وفاقی حکومت نے عارضی نوعیت کی تمام آسامیوں کو فوری طور پر ختم کردیا۔فنانس ڈویژن کے مطابق 3 ستمبر کو کابینہ ڈویژن نے اپنے سرکلر میں ہدایت کی تھی کہ تمام عارضی نوعیت کی آسامیوں کو ختم کردیا جائے۔ اب فنانس ڈویژن کی جانب سے آفس میمورنڈم میں تمام وزارتوں اور ڈویژنوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے زیرانتظام محکموں میں کابینہ کے 27 اگست 2024کے فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ سرکاری محکموں میں چوکیدار، مالی، سکیورٹی گارڈز اور نائب قاصد سمیت متعدد آسامیاں عارضی طور پرتخلیق کی جا تی ہیں اور ان پر بھرتیاں معمول کی بات ہے۔
نومبر 6، 2024۔*وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت گلگت بلتستان کی کابینہ کا خصوصی اجلاس*وزیراعظم کی ضلع غذر کے گاؤں بوبر میں 2022 کے سیلاب متاثرین کے لیے خصوصی طور پر تعمیر شدہ مکانوں کی بروقت تکمیل اور اس کے گھروں کے اعلیٰ معیار پر اظہار اطمینان بوبر گاؤں میں نئے تیار شدہ گھروں کو دیکھ بے حد خوشی ہوئی،
وزیراعظم وزیراعظم کی گلگت بلتستان کی انتظامیہ کو ضلع غذر میں تعلیمی اداروں، کھیل کے میدانوں، بجلی کی فراہمی اور دیگر سہولیات کی فراہمی کی ہدایت وزیراعظم کا گلگت بلتستان کے لیے 100 میگاواٹ بجلی کی فی الفور فراہمی کا اعلانوزیراعظم کا بلتستان یونیورسٹی اور قراقرم یونیورسٹی کے باصلاحیت طلباء کے لیے میرٹ کی بنیاد پر 1 ارب روپے کے اینڈاؤمینٹ فنڈ کے قیام کا اعلانپنجاب کی طرز پر گلگت بلتستان کے شعبہ تعلیم کی ترقی کے لیے دانش سکول متعارف کر رہے ہیں، وزیراعظم وفاقی حکومت گلگت بلتستان کی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے دن رات سرگرم عمل ہے، وزیراعظمماضی میں بطور وزیر اعلیٰ پنجاب، گلگت بلتستان کے شعبہ تعلیم کو تحفتاً 1 ارب روپے دیے تھے، وزیراعظم گلگت بلتستان کے تمام شعبوں کی ترقی ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے، وزیراعظم حالیہ معاشی استحکام میں وفاقی حکومت کے ساتھ تمام صوبوں کا تعاون انتہائی اہم رہا ہے، وزیراعظم اسٹاک ایکسچینج 92 ہزار کی تاریخی سطح عبور کر چکا ہے، وزیراعظم ملکی ترسیلات زر، ٹیکس فائلرز کی تعداد میں اضافہ اور مہنگائی میں کمی ملکی معیشت کے لیے خوش آئند ہے، وزیراعظم ملکی ترقی کے سفر میں تمام صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کا تعاون کلیدی ہے، وزیراعظم گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا فاٹا کے ضم اضلاع اور بلوچستان کی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود پر ہماری توجہ پوری طرح مرکوز ہے، وزیراعظم وفاقی حکومت گلگت بلتستان میں شعبہ سیاحت کے فروغ کیلئے اقدامات اٹھارہی ہے، وزیراعظم گلگت بلتستان کے شعبہ سیاحت میں سرمایہ کاری کے لیے قطری سرمایہ کار دلچسپی کا اظہار کر چکے ہیں، وزیراعظم اجلاس میں وزیراعظم کو گلگت بلتستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی اجلاس میں وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی ڈاکٹر احسن اقبال، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام، وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی، گلگت بلتستان کابینہ کے ارکان اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔
منگل کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت ہونے والے جوڈیشل کمیشن کے پہلے اجلاس میں 7 رکنی آئینی بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے۔ آئینی کمیشن کا حصہ بننے والے ان ججز میں 3 وہ ججز بھی شامل ہیں جو مخصوص نشستوں پر اکثریتی فیصلہ دینے والے 8 ججز میں شامل تھے۔ لیکن حیران کن طور پر چیف جسٹس کی جانب سے بینچ تشکیل کی مخالفت میں ووٹ دئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔جوڈیشل کمیشن کے آج ہونے والے اجلاس میں سپریم کورٹ کے سینئر ججز جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس امین الدین نے شرکت کی۔اجلاس میں اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور عثمان اعوان، وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ، نمائندہ پاکستان بار کونسل اختر حسین بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کے سینیٹر فاروق ایچ نائیک، مسلم لیگ (ن) کے شیخ آفتاب احمد، پی ٹی آئی کے عمر ایوب اور شبلی فراز بھی شرکت کریں گے جبکہ اجلاس میں خاتون ممبر روشن خورشید بھی شریک تھے۔اجلاس میں 7 رکنی آئینی بینچ تشکیل دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق 7 رکنی آئینی بینچ تشکیل کا فیصلہ سات پانچ کے تناسب سے ہوا ہے۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، عمر ایوب اور شبلی فراز نے بینچ کی تشکیل کی مخالفت میں ووٹ دیا، جبکہ جسٹس امین الدین، اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل اور اختر حسین نے حق میں ووٹ دیا، فاروق ایچ نائیک، آفتاب احمد، روشن خورشید بروچہ نے بھی حق میں ووٹ دیا۔
پاکستان بحریہ کے جہاز پی این ایس ذوالفقار کا ریجنل میری ٹائم سیکیورٹی پٹرول کے دوران جبوتی کا دورہبندرگاہ آمد پر جبوتی بحریہ کے حکام نے پاک بحریہ کے جہاز کا استقبال کیا کمانڈنگ آفیسر پی این ایس ذوالفقار کی میزبان بحری حکام سے ملاقاتیں کمانڈر جبوتی بحریہ اور کوسٹ گارڈز کے ساتھ پیشہ ورانہ امور پر تبادلہ خیال کیادورہ کے اختتام پر؛ جبوتی کوسٹ گارڈز کے ساتھ مشترکہ بحری مشق کا انعقادمشق کا مقصد مشترکہ آپریشنز کی صلاحیت اور باہمی تعاون کو مزید بہتر بنانا تھاپاکستان اور جبوتی کی بحری افواج کے مابین دوطرفہ روابط دونوں برادر ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیںجبوتی میں قیام کے دوران، مختلف ممالک کے سفیروں، دفاعی اتاشی، جبوتی کی اعلیٰ سول و عسکری قیادت کے ساتھ مقامی اور پاکستانی کمیونٹی نے بھی جہاز کا دورہ کیااس دورے سے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو مزید فروغ ملے گا