All posts by admin

چانسلر کو لوٹنے والوں کو تحفظ فراہم کرنے والے ڈی پی او شیخوپورہ کو او ایس ڈی بنا دیا گیا تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے 08 اعلی پولیس افسران کے تقررو تبادلوں کے احکامات جاری کر دئیے، نوٹیفیکیشن ڈی پی او منڈی بہاؤالدین احمد محی الدین کو ڈی پی او چکوال تعینات کر دیا گیاوسیم ریاض کو ڈی پی او منڈی بہاؤالدین تعینات کردیا گیا، نوٹیفیکیشن علی وسیم گجر کو ڈی پی او لیہ تعینات کر دیا گیاشہزاد رفیق اعوان کو ڈی پی او بھکر تعینات کر دیا گیاڈی پی او چکوال کیپٹن ریٹائرڈ واحد محمود کو ایس ایس پی آر او سی ٹی ڈی لاہور تعینات کر دیا گیاایکس پاکستان تعطیلات پر جانے کے لئے ڈی پی او بھکر محمد عبد اللہ لک کو سی پی او رپورٹ کرنے کی ہدایتایس پی شیخوپورہ بلال محمود سلہری کو اے آئی جی انفارمیشن ٹیکنالوجی سی پی او تعینات کر دیا گیاڈی پی او لیہ اسد الرحمن کو ایس پی آپریشنز سی ٹی ڈی لاہور تعینات کر دیا گیا

روسی فیڈریشن کے نائب وزیر دفاع کرنل جنرل الیگزینڈر وی فومن (Colonel General Alexander V. Fomin) کا نیول ہیڈکوارٹرز اسلام آباد کا دورہ

، ۳۰ اکتوبر ۲۰۲۴*روسی فیڈریشن کے نائب وزیر دفاع کرنل جنرل الیگزینڈر وی فومن (Colonel General Alexander V. Fomin) کا نیول ہیڈکوارٹرز اسلام آباد کا دورہروسی فیڈریشن کے نائب وزیردفاع کی چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف سے ملاقات ملاقات میں باہمی دلچسپی کے پیشہ ورانہ امور، علاقائی میری ٹائم سیکیورٹی صورتحال اور دوطرفہ بحری تعاون پر تبادلہ خیالپاکستان رشین فیڈریشن کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور طویل المدتی کثیر جہتی شراکت داری کا خواہاں ہے۔ نیول چیف ملاقات میں دونوں بحری افواج کے درمیان دوطرفہ تربیت، بحری جنگی جہازوں کے دوروں اور دو طرفہ بحری مشقوں کے انعقاد سمیت تعاون کے مختلف پہلوؤں پر بھی غور کیا گیادونوں رہنماؤں نے میری ٹائم سیکورٹی اور بحری ٹیکنالوجی کے شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیاروسی فیڈریشن کے نائب وزیر دفاع نے خطے میں میری ٹائم سیکیورٹی میں پاک بحریہ کی مستقل کوششوں اور بلند عزم کا اعتراف کیا

وزیراعظم محمد شہباز شریف کا دو روزہ دورہء قطر وزیراعظم محمد شہباز شریف امیر قطر کی دعوت پر دو روزہ سرکاری دورے پر قطر پہنچ گئے*دوحہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر قطر کے وزیر مملکت برائے ثالثی عزت مآب محمد بن عبدالعزیز الخلیفی ، قطر میں تعینات پاکستانی سفیر اور دیگر سفارتی عملے نے وزیراعظم کا استقبال کیا

دوحہ : 30 اکتوبر 2024*وزیراعظم محمد شہباز شریف کا دو روزہ دورہء قطر**وزیراعظم محمد شہباز شریف امیر قطر کی دعوت پر دو روزہ سرکاری دورے پر قطر پہنچ گئے*دوحہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر قطر کے وزیر مملکت برائے ثالثی عزت مآب محمد بن عبدالعزیز الخلیفی ، قطر میں تعینات پاکستانی سفیر اور دیگر سفارتی عملے نے وزیراعظم کا استقبال کیا

اپنے دورے کے دوران وزیراعظم امیر قطر عزت مآب شیخ تمیم بن حماد الثانی سے ملاقات کریں گےوزیراعظم سے قطر انوسٹمینٹ اتھارٹی اور قطر بزنس مین ایسوسی ایشن کے وفود بھی ملاقات کریں گے

مزید برآں وزیراعظم قطر میوزیم میں “منظر آرٹ ایگزی بیشن ؛ 1940 سے اب تک پاکستان میں آرٹ اور آرکیٹیکچر” کا افتتاح کریں گےوفاقی وزراء خواجہ آصف ،جام کمال خان ، محمد اورنگزیب اور عطاء اللہ تارڑ بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔

پاکستانی ٹیم مکمل طور پر آسٹریلیا موجود۔عوام کو ذبح کرنے کا واپڈا کا نیا فارمولا۔لیٹ بل جمع کرانے پر جرمانہ14 فیصد۔وزیر اعلی کے احکامات کھوہ کھانے میں گھی کی قیمتوں میں اضافہ۔دوبئی نے پاکستانی بزنس مینوں کے ویزے بھی روک دیے۔پنجاب بھر کے جییلر تبدیل۔وزیر اعطم کا دورہ سعودیہ مشکلات کا شکار۔افغانستان کے تمام ٹی وی چینلز بند۔سعودی عرب میں قید 4 ہزار پاکستانی شہریوں کے پاسپورٹ بلاک کردیئے گئے یہ وہ لوگ ہیں جو سعودی عرب میں آ کر بھیک مانگتے تھے۔ تفصیلات کے لیے بادبان نیوز اور اج کا روزنامہ پوسٹ انٹرنیشنل اسلام آباد کراچی

پاکستان دنیا کا بدترین ملک قرار،142 ممالک میں پاکستان کا 140واں نمبر

امن و امان کے معاملے میں پاکستان دنیا کا تیسرا بدترین ملک قرار ، امن و امان کی عالمی رینکنگ میں پاکستان کو 142 میں سے 140 واں نمبر ملا، علاقائی رینکنگ میں بھی پاکستان کو 6 ممالک میں سب سے آخری نمبر ملا۔ تفصیلات کے مطابق دنیا بھر کے ممالک میں امن و امان کی صورتحال اور قانون کی حکمرانی کے حوالے سے ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کی رپورٹ سامنے آئی ہے۔ رپورٹ میں قانون کی حکمرانی اور امن و امان کے حوالے سے دنیا بھر کے ممالک کی کارکردگی کی بنیاد پر درجہ بندی کی گئی ہے۔ ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کی رپورٹ میں امن و امان کے معاملے میں پاکستان کو دنیا کا تیسرا بدترین ملک قرار دیا گیا ہے۔ ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کی جانب سے امن و امان کے حوالے سے کل 142 ممالک کی کارکردگی کا جائزہ لے کر درجہ بندی جاری کی گئی ہے، جس میں پاکستان کو 140 واں نمبر ملا۔ جبکہ علاقائی سطح پر بھی قانون کی حکمرانی کے معاملے میں پاکستان کی کارکردگی بدترین قرار دی گئی ہے۔ علاقائی سطح پر 6 ممالک میں پاکستان کو آخری یعنی چھٹا نمبر دیا گیا۔ علاقائی سطح پر امن و امان کے معاملے میں افغانستان کی کارکردگی پاکستان سے بھی بہتر قرار دی گئی ہے۔ ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کی رپورٹ میں قانون کی حکمرانی کے معاملے میں پاکستان کو 142 میں سے 129 واں نمبر ملا، جبکہ علاقائی سطح پر پاکستان کو 6 میں سے 5 واں نمبر ملا۔ قانون کی حکمرانی کے معاملے میں علاقائی سطح پر صرف افغانستان کی رینکنگ پاکستان سے کم رہی۔ رول آف لا انڈیکس کے مطابق جنوبی ایشیا میں نیپال کا نمبر 69 ،سری لنکا 75 ، بھارت 79 اور بنگلہ دیش 127ویں نمبر پر ہے۔ واضح رہے کہ عالمی ادارے نے درجہ بندی کیلئے 8 معیارات طے کیے تھے، جن میں بنیادی حقوق، امن عامہ، سماجی اور فوجداری انصاف اور کرپشن شامل تھے۔

ملک بھر کو تعلیم دینے والے چانسلر کو لوٹ لیا گیا ڈکیتوں کو شیخوپورہ پولیس کا سی پی اور ایس ایچ او تھانہ ننکانہ فیروز بھٹی ڈکیتوں کے سھولت کار بن گئے کراچی کے چانسلر کے خاندان کو لوٹنے والے گروہ کو پولیس تحفظ فراہم کیوں کر رھی ھے کچے کے ڈاکوؤں کے بعد شیخوپورہ کے ڈاکو۔ڈاکو کراچی میں واردات کرنے کے بعد شیخوپورہ میں پناہ گزین ھو جاتے ہیں جھاں ڈی پی او شیخوپورہ اور تھانہ ننکانہ کا ایس ایچ او فیروز بھٹی انھے تحفظ فراہم کرتا ہے

http://baadban.tv/2023/08/21/%d9%88%d8%b2%d8%a7%d8%b1%d8%aa%d9%88%da%ba-%d9%85%d8%b2%da%be%d8%a8%db%8c-%d8%a7%d9%85%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d8%b1%d9%be%d8%b4%d9%86-%d8%b9%d8%b1%d9%88%d8%ac-%d9%be%d8%b1-2023-%d8%ad/

ملک میں لاقانونیت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ امام غزالی بہت یاد آرہے ہیں‘ ان کا قول ہے کہ شہر کے لوگوں نے پتھر باندھ رکھے ہیں اور کتے کھلے چھوڑ دیے گئے ہیں‘ کوئی دن ایسا نہیں ہوتا کہ جس روز اخبارات میں گھروں‘ شہروں‘ بازاروں‘ بنکوں میں چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں کی خبریں شائع نہ ہوتی ہوں‘

ڈکیتی کی ہر واردات دل پر خنجر کی طرح لگتی ہے‘ لیکن صوبائی حکومت ہو یا وفاقی حکومت کے کان پر جون تک نہیں رینگتی ہے‘ پوری کی پوری پولیس وزراء اور افسر شاہی‘ سیاست دانوں اور ان کی اولادوں کی سیکورٹی پر لگی ہوئی ہے اور جو پولیس پروٹوکول ڈیوٹی سے بچ گئی ہے وہ وارداتیوں کی پشت پناہی میں لگی ہوئی ہے‘

چور ہوں یا ڈاکو‘ یہ سب پولیس سرپرستی میں کام کرتے ہیں‘ پولیس انہیں تحفظ دیتی ہے‘ پولیس اگر کام کر رہا تو مجال نہیں کہ شہر میں ڈکیتی ہوجائے‘ چونلک میں ملک میں شہر ہو یا گاؤں‘ سب جگہ پولیس نے ایک آنکھ کھولی ہوئی ہے اور ایک آنکھ بند کی ہوئی ہے‘ کھلی آنکھ سے وہ مجرموں کو فرار ہونے والے راستے کی نشانہ دیہی کرتی ہے اور راہنمائی دیتی ہے اور بند آنکھ سے وہ ڈکیتی سے متاثرہ شخص کی مدد کرنے کو تیار نہیں ہوتی‘ نہ اس کا مقدمہ درج ہوتا ہے اور نہ داد رسی‘ یہ اکتوبر کا مہینہ ہے اکتوبر کی پانچ تاریخ کو عالمی سطح پر یوم ٹیچر منایا جاتا ہے‘ ہمارے ہاں کیا ہوا‘ ابھی اکتوبر باقی ہے کہ ایک ایسے شخص کو ڈکیتی کا سامنا کرنا پڑا جو اس ملک کی نوجوان نسل کا معمار ہے‘ اور پولیس جس نے انہیں تحفظ دینا ہے وہ مجرموں کی نشان دیہی ہونے کے بعد انہیں گرفتار کرنے کی بجائے ان کی پشت پناہی کر رہی ہے

اور انہیں تحفظ دے رہی ہے‘ یہ پنجاب پولیس ہے‘ اور وزیر اعلی پنجاب نے صرف ان کی یونیفارم پہنہی تھی لگ رہا ہے کہ پولیس نے یونی فارم بھی اتار دی ہے اور شرم اور حیا بھی اتار دی ہے‘ اسی لیے تو مجرموں کی پشت پر جا کھڑی ہوئی ہے اور بے چارے استاد جنہیں‘ ڈاکوؤں نے لوٹ لیا ہے‘ ان کی داد رسی نہیں کی جارہی ہے‘ یہ سارے کام پنجاب میں ہی کیوں ہوتے ہیں؟ کیا پنجاب میں رہنے کے لییے صرف احد چیمہ کا ہی حق ہے کہ جنہیں ایچی سن کالج جیسے ادارے کے پرنسپل کے مقابلے میں اہمیت دی گئی اور ترجیح دی گئی‘ کیا س ملک کے اساتذہ صرف اس کام کے لیے رہ گئے ہیں کہ انہیں پولیس گردی کے حوالے کردیا جائے یا احمد چیموں کے حوالے کر دیا جائے‘ پنجاب حکومت کو اس بات کا ادراک کرنا چاہیے کہ اس ملک میں معاشرے میں سب سے ذیادہ اہمیت کسی بھی استاد کی ہے اور اگر ان کے ساتھ پولیس بھی ظلم کرے دو نمبری کرے تو یہ لوگ کہاں جائیں گے؟

پنجاب میں ایک بیوروکریٹ کے بچوں کی تعلمی فیس میں رعائت اور معافی کے لیے ایک استاد کی بے حرمتی کی گئی‘ اور اب پنجاب پولیس ایک استاد کے گھر ہونے والی ڈکیتی پر ان کی داد رسی کی بجائے کھلم کھلا مجرموں کی پشت پناہ بن گئی ہے‘ یہ پنجاب پولیس بلاشبہ بہت کرپٹ ہے ان کی کرپشن کی وجہ سے راولپنڈی میں کرائم ریٹ بڑھ رہے ہیں‘ صرف راولپنڈی میں ہی 90 فی صد رکشہ اور بائیکیا کسی نمبر پلیٹ کے سڑکوں پر دوڑ رہے ہیں‘ یہ بغیر نمبر کے رکشہ اور موٹر سائکل لاقانونیت کی جڑ ہیں اور بنیادی وجہ ہیں یہ سب پنجاب پولیس کی سرپردتی میں ہو رہا ہے پنجاب میں پولیس نے قانون کو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔ پنجاب میں قبضہ مافیا پولیس کی وجہ سے زندہ ہے‘ لاقانونیت پولیس کی وجہ سے ہے‘ منشیات فروخت ہورہی ہے تو اس کی وجہ بھی پولیس ہے‘ شہر میں ڈکیتیاں ہورہی ہیں تو وجہ پولیس ہے‘ پولیس کو ملنے والی سہولتیں‘ مراعات اربوں میں ہیں اور کام صفر ہے اس ملک اور وم کی بدقسمتی ہے کہ حکومت بدلے‘ چیف جسٹس بدلے یا کوئی اور شخصیت‘ سب آنے والے قانون کی بالدستی کی نوید سناتے ہیں جس طرح دانت کے درد کی گولی کھانے سے دو چار دن اچھے گذر جاتے ہیں،اسی طرح ملک میں ہونے والی تبدیلیوں سے چار دن تو خوب اطمینان سے گذرتے ہیں اور اُمید پیدا ہو جاتی ہے اب ہر طرف قانون کے ڈنکے بجیں گے اور خلقِ خدا کو انصاف ملے گا، جب ثاقب نثار نے چیف جسٹس کا منصب سنبھالا تھا،

میں نے اُس وقت بھی یہی کچھ ہوا تھا‘ پھر عمر عطاء بندیال، قاضی فائز عیسیٰ نے ایسا ہی کہا تھا تو جھولیاں اُٹھا کر انہیں دُعا دی گئی لیکن جب وہ گئے ہیں تو دعائیں دینے والے ہی کوس رہے ہیں‘

یہی حال وزراء اعلی کا ہے‘ یہی حال آنے والے آئی جی پولیس کا ہوتا ہے لیکن پولیس کا مجوعی رویہ تبدیل نہیں ہوتا‘

یہ ہمیشہ مجرموں کے ساتھ کڑی نظر آتی ہے اسی لیے لوگوں کو انصاف نہیں مل رہا ہے اساتذہ سایہ دار درخت ہوتے ہیں‘ چھاؤں ہوتے ہیں‘

پیار محبت اور یگانگت کے اوصاف سے بہرہ مند ہوتے ہی علم و فن کے چراغ ہوتے ہیں تہذیبی و فکری اوصاف سے لیس ہوتے ہیں تدریسی بہت ہی معزز پیشہ ہے‘ سارے جرنیل‘ ڈاکٹرز‘ اور پولیس افسر انہی کی کوکھ سے نکلے ہیں لیکن ملک میں نظام ایسا بن گیا ہے کہ اگر ان کے ساتھ کوئی حادثہ ہوجائے تو یہ پولیس کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں