب جواب دے رہا ہوں۔ نواز شریف کی جس ترقی کے سفر کا ڈھول آپ پیٹ رہے ہیں اس نے ملک کو تباہ کر دیا۔ آج پاکستان اس قرضوں کے جال میں ان کی غلط پالیسی اور آپ جیسے پلاننگ کے مشیروں کی وجہ پھنسا ہوا ہے۔ دو پراجیکٹ جس کے لیے وہ کریڈٹ مانگتے ہیں وہ پاکستان کا ناسور تھے۔ پہلا لوڈ شیڈنگ کو ختم کرنے کے لیے پہلے نوے کی دہائ اور پھر اپنی تیسری گورنمنٹ (2014-15) میں کیے آئ پی پی کے کرپٹ معاہدے تھے۔ اس میں ریاست کا مفاد نہی دیکھا گیا اور ان سیٹھوں کو جو یا رشتہ دار تھے یا پارٹنر نوازا گیا۔ اب بھی ہم ان کو دو ہزار ارب سالانہ سے زیادہ منافع دے رہے ہیں چاہے وہ اک یونٹ بھی بجلی نہ بنائیں۔

چھیالیس ہزار میگا واٹ بجلی کی کہیسیٹی ہے مگر پچیس بھی نہی بنا پا رہے۔ اس جرم کا کون زمہ دار ہے۔ دوسرا جو سڑکوں کا جال بنانے کا تمغہ لیا جاتا ہے۔ مودی نے اسی ہزار کلومیٹر سڑکیں بھارت میں بنائیں مگر اپنے پیسے سے۔ ہم نے اس کے مقابلے بہت کم بنایا مگر ڈالر کے قرضے میں۔ میں مال بنانے کا الزام نہی لگا رہا

مگر ملک اس وقت ان دو بڑے پراجیکٹ کی وجہ سے قرضے کے جال میں پھنسا ہے۔ ہمارا ڈیبٹ یعنی قرضہ بحران جس سے ہمارا کرنٹ اکائونٹ، تجارتی اور بجٹ خسارے جنم لیتے ہیں۔ یہ کہنا کہ موقع نہی ملا۔ کتنا موقع چاہیے۔ پچھلے چار سال سے پورا موقع تھا۔ نہ عدالت نہ اپوزیشن نہ پارلیمان نہ میڈیا۔ ایسا موقع تو آمریت میں نہی ملا۔ کیا کیا آپ نے۔ قرضے چتالیس ہزار ارب سے اسی ہزار ارب تک ہو گئے۔ پاکستان کی تاریخ چھوڑیں مونجھوداڑو کے زمانے سے پنتالیس فیصد غربت پانچ دریاؤں کے دھرتی میں نہی دیکھی گئ۔

بائیس فیصد بیروزگاری۔ پچاس سال میں پہلی دفعہ ساری بڑی فصلوں میں گراوٹ۔ اس پر بھی آپ شرمندہ نہی بلکہ جھوٹ بول رہے ہیں کہ ہمیں موقعہ نہی ملا۔ اگر میرے کسی خیال سے اختلاف ہو تو میں کئ دفعہ آپ کو ٹی وی پر بلا چکا کہ مجھے غلط ثابت کر لیں۔ محظ پراپیگنڈا نہ کریں۔ مزید جواب پر میں پھر حاظر ہوں۔ اب اس جواب کو کتنا تھراٹل کروائیں گیں۔‎@AmirMateen2