بھارتی فضائیہ کا ایک سوویت ساختہ جنگی طیارہ ایس یو 30 تباہ ہو گیا، واقعہ پونے کے ہوائی اڈہ پر پیش آیا ۔جس سے آنے اور جانے والی پروازوں کا نظام شدید متاثر ہوا، تاہم حکام کے مطابق تمام عملہ محفوظ رہا۔بھارتی اخبار India Today کے مطابق واقعہ ایک جنگی طیارے کی ہنگامی لینڈنگ کے دوران پیش آیا۔ فضائیہ کے بیان میں کہا گیا کہ یہ صورتحال ایک معمول کی رات کی پرواز کے دوران پیدا ہوئی، تاہم عملہ مکمل طور پر محفوظ رہا اور کسی شہری املاک کو نقصان نہیں پہنچا۔حکام کے مطابق یہ واقعہ گزشتہ رات تقریباً 10 بج کر 25 منٹ پر پیش آیا، جس کے بعد حفاظتی اقدامات کے تحت فوری طور پر فضائی آمد و رفت معطل کر دی گئی۔
پونے کا یہ ہوائی اڈہ شہری اور فوجی دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے اور یہاں بھارتی فضائیہ کا اڈہ بھی موجود ہے، جس کے باعث اس واقعے کے بعد تجارتی پروازوں کا نظام بھی متاثر ہوا۔بھارت کے وزیر مملکت برائے ہوا بازی مرلی دھر موہول نے بھی واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مسافروں کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا اور حکام جلد از جلد معمول کی صورتحال بحال کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔رن وے بند ہونے کے باعث 17 اور 18 اپریل کو پروازوں کا نظام شدید متاثر ہوا اور مختلف ایئر لائنز کی متعدد پروازیں منسوخ ہوئیں۔ سب سے زیادہ منسوخیاں IndiGo کی رہیں، جس نے 31 آمد اور 34 روانگی کی پروازیں منسوخ کیں، جبکہ دیگر ایئر لائنز کی پروازیں بھی متاثر ہوئیں۔
رہنما پاکستان پیپلز پارٹی اور رکن قومی اسمبلی ناز بلوچ نے آبنائے ہرمز کی بحالی پر پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا دنیا آج پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا اعتراف کر رہی ہے، ناز بلوچ موجودہ حساس صورتحال میں پاکستان نے خطے میں تناؤ کم کرنے اور بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے کلیدی اور مؤثر کردار نبھایا، ناز بلوچ بین الاقوامی کشیدگی کے دوران پاکستانی قیادت نے ذہانت، بردباری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا، ناز بلوچ پاکستان کا بنیادی نظریہ ہمیشہ سے یہی ہے کہ علاقائی تنازعات کا حل جنگ نہیں
بلکہ سفارتی حکمت اور باہمی عزت و احترام ہے، ناز بلوچ آج عالمی برادری پاکستان کو ایک پرامن اور ذمہ دار ملک کے طور پر دیکھ رہی ہے، ناز بلوچ آبنائے ہرمز کا بحال ہونا صرف ایک سمندری گزرگاہ کی بحالی نہیں بلکہ خطے میں باہمی اعتماد، توانائی کی فراہمی اور اقتصادی استحکام کی جانب ایک اہم قدم ہے، ناز بلوچ اس عمل سے پاکستان کی بندرگاہیں، تجارت اور علاقائی رابطے مزید مضبوط ہوں گے، ناز بلوچ برسوں کی مسلسل سفارتی کوشوں اور قومی اتفاقِ رائے کی بدولت پاکستان عالمی سطح پر اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر رہا ہے، ناز بلوچ یہ اس سیاسی فکر کی کامیابی ہے جس نے ہمیشہ جمہوریت، امن اور عوامی خوشحالی کو ترجیح دی، ناز بلوچ ہمارے عظیم قائد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو دنیا میں ایک باوقار اور خوددار حیثیت دلانے کا عزم کیا تھا،
ناز بلوچشہید بھٹو نے ہر عالمی سطح پر وطن کے تحفظ اور مثبت کردار کے لیے آواز اٹھائی، ناز بلوچ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے دنیا کو پیغام دیا کہ پاکستانی قوم جمہوری اقدار، آئینی حکمرانی اور امن کی علمبردار ہے، ناز بلوچ شہید محترمہ نے وقار اور دلیل کے ساتھ پاکستان کا مقدمہ دنیا کے سامنے رکھا،
ناز بلوچ آج چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اسی نظریاتی ورثے کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں، ناز بلوچ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنی قیادت میں دنیا کو پاکستان کا روشن، حقیقت پسند اور پُرامن تاثر دیا، ناز بلوچ طویل جدوجہد کے بعد چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر کے متوازن، مدبرانہ اور پیشہ ورانہ کردار نے پاکستان کو عالمی سطح پر احترام اور وقار سے نوازا ہے، ناز بلوچ آج پوری قوم کو ان پر فخر ہے، ناز بلوچ پاکستان نے ثابت کر دیا کہ جب پارلیمان، وزارت خارجہ اور تمام ریاستی ستون یکساں قومی بیانیے پر متفق ہوں تو ہم دنیا کا رخ موڑ سکتے ہیں، ناز بلوچ ہمیں یہ پیغام اپنی آنے والی نسلوں تک پہنچانا ہے کہ پاکستان کی اصل طاقت اسلحہ نہیں بلکہ بیانیہ، امن کا پیغام اور سفارت کاری ہے، ناز بلوچ آبنائے ہرمز کی بحالی اس کا ثبوت ہے کہ پاکستان خطے میں استحکام کا محافظ اور ترقی کا مرکز بن رہا ہے، ناز بلوچ
راولپنڈی میں سیکیورٹی ہائی الرٹ، پبلک ٹرانسپورٹ بس اڈے 10 روز کے لیے بند کرنے کا فیصلہراولپنڈی میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اہم پیشگی اقدامات کرتے ہوئے پبلک ٹرانسپورٹ بس اڈوں کو عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ بندش آج رات سے شروع ہو کر 26 اپریل تک جاری رہے گی، جس کا مقصد ممکنہ خطرات سے نمٹنا اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ضلعی انتظامیہ، ٹریفک پولیس اور سیکرٹری ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی موجودگی میں ہونے والے ایک اہم اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں ٹرانسپورٹ یونین کے عہدے داران اور شہر بھر کے بس اڈوں کے مالکان کی بڑی تعداد نے شرکت کی،
جہاں سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ذرائع کے مطابق اس دوران راولپنڈی سے دیگر شہروں اور تحصیلوں کو جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور پر معطل رہے گی، جبکہ بوقت ضرورت دیگر شہروں سے آنے والی بسوں اور کوچز کو بھی شہر میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس سلسلے میں ٹرانسپورٹ یونین کے عہدے داران کو باقاعدہ احکامات جاری کر دیے گئے ہیں تاکہ فیصلے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سیکیورٹی الرٹ کے تحت اٹھایا گیا ہے اور حالات کے مطابق مزید اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور متبادل سفری ذرائع اختیار کریں۔
پاکستان کی اب دنیا کی طاقتور شخصیت کی سیکورٹی اور حفاظت خدا کے بعد کمانڈوز ایس ایس جی اور انکی یونٹ جس میں بطور فوجی آفیسر آنکھ کھولتا ھے تفصیلات کے لیے بادبان نیوز
*پاکستان کی اونچی پرواز ۔۔۔۔تیاری پکڑ لیں*ایران امریکہ معاہدہ ہونے پر ایرانی صدر ۔امریکی صدر ٹرمپ ،ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان ،چینی وزیر اعظم یا وزیر خارجہ ،سعودی ولی عہد سمیت اہم شخصیات پاکستان آئیں گے اسلام آباد کی سجاوٹ اور غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات جاری ہیں۔*غیر مصدقہ ذرائعِ*
سردار اویس لغاری پرویز مشرف دور حکومت وفاقی وزیر تھا اس نے ق لیگ کا بیڑا غرق کر دیا اب ن لیگیوں کا بیڑا غرق کر دیا۔ نواز لیگ کے استین کا سانپ اویس لغاری بےنظیر بھٹو کی استین کا سانپ فاروق لغاری قائد اعظم محمد علی جناح کی استین کا سانپ ان کا دادا لغاری فاروق لغاری کے والد نے قائد اعظم محمد علی جناح سے غداری کی تھی غدار ابن غدار لغاری خاندان اب 25 کروڑ عوام کو 125 روپے فی یونٹ دینے والہ عوام کا غدار 16 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کرنے والہ اویس احمد لغاری پاور پلانٹ کوٹ ادو سمیت کو پرائوٹیز کیا لکین ابھی تک کوی روپیہ پاکستان کے اکاؤنٹ میں جمع نھی ھوا مزید تفصیل کے لیے بادبان نیوز
پاکستان کی اب دنیا کی طاقتور شخصیت کی سیکورٹی اور حفاظت خدا کے بعد کمانڈوز ایس ایس جی اور انکی یونٹ جس میں بطور فوجی آفیسر آنکھ کھولتا ھے تفصیلات کے لیے بادبان نیوز
پاکستان انگریز نے نہیں تو کیا تمہارے باپ نے بنایا تھا۔ ۔ ۔! پیر صاحب پگاڑاپاکستان کے ممتاز سیاست دان اور متحدہ مسلم لیگ کے سربراہ مردان علی شاہ پیر پگاڑا مرحوم کا ایک یادگار انٹرویو روزنامہ جنگ میں 16 جولائی 2000 کو شائع ہوا۔ اس انٹرویو کے پینل میں سہیل وڑائچ، جناب زاہد حسین اور عارف الحق عارف شامل تھے۔ ذیل میں تاریخی دلچسپی کے لئے اس انٹرویو کے کچھ منتخب حصے سماجی رابطے کی معروف website “ہم سب” کے شکریہ کیساتھ پیش کئے جا رہے ہیں۔ لنک کمنٹس میں ملاحظہ فرمائیں۔سوال: پیر صاحب! آپ متحدہ مسلم لیگ کے صدر رہے ہیں، اس حوالے سے گفتگو کا آغاز تحریک پاکستان سے کرتے ہیں؟جواب: اس حوالے سے پہلے یہ واقعہ سن لیں پاکستان بننے سے پہلے تین جگہ پر ہندو مسلم فسادات ہوئے ان میں سے ایک علی گڑھ میں ہوا۔ یہ 1945 کا واقعہ ہے کہ میں علی گڑھ کی نئی بستی میں بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں علم ہوا کہ ایک سندھی قتل ہوگیا، ہم وہاں گئے کہ ہم سندھی کی لاش کو سنبھالیں۔ ہم نے پوچھا کہ کیا ہوا تو پتا چلا کہ یہاں پتھراؤ ہوا ہے۔ تھوڑی دیر میں ڈی سی صاحب اور ایس پی صاحب آگئے
۔ یہ ایس پی ٹیکسن صاحب تھے۔ ان کے بارے میں کسی نے بتایا کہ یہ وہ ایس پی ہیں جو انگلینڈ سے اپنے دوست کی بیوی ورغلا کر لائے ہیں۔ ہمارا خیال تھا کہ اچھے خون والا بندہ ایسا کام نہیں کر سکتا۔ تو خیر ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے وہاں ایس پی نے خود ہی توڑ پھوڑ شروع کر دی اور اسی دوران بازار میں آگ لگ گئی اور فساد شروع ہوگیا تو اس واقعہ کا تو میں خود عینی شاہد ہوں کہ کس طرح ایک انگریز نے ایک سندھی کی بازار میں ذاتی لڑائی کو ہندو مسلم فساد بنا دیا۔ میں اس واقعے کا عینی شاہد ہوں اور یہ کہہ رہا ہوں کہ یہ فساد پاکستان کے لئے نہیں تھا۔ یہ تو کروایا گیا تھا۔سوال: پیر صاحب اس واقعہ سے تو یوں لگتا ہے کہ جیسے سب کچھ انگریزوں نے کیا؟جواب: دیکھو بھئی اگر تو لوگوں کو خوش کرنا ہے تو اور بات ہے اور اگر سچ سننا ہے تو میری معلومات یہی ہیں کہ برطانوی حکومت ہندوستان میں ایک مسلم اسٹیٹ بنانے کا فیصلہ بہت پہلے کر چکی تھی۔ یہ فیصلہ قرارداد پاکستان منظور ہونے سے بہت پہلے ہوچکا تھا۔ ولی خان نے جب اس بارے میں بیان دیا تو جنرل ضیاالحق نے انہیں اس معاملے پر گفتگو کی دعوت دی۔ ولی خان نے جواباً ایک فوٹو سٹیٹ کاپی انہیں بھیجی جس میں واضح طور پر یہ لکھا تھا کہ مسلم اسٹیٹ بنانے کا فیصلہ 1940 سے پہلے ہوچکا تھا۔ اس کے بعد ضیاالحق خاموش ہوگئے۔ میں نے لندن جا کر تو تحقیق نہیں کی لیکن میری معلومات یہی ہیں۔سوال: پیر صاحب کیا آپ کو احساس ہے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں یعنی پاکستان انگریزوں نے بنایا تھا؟جواب: دیکھو بھئی سچ سننا ہے تو وہ تو یہی ہے وگرنہ میں بھی آپ کو کوئی کہانی سنا دیتا ہوں۔سوال: اس کا کوئی ثبوت ہے؟جواب: دیکھو بھئی برطانوی وزیراعظم چرچل کی پنجاب کے اس وقت کے وزیراعظم سر سکندر حیات سے قاہرہ میں ملاقات ہوئی تو چرچل نے کہا کہ مسلمانوں نے سلطنت برطانیہ کے لئے جو قربانیاں دی ہیں ان کی بلڈ منی کے طور پر انہیں الگ ریاست دی جائے گی۔
میں نے یہ بات سر سکندر حیات کے بیٹے سردار شوکت حیات سے پوچھی تو انہوں نے تصدیق کی کہ چرچل نے سردار سکندر حیات سے یہ بات کی تھی۔سوال: پیر صاحب ! آپ مسلم لیگ کے صدر رہے ہیں، آپ بھی وہ بات کہہ رہے ہیں جو قوم پرست کہتے ہیں۔جواب: دیکھو بھئی سچ سے تکلیف تو ہوتی ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ جس طرح دیگر بااثر لوگوں کو انگریز نے مسلم لیگ میں بھیجا تھا۔ علامہ اقبال بھی اسی طرح مسلم لیگ میں آئے تھے۔ آپ یہ بتائیں کہ علامہ اقبال کس کے کہنے پر قائداعظم کے پاس گئے تھے۔ دیکھو بھئی جتنے بھی بااثر لوگ تھے، وہ انگریزوں کے کہنے پر مسلم لیگ میں آئے تھے۔سوال: تو کیا آپ دو قومی نظریے سے انکار کرتے ہیں۔جواب: دیکھو بھئی ایک قوم ہندو تھی جو گئؤ ماتا کو پوجتی تھی دوسری قوم مسلمان تھی جو گئؤ ماتا کو کھاتی تھی تو دونوں قومیں تو الگ تھیں، البتہ پاکستان اسلام کے نام پر نہیں لبرل معاشرے کے قیام کے لئے بنا۔سوال: تو کیا پاکستان بنانے میں مسلم لیگ کا کردار نہیں تھا؟جواب: مسلم لیگ بااثر لوگوں کی جماعت تھی۔ یہ عوامی جماعت نہیں تھی کہ جس کے ووٹر ہوں، بااثر لوگوں کے ماننے والے اسے ووٹ دیتے تھے۔ مسلم لیگ اس وقت سے لے کر آج تک جماعت نہیں بن سکی، نہ یہ کبھی جماعت بن سکے گی۔ ملک میں اقتدار انگریز کے وفاداروں کے ہاتھ میں رہے، وہی پالیسی آج تک چل رہی ہے، کچھ بھی تو تبدیل نہیں ہوا۔اس انٹرویو کی اشاعت کے بعد جناب پیر پگاڑا پر روزنامہ نوائے وقت نے خوب لے دے کی۔ اسی دوران لاہور کے ایک اخبار نویس نے جب ان سے دریافت کیا کہ وہ اپنے اس بیان پر کیا اب بھی قائم ہیں کہ پاکستان انگریز نے بنایا تھا؟ تو پیر پگارا نے اپنے مخصوص انداز میں کہا، تو اور کیا آپ کے باپ نے بنایا تھا؟۔
حکومت نے اسلام آباد کے علاقہ بری امام میں ظلم و ستم کی انتہا کر دیجب زمین کی قیمت انسان کی قیمت سے بڑھ جائےمجھے یہ جملہ لکھتے ہوئے بہت اذیت ہو رہی ہے ,لیکن کیا کروں میرے دل و دماغ میں وہ قیامت کے مناظر ہیں جو میری روح کو بھی زخمی کئیے جاتے ہیں۔ آج بری امام کی بستی اسلام آباد پولیس کے محاصرے میں ہے۔ بجلی پچھلے آٹھ گھنٹوں سے بند کر دی گئی ہے۔ پورا گاؤں اندھیرے میں ڈوبا ہؤا ہے۔ قائد اعظم یونیورسٹی سے بری امام جانے کا راستہ بند کیا گیا ہے۔ خواتین ، بچوں اور بوڑھوں کو پیدل گھر جانے کی بمشکل اجازت دی جا رہی ہے۔آپ تصور کریں کہ گزشتہ رات جو لوگ اپنے گھروں میں سوئے ہوئے تھے ، آج کی رات وہ بے سرو سامان بچوں کے ساتھ اپنے گھروں کے ملبے پہ ماتم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا کہ چند گھنٹوں میں بے گھر ہو جائیں گے۔ یہ وزیراعظم شہباز شریف کا ویژن 27 کا ٹریلر ہے۔ جو متاثرین اسلام آباد کی تباہی سے شروع ہوا ہے۔ اور اس فلم کا ڈائیریکٹر وزیر داخلہ محسن نقوی ہے۔ نہ جانے کیوں یہ بات میرے ذہن میں گردش کر رہی ہے، کہ اس ملک کے تقریباً سبھی محسنوں کے ساتھ جو سلوک کیا گیا ویسا ہی بری امام سرکار کے مکینوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ جنہوں نے اپنے آباؤ اجداد کی زمینیں وفاقی دارالحکومت کے قیام کے لئے قربان کیں۔۔ مگر آج ان کی اولادوں کو چند گھنٹوں کی وارننگ سے گھروں سے نکال کر ان کے آشیانوں کو مسمار کر دیا گیا ۔ بارہ گھنٹے جاری رہنے والا آپریشن رات دس بجے رکا ۔ امکان ہے کہ صبح دوبارہ شروع ہو گا۔شاید ہی دنیا کا کوئی ملک ہو جو اپنے شہریوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک روا رکھے۔ جس طرح بری امام کے مکینوں کو چند گھنٹوں میں طاقت کے زور پر گھروں سے باہر نکالا گیا ہو۔ اور ان کے بچوں کے سامنے ان کے سائبان زمین بوس کیے گئے ہوں۔ یقیناً جب زمین کی قیمت انسان کی قیمت سے بڑھ جائے تو پھر انسان انسانیت اور جذبات و احساسات سے محروم ہو جاتا ہے ۔ اس کا مشاہدہ آپ بری امام میں کر سکتے ہیں۔اس وقت بری امام کے مکینوں کے لئے حکومت کے تمام دروازے بند کر دیئے گئے ہیں۔ اب ان کی فریاد اور اہ یقیناً بارگاہ الٰہی کے دربار پر دستک دے گی۔ انتطار کریں کس طرح برق چمکتی ہے۔ ایک بات طے ہے۔خدا ظلم کو پسند نہیں کرتا اور ظالموں کا پیچھا کرتا ہے۔ کربلا میں دنیاوی منصب کی لالچ میں خانوادہ رسول ص کو شہید کیا گیا۔ مگر ان ظالموں کو وہ منصب نصیب نہیں ہوئے جن کے لئے انہوں نے ظلم کئے۔ اور امیر مختار نے ان سب سے انتقام لیا۔ معاملہ کسی اور کے دربار میں ہے۔ وہاں دیر ہے اندھیر نہیں محترم وزیراعظم صاحب اور محترم فیلڈ مارشل صاحب یہ کون لوگ ہیں جو آپ کی عزت اور وقار کو خراب کر رہے ہیں۔ اگر آپ ان ظلم کرنے والوں کو نہیں روکتے۔۔ تو یقین کیجئے میرا اللہ سب دیکھ رہا ہےسیدنا حضرت علیؓ کا قول ہے ‘کفر کی حکومت قائم رہ سکتی ہے، ظلم کی نہیں
پاک فوج کو آواز ۔۔۔۔نور پور شاہاں میں قیامت سے پہلے قیامت چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے نور پور شاہاں ماڈل ویلج کے فیصلے کے خلاف سی ڈی اے کی انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت 7 اپریل 2026 کو کی تھی اور رٹ پٹیشن نمبر 4026/2020 کے فیصلے کو معطل کر دیا ۔ جس کے تحت متاثرین نور پور شاہاں کو سی ڈی اے کے اپنے فیصلوں کے تحت عدالت عالیہ نے تحفظ یقینی بنایا تھا۔قانون کے مطابق انٹرا کورٹ اپیل دائر کرنے کی مدت 28 جولائی 2025 کو ختم ہو گئی تھی۔ لیکن 6 ماہ بعد عدالت نے فیصلہ معطل کر دیا۔ وکلاء اور لوگ حیران ہیں۔فیصلے کی خلاف ورزی پر عدالت میں توہین عدالت کی کاروائی بھی جاری ہے۔عدالت عالیہ کی طرف سے فیصلے کی معطلی کے بعد آج سی ڈی اے نے بھاری پولیس نفری کے ساتھ نور پور شاہاں کے محلہ نوری باغ میں اچانک دھاوا بولا اور مکانات گرانے شروع کئے۔ لوگوں کو سامان تک نہ نکالنے دیا گیا۔ پولیس نے بھر پور طاقت کا استعمال کیا۔ یہ قیامت خیز مناظر سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔اس وقت جو لا قانونیت وفاقی دارالحکومت میں ہو رہی ہے۔ شاید ہی پاکستان کے کسی حصے میں ہو۔ اس ملک میں افغان مہاجرین کو پاکستان سے نکالنے کےلئے سال سے زیادہ وقت دیا گیا۔ لیکن جن لوگوں کی زمینوں پر وفاقی دارالحکومت بنا ، ان کے ساتھ وہ سلوک کیا جا رہا ہے۔ جو اسرائیلی فوج غزہ کے مسلمانوں کے ساتھ کر رہی ہے۔ جو اچانک گھروں میں گھس مکینوں کو بے دخل کرتی ہے۔ اس وقت اسلام آباد میں اہلیان نورپور شاہاں کی آواز کوئی نہیں سن رہا۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ممبران خاموش ہیں۔ طارق فضل چوہدری صاحب کی نمائندگی ایک سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ عدالت عالیہ نے اپنے جج کے فیصلے کی حتمی حیثیت اختیار ہونے کے باوجود معطل کر کے لوگوں کو عدالتی تحفظ سے محروم کر دیا۔ نور پور شاہاں بری امام کے مکینوں کی حیثیت اب یہ ہے، کہ اس ملک میں انہیں کوئی سیاسی ، قانونی ، آئینی ، اخلاقی اور سماجی تحفظ دینے کے لئے موجود نہیں۔ تمام ادارے تماشائی بنے ہوئے ہیں یا وہ بھی عوام کی طرح بے بس ہو گئے ہیں ۔پر امن احتجاج اس ملک میں دہشتگردی بن گیا ہے۔ اور دہشتگردوں سے مذاکرات کو ترجیح دی جاتی رہی ہے۔ لیکن اپنے شہریوں کے ساتھ وفاقی حکومت کے ذمہ دار گفتگو و شنید سے مسئلہ حل کرنے کی بجائے طاقت کے استعمال کو ترجیح دے رہے ہیں۔عوام میں یہ تاثر جڑیں پکڑتا جا رہا ہے کہ یہ سب کچھ اسٹیبلشمنٹ کی ایما پر محسن نقوی وزیر داخلہ کر رہے ہیں۔ پاک فوج کے ساتھ ہر پاکستانی کی والہانہ محبت ہے۔ جو سرحدوں کی محافظ ہے۔ آج نور پور شاہاں کے متاثرین اور بری امام سرکار کے خدمت گزار پاک فوج کو آواز دے رہے ہیں ۔ وہ آئے اور سرحدوں کی طرح ان کے گھروں کی محافظت کرے۔ اور محسن نقوی کے ظلم و ستم سے مظلوم عوام کو نجات دلائے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کہا ہے کہ ملک کی مسلح افواج اپنی اعلیٰ ترین جنگی تیاری کی سطح پر پہنچ چکی ہیں اور ہر قسم کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق ابراہیم رضائی کا یہ بیان قائم مقام وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل ابنالرضا کی جانب سے کمیٹی کو دی گئی بریفنگ کے بعد سامنے آیا، جس میں حالیہ عسکری صورتحال اور صہیونی و امریکی افواج کے ساتھ جاری تنازع پر تفصیلات فراہم کی گئیں۔جنرل ابنالرضا نے بریفنگ کے دوران کہا کہ ایران نے ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کر رکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’ہماری مسلح افواج اپنی جنگی تیاری کے عروج پر ہیں۔ دشمن کی کسی بھی جارحیت یا شرارت کا جواب سخت اور پشیمان کرنے والا ہوگا‘۔
پٹرول کے بعد بجلی بھی پہنچ سے دور ہونے لگی، بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے بعد حکومت نے ملک بھر میں لوڈ شیڈنگ کرنے کا حکم دے دیااسلام آباد میں 8 گھنٹے بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہو گی آئیسکو حکام نے لوڈ شیڈنگ کا شیڈول جاری کر دیا۔
سابق وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کے مطابق صرف مارچ کے مہینے میں ریفائنریز نے 75 ارب روپے سے زائد کا “اضافی منافع” کمایا ہے۔۔۔یہ 75 ارب روپے کا اضافی منافع اس معمول کے نفع سے ہٹ کر ہے جو ریفائنریز عام حالات میں بناتی ہیں۔۔ مفتاح اسماعیل
ایران چین کی ریڈ لائن ہے ۔چین ایران کے تیل پر امریکی قبضہ نہیں ہونے دے گا ۔ اپنی صنعتی مشین زنگ آلود نہیں ہونے دے گا ۔امریکی پیچھے نہ ہٹے دنیا تیسری عالمی جنگ کا طبل ۔ ایران ڈیل کے لیے بیتاب ہے، آج ہی ’متعلقہ افراد‘ کی کال موصول ہوئی تھی: ڈونلڈ ٹرمپیقین ہے کہ ایرانی بالآخر جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر بھی راضی ہو جائیں گے، امریکی صدر
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا. وزیرِ اعظم نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خطے کی صورتحال اور پاکستان کی امن کیلئے کوششوں کے حوالے سے گفتگو کی. وفاقی کابینہ نے اتفاقِ رائے سے قرارداد منظور کی جس کا متن مندرجہ ذیل ہے.
*قرارداد*وفاقی کابینہ ربِ ذوالجلال کے حضور سجدہ شکر ادا کرتی ہے کہ اس نے وطن عزیز پاکستان کو موقع دیا کہ وہ خطے اور دنیا میں قیام امن کیلئے مرکزی ادا کرے. ہم ایران اور امریکہ کے درمیان ان تاریخ ساز امن مذاکرات کے انعقاد پر وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف، نائب وزیرِ اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنے معاونین کے ہمراہ انتھک لگن، محنت اور تدبر کے ساتھ دو متحارب فریقین کو اکٹھے بٹھا دیا اور تقریباً نصف صدی پر محیط تعطل کا خاتمہ کیا.
وفاقی کابینہ بالخصوص نائب وزیرِ اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی شبانہ روز کوششوں کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے جنہوں نے راتیں جاگ کر انتہائی احسن طریقے سے معاملات کو نبھایا. ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی امن کے اس سفر میں انہیں کامیابیاں عطا فرمائے.
بلاشبہ اقوام عالم کی تاریخ میں پاکستان کا یہ کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا. ہماری دعا ہے کہ پاکستانی قیادت کی یہ پر خلوص کوششیں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور دنیا میں قیام امن کا باعث بنیں.