All posts by admin

صدر زرداری زخمی 4 ھفتوں کے لیے بیڈ ریسٹ پاوں فریکچر

صدر مملکت آصف علی زرداری کے پاؤں میں فریکچر ہوگیا۔ایوان صدر کا کہنا ہے کہ صدر مملکت کے پاؤں میں گزشتہ رات دبئی ایئرپورٹ پہنچنے پر جہاز سے اترتے ہوئے فریکچر ہوا۔ایوان صدر کے مطابق صدر آصف علی زرداری کو ابتدائی طبی امداد کیلئے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹرز نے صدر کے پاؤں پر 4 ہفتے کیلئے پلاسٹر چڑھایا۔ ایوان صدر کا کہنا ہے کہ صدر آصف علی زرداری اسپتال سے گھر منتقل کردیے گئے، ڈاکٹروں نے مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے—–۔محکمہ پاسپورٹ نے پاسپورٹ رولز میں ترمیم کرتے ہوئے شناختی کارڈ ایڈریس کی شرط ختم کردی، جس کے بعد اب شہری پاکستان کے کسی بھی شہر سے پاسپورٹ بنوا سکیں گے۔محکمے کی جانب سے پاسپورٹ رولز میں ترمیم کا مراسلہ علاقائی دفاتر کو بھیج دیا گیا، جس کے مطابق نئی پالیسی کے تحت شہریوں کو حدود کے دائرہ اختیار میں نرمی دی جائے گی۔قومی ایئرلائن (پی آئی اے) کی نجکاری کا عمل شروع ہوگیا، نیلامی کیلئے بولی کھول دی گئی، جو 10 ارب روپے لگائی گئی ہے۔حکومت نے پی آئی اے کی کم از کم قیمت 85 ارب 3 کروڑ روپے مقرر کی تھی، بولی دہندہ کو سرکاری قیمت میں خریدنے کیلئے 30 منٹ کا وقت دے دیا گیا۔یاد رہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کیلئے صرف ایک کمپنی نے بولی میں حصہ لیا، بولی کا عمل سرکاری ٹی وی پر براہ راست دکھایا گیا۔ نجکاری کمیشن ذرائع کے مطابق بلیو ورلڈ ایوی ایشن کنسورشیم کے ساتھ معاہدے کے اہم خد و خال پر نجکاری کمیشن متفق ہے۔ پی آئی اے کے ملازمین کو 18 ماہ تک ملازمت پر رکھا جائے گا، اس کے بعد تقریباً 70 فیصد تک ملازمین کو ازسر نو جاب لیٹر آفر ہوں گے۔سرمایہ کار کمپنی پانچ برسوں میں 30 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی اور جہازوں کی تعداد 45 تک بڑھائی جائے گی، پی آئی اے تمام روٹس پر اپنی سروسز کو بحال کرے گی۔بلیو ورلڈ سٹی کنسورشیم کے ساتھ بولی فائنل کرنے کیلئے مذاکرات بھی کیے جا سکتے ہیں جن میں بولی کم ہونے کی صورت میں بلیو ورلڈ سٹی کنسورشیم کو مختلف آپشنز دیے جائیں گے، سنگل بڈرز کیساتھ بولی کامیاب کرنے کیلئے رولز میں ترامیم بھی کی گئی۔وزیراعظم شہباز شریف کی قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات ہوئی، جس میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون پر غور کیا گیا۔دوحا میں وزیراعظم شہباز شریف نے قطر کے امیر سے وفود کی سطح پر ملاقات کی، دونوں رہنماؤں کے درمیان ون آن ون ملاقات بھی ہوئی، جس میں دو طرفہ تعلقات کے وسیع معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم شہباز شریف اور امیر قطر نے پاک قطر تعلقات کے پہلوؤں کاجائزہ لیا، فریقین نے مشترکہ اقتصادی اہداف اور علاقائی استحکام کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیراعظم اور امیر قطر نے علاقائی، عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا، اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف جاری نسل کشی، خطے میں کشیدگی بڑھنے پر بھی گفتگو کی گئی۔شہباز شریف نے امیر قطر کی طرف سے فلسطین کے معاملے پر قطر کے مؤقف کی تعریف کی، وزیراعظم نے فوری جنگ بندی کیلئے قطر کی ثالثی، انسانی امداد کی فراہمی کو سراہا۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کا امیر قطر عزت مآب شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے ہمراہ قطر میوزیم میں منظر آرٹ گیلری کا دورہ

وزیراعظم محمد شہباز شریف کا امیر قطر عزت مآب شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے ہمراہ قطر میوزیم میں منظر آرٹ گیلری کا دورہوزیراعظم محمد شہباز شریف اور امیر قطر نے اعلیٰ سطحی وفود اور دو طرفہ ملاقات کے بعد ایک ہی گاڑی میں دیوان امیر سے قطر میوزیم تک کا سفر طے کیا

امیر قطر نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو بذات خود پاکستانی فن پاروں کی نمائش “منظر” کا دورہ کرایادونوں ممالک کے راہنماؤں کے مابین غیر روایتی گرم جوشی دیکھنے میں آئی

امیر قطر اور ان کی ہمشیرہ اور قطر میوزیم کی چیئرپرسن شیخہ المیاسہ بنت حمد بن خلیفہ الثانی نے غیر رسمی اور دوستانہ ماحول میں وزیراعظم کو نمائش میں موجود فن پارے دکھائے اور نمائش کے منتظمین اور پاکستانی فنکاروں سے تعارف کرایا

وزیراعظم نے امیر قطر اور ان کی ہمشیرہ کا منظر آرٹ گیلری کے انعقاد اور پاکستانی فنکاروں کی پزیرائی پر ان کا شکریہ ادا کیا اس نمائش کا انعقاد پوری پاکستانی قوم کے لیے باعث فخر ہے

، وزیراعظم قطر میوزیم میں پاکستانی فنپاروں پر مبنی منظر ارٹ گیلری کا قیام قطر اور پاکستان کے درمیان سماجی اور بھائی چارے کے مضبوط تعلقات کی عکاسی کرتا ہے،

وزیراعظم وزیراعظم نے دورے میں معروف پاکستانی آرکیٹیکٹ نئیر علی دادا، پاکستانی مصوروں، فوٹوگرافر، خطاط اور دیگر فن کاروں سے ملاقات کی نمائش میں 1940 سے لے کر اب تک کے پاکستانی مصوری، فوٹوگرافی, مجسمے اور دیگر فن پارے شامل ہیںنمائش میں شاکر علی، صادقین، گل جی، زبیدہ آغا، کامل خان ممتاز، نئیر علی دادا اور متعدد پاکستانی فنکاروں کے فن پاروں کی نمائش کی گئی

_وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قطر کے امیر عزت مآب شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات_*وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے قطر کے امیر عزت مآب شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے آج دوحہ میں وفود کی سطح پر ملاقات کی ۔

: 31 اکتوبر 2024 *_وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قطر کے امیر عزت مآب شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات_*وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے قطر کے امیر عزت مآب شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے آج دوحہ میں وفود کی سطح پر ملاقات کی ۔ اس سے قبل دونوں رہنماؤں کے درمیان ون آن ون ملاقات بھی ہوئی جس میں دو طرفہ تعلقات کے وسیع معاملات پر تبادلہء خیال ہوا۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان قطر تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا. تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے نئے ممکنہ تعاون پر غور کیا گیا۔ دونوں فریقین نے مشترکہ اقتصادی اہداف اور علاقائی استحکام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اسٹریٹجک تعلقات کو گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امور بالخصوص اسرائیل کی طرف سے بے گناہ فلسطینیوں کے خلاف جاری نسل کشی کی جنگ اور خطے میں کشیدگی میں اضافے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وزیر اعظم نے 24 ستمبر 2024 کو منعقدہ 79 ویں یو این جی اے کے دوران عزت مآب امیر قطر کی طرف سے فلسطین کے معاملے پر قطر کے موقف کی تعریف کی۔ انہوں نے فوری جنگ بندی کے لئے قطر کی ثالثی اور انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی کی کوششوں کو سراہا۔ وزیراعظم نے کہا کہ غزہ میں فوری طور پر قتل و غاری گری اور امن قائم کرنے کے بغیر دنیا میں خوشحالی کا حصول ممکن نہیں ہوسکتا۔ ان کا کہنا تھا فلسطین میں جاری اسرائیلی کی حالیہ بربریت کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے لیے مزید امدادی سامان کی ترسیل کو جاری رکھنے کی اہمیت پر بات کی۔ وزیراعظم نے امیر قطر کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی.وزیر اعظم کا دورہ پاکستان اور قطر کے درمیان مسلسل مضبوط ہونے والی شراکت داری اور تعاون کو وسعت دینے میں ایک اور سنگ میل ہے۔ ***

_وزیر اعظم پاکستان اور قطر کے وزیر اعظم کے درمیان ملاقات_*وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور قطر کے وزیراعظم عزت مآب شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی کے درمیان آج دوحہ میں ملاقات ہوئی

*_وزیر اعظم پاکستان اور قطر کے وزیر اعظم کے درمیان ملاقات_*وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور قطر کے وزیراعظم عزت مآب شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی کے درمیان آج دوحہ میں ملاقات ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کو، خصوصاً تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور ثقافتی تبادلے جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے تبادلہ ء خیال کیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی اقتصادی ترقی میں قطر کے تعاون کو سراہا اور مختلف شعبوں میں قطر کی مسلسل حمایت پر اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا ۔ انہوں نے قطر میں موجود پاکستانیوں کی میزبانی کرنے پر قطر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ پاکستانی دونوں ممالک کی ترقی میں ایک پل کا کردار ادا کر رہے ہیں.دونوں رہنماؤں نے عالمی اور علاقائی مسائل پر تبادلہ ء خیال کیا اور ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے پرامن حل اور باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعظم پاکستان نے غزہ تنازع پر قطر کے اصولی موقف اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اس کی مسلسل کوششوں کو بھی سراہا۔ وزیراعظم شہباز نے تنازع کے حل اور غزہ کے عوام کے مصائب کو کم کرنے کے لیے قطر کے انسانی ہمدردی کے اقدامات اور سفارتی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے فروغ کے لیے قطر کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے، مذاکرات کے سہولت کار اور علاقائی تنازعات کے منصفانہ حل کے لیے قطر کے کردار کو سراہا۔ قطری وزیر اعظم نے خطے میں پاکستان کی اسٹریٹیجک اہمیت کا اظہار کرتے ہوئے، اقتصادی ترقی اور علاقائی استحکام کے قطر کے وژن کے مطابق پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا۔ قطر کے وزیراعظم نے افغانستان سمیت خطے میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے تعاون کو فروغ دینے اور ترقی کے نئے شعبوں کی نشاندہی کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی تبادلوں کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔مزید برآں، وزیراعظم شہباز نے قطری سرمایہ کاروں کو پاکستان کے متنوع اقتصادی شعبوں بشمول زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سیاحت میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ انہوں نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پاکستانی حکومت کے عزم اور حکمت عملی سے قطری وزیر اعظم کو آگاہ کیا ۔ وزیر اعظم شہباز نے قطر کے امیر اور وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی کا پر تپاک مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کا یہ دورہ پاکستان اور قطر کے درمیان دوستی، باہمی احترام اور تعاون کے مضبوط تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا۔*****

سلیکشن بورڈ طلب نومبر کے تیسرے ھفتے980 افسران پرموٹ ھونگے۔ برطانوی ٹیم کے کپتان گھر ڈکیتی۔پولیس صرف بھتھہ خوری اور لینڈ مافیا کی سھولت کار بن گئی جعلی مقدمات کی بھرمار۔پینک اپنا خود تحفط کرے 45 سال سے کم کا گارڈ رکھنے۔ٹرمپ کی جیت امکانات 33 فیصد سے زائد۔عمران خان کو رینجرز نے بغیر وراثت کے گرفتار کیا۔۔عمران خان کے خلاف کارروائی پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔خفیہ ایجنسی میں بڑی اکھاڑ بچھاڑ۔فائیز عیسی کی لندن میں کردار کشی اور ننگی گالیوں کا سامنا۔کرکٹ کا جنازہ زرا دھوم سے جوا باز کھلاڑیوں کی کارکردگی تباہ کن۔ تفصیلات کے لیے بادبان نیوز کو فالو کرے

بھارت اور چین نے صلح کر لی متنازعہ ھمالیاتی سرحد پر 2 مقامات سے فوجیوں کے انخلاء کا عمل مکمل کر لیا

بھارتی دفاعی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت اور چین نے اپنی متنازع ہمالیائی سرحد پر دو مقامات سے فوجیوں کے انخلا کا عمل مکمل کرلیا ہے۔خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق جوہری طاقت کے حامل دونوں ملکوں نے دو طرفہ سیاسی اور کاروباری تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے گزشتہ ہفتے بھارتی حدود میں لداخ کے مقام پر چار سالہ عسکری تنازع کو ختم کرنے کے لیے فوجیوں کے گشت کا ایک معاہدہ کیا تھا۔ایک بھارتی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ گزشتہ ہفتے شروع ہونے والا انخلا کا عمل مکمل ہو چکا ہے جبکہ تصدیق کا مرحلہ جاری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جمعرات کو سپاہی جذبہ خیرسگالی کے طور پر مٹھائی کا تبادلہ کریں گے اور سرحد پر موجود کمانڈروں کی طرف سے طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کے بعد جلد ہی گشت شروع کر دیں گے۔ادھر بیجنگ کی جانب سے فوجیوں کے انخلا پر فوری تبصرہ نہیں کیا گیا۔4 ہزار کلومیٹر کی غیر متعین سرحد دنیا کے دو سب سے زیادہ آبادی والے ملکوں کے درمیان کئی دہائیوں سے کشیدگی کا باعث ہے۔چار سال قبل، چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازع پر 20 بھارتی اور 4 چینی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔جھڑپوں کے بعد دونوں فریقین نے لداخ میں سرحد کے متعدد مقامات پر کسی نئے تصادم سے بچنے کے لیے گشت روک دیا تھا، جبکہ برفیلے خطے پر چین اور بھارت نے جنگی اسلحے سے لیس ہزاروں فوجیوں کو تعینات کیا تھا۔دونوں ممالک کے نئے معاہدے پر پہنچنے کے کچھ دنوں بعد، چینی صدر شی جن پنگ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے روس میں برکس سمٹ کے دوران باضابطہ بات چیت کی تھی۔اس معاہدے کا بنیادی مقصد سرحدی کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کے درمیان خراب ہونے والے معاشی تعلقات کو بحال کرنا ہے۔دوسری طرف بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ نئی دہلی معاہدے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی کو دیکھتے ہوئے احتیاط سے کام لے گا۔